ہم میں سے ہر شخص کے اندر یہ خواہش بدرجہ اتم موجود ہے کہ کاش وقت کو واپس لایا جا سکے ، اگرچہ اندر سے یہ تصدیقی چیخ بھی نکلتی ہے کہ گزرا وقت کبھی واپس نہیں لایا جا سکتا ، وقت کو واپس لانے کی خواہش کے پیچھے دراصل زندگی کے کچھ واقعات اور معاملات کی درستگی کی خواہش ہے، نئے سرے سے انہیں دیکھنا ہے اور ان غلطیوں سے گریز کرنا ہے جو چاہتے نہ چاہتے ہوئے سرزد ہوئیں، اس کیلئے واقعاتی بہاؤ کی ترتیب شاید درست لفظ ہے، دوسرے الفاظ میں ہماری وقت کو واپس لانے کی خواہش اصل میں گزرے حالات و واقعات کو نئی ترتیب دینا ہے ۔
اچھی خبر یہ ہے کہ وقت کو واپس لایا جا سکتا ہے، جیسے کسی خشک درخت کو جلانا اپنی اصل میں وقت کی واپسی ہے، وہ توانائی اور حرارت جو درخت نے اپنی زندگی میں جذب کی، جلتے وقت وہ اس توانائی اور حرارت کو واپس لوٹا رہا ہے، یعنی وقت واپس پلٹ رہا ہے، اور بری خبر یہ ہے کہ واقعاتی بہاؤ کی واپسی ممکن نہیں ، جیسے اس درخت پہ پرندوں نے جو گھونسلا بنایا تھا، جہاں سے ان کے بچے بڑے ہوکر اڑان سیکھ پائے تھے ، یہ سب کچھ واپس نہیں لایا جا سکتا کیونکہ یہ وقت کے پلیٹ فارم پر سرزد ہوئے واقعات ہیں اور واقعات کو خدا کی ایسی مار ہے کہ جو گزر گئے سو گزر گئے ۔ اب ان اچھی اور بری خبروں کے بیچ اس بات سے توجہ نہیں ہٹنی چاہئے کہ درخت کی مثال میں وقت کی واپسی کا تعلق درخت کی موت سے جڑا ہے ۔
وقت ایک مختلف اکائی ہے اور اس وقت کے دھارے پر واقعات کا ارتقائی بہاؤ بالکل دوسری چیز ہے، ان دو میں فرق سے لوگوں کی اکثریت واقف نہیں۔ چیزیں اپنی اصل میں دو نہیں بلکہ تین ہیں، ایک وہ آفاقی سفر ہے جو تھرموڈائینامکس کے دوسرے اصول کے تحت اس کائنات کے درجہ حرارت کو سرد سے گرم کی طرف لے جا رہا ہے، اسی آفاقی سفر کو بگ بینگ کے بعد سے سائنسی زبان میں time کا نام دیا گیا، حالانکہ اس کیلئے درست لفظ ، دوام، تھا ۔
وقت کا تصور انسان کا تخلیق کردہ ہے اور اس کی واحد وجہ انسان کا فانی ہونا ہے، انسان اگر لافانی ہوتو وقت کے تصور اور اس کی قید سے آزاد ہو کر دوام کے ساتھ جا ملے، خود کو دوام سے جدا کرنے کی جدوجہد ہی وقت کی تخلیق کا موجب بنی کیونکہ دوام لافانی ہے( تقریباً )، اور انسان کو فنا ہے تو فانی اور لافانی کے درمیان کچھ لکیریں کھینچی گئیں ، اسے مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، دوام گویا کہ ڈھول کی تھاپ ہے جو مسلسل بج رہی ہے، اور یہ تھاپ فرد کی پیدائش سے پہلے بھی یونہی بج رہی تھی اور اس کی موت کے بعد بھی بجتی رہے گی، فرد نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی پیدائش کے وقت سے اس ڈھول کی تھاپ کو پہلی تھاپ سمجھے گا اور موت کے وقت کی تھاپ کو آخری تھاپ ، یوں اپنی آسانی کیلئے دوام کو وقت میں بدل دیا گیا ، محدود زندگی نے اسے پیدائش سے لے کر موت تک کے درمیانی وقفے کو دل کی دھڑکن سے گننے کا ہنر سکھایا، ایک سیکنڈ کا وقت دراصل دل کی ایک دھڑکن کے برابر ہے، یہ بابلی تہذیب کا تخلیق کردہ تصور ہے، اس وقت انسان چونکہ جسمانی طور پر محنتی اور مسلسل مشقت کرنے والے تھے تو انکی دل کی دھڑن ہمارے دور کے آلسی نوجوان کی دھڑکن سے نسبتاً کم تھی ، آج کی زبان میں ان کے دل کی دھڑکن کو sportsman bradycardia سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، یعنی ساٹھ بار دل دھڑکے تو اسے ایک منٹ قرار دیا گیا، ساٹھ بار ہی کیوں ؟
کیونکہ بابلی گنتی میں ساٹھ ایسے ہی round figure تھا جیسے ہمارے ہاں آج hundred ہے ، وہیں سے پھر گھڑی اور کیلنڈر وغیرہ کا سلسلہ ایسے چل نکلا کہ اب ستاروں اور سیاروں کی حرکت اور فاصلے اسی دل کی دھڑکن کو لے کر ناپے جاتے ہیں ۔
وقت کی ماہیت خالصتاً انسان کی وجودی حقیقت سے جڑی ہے، داستان بالآخر آخری دھڑکن پہ آکے ٹھہرتی ہے، اس کے بیچ کے وقفے کو سماجی مقاصد کیلئے ناپا جانا شاید ضروری تھا تو وقت کا تصور تخلیق کیا گیا، اور اس کے ثبوت کیلئے کسی ایسے لمحے کو تصور کیجئے کہ کوفی پیتے وقت یا فطرت کا کوئی نظارا دیکھتے وقت فرد کہیں دور نگاہ ڈال کر کسی خیال میں گم ہو جاتا ہے، ماضی یا مستقبل بارے سوچتا یے، اپنی ذات کو کنگھال رہا ہوتا ہے، ایسے جیسے وقت معلق ہو گیا ہو، لمحہ لامحدود سا محسوس ہوتا ہے، جونہی اس ” اندرونی سفر” سے واپسی ہوتی ہے تو معلوم پڑتا ہے کہ گھڑی پر بہت زیادہ وقت گزر چکا حالانکہ فرد کیلئے بس یہ ایک لمحہ تھا، اسی کیفیت کو عاشقانِ بیقرار بھی اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جب وصل کی ساری رات بھی بس ایک لمحہ محسوس ہو اور ہجر کا دن جیسے صدیوں جیسا طویل ہو۔ واقفان حال اس کیفیت کو ” اپنے مشاہدے کی صلاحیت کا مشاہدہ کرنا “کہتے ہیں ، یہاں وقت اور دوام دو مختلف حقیقتوں کے طور پر محسوس کئے جا سکتے ہیں، وقت اپنے اندر موت کا پوشیدہ پیغام رکھتا ہے اور یہ پیغام موت پر ہی پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے اگرچہ باطنی طور پر بیدار افراد موت سے پہلے بھی اس پیغام کا شعور رکھتے ہیں، جبکہ دوام موت کے بعد گویا اسی قالین کا واپس لپیٹنا ہے ۔
وقت کا انحصار واقعاتی بہاؤ پر ہے اگر انسانی زندگی کے حالات و واقعات کو صفر کر دیا جائے تو وقت کا تصور ہی ملیا میٹ ہو جائے، تخلیق کی حکایتی معنویت اسی پہ کھڑی ہے کہ انسان ستر اسی سال تک زندہ رہتا ہے۔
کسی سٹیج پہ رکھی خالی کرسی کی تصویر روزانہ کھینچی جائے اور مسلسل سو دن اسی زاوئیے سے تصویر بنائی جائے تو ان سو تصویروں میں سے پہلے، درمیانے یا آخری دن کی تصویر کو علیحدہ کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ واقعاتی بہاؤ اس تصویر میں موجود نہیں ، لیکن شطرنج کی جاری گیم کی مسلسل تصویریں بنائی جائیں تو پہلی تصویر سے لے کر آخری تصویر تک ان تصویروں کو ایک ترتیب میں لایا جا سکتا ہے، کیونکہ ہر تصویر میں چلی ہوئی چال اپنا پتہ خود دے رہی ہے ، یہی واقعاتی بہاؤ ہے،،،، اب یہاں وقت کو واقعاتی بہاؤ سے الگ کرنا کسی طور ممکن نہیں ۔
وقت کا تعلق دوام سے اس قدر گہرا نہیں جتنا گہرا فرد کے واقعاتی بہاؤ سے ہے، آپ اگر کسی تھیٹر میں داخل ہوں اور سٹیج بالکل خالی ہو تو وقت کی بابت کچھ پلے نہیں پڑے گا، البتہ اگر اسی سٹیج پہ شیکسپیئر کا ڈرامہ رومیو اور جولیٹ چل رہا ہو تو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈرامے کی شروعات ہے یا اپنے اختتام کو جا رہا ہے، یہ واقعاتی بہاؤ ہے ڈرامے کا جو وقت کا تعین دے رہا ہے، خالی سٹیج اس سے قاصر ہے، دلچسپ بات یہ کہ خالی سٹیج دوام کا تصور تو دے سکتا ہے لیکن وقت کا نہیں ، وقت کیلئے اب اگر حالات و واقعات کا تسلسل ضروری ہے تو پھر یہ کہنا چاہئے کہ وقت ایک سماجی اکائی کے طور پر اپنا ظہور رکھتا ہے، ورنہ کائناتی تسلسل اپنی اصل میں مدام تو کہلایا جا سکتا ہے مگر وقت نہیں ، پھر سپیس اینڈ ٹائم والے تصور میں ٹائم کی اصطلاح کئی غلط فہمیاں کو جنم دیتی ہے، یہی اصطلاح سماجی، سائنسی ، مذہبی اور غیر مذہبی بحثوں میں بہت مشکلات کا باعث بن رہی ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اب یہاں فرد کو اپنی ذات کیلئے یہ بات جان لینا بھی ضروری ہے کہ وقت اور واقعاتی بہاؤ واپس نہیں آتے ، ایسا کیوں ہے ؟ ایسا اس لئے کہ انسانی فطرت ہی ایسی ہے کہ اگر فرد کو دوبارہ انتخاب کا موقع دیا جائے تو کچھ بعید نہیں کہ فرد بار بار وہی غلطی دہراتا جائے جو وہ پہلے کر چکا، اب غلطی کے دہرائے جانے سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ فرد کسی سختی، کچھ مشکلات اور چند سزاؤں سے ہو کر گزرے، تاکہ اگلی دفعہ ایسا موقع آئے تو فرد کو اپنی پہلے والی غلطی کا احساس ہو کہ اس دفعہ یہ نہیں دہرانا، پروفیشنل کیریئر اور ذاتی تعلقات میں یہ چیز نہایت اہم ہے کہ پرانی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کیا جائے کیونکہ وقت کی واپسی صرف موت سے منسوب ہے اور واقعاتی بہاؤ کا دھارا بعد الموت بھی واپس نہیں پلٹ سکتا ۔
لیکن ۔۔۔۔
شیکسپیئر کے ڈرامے رومیو اور جولیٹ دیکھنے کیلئے اگر آپ دیر سے پہنچے اور نہیں دیکھ پائے ، تو یہ ڈراما تو کہیں دوسری جگہ بھی دیکھا جا سکتا ہے، یہ دہرایا جا سکتا ہے اور دہرایا جاتا رہے گا،،، یعنی کہ واقعاتی بہاؤ کو واپس لایا جا سکتا ہے، جبکہ اوپر ہم عرض کرتے آئے ہیں کہ یہ چیز ممکن نہیں، تو پھر یہ تضاد کیسا ہے ؟
دراصل واقعاتی بہاؤ کو واپس لایا تو جا سکتا ہے مگر وقت کے اس دھارے پر نہیں جس پہ پہلے یہ رونما ہو چکا، اسی کو عام زبان میں کہا جاتا ہے کہ زندگی انسان کو مواقع ضرور دیتی ہے مگر موقع کی سمجھ اور اس سے فائدہ صرف اسی صورت اٹھایا جا سکتا ہے جب پہلی غلطیوں سے آپ کچھ سیکھ پائے ہوں ورنہ جانے یا علی ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں