الھجرہ علی خطی رسول ا ﷲﷺ (حصّہ ہفتم)۔۔منصور ندیم

یہاں رسول ﷲﷺ کا کارواں اُم معبد کے گھر سے اگلے سفر کی جانب روانہ ہورہا تھا وہاں کفار مکہ کی جانب سے بھیجے گئے کچھ لوگ رسول ا ﷲﷺ کی تلاش میں بھٹک رہے تھے۔ سوائے سُراقہ بن مالک کے ان تک کوئی نہ پہنچ سکا تھا۔ سراقہ بن مالک بن جعثم جو قوم بنو مدلج سے تعلق رکھتا تھا، وہ اپنے دوستوں کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور وہاں آکر کھڑا ہوگیا، اور بیٹھے ہوئے تمام افراد کے سامنے کہنے لگا، “اے سراقہ میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ساحل کے آس پاس کچھ انسانی سائے دیکھے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ محمدؐ اور ان کے ساتھی ہیں، سراقہ بن مالک بن جعثم نے دل میں تو یہی سوچا کہ ہو نہ ہو وہ محمد ہی کا قافلہ ہے، مگر اس شخص سے یہ کہا کہ وہ لوگ نہیں ہوسکتے، تجھے غلط فہمی ہوئی ہے، تو نے فلاں فلاں شخص کو دیکھا ہوگا جو ابھی ادھر سے گئے ہیں، یہ بات کہہ کر میں کچھ دیر مجلس میں بیٹھا رہا، پھر اٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔

ادھر ابتدائی طور پر قریش مکہ یہ جان چکے کہ رسول ا ﷲﷺ اور ان کے ساتھ سیدنا ابوبکر بن ابی قحافہؓ مکہ سے نکل چکے ہیں اور ان کو مکہ سے جانے سے روکنے کی ان کی تمام تدابیر ناکام ہوچکی ہیں تو وہ مارے غصے کے پاگل ہوگئے، چاروں طرف گھڑ سوار اور پیدل دستے روانہ کئے گئے تاکہ انہیں کو پکڑ کر واپس مکہ لایا جاسکے، وہاں تین گزرجانے کے باوجود قریش کے تمام سرداروں کی نیند حرام تھی، دارالندوہ میں مشورے شروع ہوگئے ہیں، اب کیا کیا جائے، محمد اور ابوبکر کو کسی طرح واپس لایا جائے، آخر کار طے پایا کہ مکے میں منادی کرادی جائے کہ جو شخص محمد اور سیدنا ابوبکر صدیق کو زندہ یا مردہ گرفتار کرکے لائے گا اس کو ایک دیت کے برابر رقم دی جائے گی، دیت کی رقم سو اونٹوں کی قیمت کے برابر ہوتی تھی۔

قریش مکہ کی جانب سے کی جانے والی منافی کی خبر کہ

“جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور سیدناابوبکر صدیق کو زندہ یا مردہ گرفتار کرکے لائے گا اس کو ایک دیت کے برابر رقم دی جائے گی”-

یہ خبر گھر جاتے ہوئے سراقہ بن مالک بن جعثم کو بھی ملی، سراقہ بن مالک بن جعثم نے گھر پہنچ کر اپنی باندی سے کہا کہ وہ اس کا گھوڑا لے کر فلاں ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہاں ٹھہر کر اس کا انتظار کرے، ادہر سراقہ بن مالک بن جعثم اپنے ہتھیار لے کر گھر کی پشت سے نکلا اور اپنے نیزے سے زمین پر نشان بناتا ہوا گھوڑے کے پاس پہنچا، اس پر سوار ہوا، اسے مہمیز کیا، گھوڑا اونچے نیچے راستوں پر برق رفتاری کے ساتھ دوڑنے لگا۔ سفر کے تیسرے دن سراقہ بن مالک بن جعثم تیز رفتار گھوڑے پر سفر کی منزل طر کرتے ہوئے رسول ا ﷲﷺ تک پہنچ گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار آتے ہوئے نظر آیا، سیدنا ابو بکر صدیق نے رسول ا ﷲﷺ سے کہا:

یارسول اللہ! وہ شخص ہم تک پہنچ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔

ترجمہ ’’غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

حوالہ : (صحیح البخاری ۱۱؍۴۷، رقم الحدیث ۳۳۴۶، صحیح مسلم ۱۴؍۲۹۷، رقم الحدیث ۵۳۲۹، السیرۃ النبویہ لابن کثیر ۲؍۲۵۱)۔

سراقہ بن مالک نے قریب پہنچ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیا مگر اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گر پڑا مگر سو اونٹوں کا انعام کوئی معمولی چیز نہ تھا، انعام کے لالچ نے اسے دوبارہ اُبھارا اور وہ حملہ کی نیت سے آگے بڑھا تو رسول  اﷲﷺ کی دعا سے پتھریلی زمین میں اس کے گھوڑے کا پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ یہ معجزہ دیکھ کر خوف و دہشت سے کانپنے لگا اور امان ! امان ! پکارنے لگا۔ رسول  اﷲﷺ کا دل رحم و کرم کا سمندر تھا۔ سراقہ کی لاچاری اور گریہ زاری پر رسول ا ﷲﷺ کا دریائے رحمت جوش میں آ گیا۔ دعا فرما دی تو زمین نے اس کے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد سراقہ نے عرض کیا کہ مجھ کو امن کا پروانہ لکھ دیجیے۔ رسول ﷲﷺ کے حکم سے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے سراقہ کے لئے امن کی تحریر لکھ دی۔ سراقہ نے اس تحریر کو اپنے ترکش میں رکھ لیا اور واپس لوٹ گیا۔ راستہ میں جو شخص بھی رسول ا ﷲﷺ کے بارے میں دریافت کرتا تو سراقہ اس کو یہ کہہ کر لوٹا دیتے کہ میں نے بڑی دور تک بہت زیادہ تلاش کیا مگر رسول ﷲﷺ اس طرف نہیں ہیں۔ واپس لوٹتے ہوئے سراقہ نے کچھ سامان سفر بھی رسول ا ﷲﷺ کی خدمت میں بطور نذرانہ کے پیش کیا جسے رسول ا ﷲﷺ نے قبول نہیں کیا۔

سراقہ بن مالک نے اس وقت تو السلام قبول نہیں کیا تھا مگر رسول ا ﷲﷺ کی عظمت نبوت اور اسلام کی صداقت کا سکہ ان کے دل پر بیٹھ گیا۔ جب رسول  اﷲﷺ نے فتح مکہ اور جنگ طائف و حنین سے فارغ ہو کر “جعرانہ” میں پڑاؤ کیا تو سراقہ اسی پروانۂ امن کو لے کر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو گئے اور اپنے قبیلہ کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تھا۔

تیسرے روز کے سفر کو الھجرہ پروجیکٹ نے ویسے ہی قد آدم اسکرینوں پر ڈرون سے فضائی ویڈیو مکمل سفر کے لیے الگ اسکرین پر بنائی ہوئی ہے، جس میں تیسرے روز کے سفر میں آنے والے علاقوں میں ماء احیاء (جہاں نخلستان اور پانی کے چشمے موجود ہیں) ، وادی الفرع اور جبل الملیساء کے پہاڑی سلسلے تھے، ان کو عبور کیا جبل الملیساء بھی نخلستانی علاقہ ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply