• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرپشن 5300 ارب اور سیاستدانوں کی بھوک کا غیر مختتم سفر/سعد مکی شاہ

کرپشن 5300 ارب اور سیاستدانوں کی بھوک کا غیر مختتم سفر/سعد مکی شاہ

کرپشن 5300 ارب اور سیاستدانوں کی بھوک کا غیر مختتم سفر: مبینہ طور پر آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو سال میں حکومت و ریاست نے 5300 ارب روپے کی براہِ راست کرپشن کی ہے یعنی بیک وقت تقریباً انیس ارب ڈالرز؟ جبکہ ریاست ایک ایک ارب ڈالر آئی ایم ایف کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر قرض لیتی ہے! یہ رقم کدھر گئی ہوگی؟ کس کس نے لی ہوگی ؟ اربوں اور کھربوں سے بھی ان کی بھوک نہیں مٹتی ؟ 5300 ارب روپے سے پاکستان بھر کے نوجوانوں کو آئی ٹی سیکٹر اور آن لائن ارننگ کی پوری دنیا میں کھپایا جا سکتا ہے۔ اس رقم سے ایک مکمل آئی ٹی سٹی، بنیادوں سے تکمیل تک کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ سادہ ترین مثال یوں کہ ایک خالی پڑی کلومیٹروں پر محیط زمین پر ایک ایک ارب فی کس لاگت سے 5300 آئی ٹی کے مکمل خودمختار اور خود کفیل ادارے کھڑے کیے جا سکتے ہیں، ایک آئی ٹی شہر بسایا جا سکتا ہے، جہاں بتدریج کم از کم ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دیا جا سکتا ہے۔ لاکھوں مزدور ، دکاندار ، ٹرانسپورٹ ورکرز ، انجینئرز ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز اور ہر شعبۂ ھائے زندگی سے وابستہ افراد کا روزگار اس سے جڑ سکتا ہے ۔ اس شہر سے نکلنے والی سکلڈ افرادی قوت بیرونِ ملک ایکسپورٹ ہو سکتی ہے اور یہاں رہنے والے نوجوان بلین ڈالرز میں رمیٹینسز کما کر دے سکتے ہیں۔

اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو 5300 ارب روپے کی معاشی وسعت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب اسے عالمی مثالوں کے تناظر میں رکھا جائے۔ دبئی انٹرنیٹ سٹی، بنگلور آئی ٹی ہب ، شینزن ٹیک پارکس چین جیسے ٹیکنالوجی مراکز عام طور پر 5 سے 15 ارب ڈالر میں وجود میں آئے ۔ یہاں معاملہ اس کے تقریباً دوگنا سرمایہ کا ہے۔ یعنی پاکستان چاہے تو عالمی معیار کی ایک مکمل آئی ٹی میگا سٹی نہ صرف بنا سکتا ہے بلکہ اسے عالمی سرمایہ اور ٹیکنالوجی کا مرکز بھی بنا سکتا ہے۔

ایسا منصوبہ کسی خیالی دنیا کا خواب نہیں بلکہ عملی طور پر ممکن ہے ۔ اس کے لیے دس سالہ ماسٹر پلان پہلے دن سے واضح ہونا چاہیے ۔ سب سے پہلا قدم ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین کا انتخاب ہے ۔ ملتان ، بہاولپور ، ڈی جی خان ریجن ، اسلام آباد ،راولپنڈی یا کراچی ٹھٹھہ بیلٹ جیسے مقامات موزوں ہو سکتے ہیں ۔ رِنگ روڈ ، موٹروے اور بڑے شہروں تک فوری رسائی ضروری ہے ۔

پہلے ایک برس میں ماسٹر پلان تیار کیا جاتا، جس کے لیے عالمی فرموں کی خدمات لی جا سکتی تھیں ، ساتھ ہی بنیادی انفراسٹرکچر تشکیل پاتا ۔ 8 لین ہائی وے ، زیر زمین فائبر نیٹ ورک ، 500 تا 1000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ، پانی کے پلانٹس ، سیکیورٹی سسٹم اور سمارٹ کنٹرول سینٹر ۔ اس مرحلے پر تقریباً 900 ارب روپے خرچ ہوتے ۔

دوسرے مرحلے میں ٹیکنالوجی اکنامک زون تشکیل پاتا جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے 3000 سے 5000 آئی ٹی کمپنیاں جگہ حاصل کر سکتیں ۔ AI ، کلاؤڈ، سائبر سیکیورٹی پارکس ، ٹیکس فری زونز ، ٹیکنالوجی اکنامک زونز ، ڈیجیٹل یونیورسٹیز ، سمارٹ رھائشی شہر ، تھری سٹار ھوٹلز اور عالمی کمپنیوں کے لیے خصوصی مراعات یہ سب 700 ارب روپے میں ممکن ہے ۔ اس کے ساتھ 500 ارب روپے کے بجٹ سے ایک بڑا قومی ڈیٹا سینٹر اور 300 ارب سے گلوبل سافٹ ویئر پارکس تعمیر کیے جا سکتے ہیں جہاں Microsoft ، Amazon، Google جیسی کمپنیاں آسانی سے آ کر بیٹھ سکتی ہیں ۔

تیسرے مرحلے میں تعلیم اور تحقیق اس شہر کی ریڑھ کی ہڈی بنتے ۔ دو عالمی معیار کی یونیورسٹیاں Pakistan Institute of Advanced Technology اور University of AI ، روبوٹکس، سیمی کنڈکٹر انجینئرنگ ، اسپیس ٹیک جیسے شعبوں میں ماہرین تیار کرتیں ۔ 600 ارب روپے یونیورسٹیوں اور 300 ارب روپے ریسرچ پارکس پر لگتے ۔ 100 ارب روپے کا نیشنل ٹیک وینچر فنڈ ہزاروں سٹارٹ اپس کو کھڑا کر سکتا تھا۔

تیسرے سے پانچویں سال تک اس شہر میں سمارٹ رہائشی بستیاں ، میڈیکل سٹی ، الیکٹرک ٹرانسپورٹ سسٹم ، میٹرو لائنز اور جدید شہری سہولیات تعمیر ہوتیں ۔ 800 ارب روپے کی رہائشی سٹی ، 300 ارب کی ٹرانسپورٹ اور 200 ارب کی اسمارٹ ٹیکنالوجی یہ سب ملا کر اس شہر کو خودمختار ، خود کفیل اور عالمی معیار کا بنا دیتیں ۔

ان سب کا مجموعی خرچ تقریباً 4700 ارب روپے بنتا ہے۔ یعنی 5300 ارب میں سے تقریباً 600 ارب روپے پھر بھی بچ جاتے ہیں جو مزید ڈیٹا سینٹرز ، گرین انرجی ، ہسپتالوں یا بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کے قیام پر لگ سکتے ہیں ۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے پر دس سے پندرہ لاکھ نئی ملازمتیں فی الفور پیدا ہو سکتیں اور صرف آئی ٹی ایکسپورٹس سالانہ 20 سے 30 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی تھیں۔

ایک دوسری دلچسپ سوچ بھی ملاحظہ کیجئے کہ پاکستان میں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان 171 اضلاع ھیں ۔ اگر ان مبینہ 5300 ارب روپے کو 171 اضلاع میں برابر تقسیم کریں تو فی ضلع 31 ارب روپے حصے میں آتے ھیں ۔ گویا پاکستان کے ھر چھوٹے بڑے ضلع میں 31 ارب کی لاگت سے ایک آئی ٹی زون بنا دیا جاتا تو کیا یہ ممکن نہ ھوتا کہ بیک وقت ھر ضلعے میں بیروزگاری ختم ھوتی ۔ آئی ٹی سکلڈ فورس بنتی جو بیروزگاری کے سبب ھونے والی بد امنی ، غیر یقینی ، عدم استحکام ، احساسِ محرومی کو بڑی حد تک ختم کر دیتی ۔ مگر یہ حکمرانوں کی بھوک کا غیر مختتم سفر ھے جو کروڑوں سے اربوں اور اربوں سے کھربوں کی طرف جاری رہتا ہے۔

آپ سوچ ہی نہیں سکتے کہ اتنی بڑی رقم جو ملک و عوام کو حقیقتاً اتنی بڑی معاشی قوت بنا سکتی تھی کون اور کیسے کھا گیا ؟ اس پر مستزاد یہ رقم دیگر ادارہ جاتی روزمرہ کرپشن کے علاوہ ہے۔

یہ سارا منظرنامہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی محض خواہش نہیں بلکہ قابلِ عمل حقیقت بن سکتی تھی اگر نیت، وژن اور شفافیت موجود ہوتی ۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں اربوں کھربوں کی گمشدگی معمول ہے اور قوم کو بتایا جاتا ہے کہ ملک میں پیسہ ہی نہیں ۔

یقین کیجیے یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس آئی ٹی سٹی میں واقعتاً ٹیکنالوجی اکنامک زون ، ڈیجیٹل یونیورسٹیز ، ڈیٹا سینٹرز ، سافٹ ویئر اور ہارڈویئر ہاؤسز اور سمارٹ رہائشی شہر آباد ہو سکتے تھے ۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے بھی اگر ریاست معقول کرپشن کرتی رہتی تب بھی یہ منصوبہ بن سکتا تھا ۔ آپ اسے میری یوٹوپیائی سوچ کہہ سکتے ہیں مگر میں اس کا قابلِ عمل بلیو پرنٹ بنا کر اپنے اس یوٹوپیائی منصوبہ عمل کو ثابت کر سکتا ہوں ۔ ہاں یہ میں ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ ریاست کی بابت ہمہ قسمی حسنِ ظن ، میری یوٹوپیائی سوچ اور بکواس ہے ۔

julia rana solicitors london

کرپشن 5300 ارب روپے،سیاستدانوں کی بھوک اور لوٹ مار،آئی ایم ایف رپورٹ اور پاکستان،آئی ٹی سٹی پاکستان منصوبہ،ٹیکنالوجی اکنامک زون پاکستان،ڈیجیٹل یونیورسٹیز اور ڈیٹا سینٹرز،نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع،پاکستان میں آئی ٹی ایکسپورٹس،اضلاع میں آئی ٹی زونز،ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی پاکستان

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply