ہماری تفریق ہی ہماری قاتل ہے۔۔۔ امجد خلیل عابد

بلوچستان میں مزدورں کا قتل نئی بات نہیں رہی- 2015 میں تربت میں بیس مزدوروں کی جان لے لی گئی- دہشت گرد مزدوروں کے تعمیراتی ڈیرہ پہ حملہ آور ہوئے تھے- شہید ہوجانے والے مزدوروں کی پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہی تھی مکانات انہوں نے البتہ سندھ اور پنجاب میں بنائے ہوئے تھے- پھر حب کے قرب و جوار میں کسی پولٹری فارم میں کام کرتےآٹھ مزدوروں کو اغوا کے بعد گولی مارکر نعشیں پھینک دی گئیں- مزدور رحیم یار خان اور مظفر گڑھ کے رہنے والے تھے-
میں یہ تسلیم کرلیتا ہوں کہ دہشت گرد وں کا تعلق کسی بھی طرح کسی بھی پاکستانی کمیونٹی سے نہیں تھا، دہشت گرد کا مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ذات ، قبیلہ اور نسل- یہ ماننے کے باوجود خطرناک بات یہ ہے، جو مجھے مسلسل تنگ کرتی رہتی ہے، وہ ہے ہمارے اندر پائے جانے والی تفریق- کوئی ذی ہوش پاکستانی ہمارئے اندر پائے جانے والی رنگ، نسل ، قبیلہ اور ذات کی تفریق سے انکار نہیں کرسکتا- یہ تفریق ہی ہے جس سے ہمارا دشمن فائدہ اٹھاتا ہے- کبھی ایک نسل کے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے تو کبھی کسی صوبہ سے تعلق رکھنے والوں کو- کبھی مسلک کی تفریق آپ کے قتل ہوجانے کا جواز بن جاتی ہے-
میری دعا اور تمنا ہے کہ ہم ان تمام تفریقوں کے گورکھ دھندے سے باہر نکل آئیں اور محض پاکستانی ہونے کو اپنی شناخت بنائیں- ہم ایک مسلم مشرقی معاشرہ ہیں-ہم آزادانہ جنسی تعلق قائم رکھنے پہ یقین نہیں رکھتے- ہمارے ہاں باقاعدہ نکاح اور شادیاں ہوتی ہیں- یہ نکاح بنیاد ہے ہمارے معاشرے کی تشکیل کی- سارے کام حکومتوں کے کرنے کے بھی نہیں ہوتے، کچھ چیزیں عوام کو بھی کرنا چاہیے- کیا ہم ایسی روایت اور کلچر کی جانب نہیں جاسکتے جس میں ہمارےنکاح اور شادیاں کسی بھی طرح کی صوبائی، نسلی، ذات، قبیلہ اور گوتھ کی تفریق کے بغیر سرانجام پائیں-جب معاشرے کی بنیادی اکائی، ایک نئے خاندان کی بنیاد صرف اور صرف پاکستانیت پہ رکھی جائے گی تو آنے والی نسل اول پاکستانی ہوگی ۔اس کے بعد وہ اپنا تعلق کسی قبیلے صوبے یا ذات سے جوڑے گی بلکہ اس کی حیثیت بالکل ثانوی ہوجائے گی-

مجھے پورا یقین ہے صرف ایک یہ عمل اور اس کا کلچر میں شامل ہوجانا ہمیں ایک اکائی میں بدل سکتا ہے-کتنے دکھ کی بات ہےایک آزاد مسلم اکثریتی ریاست کی تشکیل کو ستر سال ہونے کو آئے ہیں مگر آج بھی ہم ایک پاکستانی معاشرہ نہیں بن سکے، صرف پنجاب میں بسے لوگوں کو دیکھیے تو لوکل اور مہاجر ین میں بٹے ہوئے ہیں- پھر اس سے آگے تقسیم در تقسیم کی اتنی پیچیدگیاں  ہیں کہ ایک لڑی میں پروئے جانے کا خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے- جب تک ہمارا معاشرہ اس تفریق سے باہر نہیں آتا ہم کسی نہ کسی رنگ میں ایک دوسرے کاخون پیتے رہیں گے-

کاش ہم سمجھ پائیں کہ یہ تفریق خونی ہوچکی ہے اور تعصب کیسا بھی ہو نفرت کاپودا یہی  سےپروان چڑھتا ہے- مجھے اپنی ذات پہ بھی افسوس ہے کہ میں نےایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں گویا کئی جہتوں پہ مبنی تعصب میری گھٹی میں شامل رہا- آپ بھی خود کو کھوجیے کہ کہیں تعصب کی گندگی میں آپ بھی نہ لتھڑے ہوں- میں نہیں چاہتا کہ میں اپنی آنے والی نسل کو کسی بھی طرح کے تعصب کا پاٹ پڑھاؤں- آئیے آپ بھی عہد کریں کہ آپ بھی کسی تعصب کا حصہ نہیں بنیں گے-

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *