کوٹھے کا پجاری (افسانہ) -زبیراسلم بلوچ

رات کی بانہوں میں لپٹی طوائف کے کوٹھے پر جلتی مدھم بتی ایسے لگ رہی تھی جیسے اندھیرے کے سینے پر آخری شعلہ تھرک رہا ہو۔ باہر گلی میں کتوں کی بھونک سنائی دے رہی تھی اور اندر وہ
طوائف گلاب کے پھولوں سے مہکنے والی عورت، مگر کانٹوں سے بھرے بستر پر سوئی ہوئی۔

کوٹھے کے کونے میں لگی ہوئی اس کی پرانی تصویریں، جن میں وہ کبھی ہنستی، کبھی ناچتی نظر آتی تھی، آج دیوار پر یوں ٹنگی تھیں جیسے اپنے ہی جنازے کی تصویریں دیکھ رہی ہو۔ اس کی آنکھوں میں نمی نہیں تھی، کیونکہ آنسو بہت پہلے ختم ہو چکے تھے۔ اب صرف اک عادت بچی تھی زندہ رہنے کی۔
اسی رات، مندر کی گھنٹیاں زور زور سے بج رہی تھیں۔ پجاری ایک عمر رسیدہ، بھاری پیٹ والا آدمی ،دھوتی سنبھالتا، دیوتا کے سامنے ماتھا ٹیک رہا تھا۔ لبوں پر مقدس منتر، مگر دل میں گناہ کی فہرست۔
پوجا ختم ہوئی تو پجاری نے دیا بجھایا اور چپ چاپ مندر کے پچھلے دروازے سے نکلا۔ وہی گلی، وہی اندھیرا، اور وہی کوٹھا جہاں ایک طوائف اپنی قسمت کے کفن میں لپٹی پڑی تھی۔

دروازہ کھلا۔
پجاری نے قدم رکھا۔
طوائف نے اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دی۔
“پجاری جی، آج پھر دیوتا ناراض ہیں کیا؟”

پجاری نے ہنستے ہوئے کہا، “نہیں ، دیوتا ناراض نہیں، وہ تو ہمیشہ رحم دل رہتے ہیں… مگر انسان کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی۔”

طوائف نے آہ بھری، “اور تم بھی تو انسان ہی ہو نا، پجاری جی؟”

پجاری نے آنکھیں چمکائیں، “ہاں، مگر میں تو بھگوان کا آدمی ہوں۔”

“پھر تمہارا یہ آنا؟” طوائف نے تلخی سے پوچھا۔
پجاری نے جواب دیا، “میں پاپ دیکھنے آتا ہوں… تاکہ کل پوجا میں اس کا کفارہ دے سکوں۔
باہر آسمان پر چاند تھا، مگر اندر دونوں کے چہروں پر اندھیرا۔
بستر پر وہ جسم تھے جو سماج نے اپنے اپنے مذہب، اپنی اپنی عزت کے نام پر الگ الگ خانوں میں رکھ چھوڑے تھے۔
ایک طرف “پوجا” تھی، دوسری طرف “پاپ” مگر حوس نے دونوں کے بیچ فرق مٹا دیا تھا ۔
صبح ہوئی۔ مندر کی گھنٹیاں پھر بجنے لگیں۔
پجاری دیوتا کے سامنے ننگے پیر کھڑا تھا۔ منہ پر تلک، ہاتھوں میں پھول، اور زبان پر بھجن۔
لوگ آ رہے تھے، ماتھا ٹیک رہے تھے، پجاری کے قدم چوم رہے تھے۔
اور وہ، اندر سے خالی پیالے کی طرح بج رہا تھا۔

ادھر طائفہ اپنے بستر پر اٹھی، آئینے میں دیکھا۔ چہرہ وہی، مگر روح تھکی ہوئی۔
اس نے لپ اسٹک لگائی، بال سنوارے، اور ہلکا سا پرفیوم چھڑک کر خود سے کہا:
“چلو، آج پھر عزت داروں کی عزت بچانے کا دن ہے۔”

شام ڈھلی۔ پجاری نے دیوتا کے سامنے دیا جلایا اور آہستہ سے بولا:
“پرکاش، سچ بتا! تو کہاں ہے؟ تیرے مندر میں یا طوائف کے بستر پر؟”

julia rana solicitors

ہوا میں گھنٹی کی مدھم آواز گونجی
اور شاید کسی نے جواب دیا۔
“میں ہر اُس جگہ ہوں، جہاں انسان اپنی سچائی چھپاتا ہے۔”

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply