زبان اور مادری زبان: ہر ایک کا اپنا ستارہ

چیکوسلوواکیہ کی ایک مثل ہے کہ، “ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو”
Learn a new language and get a new soul.
یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے ہے۔ اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذاتِ خود انسانی ارتقا کے لیے ضروری نہیں لیکن انسانی ارتقا کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔ مصر کے مشہور ادیب ڈاکٹر احمد امین نے اپنی خودنوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ پہلے میں صرف اپنی مادری زبان (عربی) جانتا تھا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی سیکھنا شروع کیا۔ غیر معمولی محنت کے بعد میں نے یہ استعداد پیدا کرلی کہ میں انگریزی کتب پڑھ کر سمجھ سکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب میں انگریزی سیکھ چکا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پہلے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا اور اب میں دو آنکھ والا ہوگیا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پا سکا۔ میں کم وبیش پانچ زبانیں جانتا ہوں: اردو، عربی، فارسی، انگریزی، ہندی۔ اگر میں صرف اپنی مادری زبان ہی جانتا تو یقینا معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہتے۔
آج دنیا بھر میں بولی جانے والی 6,000 کے قریب زبانیں انسانوں میں رابطے اور ابلاغ کے لیے رنگا رنگ ذرائع اور طریقے وضع کرنے کی قدرتی صلاحیت کی آئینہ دار ہیں۔
کثیر اللسانی تعلیم کی اہمیت کو بخوبی تسلیم کرنے والے ماہرینِ تعلیم کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جائزوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے اپنی مادری زبان میں نسبتاً جلد سیکھتے ہیں۔ یہ حقیقت تسلیم کرلینے کے بعد سکولوں کی سطح پر بھی مادری زبان میں تعلیم دینے کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن بدقسمتی سے اقلیتی زبانوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگرچہ کثیر اللسانی تعلیم کی قدر و قیمت کا ادراک کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن اس راہ میں حائل سیاسی واقتصادی رکاوٹیں بھی اک کوہِ گراں ہیں۔ دنیا کے قریباً 47 کروڑ 60 لاکھ اقلیتی زبانیں بولنے والے ناخواندہ افراد کو ذہن میں لایا جائے تو بچوں کومادری زبان میں بنیادی تعلیم سے ان کی کارکردگی میں نمایاں اضافے کے معاملے سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں رہتا کیوں کہ ان ممالک میں بیشتر بچوں کو مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جاتی اور یوں ہم ناخواندگی بڑھانے کے عوامل میں لاشعوری طور پر اضافے کے قصور وار ٹھہرتے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے قدیم مادری باشندوں کے ایک جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچے جنہیں اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دی گئی، کارکردگی کے اعتبار سے انگریزی زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے کہیں آگے رہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مادری زبان میں تدریس اس عملی اور جذباتی افادیت کی حامل بھی ہے جس کی بدولت ایک بچہ اپنی ثقافت سے انس کے رشتے میں بندھا خود کو اپنی مٹی سے وابستہ پاتا ہے۔ دوسری طرف مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کے بعد ثانوی درجوں میں کسی دوسری زبان کا ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال بچوں میں عالمی ثقافتی اور لسانی روایات کی رنگا رنگی کو سمجھنے اور ان میں مفاہمت رواداری اور مکالمے ومباحثے کی صلاحیتیں ابھارنے کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوتا ہے۔
ورجینیا‘ امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی کی ایک تحقیقاتی ٹیم 1985ء سے امریکہ کی 15 ریاستوں کے 23 سکولوں میں ذریعہ تعلیم اور امتحانی نتائج کے درمیان تعلق کا جائزہ لیتی چلی آ رہی ہے۔ جائزے کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سکول میں 11 برس کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبا میں سے مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے اندر تعلیمی کارکردگی میں بہتری کا ایک واضح تناسب پایا گیا ہے اور ثانوی سکول میں بھی وہی طلبا اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں جنہوں نے ابتدا میں دو زبانی تعلیم حاصل کی ہے۔
اقلیتی زبانوں والے طلبا جب مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تو ان میں اپنی زبان کی قدر و قیمت کے علاوہ اس کے لیے احترام کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کسی دوسری زبان میں تعلیم سے انہیں بالواسطہ یہ پیغام ملتا ہے کہ اگر علمی اعتبار سے ترقی کرنا ہے تو یہ مادری زبان سے حاصل نہیں ہوگی اور یہ کہ ان کی مادری زبان کسی عملی افادیت کی حامل نہیں۔
ہیگ‘ ہالینڈ میں 4 تا 17 برس کی عمر کے 41600 بچوں میں مرتب کیے گئے ایک جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پرائمری سطح کے 49 فیصد اور ثانوی سطح کے 42 فیصد طلبا گھروں میں ولندیزی کی بجائے کوئی اور زبان مثلاً ترکی، ہندی، بربر یا عربی زبان بولتے ہیں۔ ایسی صورت میں زبانوں کو سمونے کی پرانی پالیسیاں اور طرزِعمل قطعاً قابلِ عمل نہیں رہتیں۔ اس کے باوجود تارکینِ وطن کے لیے علاقائی زبانوں کی طرز پر کوئی قابلِ ذکر پالیسی یا قوانین موجود نہیں۔ تاہم بعض ممالک میں پہلے ہی اس سمت میں پیش رفت کے باعث جلد ہی یہ صورت حال تبدیل ہوجانے کی امید کی جاتی ہے۔ مثلاً آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں گذشتہ 20 برس کے دوران رفتہ رفتہ تمام پرائمری سکولوں میں دو زبانی تعلیم کورائج کیا جاچکا ہے۔ چنانچہ2002ء میں انگریزی کے سوا کسی اور زبان کے لازمی مضمون میں پرائمری اور ثانوی سطح پر 41 زبانیں پڑھائی گئیں، جن میں انڈونیشی، اطالوی، جاپانی، جرمن اور فرانسیسی زبانیں قابلِ ذکر ہیں۔
چند امیر ممالک کی طرف سے مسئلے کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے اپنی تعلیمی پالیسیوں پر نظرثانی کا آغاز ایک خوش آئند بات ہے۔ اب اس روایتی نظریے پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے ہیں کہ آیا قومی دھارے میں سمونے کے لیے مادری زبان کو ترک کرنا واقعی ضروری ہے؟ سکولوں میں مادری زبان بولنے پر سزا کی پرانی روایت بھی ترک کی جا رہی ہے اور اب اپنی مادری یا علاقائی زبان کا استعمال کسی احساسِ کم تری کا باعث نہیں بنتا۔

مادری زبان میں تعلیم اور کثیر اللسانی کو روز افزوں دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے اور مادری زبان بولنے کو ایک حق طور پر تسلیم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 1999ءمیں یونیسکو کے اعلان اور پھر ہر برس 21 فروری کو مادری زبان کے عالمی دن کا منایا جانا بھی اسی رجحان کا ایک واضح ثبوت ہے۔ پھر زبانوں کو لوگوں کی شناخت کے جزولازم کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے، جس کا ادراک 2001ء کے دوران یونیسکو کے ثقافتی رنگارنگی کے عالمی اعلامیہ میں بھی کیا گیا۔

تاہم اس بڑھتی ہوئی آگہی کے باوجود بہت سی مشکلات بالخصوص سیاسی رکاوٹیں باقی ہیں۔ زبانوں کے معاملے میں سیاسی فیصلوں کے باوجود ان کے تکنیکی پہلوؤں مثلاً انہیں کیسے پڑھایا جائے، وغیرہ پر زیادہ تر غور نہیں کیاجاتا۔ مقامی وعلاقائی زبانوں کا احترام اور انہیں سکولوں میں قانونی حیثیت دینے کے علاوہ عوام کو قومی اور غیر ملکی زبانوں کی تعلیم تک رسائی مہیا کرنا اس سلسلے میں بنیادی نکات ہیں۔

زبانوں کے معاملے میں جنگ ہمیشہ ایک وسیع تر لڑائی کا حصہ ہوتی ہے، جس کا شکار عام طور پر اقلیتی گروہ ہوتے ہیں اور ان پر پہلا وار اپنی زبان استعمال کرنے پر پابندی کی صورت میں ہوتا ہے۔ انڈونیشیا میں صدر سہارتو کے دورِ حکومت میں چینی کمیونٹی کومنظم طریقے سے دبایا جانا اس کی ایک واضح مثال ہے۔ جب چینی زبان کے استعمال پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے برعکس آزادی کے فوراً بعد نئی قائم شدہ افریقی حکومتوں میں سے بیشتر نے پہلا قدم مقامی زبانوں کی بحالی کی صورت میں اٹھایا۔ چنانچہ 1963ء میں سواحلی کینیا کی سرکاری زبان بن گئی اور گنی نے ملک کی 8 سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کو سرکاری حیثیت دینے اور ان میں خواندگی کی مہمیں شروع کرنے کی صورت میں لسانی اور ثقافتی اعتبار سے بھی نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارے کے عمل کا آغاز کر دیا۔ دو زبانی تعلیم کی بدولت آج کینیائی باشندے سواحلی کے مقابلے پر انگریزی زبان زیادہ سہولت سے بولتے ہیں۔

مالی 1994ء سے اپنے سکولوں میں ابتدائی دو برس میں مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ اسی طرح سینی گال نے حالیہ ہزاریے میں مقامی زبانوں کی بحالی کی طرف پیش رفت کی ہے اور 2002ء سے 155 کلاسوں میں بچوں کو ان کی مقامی زبان میں تعلیم کا آغاز کیا گیا۔ ان بچوں کو پہلے برس میں 75 فیصد جب کہ دوسرے اور تیسرے برس 50 فیصد تعلیم مادری زبان میں دی جائے گی۔ اس کے بعد بیشتر وقت فرانسیسی کو بطور ذریعہ تعلیم استعمال کرتے ہوئے بچوں میں زبانوں کے تقابل اور تفہیم کی صلاحیت کو فروغ دیا جائے گا۔

زبانوں کی رنگارنگی اور اپنی مادری زبان سے اُنسیت سے متعلق مرحوم سوویت یونین کی ریاست داغستان کی ایک چھوٹی سی زبان کا شاعر رسول حمزہ توف ایک جگہ لکھتا ہے؛ ”میرے نزدیک زبانیں، آسمان پر بکھرے ہوئے ستاروں کی حیثیت رکھتی ہیں اور میں یہ نہیں کہوں گا کہ تمام ستارے ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک بڑے ستارے کا روپ لے لیں کیوں کہ اس کے لیے تو سورج موجود ہے لیکن سورج کے وجود کے بعد بھی یہ ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ ستارے آسمان پر چمکتے رہیں اور ہر آدمی کے پاس اپنا ستارہ ہو۔“

وہ مزید کہتا ہے کہ؛ ”مجھے اپنے ستارے یعنی اپنی مادری زبان آوار سے محبت ہے، میں ارضیات کے ان ماہروں کی بات پر یقین رکھتا ہوں جو کہتے ہیں کہ چھوٹی سی چھوٹی پہاڑی میں بھی سونے کی کان نکل سکتی ہے۔“

سو، زبان کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا تعین نہ تو عددی اکثریت سے ہو سکتا ہے اور نہ اس سے کہ وہ کتنی پرانی ہے۔ اس کے دو ہی پیمانے ہیں؛ اول یہ کہ اس کا ادب / کلاسک کتنا شان دار ہے اور دوم یہ کہ اس کے بولنے والے اپنی مادری زبان سے کتنا پیار کرتے ہیں، اسے کتنا برتتے ہیں ۔ اور بلاشبہ ہماری زبانوں میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اس لیے آیئے اپنی زبانوں کو بچائیں، انہیں وسیع کریں اور ثابت کریں کہ یہ کسی بھی طرح دنیا کی عظیم زبانوں کے مرتبے سے کم نہیں۔

چند ہزار لوگوں کی مادری زبان آوار میں جب کسی عورت نے دوسری عورت کو سخت ترین بددعا دینی ہو تو وہ اس سے کہتی ہے؛ ”خدا کرے تیرے بچے اس زبان سے محروم ہو جائیں جو اُن کی مائیں بولتی ہیں۔“

اِس بددعا سے بچیں اور مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر یہ طے کر لیں کہ ہم سب اپنی مادری زبان میں لکھیں گے، پڑھیں گے اور بولیں گے۔

آخر میں اپنی قوم، سرزمین اور زبان سے والہانہ عشق کرنے والے اسی رسول حمزہ توف کی ایک نظم کی چند سطریں، جو اپنی زبان پہ فخر، فقر اور فکر کی دعوت دیتی ہیں:

یوں اس اجاڑ وادی میں
جھلملاتا ہے زندگی کا چراغ
یک بیک پاس ہی سے آتی ہے
رہ نوردوں کی ڈوبتی آواز
میرے کانوں میں گونج اٹھتے ہیں
میری اپنی زبان کے الفاظ
موت اور زیست کے دوراہے پر
میری زبان کے حسیں الفاظ
یوں ہیں جیسے کہ جامِ آبِ حیات
اور بس یہ دوا ہی کافی ہے
دوسروں کی زبان بھی یونہی
ان کے حق میں ہے جامِ آبِ حیات
مٹنے والی ہو کل جو زباں میری
آج ہی مجھ کو موت آ جائے
مجھ کو اپنی زبان پیاری ہے
لاکھ کوئی اسے حقیر کہے
عالمی محفلوں میں جا نہ ملے
میرا دل تو مقام ہے اس کا
مجھ کو اکثر یہ وہم ہوتا ہے
کیا میرے بعد قوم کے بیٹے
اپنے’محمود کا حسین‘ کا کلام
کوئی معمولی ترجمہ لے کر
اپنے اسلاف کو سنائیں گے؟

Avatar
عابد میر
عابد میر بلوچستان سے محبت اور وفا کا نام ہے۔ آپ ایک ترقی پسند سائیٹ حال احوال کے ایڈیٹر ہیں جو بلوچ مسائل کی نشاندھی اور کلچر کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *