اسلامی بینک کاری ایک ایسا نظام ہے جو اسلام کے اصولوں پر چلتا ہے۔ اس میں سود سے پاک لین دین، خطرے میں شراکت داری اور اخلاقی سرمایہ کاری جیسی چیزیں شامل ہیں۔ اس نظام کا مقصد نہ صرف مسلمانوں کی ضرورتیں پوری کرنا ہے بلکہ دنیا کی اکانومی کو بھی بہتر بنانا ہے۔ آج جو بینک کاری کا نظام چل رہا ہے، وہ سود پر مبنی ہے، لیکن اسلامی بینک کاری مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہ نظام حکومتی قرضوں، معاشی خسارے اور مہنگائی جیسے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہاں اس بات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اسلامی بینکاری کا نظام کیوں ضروری ہے؟۔اسلامی بینک کاری کی بنیاد اسلامی اخلاقیات اور معاشی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ یہ سماجی انصاف، خطرے میں شراکت داری اور حرام کاموں سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ نظام سود کی بجائے منافع اور نقصان میں شراکت داری پر کام کرتا ہے، جس سے معاشی استحکام آتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب معاشی بحران آتا ہے تو اسلامی بینک کاری زیادہ مضبوط ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس میں سٹہ بازی کم ہوتی ہے اور ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، اسلامی مالیات غربت کم کرنے اور خوشحالی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مالیاتی شمولیت کو بڑھاتی ہے، غربت کم کرتی ہے اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر ترقی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں میں۔ اسی طرح اسلامی بینک کاری اخلاقیات پر بھی زور دیتی ہے۔ یہ نہ صرف مسلمانوں کی مذہبی ضرورتیں پوری کرتی ہے بلکہ دنیا کی مالیاتی منڈیوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتی ہے کیونکہ یہ خطرے میں شراکت داری کے اصول پر کام کرتی ہے۔ سعودی عرب جیسے ملکوں میں اسلامی بینک کاری معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام کو بڑھا رہی ہے۔ یہ نظام معیشت کو بحرانوں سے بچاتا ہے کیونکہ یہ سود پر مبنی قرضوں کی بجائے اثاثوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اس وسیع اور جامع نظام کو سمجھنے کیلئے یہ بات کا سمجھنا بھی اہم ہے کہ معاشی طور پر اسلامی بینکاری نظام کیوں ضروری ہے؟۔آج کل دنیا کی معیشت میں جو بینک کاری کا نظام چل رہا ہے اس میں بہت سے مسائل ہیں، جیسا کہ 2008 کا مالیاتی بحران ہم سب کے علم میں ہے۔ اس لیے اسلامی بینک کاری کی ضرورت ہے کیونکہ یہ استحکام، انصاف اور پائیداری کی ضمانت دیتی ہے۔ یہ غربت کم کرنے اور معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوتی ہے، خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں روایتی نظام ٹھیک سے کام نہیں کر رہے۔ اسلامی بینک کاری انسانی ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے، خاص طور پر لمبے عرصے میں، کیونکہ یہ منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتی ہے۔جب معاشی بحران آتا ہے تو اسلامی بینک کاری زیادہ مضبوط رہتی ہے کیونکہ یہ سٹہ بازی کو روکتی ہے اور حقیقی معیشت سے جڑی ہوتی ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیونکہ یہ دنیا کے مالیاتی نظام کو اخلاقی بنیادوں پر استوار کر سکتی ہے، جہاں سود کی بجائے خطرے میں شراکت داری ہو۔ یہ مالیاتی استحکام کو بڑھاتی ہے اور معاشی ترقی میں مدد کرتی ہے۔
اسی طرح مکمل ذخیرہ بینک کاری ایک ایسا نظام ہے جہاں بینک، ڈیمانڈ ڈپازٹس کو قرض دینے کی بجائے مکمل طور پر محفوظ رکھتے ہیں اور صرف ٹائم ڈپازٹس سے قرض دیتے ہیں۔ اس سے معاشی استحکام آتا ہے، لوگوں کا اعتماد بڑھتا ہے اور بینکوں کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یعنی اسلامی نقطہ نظر سے، مکمل ذخیرہ نظام موجودہ بینکنگ سسٹم کی جگہ لے سکتا ہے، جو اسلامی بینک کاری کے اصولوں کے مطابق ہے۔ اس تبدیلی سے ریاست کو رقم بنانے کا مکمل اختیار مل جائے گا، جس سے معاشی استحکام آئے گا۔ آئس لینڈ پلان کے اسلامی ورژن میں، مکمل ذخیرہ نظام سود کو ختم کر کے معاشی مسائل حل کرتا ہے۔ سود ی نظام نے معاشرے کو اپنی زنجیروں میں برُی طرح جکڑا ہوا ہے یہی وجہ ہے اس وجہ دنیا اس نظام کو متبادل نظام ڈھونڈ رہا ہے جو کہ اسلامی اصولوں اور نظام معیشیت اور بینکاری پر عمل کرکے ممکن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ سود سے پاک نظام اسلام کی بنیاد ہے، جہاں سود کی ممانعت ہے اور خطرے میں شراکت داری پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم اثاثوں پر مبنی ہوتا ہے، جس سے معاشی استحکام آتا ہے۔ یعنی اسلامی مالیات میں، یہنظام منافع اور نقصان میں شراکت داری کو فروغ دیتا ہے، جو روایتی سود سے مختلف ہے۔ اس تبدیلی سے معاشی انصاف یقینی ہوتا ہے۔ ایک اسلامی ملک کیلئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ مکمل ذخیرہ اور سود سے پاک نظام حکومتی قرض کو ختم کر سکتا ہے کیونکہ یہ سود پر مبنی قرضوں کی جگہ ریاست کی طرف سے سود سے پاک رقم کی تخلیق لائے گا۔ اسلامی مالیات قرض کو کم کر کے ترقی کے لیے فنڈز مہیا کرتی ہے۔خسارے کے لیے، یہ نظام ریاست کو براہ راست فنانسنگ کی اجازت دیتا ہے بغیر سود کے، جو خسارے کو کم کرے گا۔ زکوٰۃ اور وقف جیسے ادارے سماجی اخراجات کو پورا کریں گے۔مہنگائی کے لیے، سود سے پاک نظام سٹہ بازی کو روکتا ہے اور حقیقی معیشت سے جڑا ہوتا ہے، جو مہنگائی کو ختم کرے گا۔ مکمل ذخیرہ رقم کی تخلیق کو کنٹرول کرے گا، جو مہنگائی کم کرے گا۔نتیجہ یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی بینک کاری میں مکمل ذخیرہ اور سود سے پاک نظام جیسی تبدیلیاں لا کر معاشی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف مذہبی بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے، جو استحکام اور انصاف لائے گی۔ حکومتوں کو ان تبدیلیوں کو اپنانا چاہیے تاکہ قرض، خسارے اور مہنگائی سے نجات مل سکے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں