• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پچاسویں قسط،حصّہ سوئم)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پچاسویں قسط،حصّہ سوئم)۔۔گوتم حیات

فیض صدی کے سلسلے میں “دلِ پُرخوں کا ہنر” کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس کا دعوت نامہ صائمہ نے مجھے دیتے ہوئے کہا تھا:
“عاطف معلوم نہیں کیوں اس کانفرس میں میڈم کی کتاب ‘امیدِ سحر کی بات سنو’ پر کوئی سیشن نہیں ہے۔ اتنے سارے سیشن  رکھے گئے ہیں، اگر اس کتاب پر بھی کوئی سیشن رکھ دیا جاتا تو کتنا اچھا ہو جاتا، آخر کو یہ ایک اہم دستاویزی کتاب ہے اور موجودہ بگڑتے ہوئے حالات میں امن ہی ہم سب کی واحد خواہش ہے۔ تم دیکھ رہے ہو کراچی کے حالات، روز روز کی ٹارگٹ کلنگ، سیاسی و مذہبی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم لوگوں کے جتھے۔۔۔ ان وحشی جتھوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے اس سے زیادہ موزوں کوئی کتاب ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔ امن پر بات کرنے کے لیے کوئی راضی نہیں، شاید یہ لوگ بھی مصلحت پسندی کے تحت میڈم کی اس انمول کتاب سے نظریں چُرا کر گزر جانا چاہتے ہیں، نہایت ہی افسوسناک رویہ ہے”
صائمہ کی یہ لمبی چوڑی تقریر سُن کر مجھ پر بھی افسردگی طاری ہو گئی۔۔۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے صائمہ سے کہا کہ
“اس کانفرنس میں بیرونِ پاکستان سے بھی کچھ مہمان آرہے ہیں، شاید ان مہمان  سپیکرز کی وجہ سے کانفرنس کی انتظامیہ کے پاس گنجائش نہ ہو اس کتاب پر الگ سے کوئی سیشن منعقد کرنے کی، مجھے اُمید ہے کانفرس سے فراغت کے بعد ڈاکٹر جعفر ضرور میڈم کی کتاب پر کسی تقریب کا انعقاد کریں گے”
میری اس بات پر صائمہ نے تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ
“ہاں امید تو ہمیں رکھنی چاہیے، اب دیکھو کیا ہوتا ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا”

فیض احمد فیض پر ہونے والی وہ کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔ اس کانفرس  میں ہم لوگوں نے جی بھر کے فیض کو یاد کیا، سارے ہی سیشنز اٹینڈ کیے، مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کوئی امتحان ہے، اگر کوئی سیشن میں نے چھوڑ دیا تو میں فیل ہو جاؤں گا۔ کانفرنس کے پہلے دن تیز بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا تھا۔ اچانک ہی بارش برسی تھی، گرمی کا زور ٹوٹ گیا تھا اور یونیورسٹی میں لگے ہوئے درخت، پھول اور پودے بارش کے پانی سے دھل کر تروتازہ ہو گئے تھے۔ وہ دلفریب مناظر مجھے ابھی تک یاد ہیں۔ میں، صائمہ اور صدف جب کانفرنس ہال سے باہر نکلے تو صائمہ نے ارم کو کال کی، وہ کچھ انتظامی امور کے سلسلے میں ابھی ہال سے باہر نہیں آئی تھی۔ ہم ان کے انتظار میں ہال کے باہر چہل قدمی کرنے لگے، کچھ ہی دیر میں ارم بھی آگئی۔ کانفرنس تو ختم ہو چکی تھی اب ہمارا ارادہ بارش سے لطف اندوز ہونے کا تھا۔ صائمہ نے کہا کہ کچھ مہمان یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں ،وہیں پر چلتے ہیں، اس بہانے ان سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ قصہ مختصر ہم سب ہال سے یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لیے پیدل چل پڑے، راستہ کافی لمبا تھا، لیکن بارش نے ہم سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی، اس لیے تھکن کا احساس نہیں ہوا۔
ہم جب گیسٹ ہاؤس پہنچے تو وہاں پر حمیرا اشفاق سے ملاقات ہوئی، تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر جعفر اور میڈم انور شاہین اپنے ساتھ احمد سلیم کو لے کر پہنچے۔ احمد سلیم صاحب کو یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا تھا۔ ہم سب کو غیر متوقع طور پر وہاں دیکھ کے ڈاکٹر جعفر نے کہا تھا:
“ارے بھئی اب آپ لوگوں نے یہاں محفل جما لی۔۔۔”
صائمہ اور ارم نے سر کی اس بات پر مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ
“جی سر، ہم لوگ احمد سلیم صاحب سے ملنا چاہتے تھے، اسی لیے کانفرنس کے اختتام کے بعد یہاں پہنچ گئے۔۔۔”

احمد سلیم صاحب سے ملنے کے بعد ہم دوبارہ یونیورسٹی میں چہل قدمی کرنے لگے، کینٹین پر جا کر بیٹھے تو بارش دوبارہ شروع ہو چکی تھی۔ برستی بارش میں ہم نے چائے پی اور گھر کی طرف جانے کا ارادہ باندھنے لگے، لیکن صائمہ کو ایک کام سے آغا خان یونیورسٹی کی طرف جانا تھا، صدف اور ارم کو خدا حافظ کہہ کر میں اور صائمہ آغا خان یونیورسٹی چلے گئے، کام سے فارغ ہونے کے بعد ہم اپنے گھر جانے والی بس میں بیٹھ گئے، بمشکل دس، بارہ منٹ ہی “بس” چلی تھی کہ اچانک رک گئی، کچھ دیر انتظار کے بعد جب اردگر کا جائزہ لیا تو تقریبا ً سارے ہی مسافر بس سے اُتر چکے تھے۔ اب ہمیں ملا کر چار، پانچ ہی مسافر رہتے تھے، کنڈیکٹر نے ہم سب کو کرایہ واپس کرتے ہوئے کہا کہ
آپ لوگ یہیں اُتر جاؤ، آگے ٹریفک مکمل جام ہے، کارساز سے شاہراہ فیصل تک۔۔۔ کنڈیکٹر کی اس بات پر میں اور صائمہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، ناچاہتے ہوئے بھی ہم اُس “بس” سے اتر کر سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگے۔ بارش نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ جس بارش سے ہم یونیورسٹی میں لطف اندوز ہو کر نکلے تھے اب وہی بارش ہمیں عذاب لگ رہی تھی۔ ہمارے چاروں طرف گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں اور ان کے درمیان مسافر بارش کے پانی میں جس میں اب سیوریج کا گندہ پانی بھی مل گیا تھا بمشکل اپنی جگہ بناتے ہوئے پیدل چل رہے تھے۔ مجھے صائمہ پر غصہ تھا کیونکہ اگر ہم کراچی یونیورسٹی سے آغا خان یونیورسٹی آنے کے بجائے اپنے گھر روانہ ہو جاتے تو یہ عذاب نہ سہنا پڑتا۔۔۔ لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا، سوائے پیدل چلنے کے، اس وقت کوئی بھی ہماری مدد کے لیے “کارساز” نہیں آسکتا  تھا۔ پورے شہر کا یہی ہال تھا، کسی سے لفٹ لینا بھی ناممکن تھا۔

اُس رات بہت سے مسافر میلوں پیدل چل کر اپنے گھروں کو پہنچے تھے۔ ان بہت سے مسافروں میں دو مسافر ایسے بھی تھے جنہوں نے کارساز روڈ سے ملیر تک کا طویل فاصلہ پیدل طے کیا تھا۔ وہ دو مسافر تھے، عاطف یعنی کہ میں اور صائمہ!

جیسا کہ میں نے اوپر اس بات کا ذکر کیا تھا کہ فیض پر ہونے والی کانفرنس کے بعد ڈاکٹر جعفر ضرور کوئی نہ کوئی سیشن میڈم کی کتاب پر بھی رکھیں گے، میں اور صائمہ اس سلسلے میں پُرامید تھے، کیونکہ پاکستان  سٹڈی سینٹر سے شائع ہونے والی تقریباً ساری اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی تھی۔ لیکن “امید سحر کی بات سنو” پر انتظامیہ نے کسی بھی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یوں میڈم کی اس گراں قدر تخلیق پر ہم سیر حاصل گفتگو سننے سے محروم رہے۔ میرے اور صائمہ کے لیے یہ کتاب نہایت ہی اہمیت کی حامل تھی بلکہ ہے:
“کیونکہ یہ کتاب ان دنوں کی یادگار تھی جب صائمہ نے میڈم زاہدہ حنا سے اپنے تھیسز کے سلسلے میں ملنا شروع کیا تھا، اور ہماری زندگی کا یہی وہ سنہرا دور تھا جب ہمیں شعوری طور پر امن کا صحیح معنوں میں ادراک حاصل ہوا تھا”

امن ہم سب کی زندگیوں کا ضامن ہے۔ یہاں اکثر لوگ اس بات پر اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ایٹم بم کے دور میں امن کی باتیں کرنا حماقت ہے، یہ خیالی باتیں ہیں، محض لفاظی، امن کو کبھی بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل ایسے لوگ حقیقی معنوں میں امن دشمن اور انسان دشمن ہیں، ان کو امن پسندی کے نام پر خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان کی بس یہی خواہش ہوتی ہے کہ چار سُو لوگ آپس میں لڑتے رہیں اور ان کے اسلحے کی فیکٹریاں یونہی ترقی کرتی رہیں۔
اگر برسرِ پیکار مختلف ممالک اور گروہوں کے درمیان امن قائم ہو جاتا ہے تو اس “عمل” سے سب سے بڑا دھچکہ اُن طاقتوں کو لگے گا جو اسلحے کی دوڑ میں سرفہرست ہیں، کیونکہ ان کے پھلنے پھولنے کا انحصار اسلحہ کی خرید و فروخت پر ہے۔

زاہدہ حنا نے اپنی تحریروں سے پڑھنے والوں کو امن پسندی کا راستہ دکھایا ہے، انہیں جنگ کے نقصانات اور اس کے اثرات سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ جنگجوعانہ طرز عمل اور ملٹری حکومتوں کے خلاف کھل کر لکھا۔ ہر فورم پہ بیش قیمت دفاعی بجٹ کے اخراجات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انسان کو کبھی بھی رنگ و نسل، مذاہب و اقوام کے خانوں میں تقسیم نہیں کیا۔ انسانی برابری اور جمہوری روایات کے اصولوں کو ہمیشہ مقدم جانا ہے۔ میڈم نے ایسا صرف اپنی تحریروں میں ہی نہیں کیا بلکہ عملی طور پر بھی اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس طرزِ عمل کا ایک اہم ثبوت میں یہاں دینا چاہوں گا۔

جنرل مشرف کے دور میں جب پورے ملک کو راتوں رات ضیاءالحق کی وحشیانہ بنیاد پرستی سے نکال کر مشرف کی جابرانہ روشن خیالی کے سائے میں ڈال دیا گیا تو بڑے بڑے معتبر مزاحمت کاروں نے، اس کو نیک شگون مانتے ہوئے اپنے اٹل جمہوری اصولوں کو طاقِ نسیاں میں رکھ کر،نام نہاد روشن خیالی سے مفاہمت کر لی تھی۔
لیکن “زاہدہ حنا” نے اُس تاریک دور میں بھی “روشن خیالی” کے “لباس” میں اُس “جابر” کے بدن پر لتھڑے ہوئے معصوموں کے خون کو دیکھ لیا تھا۔ معصوموں کے جسموں سے بہتا ہوا یہ خون اُسی خون کا تسلسل تھا جس کو جنرل ضیاء نے شروع کیا تھا۔ افغان جہاد، اسلحہ اور ہیروئن کلچر، ڈالروں اور ریال کی برسات، لسانی اور مسلک کی بنیادوں پر بنائی جانے والی سیاسی و فرقہ وارانہ پارٹیاں، طالبان، ملٹری آپریشن، بم دھماکے، فائرنگ، کرفیو، دہشت گردی کے نام پر ہونے والی جنگوں میں جہادیوں کو دہشتگرد یا دہشتگردوں کو جہادی (مجاہد، دہشت گرد، دہشت گرد یا مجاہد۔۔۔ اس بات کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ان دونوں میں کیا فرق تھا، دونوں کو بنانے والے ایک ہی تھے۔۔۔ کیا ہم جنرل ضیاء اور جنرل مشرف میں کوئی فرق محسوس کر سکتے ہیں۔۔۔؟ جب ہم ان دونوں جنرلوں میں کوئی فرق محسوس نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں اسّی اور نوّے کی دہائی کے مجاہدین/طالبان اور دوہزار کی دہائی کے طالبان/دہشت گرد کو بھی علیحدہ علیحدہ شناخت دینے سے گریز کرنا چاہیے) کہہ کر ایک ناختم ہونے والی جنگ میں جھونک دیا گیا۔ روشن خیالی کے سائے میں ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کو بھرے مجمعے میں قتل کر دیا گیا، برسوں پہلے اسی روشن خیالی کے پیشرو نے مذہب کے عمامے میں ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا تھا۔ تو میڈم زاہدہ حنا نے ان تاریک ادوار میں اپنے روشن جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ہی ترجیح دی۔

2006 میں جب جنرل مشرف کی طرف سے “زاہدہ حنا” کے لیے صدارتی ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تو میڈم نے یہ ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس بارے میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:
“مجھے2006میں حکومتِ پاکستان نے صدارتی ایوارڈ جسے پرائڈ آف پرفارمنس بھی کہتے ہیں دیا۔ لیکن میں نے وہ لینے سے انکار کر دیا، کیونکہ جب بارہ اکتوبر1999 کو پرویز مشرف نے Coup کیا تھا تواس کے بعد جو میرا کالم چھپا تھا وہ سترہ اکتوبر 1999 کو چھپا تھا تو اُس وقت سے میں ان کے خلاف لکھ رہی تھی۔ ان کے نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ میں آمریت کے خلاف لکھ رہی تھی اور جمہوریت کے حق میں لکھ رہی تھی، تو میں نے پھر ایک خط لکھا جو کالم کے طور پر بھی چھپا تھا۔

میں نے کہا کہ جس حکومت کے خلاف اور جس نقطہ نظر کے خلاف میں اتنے عرصے سے لکھ رہی ہوں تو میں اس حکومت کے سربراہ، ایک آمر سے   کوئی ایوارڈ نہیں لے سکتی۔۔۔ 2011میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ ایوارڈ مجھے پھر سے دیا اور مجھے ایوارڈ سے زیادہ اس بات کی خوشی ہے کہ جو اس کا Citation تھا اس پر یہ لکھا گیا تھا کہ یہ ایوارڈ ان کو2006 میں فوجی آمر نے دیا تھا، لیکن انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا تھا، تو اب ہم انہیں دوبارہ سے دے رہے ہیں۔ وہ میں نے پھر قبول کیا تھا”
جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *