بے رنگ تصویر کا شور/مقصود جعفری

​وہ کھڑکی نہیں تھی، ایک مربّع خلا تھا جس میں سے روزانہ “گزرتے” ہوئے رنگ در آتے تھے۔ مگر در آنے سے پہلے ہی کٹ کر، ایک دوسرے سے خلط ملط ہو کر، کھڑکی کے شیشے پر ایک بے معنی لکیر بن جاتے۔ اس لکیر کا نام محلے والوں نے ‘صبح’ رکھا تھا۔ ‘صبح’ یعنی جب گھر کی بوڑھی عورت کا کانپتا ہاتھ چولہے پر ایک نقصان زدہ وقت کو دوبارہ گرم کرتا ہے۔ وقت؟ نہیں، باسی روٹی کا ٹکڑا۔ وہ ٹکڑا جو صدیوں سے ایک ہی مذہبی خاموشی میں گوندھا جا رہا تھا۔

​صحن میں سیاہ سفید مرغیاں دوڑ رہی تھیں۔ مرغیاں نہیں، دراصل یہ سماجی دباؤ کے چھوٹے چھوٹے زندہ نقطے تھے جو کسی بھی لمحے چونچ مار کر آپ کے ہاتھ سے آزادی کا دانہ چھین سکتے تھے۔ ان میں سے ایک مرغی کو سب “بڑی بیٹی” کہتے تھے۔ بڑی بیٹی، جس کے پروں پر شادی کی رسموں کا وزن اتنا تھا کہ وہ پرواز کا خیال بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے گرد چکر لگاتے ہوئے مرغے کو ‘برادری’ کا نام دیا گیا تھا— ایک ایسا مرغا جو بانگ تو دیتا تھا مگر آواز ہمیشہ گھر کی چار دیواری سے ٹکرا کر واپس اس کے گلے میں پھنس جاتی تھی۔

​وہ کمرہ جہاں مرد بیٹھا تھا، وہ دراصل ایک تاریخی قید خانہ تھا۔ دیواریں نہیں تھیں، بس غیر محسوس رشتوں کی ڈوریاں تھیں جنہیں ‘خاندانی عزت’ کا نام دیا گیا تھا۔ مرد کا چہرہ؟ وہ ایک کاغذ کا کٹا ہوا دائرہ تھا، جس میں آنکھ، ناک اور منہ کی جگہ صرف تین سوراخ تھے۔ وہ تین سوراخ جن سے وہ روز وہی آوازیں سنتا تھا: “بیٹے، کاروبار بڑھاؤ۔” “بیٹے، قرض ادا کرو۔” “بیٹے، لوگ کیا کہیں گے؟” لوگوں کا وجود نہیں تھا۔ لوگ ایک دائمی، ڈراٶنی سرگوشی تھے جو نسل در نسل اس بے چہرے مرد کے کانوں میں گونجتی تھی۔ وہ کوشش کرتا کہ اس سرگوشی کو کسی نیلے گیت میں بدل دے، مگر زبان کی نوک پر ہمیشہ ‘جی، اچھا’ کی ایک بھاری سِل رہ جاتی۔

​گلی سے ایک بینائی کھویا ہوا فقیر گزرا۔ فقیر نہیں، وہ دراصل محلے کے تمام آدھے ادھورے خوابوں کا مجموعہ تھا جو جسم اختیار کر چکا تھا۔ اس کی جھولی میں سکے نہیں، بلکہ خاندانوں کی دبی ہوئی خواہشیں تھیں۔ عورتیں اسے ایک روپیہ دیتیں اور اس کے بدلے اپنی آواز کا ایک حصہ لے لیتیں۔ وہ عورتیں جن کی آوازیں صحن میں موجود مرغیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے زیادہ کبھی نہ اٹھ پائی تھیں۔

​جب شام ہوئی، تو کھڑکی کے اس مربّع خلا سے کوئی رنگ اندر نہیں آیا۔ صرف ایک ٹھوس، جامد خاموشی تھی جو گھر کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ یہ خاموشی دراصل سماج کے اس ناخواندہ معاہدے کا اعلان تھا جس پر ہر فرد نے غیر ارادی طور پر انگوٹھا لگا رکھا تھا۔ مرغی نے دانے پر چونچ ماری، مرد نے کاغذ کے دائرے کو دیوار پر ٹیک دیا، اور بوڑھی عورت نے چولہے کی آگ کو کل کے لیے محفوظ کر لیا۔

​اور اس تمام عمل میں، کسی کو یہ احساس نہیں ہوا کہ جو ‘صبح’ وہ روز دیکھتے تھے، وہ دراصل ‘صبح’ نہیں، بلکہ ہمیشہ سے ایک بھاری، پرانی تلوار کا وہ دھندلا عکس تھا جو نسل در نسل ایک ہی نقطے پر گرتا چلا آ رہا تھا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply