جس فلم پر آج ہم بات کرنے والے ہیں یہ ایک ہارر یعنی ڈراونی فلم ہے، اپنے منفرد پلاٹ اور خاص طور پر اپنے سے جڑی کہانیوں اور افواہوں کے پس منظر کی وجہ سے یہ خوفناک اور ڈراونی فلموں کے شائقین میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
فلم کی ریلیز سے پہلے کئی کہانیاں اور افواہیں گردش کرنے لگیں کہ اس فلم کو دیکھنے والے مر جاتے ہیں۔ ایک کہانی جو مووی کی ریلیز سے پہلے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ملی وہ یہ تھی کہ 1970 میں اس فلم کو کسی فیسٹیول میں لگایا گیا تو نہ صرف مووی دیکھنے والوں کی موت ہوئی بلکہ فیسٹیول کا انعقاد کرانے والوں کی بھی اموات ہوئیں. جس کے بعد ڈائریکٹر نے مووی ریلیز نہیں کی، بعد میں جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ بس ایک حادثہ تھا تو 1979 میں اس فلم کا پہلا ورژن سینما گھر میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا. جس سینما گھر میں نمائش ہوئی وہاں حیرت انگیز طور پر فلم ختم ہونے کے فوراً بعد آگ لگ گئی جس سے 56 سے زائد لوگ جل کر خاکستر ہوگئے۔ جس کے بعد سے ڈائریکٹر نے اس کو ایک منحوس فلم قرار دے کر چھوڑ دیا اور کئی سالوں تک اسے دوبارہ نمائش کے لیے پیش نہیں کیا.
کافی سال گزرنے کے بعد جب لوگ اس واقعے کو بھول گئے تو رومانیہ میں ایک فلم فیسٹیول کے دوران اس مووی کو پھر سے دکھایا گیا انتہائی حیرت انگیز طور پر اس کو دیکھنے والے کئی افراد پراسرار حالات میں مر گئے۔ ان کہانیوں نے فلم کی منحوسیت کو بڑھاوا دیا اور اس کی مہلک اور جان لیوا ہونے کی افواہیں بہت مشہور ہو گئیں۔ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ ایک منحوس فلم ہے جو اسے دیکھتا ہے مر جاتا ہے.
اس کے کئی سالوں بعد 2018 سے پہلے مووی کو ایک اور ڈائریکٹر نے جوائن کیا جس کا خیال تھا مووی منحوس نہیں ہے لہذا ہمیں اسے ریلیز کرنا چاہیے. مووی کا نام رکھا گیا
Antrum: The deadliest movie ever made
اس کو ریلیز کرنے کی تاریخ دی گئی، اس دوران ایک دفعہ پھر سے کہانیاں مشہور ہوگئیں کہ یہ فلم جو دیکھتا ہے مرجاتا ہے اب سوشل میڈیا کا دور تھا، یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانے والوں سے لیکر عام صارف نے بھی سوشل میڈیا پر اس مووی پر بات کی، کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ Ring مووی میں جو ڈیڈلی منحوس ٹیپ دکھائی گئی تھی وہ دراصل اسی مووی سے لی گئی ہے. ڈائریکٹر نے اس مووی کے پوسٹر پر بڑا بڑا کرکے لکھوایا
“Watch it if you dare”
یعنی ہمت ہے تو دیکھ کر دکھاؤ، بہت سے لوگوں نے تو اس مووی کو اسی چکر میں سینما میں جاکر دیکھا کہ بھائی ہم میں ہمت ہے. جب مجھے مووی کے بارے میں یہ سب باتیں پتہ چلیں تو میں نے بھی بھاگ کر اس مووی کو دیکھا. مجھے ہارر اور ڈراونی فلمیں کسی زمانے میں بہت پسند تھیں لیکن اب زیادہ تر دیکھی نہیں جاتیں. اس مووی کو جب دیکھا تو یقین ہوگیا کہ یہ مووی واقعی دنیا کی سب سے deadliest مووی ہے کیونکہ اس کو دیکھتے ہوئے آپ بوریت سے مرسکتے ہیں.
مووی کی کہانی ایک بہن بھائی کے گرد گھومتی ہے جن کا جان سے پیارا کتا وفات پاجاتا ہے اور دونوں بہن بھائی اتنے افسردہ ہوتے ہیں کہ وہ جہنم سے اپنے کتے کی روح کو واپس لانے کے لیے جہنم میں بذات خود تشریف لے جاتے ہیں.
مووی کے ریلیز ہونے کے بعد کوئی انسان اس کو دیکھ کر مرا نہیں اور تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ مووی کے بارے میں پھیلی ہوئی افواہیں آرٹیکل اور نیوز سب کے سب پیڈ پروموشن اور مارکیٹنگ کا حصہ تھے. اس کو یہاں تک خفیہ رکھا گیا کہ فلم میں ایکٹنگ کرنے والے اداکاروں کی اصلی عمریں IMDb پر ایڈٹ کروالی گئیں تاکہ پتہ نہ چلے کہ اس مووی کی شوٹنگ کب ہوئی ہے.
بہرحال اگر کسی کو ہارر موویز دیکھنے کا شوق ہے تو وہ اس عجیب و غریب مووی کو دیکھ سکتا یہ جو بہت ہی پرانی فوٹیج سٹائل میں ریکارڈ کی گئی ہے ہوسکتا ہے آپکو پسند آجائے جبکہ دوسری طرز کی فلمیں دیکھنے والوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ مووی سچ مچ منحوس ہے 56 افراد میرے خیال میں بوریت سے مرے تھے۔

بشکریہ فیسبک وال
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں