یہ تبصرہ اس تقریر سے ماخوذ ہے جو میں نے 14 ستمبر کو ٹورونٹو میں کتاب ‘خاموش دستک’کی رونمائی کی تقریب پر کی تھی۔
مختصر کہانیاں اور افسانے چند صفحات میں ایک دنیا آباد کر دیتے ہیں ۔ ان کے اندر ایک ایسی تاثیر ہوتی ہے جو پڑھنے والوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ آج میں اردو ادب کی دنیا میں کنیڈا کے جانے پہچانے افسانہ نگار حبیب شیخ کے مختصر افسانوں کا مجموعہ’خاموش دستک’ کا جائزہ پیش کرنا چاہتی ہوں۔
حبیب شیخ پچھلے آٹھ سال سے مشق سخن میں مصروف رہے ہیں۔ ان کے سو سے زیادہ افسانے،’تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے’ کے عنوان کے تحت کئی شخصیات پر مضامین ، کتابوں پر تبصرے ، اور نثری نظمیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی تحریروں میں حقیقت کی تلخیاں اور معاشراتی سچائیاں ایسے بیان کی گئی ہیں کہ وہ ہمیں اندر جھانکنے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ حبیب شیخ کے لکھنے کی وجہ ان کی طبیعت کی حساسیت بھی ہے۔ رابعہ الربا نے ’ درویشوں کا ڈیرا ‘ کتاب میں لکھا ہے کہ
“یہ حساس ہونا بھی کتنا حسین مرض ہے۔”
اس مرض کا علاج انہوں نے یہ کیا کہ اپنے انفرادی رنج کو نظرانداز کر کے انسانیت کے مشترکہ رنج کو اپنایا اور ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ایک انسانی، اخلاقی، اور اپنا مذہبی فریضہ سمجھا۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے قلم کا سہارا لیا۔ یہ وہ قلم ہے جس کے بارے میں احمد فراز نے کہا ہے ؎
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اس شعر کا انہوں نے بخوبی اطلاق اپنی اس کتاب میں کیا جس میں حبیب شیخ نے انسانی نفسیات ، سماجی مسائل، اور حقیقت کی سنگینی کو بے رحمی سے آشکار کیا۔
اب میں اس کتاب کے افسانوں کے موضوعات اور ان کے اسلوب کے بارے میں بیان کرنا چاہتی ہوں۔
افسانوں کے موضوعات—تلخ مگر حقیقت پسندانہ
مذہبی انتہا پسندی ،جو ہمارے معاشرے کا ایک جز بن چکی ہے، کی مثال ان کا افسانے “چترال کی ٹافی” میں نظر آتی ہے جو کہ ایک سچی کہانی پر مبنی ہے۔ اس تلخ حقیقت کو انہوں نے بہت ہی عمدہ طریقے سے قاری پہ آشکار کیا ہے۔ ان کی تحریریں جنگ کی ہولناکیوں کو بے نقاب کرتی ہیں، یہ پاکستان، بھارت، مشرقِ وسطیٰ، بوسنیا، امریکہ اور کینیڈا میں مظلوم طبقے کی آواز بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انسان کے رومانوی پہلو کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
افسانوں کا اسلوب—–سادگی میں گہرائی
حبیب شیخ کے افسانے سادہ زبان میں لکھے گئے ہیں لیکن ان کے اندر چھپی سچائی قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ان کے مختصر افسانے بھی اتنے جامع ہوتے ہیں کہ قاری کے ذہن میں ایک مکمل تصویر ابھر آتی ہے۔
ان کی کہانی ‘ریت کا ٹیلہ’تقسیمِ ہند کے ان خاندانوں کی داستان ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان میں آ کر پناہ لی تھی۔ وہ جس پاکستان کے خواب کو اپنے ذہن میں بٹھا کر آئے تھے اسی پاکستان میں ان کو دوبارہ ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ ان مہاجروں پر جو بیتی ہے یہ کہانی ان جذبات اور احساسات کا عکس ہے۔ ‘ریت کا ٹیلہ’کی آخری سطور کچھ اس طرح ہیں:
” اصغر کو ریت کا ہر ٹیلا اپنا گھر لگ رہا تھا جو بنتا ہے اور پھر کچھ دیر بعد غائب ہو جاتا ہے۔ شاید وہ بنتا ہی ہے ڈھلنے کے لئے! ”
اس ایک جملے میں پوری کہانی کی روح قید ہے اور پڑھنے والا شخص جذبات سے لرز اٹھتا ہے۔
جذباتی اثر—–وہ کہانیاں جو ذہن میں نقش چھوڑ جاتی ہیں
اچھے مختصر افسانے وہ ہوتے ہیں جو پڑھنے کے بعد قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیں۔ حبیب شیخ کے افسانوں میں محض سطحی کہانیاں ہی نہیں ہیں بلکہ ان میں گہرائی پائی جاتی ہے۔ معاشرے کی مذہبی انتہا پسندی ہو، فلسطین کے اصلی باشندوں پر تشدد اور ناانصافی کی انتہا ہو، یا پھر کوئی ہجر یا وصال پرافسانہ—ان کو ہر موضوع پر عبور حاصل ہے۔ یہ افسانے سماج کے ہر پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں اور قارئین کو زندگی کے مختلف رنگ دکھاتے ہیں۔ ان کے اندازِ تحریر میں با ساختگی، پیغامات، اور جذباتی اثرات کی گہرائی پائی جاتی ہے۔
طنز و مزاح کی کمی
ان سب خوبیوں کے ساتھ ایک کمی جو میں نے محسوس کی وہ مزاح کا پہلو ہے۔ آج کل کی بھاگ دوڑ کی زندگی میں جہاں اداس خبروں نے ڈیرےڈال رکھے ہیں، ایسے میں اگر ایک مزاحیہ کہانی سامنے آجائے اور قاری کے چہرے پر مسکراہٹ آجائے تو وہ بھی لکھاری کی جیت ہے۔ مگر میں اس کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ مزاح کی کمی اس کتاب کی خامی نہیں ہے کیونکہ یہ مجموعہ سنجیدہ اور بردبار طبقۂ فکر کے قارئین کے ذوق کو جِلا بخشتا ہے۔
نتیجہ—–مختصر افسانوں کی بے پناہ طاقت
‘خاموش دستک ‘کو کیوں پڑھا جائے؟
یہ مختصر افسانے ہمیں زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کراتے ہیں اور دھیرے سے دل میں سرایت کر جاتے ہیں ؛ قاری دیر تک ان کے سحر سے نکل نہیں پاتا۔’خاموش دستک’ یقیناً اردو ادب سے شوق رکھنے والوں کے لیے ایک خاص تحفہ ہے۔
مجھے یقین ہے کہ حبیب شیخ آنے والے سالوں میں اپنے اس سفر کو اور بھی اجاگر کریں گے، جیسا کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر
کتاب: خاموش دستک
مصنف: حبیب شیخ
سالِ اشاعت: 2024 ء
آئی ایس بی این نمبر:
978-969-7836-10-9
ناشر: آواز پبلیکیشنز، پاکستان،
0300-5211201
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں