آدم تا ایں دم، بنی آدم دو فکری قبیلوں میں منقسم ہے۔ ایک قبیلہ قابیل کی فکر پر چل رہا ہے اور دوسرا ہابیل کے فکری نقشِ قدم پر ہے۔ یہ تقسیم ہر جگہ ہے، جگہ جگہ ہے، کہ ہر ملک، ہر قوم، ہر ادارے، ہر مذہب، ہر دفتر اور ہر خاندان میں یہی دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ قابیل قتل کرنے والا ہے اور ہابیل قتل ہونے والا۔ سوال یہ ہے کہ قابیل اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے، اور پھر ہابیل آخر قاتل بننے کی بجائے مقتول ہونا کیوں قبول کر لیتا ہے؟ ان میں سے کون قبولِ بارگاہ اور مقبولِ خلائق ہے، اور کون راندہِ درگاہ ہے زبانِ خلق میں غیر مقبول ہے؟۔
قابیل دولت، شہرت اور عورت کے لیے کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ وہ ماں باپ کو دیکھے گا، نہ کسی ماں جائے کو … بس اس نے ہر صورت اپنے ہدف تک، طے شدہ مفاد تک پہنچنا ہے۔ قانون، اخلاق، آداب، آئین اس کے لیے ’’کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے‘‘۔ یادش بخیر، ابھی ماضی قریب میں ایک آمر کو جب کہا گیا کہ جناب آپ کا یہ حکم آئین کے متصادم ہے، تو اُس نے اپنا مافی الضمیر ان ہی لفظوں میں بیان کیا تھا … یعنی ملکی آئین میرے جوتے کی نوک پر، نوے دن کا وعدہ بندوق کی نوک پر! … تو مزاج ِشاہاں کچھ یوں ہی ہے۔
قرآن میں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بڑی تفصیل سے درج ہے، یہاں تک کہ ہابیل اور قابیل کے مکالمے بھی درج ہیں … اور ان مکالموں ہی سے دونوں کے درمیان بنیادی فکر کا تجزیہ ہو جاتا ہے۔ ہابیل، یعنی مقتول و مظلوم بھائی اپنے ظالم اور قاتل بھائی سے کہتا ہے کہ اگر تم میری طرف ظلم و استبداد کا ہاتھ بڑھاؤ گے تو اِس کے جواب میں، مَیں تمہاری طرف ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ ہابیل اعلان کر رہا ہے کہ تمہاری مرضی کے خلاف رزلٹ آنے پر تم نے ظلم و بربریت کا ہاتھ بڑھایا ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے، اس کے جواب میں، مَیں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لوں گا۔ یہ طرزِ فکر ہابیل اور قابیل کو ایک دوسرے سے ہمیشہ جدا کر دیتے ہیں۔ جدائی دراصل فکری جدائی کا نام ہے۔
قابیل مادّی طاقت کی بالادستی کا قائل ہے اور ہابیل اخلاقی برتری چاہتا ہے۔ بنی قابیل کا ہتھیار خوف اور دہشت ہے، بنی ہابیل مائل بہ محبت و رحمت ہیں۔ قابیل کے نزدیک جنگ اور محبت میں سب
کچھ جائز ہے، ہابیل محبت اور جنگ دونوں میں اخلاقی روایت اور الہامی ہدایت کے مطابق چلتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جنگ میں بھی انسانیت کو پامال نہیں کیا جا سکتا … اور محبت پر بھی شریعت کا پہرہ ہے۔ قابیل ’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘‘ کا قائل ہے اور ہابیل Right is might کا عَلم بردار ہے۔ ہابیل کے وارث بھی عجب لوگ ہیں، بلکہ غضب کے لوگ ہیں، یہ عجب سَر پھرے لوگ ہیں، بلکہ سَر فروش لوگ ہیں … یہ Right حق کا پھریرا سرنگوں نہیں ہونے دیتے۔ یہ کبھی اپنے کردار سے اور کبھی اپنے خون سے گواہی دیتے ہیں کہ حق کا عَلم سر بلند رہے گا۔ یوں ہر آنے والی نسل اسی قبیلے کی، بنی ہابیل اور بنی اسماعیل کی احسان مند ہے۔ اگر یہ لوگ بیٹھ جائیں، قربانیاں دینا ترک کر دیں، زمینی حالات سے سمجھوتہ کر لیں، بس اپنا گھر، اپنا وطن، اپنا مال اور اپنا مرتبہ بچانے میں لگے رہیں اور اصولِ انسانیت کو طاقتوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں تو آنے والی نسلیں انسانیت، اخلاق، قانون اور دین کے ہجے بھی بھول جائیں۔ بدر سے کربلا تک انہی سرفروشوں نے حق کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ انہوں نے سَر دے دیا، لیکن طاقت کو اپنا امیر ماننے سے انکار کر دیا۔ حق تو یہ ہے ’’لا الٰہ‘‘ کی ’’لا‘‘ اِن ہی کے حرفِ اِنکار سے عبارت ہے۔ خواجہ خواجگان حضرت معین الدین چشتیؒ نے کیا خوب کہا:
حقا کہ بنائے لاالٰہ است حسینؓ
یہ نواسہِ رسول امام حسینؓ ہی ہیں، جو اپنے ناناؐ کے پیغامِ انسانیت کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ جسم نہیں، روح ہے جو پیغام لیتی ہے اور اس پیغام کو آگے منتقل کرتی ہے۔ جسم سَرِ مقتل رہ جاتا ہے، اور روح زمانوں میں سرایت کر جاتی ہے۔
دین پیغامِ انسانیت ہے۔ دین کا نام لینے والے اور اگر صرف نام ہی لیتے رہیں اور پیغام کی حفاظت نہ کر سکیں تو اس کا ایک سادہ سا مطلب یہ ہو گا کہ وہ پیغامِ انسانیت وصول کرنے کے اہل نہیں۔ خالقِ انسان کو انسان سے بڑی محبت ہے۔ اس نے انسان کو اختیار دے کر اگر اس کے حوالے اپنے کچھ انسانوں کو کیا ہے تو بس کچھ دیر ہی کے لیے کیا ہے۔ انسان سے کیسے پیش آنا ہے، اس سے کس طرح حسنِ سلوک کرنا ہے، اس کی کیسے خدمت بجا لانی ہے اور پھر اس سے محبت کیسے کرنی ہے … یہ سب کچھ بتانے کے لیے اس نے اپنے رسولوں کو پیغامِ محبت و انسانیت دے کر بھیجا ہے۔ اس پیغام سے فکری و عملی انحراف ہمیں درجہِ انسانیت سے گرا دیتا ہے۔ جب ہم گرنے پر آتے ہیں تو درجہِ آدمیت میں بھی نہیں رہتے، بلکہ درجہِ حیوانیت میں چلے جاتے ہیں … قرآن کی زبان میں ’’کالانعام بَل ھُم اَذَلّ…‘‘ جانوروں سے بھی پست تر درجے میں پہنچ جاتے ہیں۔ ہم صرف صورتِ انسان لیے پھرتے ہیں، سیرتِ انسان معدوم ہے۔ ہم عہدِ الست کی طرح اپنا مسجودِ ملائک ہونا بھول جاتے ہیں۔
اللہ رب العالمین ہے اور اس کے رسولؐ رحمت للعالمین ہیں … اب اگر اللہ اور رسولؐ کو ماننے والے اللہ کی مخلوق کو سایہ رحمت مہیا نہ کریں، اپنے بھائی بندوں کو مبتلائے آزار کریں، ہر ذی روح کو آئے روز زحمت میں مبتلا کریں تو کس بِرتے پر خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔ از روئے حدیث مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ وہ لوگ اِس جہان میں سرفراز کیونکر ہو سکتے ہیں جو اپنے کردار و عمل سے پرچمِ انسانیت کو سرنگوں کر دیں۔ کسی کو زخمی کرنا، آزار پہنچانا، بلا وجہ کسی کے درپے ہو جانا، گولی، لاٹھی، لفظوں یا لہجوں سے قتل کر دینا … قبیلہِ قابیل میں ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ خدا کے حضور قتل ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔ روزِ قیامت سب سے پہلے خون کا حساب ہو گا، سب سے پہلے قاتل اور مقتول کے درمیان فیصلہ چکایا جائے گا۔ قرآن میں جس جگہ ہابیل اور قابیل کا ذکر ہے، اسی جگہ یہ بھی درج ہے کہ ایک انسان کا قتل، پوری انسانیت کا قتل ہے۔
اسلام دینِ فطرت ہے۔ دینِ فطرت میں غصہ، نفرت، حسد، بغض اور لالچ سے تنبیہ کی گئی ہے … آخر کیوں؟ … اس لیے کہ یہ جذبات نیزے اور بھالے ہیں جو بھولے بھالے انسانوں کو زخمی کرتے ہیں۔ دل میں موجود ہر جذبہ اعضاء و جوارح میں فعل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے … اِلّا یہ کہ فضلِ خداوندی راہِ بشریت میں حائل ہو جائے … اور اس پیکرِ فانی میں مقید جوہر کو بشریت کے اقطار السمٰوات والارض سے نکال لے۔ جس پر یہ فضل ہوتا ہے، وہی کسی سلطان مبین کے توسط اور تصرف سے فلکِ انسانیت کی طرف عروج کرتا ہوا قافلہِ انسانیت کے لیے ایک رہنما ستارہ بن جاتا ہے۔
اصول اخلاقیات کے ہوں یا دینیات کے، ان کی تحفیظ و امانت بنی ہابیل کو منتقل ہوا کرتی ہے۔ قابیل کی فکر اور نظر صرف اپنے مال، مفاد اور منصب تک محدود رہتی ہے۔ ہابیل بے دریغ اپنی جان و مال کی قربانی دیتا ہے اور عَلَمِ انسانیت کو بلند رکھتا ہے۔ ہابیل جوہرِ انسانیت کا امین ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں