ڈاکٹر ماں ایسا کیوں کیا

Dr. Ruth Katherina Martha Pfau

ڈاکٹر ماں ایسا کیوں کیا!
یہ وقت بھی دیکھنے کو ملنا تھا کہ دنیا کی ساتویں اور واحدایٹمی قوت کے حامل اسلامی ملک میں ایک بوڑھی کافرہ کی موت کا سوگ ایسے منایا جارہا ہے جیسے خدانخواستہ امت ِمسلمہ کی کوئی بڑی ہستی دار فانی سے کوچ فرمائی گئی ہو-

مومنو! ہوکیا گیا ہے تمہیں، کیا ذرہ بھر حمیت اسلامی سے بھی خالی ہوگیا تمہارا دل سیاہ، ارے اسی کے بہن بھائی استعماری قوتوں کی شکل میں تمہارے دیگر ملکوں کے اسلامی بھائیوں کا خون چوستے ہیں، اس نے اگر دو چار، دس بیس یا سینکڑوں ہزاروں مریضوں یا مانا کہ لپراسی کا مکمل خاتمہ بھی ملک عزیز سے کردیا تو کیا ہوا، ہمارے ملک میں رہتی تھی، ہمارا کھاتی تھی، دو چار بندوں کا علاج معالجہ کربھی دیا تو کوئی احسان تو نہیں کیا-

میرے بھائیو، اچھا بہنو بھی! ہم تو لوگوں کو کافر قرار دیکر انہیں تلاش کرتے ہیں اور پھر اس کا چہرے مہرے کی پہچان ان کو جنم دینے والوں کے لیے بھی مشکل بنا دیتے ہیں ، یہا ں تو قدرت نے ہماری خود سنی اور ایک کافرہ کو اٹھا کر مملکت اسلامیہ کے وجود مقدس کو ایسی”گندگی”سے “پاک ” و”مطہر”فرمایا دیا- یہ مقام اور وقت ماتم و نوحے کا نہیں یہ تو عالمِ بے وقوفی میں اِک سجدہِ شکر بجا لانے کی گھڑی ہے- آئیے نئے عزم و استقلال کا اعادہ کریں کہ ہم کسی بھی ایسے بے وقوف کے لیے اس دھرتی کی زمین تنگ کردیں گے جو خوامخواہ اور مفت میں اپنی زندگی تیاگ کر ، مغرب کے پرتعش طرزِزندگی کو لات مار کر ہماری بے لوث خدمت کرنے کی کوشش کرے گا-

ہمارے اوپر”انعامات” کا سلسلہ جاری و ساری ہے، ابھی پرلے دنوں ایدھی نام کا کم عقل بابا گزر گیا، عجیب آدمی تھا اتنی لمبی داڑھی رکھ کر بھی کہتا تھا کہ میں بھوکوں کو کھانا کھلاؤں گا، لاشوں کو ایمبولینس میں اٹھا ئے اٹھائے پھروں گا، کوڑے کے ڈھیر پر پڑے بچوں کو جائے پناہ دوں گا، وہ بابا جی تو اس حد تک اتر آئے کہ بھیک تک مانگنے لگے، اور اس کی بھی کوتاہ اندیشی ملاحظہ کیجئے۔۔ ساری کی ساری دولت چاہے بھیک سے اکٹھی کی ہوئی ہو یا چندے سے افلاس زدہ پاکستانیوں پہ خرچ کرمارتا تھا- سوچیے ! کیا ملکِ عزیز میں پنپنے کے لیے یہی کچھ بچا تھا-

جان لیجئے ایسے لوگ ہماری عظیم روایت و ثقافت کا”بد نما” پیوند بن جاتے ہیں، ان کو ساری زندگی سمجھ نہیں آتی کہ ہم تو حاجیوں کے احرام تک نوچ کر کھا جانے کی “روشن” تاریخ کی بنیاد رکھ چکے ہیں-میرے جیسا حقیقت پسند آدمی ان کو کبھی بھی نہ رول ماڈل بنا سکتا ہے اور نہ ہی ان کو دوراندیش یا فہیم و دانشمند گردان سکتا ہے، انصاف کیجئے !نہ عالی شان گھر بنائے انہوں نے اور نہ ہی اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کا سوچ کر بیرون ملک اثاثوں کے پہاڑ کھڑے کیے- سامنے کی بات ہے ملکی حالات کی غیر یقینی مگر مقام ِحیرت ہے جو ان لوگوں کو ذرہ بھر بھی اس سنگینی کا احساس ہوا ہو- ایدھی بابا تو اتنے کج فہم واقع ہوئے تھے کہ باوجود امریکن نیشنیلٹی رکھنے کے اسی جہنم میں رہنے کو ترجیح دیتے رہے- عجیب مرد قلندر تھے، اور کچھ نہیں تو دبئی کا اقامہ ہی بنوا لیتے-

اب ایسا ہی معاملہ ان گوری ماں جی کا تھا- ڈاکٹر ماں جرمنی کی رہنے والی تھیں، ہم نے بڑی دعائیں کیں کہ یہ ماں جی ہمارا وطن خالی کردیں مگر انہوں نے گویا قسم ہی اٹھا ئی ہوئی تھی ہمیں زیر باراحسان لانے کی-
اتنا غم کاہے کو ہے؟ غم نہ کرو!

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *