• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ریال و درہم کمانے والوں کے حالات اور ان کی قربانیاں ۔۔عزیزاعظمی

ریال و درہم کمانے والوں کے حالات اور ان کی قربانیاں ۔۔عزیزاعظمی

تعلیم سے زیادہ پیسہ اور کتاب سے زیادہ پاسپورٹ کی اہمیت رکھنے والی ہماری سوچ اور روایت کے مطابق ابا نے بھی پڑھائی چھوڑ کر پاسپورٹ بنوایا اور ریال و درہم سے گھر کی تقدیر بدلنے کا خواب سجائے سعودی عرب چلے گئے اس میں کوئی شک نہیں کہ ریال و درہم سے ہمارے معاشی حالات بدلے ہیں، طرز زندگی بدلی ہے، نمائش و زیبائش کا چلن بدلا ہے امیر و غریب کا معیار بدلا ہے اگر کچھ نہیں بدلا تو تعلیمی معیار اور سیاسی سوچ نہیں بدلی سالوں پہلے تعلیمی اور سیاسی طور پر ہم جہاں تھے آج بھی وہیں ہیں بلکہ اب تو اور بھی پسماندہ نہ ہم سیاست میں ہیں نہ حکومت میں نہ صحافت میں نہ عدالت میں ، کسی بھی موڑ پرکسی بھی وقت کسی بھی سینا اور بھیڑ کے ہاتھوں مار دیئے جائیں نہ توہماری کوئی آواز ہے اور نہ ہی کوئی پورسان حال، درہم و دینار کی بدولت گاڑی، گھوڑے، بنگلے، محلات تو بنے لیکن ڈاکٹر انجینئر ، ٹیچر آئی ایس، پی سی ایس نہیں – عرب ممالک پر انحصاری، تعلیمی پستی، سیاست اور شریعت میں آپسی رسا کشی کے باعث ملک میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے جو مقام ملک میں رہکر تعلیم و معاش حاصل کرنے والی دسری قوموں نے کیا –
قسمت سنوانے کی خاطر ابا نے ملک چھوڑ تو دیا لیکن آج کے اس ٹیکنیکل دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند لوگوں کو نوکری کا حصول مشکل ہے تو غیر تعلیم یافتہ اور بے ہنر لوگوں کے لئے نوکری کہاں، سعودی عرب کے بدلتے حالات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سبب جب ابا کو کوئی کام نہیں ملا تو انھوں نے بھی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نوکری کے حصول کے لئےسب سے آسان اور ہمارے نوجوانوں کا پسندیدہ پیشہ ڈرائیونگ گاؤں کے دوستوں کی مدد سے سیکھ ہی لی اور ایک سعودی کے گھر میں سواق خاص بن گئے، گھر خان صاحب کہے جانے والے ابا اب سعودی میں سواق ” فیملی ڈرائیور”کہے جانے لگے، معاشرے کے اس رویے پر قربان جاؤں کہ گھر جس کام کو کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے سماج حقارت کی ترچھی نگاہ سے دیکھتا ہے پردیس میں وہ سارے کام کرنے میں کوئی عار کوئی شرم نہیں اپنے ملک میں سبزی اور پھل بیچنے والے کے گھر رشتہ نہ کرنے والا معاشرہ سعودی میں سبزی اور مچھلی بیچنے والوں کے گھر فخریہ انداز میں بیٹا بیچ دیتا ہے سبزی بیچ کر روپیہ کمانے والوں کی عزت تو نہیں لیکن برف بیچ کر ریال و درہم کمانے والوں کی عزت میں کوئی کمی نہیں –
خدا کی حکمت، اپنی قسمت اور خلیجی حالات سے بے خبر دنیا کی چمک   دیکھ کر ابا سعودی عرب تو گئے لیکن قسمت سے آگے نہیں جا سکے بڑی مشقت کے بعد کہیں کام ملتا تو تنخواہ نہیں کہیں تنخواہ ملتی تو کام نہیں، مشکل سے ملنے والی ڈرائیور کی یہ نوکری بھی چھوٹ گئی لیکن حسن اتفاق کہ ابا اس بار جس کفیل کے یہاں ڈرائیور تھے وہ ایک ڈاکٹر تھا اسکو ہسپتال چھوڑنا اور واپس لانا یہی ان کی کل ڈیوٹی تھی، ڈرائیور کی اس نوکری نے ابا کو بہت پیسہ تو نہیں دیا لیکن ڈاکٹر کی صحبت نے ان کے اندر یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ کاش میں بھی پڑھا ہوتا اور یہی احساس سعوی عرب میں ابا کی کل کمائی تھی اور اسی احساس کے ساتھ انھوں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ گھر اس وقت تک نہیں جاؤنگا جب تک بچوں کو پڑھا نہ لوں –
اللہ نے ابا کی قسمت میں رزق تنگ تو نہیں لیکن اس قدر مختصر لکھا تھا کہ سعودی عرب کی تپتی ریت گرم ہواؤں میں دن بھر پسینہ نچوڑنے کے بعد بھی ان کی آمدنی وہیں ختم ہو جاتی جہاں سے غربت شروع ہوتی لیکن دنیا کی نظر میں ابا سعودیہ  رہتے تھے عرب ممالک ریال و درہم کمانے والوں کے گھر میں تنگی ہوگی گاؤ ں، محلہ، پڑوس معاشرہ نہ کبھی اس بات کو ماننے کو تیار ہوتا اور نہ سمجھنے کو اپنی ہانڈی پر نظررکھنے کے بجائے دوسروں کی ہانڈی پر نظر رکھنے والے اس معززمعاشرے میں، اپنی عزت اور خاندانی وقارکا بھرم رکھنے کے لئے اماں ہر روز جیتیں اور ہر روز مرتیں ابا کے بھیجے گئے ہر مہینے پانچ سے سات ہزار میں گھر کی عزت کو سفید کپڑوں میں ملبوس رکھنا، دو دو جوان بہنوں کی شادی کا جہیز بنانا، ہمیں  سکول بھیجنا، آرزوؤں اور خواہشوں کو مار کر پڑوسیوں کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا اماں کے لئے کس قدر مشکل تھا،
رات کی تنہائی میں کبھی کبھی ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو سب ظاہر کر دیتے ان کی آنکھوں سے ٹپکے ہوئے موتی اگر غلطی سے ہمیں بیدار کر دیتے تو یہی کہتیں  کہ ایک حسین خواب تھا جو آنکھوں کو نم کرگیا مجبوریوں اور پریشانیوں میں بھیگا ہوا اماں کا یہ لہجہ بتاتا کہ پریشان آنکھوں میں حسین خواب کہا ں ہوتے ہیں لیکن ماں کی ممتا ہمیں خوش رکھنے کے لئے آنسوؤں کے ساتھ اپنے غموں کو بھی پی جاتی لیکن کسی پریشانی کا اظہار نہ  کرتی – ہم سفید پوش لوگوں کا المیہ ہے کہ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنی خوداری اپنی غیرت اپنے خاندانی وقار کا بھرم رکھنے کی خاطر نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے سامنے اپنی حالت زار بیان کر سکتے، اماں اسی سات ہزار میں اپنی ساری خواہشوں کا گلا گھونٹ کر جیسے تیسے ہماری ضرورتوں کو پورا کر کے دنیا کے سامنے مسکراتی رہتی، ہمارے اچھے مستقبل کی خاطرابا کا برسوں  سعودی عرب رہنا ہمیں دکھ تو دیتا ویڈیو  کال پر ان کی محبت اور حسرت بھری نگاہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو تو روتا اولاد کے لئے ماں باپ کی اس ایثار اور قربانی پر دکھ اور ملال تو تھا لیکن کلیجہ اس وقت پھٹ گیا جب اماں مجبور ہوکر میرے  سکول کی فیس کے لئے محض ایک ہزار ادھار مانگنے مجھے رحمان دادا کے گھر بھیج دیا ایک ہزار لینے کے لئے میں ان کے گھر کے سنگ مر مر لگے کھمبے کی آڑ میں شرمندگی چھپائے، نظریں جھکائے، مجبوری اٹھائے گھنٹوں کھڑا رہا لیکن جیسے کسی نے سنا ہی نہیں ،گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد جب مایوسی لئے واپس جانے لگا تو ان کی بڑی بہو نے کہہ  دیا کہ جب دیکھو پیسے کے لئے منہ  اٹھائے کھڑے رہتے ہیں جیسے یہاں پیسوں کے پیڑ لگے ہیں جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت پڑھانے کی ،کھانے کو نہیں لیکن خواب نوابوں والے ،پتا نہیں کون سا تمغہ مل جائے گا پڑھا کے۔۔۔ لفظوں کے دانت تو نہیں ہوتے لیکن جب وہ کاٹتے ہیں تو جسم کو نہیں روح کو زخمی کرجاتے ہیں۔۔
اس دن ان کا طنزیہ جملہ، مغروری لہجہ میرے سینے میں خنجرکی طرح اتر گیا، میری غربت اور ماں کی تربیت نے میرے اندر اتنی ہمت نہیں پیدا کی کہ میں ان کو  جواب دے پاتا، پیسے کی جگہ ان کا نشتری لہجہ دل میں چبھائے گھر واپس آیا اور ماں کے پہلو میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ۔۔اماں نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا دولت سمجھنے والے تعلیم نہیں سمجھتے وقت بہت بڑا مرہم ہے یہ زخم بھی بھر دے گا۔
دوسرے دن ابا کا فون آیا، ان سے کہہ  دیا کہ ابا مجھے پڑھانے کا خواب چھوڑ کر سعودی عرب بلا لیں بھوک تو برداشت ہوجاتی ہے لیکن لوگوں کی تلخ باتیں اور لفظوں کی چوٹ برداشت نہیں ہوتی ،کسی بھی رنج و علم پر نہ پسیجنے والی ابا کی آنکھ میری باتوں پر بے تحاشا برس پڑیں ،خود کو سنبھالتے ہوئے کانپتے لہجے میں کہا ،بیٹا اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اولاد اور آنے والی نسلوں کو لفظوں کے زخم نہ سہنا پڑیں  تو میری طرح سعودیہ  آنے کی ضد مت کرو، اس وقت پریشانی ضرور ہے تنگی ضرور ہے اپنی قسمت اور خدا کی  مرضی  سمجھ کر لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے آدھی روٹی اور پھٹے کپڑے پر گزارا کرلو لیکن پڑ ھنے سے انکار مت کرو بیٹا۔
میں تمہیں پڑھانے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ سعودی عرب کی اس تپتی ریت میں نچوڑ دوں  گا۔ ۔لیکن ہار نہیں مانوں گا، پھر تم کیوں ہار مانتے ہو ۔
انٹر میڈیٹ کے بعد تمہیں میڈیکل کی تیاری کرنی ہے ایم بی بی ایس کا ٹیسٹ دینا ہے بیٹا میں اپنی قسمت، اللہ کے فیصلےاور اس کے دیے  گئے رزق سے آگے تو نہیں جا سکتا لیکن تم سے وعدہ کرتا  ہوں کہ اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کی خاطر اپنی جوانی کے قیمتی سال اس صحرا میں گزار دوں گا ،لیکن میں گھر آکر پوری زندگی لوگوں کے سامنے اپنی اولاد کو رسوا ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ بیٹا میری قربانی اور جذبات کی قدر کرنا تمہاری کامیابی میری آنکھوں میں روشنی بھر دے گی۔ عرب کی تپتی ریت میں کام کرنے کا حوصلہ دے گی، ایک ڈاکٹر کا باپ کہلائے جانے پر میرے یہ سارے زخم بھر جائیں گے –
ابا کا مشفقانہ انداز، جذباتی لہجہ حوصلہ بن کر مرے دل و دماغ میں اتر گیا اور میں نے بھی اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ، ان کی اس قربانی کو رائیگاں  نہیں جانے دوں  گا ان کے خوابوں کی تکمیل اپنا مقصد بنایا کتابوں سے پیار کیا ،نیندوں کو حرام کیا اور پہلے ہی ٹیسٹ میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرلیا ،ابا نے سنا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی، پیسوں کا انتظام کر کے میرا ایڈمیشن کرا یا اور خود چھ سال گھر نہیں آئے ، میرے ڈاکٹر بننے کے کچھ مہینوں بعد ابا گھر آئے میں اس وقت دلی  کے ایک ہاسپیٹل میں پریکٹس شروع کر چکا تھا اور ایم ڈی کی تیاری کر رہا تھا۔ ابا گھر پہنچے ۔دوسرے دن میں فلائٹ سے گھر پہنچا  ۔آٹھ سال بعد ابا کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکا۔ ان کی  اس قربانی اور اماں کی جفا کشی کو سوچ کر آنکھیں بے تحاشہ چھلک پڑیں، کچھ دن ابا کے ساتھ گزانے کے بعد دہلی واپس چلا گیا۔
2 مہینے بعد ایم ایس کاٹیسٹ بھی نکال لیا اور نیورو سرجن بن گیا ۔کچھ سالوں بعد ابا کے نام سے اپنا ہاسپیٹل بنوایا تو ابا کی خواہش کے مطابق گاؤں کے لوگوں کا علاج فری رکھا۔ ایک دن رات کو جیسے گھر پہنچا  ہسپتال سے فون آیا کہ سرایک ایمرجنسی کیس ہے وہ بھی آپ کے گاؤں  کا، کھانا ٹیبل پر رکھا، چھوڑ کر ہسپتال پہنچا دیکھا تو رحیم دادا باہر کھڑے ہیں جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا ا ن کو سلام کیا، حال دریافت کرتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ گیا دیکھا تو ایک عورت اسٹریچر پر زندگی اور موت کے بیچ لیٹی ہوئی تھی ،جلدی سے آئی سی یو میں داخل کیا ،علاج شروع کیا ۔۔دوسرے دن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ساتھ آپیریشن کیا کئی  ہسپتال  سے لاعلاج ہونے کے بعد بالآخر اللہ نے جب انھیں میرے ہاتھوں شفا دی تو ہوش میں آنے کے بعد مجھے دیکھ کر رو پڑیں ۔۔شاید ان کو وہ بات یاد  آگئی جب میں ان کے گھر اپنی اسی تعلیم کے لئے ایک ہزار ادھار مانگنے گیا تھا تو انھوں کہا تھا کہ جب اوقات نہیں تو کیا ضرورت ہے پڑھانے کی اورپڑھ کر کون سا تمغہ جیت لوگے۔
وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے معافی مانگنے لگیں میں ان کو اچھی صحت کی دعاء دیتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ بھابھی دولت خوشحالی دیتی ہے اور تعلیم زندگی، امیری پیسہ دیتی ہے اور تعلیم سلیقہ ،غربت پر طنز کریجئے، لیکن تعلیم پر نہیں۔
میرے علاج نے انکی زندگی بھی بدل  دی اور ان کی دنیا بھی۔ کچھ دن بعد انھوں نے میرے نام سے ایک اسکول بنوایا جس میں غریب بچوں کی تعلیم کو فری رکھا – اللہ اان کو جزائے خیر دے اور ہمیں والدین کی عظمت اور ان کے تقدس کے احترام کی توفیق دے – آمین جزاکم اللہ
بشکریہ مضامین!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *