روزہ نوش۔۔سلیم مرزا

روزہ خوری کے بھی اصول ہونے چاہئیں۔
چھ سالہ عائشہ میرے سامنے بیٹھی ڈبو بھگو کر بسکٹ کھارہی تھی، میں نے یونہی پوچھ لیا “آج روزہ نہیں رکھا “؟
اس نے مجھے حیرت سے اور ہاتھ میں پکڑے بسکٹ کو حسرت سے دیکھا، اور کلی کرنے بھاگ گئی ۔
واپس آکر اس نے مجھے پندرہ منٹ لیکچر دیا کہ بھول چوک سے روزہ نہیں ٹوٹتا، میں مان گیا، میں نے کون سی صحیح بخاری پڑھی ہے،
کوئی دوگھنٹے بعد اس نے مجھے سگریٹ پیتے دیکھ کر شور مچادیا
“پاپا نے روزہ توڑ لیا ”
میں نے بہت سمجھایا
“پتر بھول چوک سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے نہ اسمبلیاں، بےدھیانی میں سگریٹ لائٹر کے سامنے آگیا تھا، خود ہی سلگ گیا، میں تو ابھی پھینکنے ہی والا تھا ”
شکر ہے اس کا اپنی بچی ہوئی چائے بسکٹ کی طرف دھیان نہیں گیا،
میں اور عائشہ ایک دوسرے کی نظر میں پکے روزے دار ہیں، وہ ہر روز سحری تک جاگتی ہے،اور مجھے جگائے رکھتی ہے، دن بھر وہ مجھ سے چھپ کر نمکو، بسکٹ، حتی کہ فیڈر تک پی لیتی ہے، مگر رہتی میری ٹوہ میں ہے۔
بس ایک تربوز ہم دونوں کی کمزوری ہے، افطاری کیلئے اسے کاٹ کر فریج میں رکھنا ہم دونوں کی کڑی ذمہ داری بھی ہے ، یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہم تمام مسلکی تنازعات بھلا کر اس مقدس مذہبی فریضے کو انجام دیتے ہیں۔
عائشہ کے فقہ کے مطابق دکاندار کی لگائی ہوئی “ٹکی “کھانے سے روزے کو کچھ نہیں ہوتا، اور میں چونکہ عامر لیاقت کا معتقد ہوں لہذا درمیانی حصے کی دوتین قاشیں کاٹنے والا کھا سکتا ہے۔
اسلامی کلینڈر کے مطابق دس رمضان میری سالگرہ کا دن ہے، مگر میری بیوی گزشتہ آٹھ روزوں میں اٹھارہ بار مجھ پہ کفر کا فتویٰ لگا چکی ہے، اس کا خیال ہے کہ میں سگریٹوں کی وجہ سے روزہ چھوڑتا ہوں، کبھی کبھی میراجی چاہتا ہے کہ اسے اصل وجہ بتا ہی دوں،
مگر ڈرتا ہوں کہ یوم پیدائش اور وفات ایک نہ ہوجائے،
جوانی میں سحری کے وقت آنکھ مدھانی کی مدھر آواز سے کھلتی تھی،
ماں جی مکھن اور گھی کی کراس بریڈنگ سے ایساپراٹھابناتیں کہ “پھیونیوں “کی طرح لچھے دار، اورممتا کی طرح تہہ در تہہ ذائقے دار،
گھر کے بنے دہی میں شکر ڈال کر کھاتے تو روح میں گھل جاتا،
شادی کے سال بعد میری بیوی نے بھی ماں جی سے سیکھ لیا، ویسا تو نہیں تھا، مگر بہت اچھا ہوتا، تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد اس نے پراٹھے بنانے چھوڑ دئیے، کوئی کہاں تک دشمن پالے، اس لئے وہ سرکاری پالیسی کے مطابق دشمن کے بچے پال رہی ہے،
اب پراٹھے کے نام پہ جو وہ میلامائن کی پلیٹ جیسا کچھ بناتی ہے، ایسی پلیٹیں چائنہ کی فلموں میں حملہ آور گھما کر پھینکتے ہیں تو پندرہ سولہ سرقلم ہوجاتے ہیں ۔بیگم کے فتوؤں کے بعد میں بھی سوچنے لگ گیا ہوں کہ سگریٹ نوشی کی وجہ  سے روزے چھوٹ رہے ہیں، یہ بری عادت ہے، اورنوشی کے بغیر تو سادہ سگریٹ پینا نری جہالت، سگریٹ سے نوشی نکال دیں تو یوں لگتا ہے حفیظ اللہ بادل بنا اہل وعیال پھر رہا ہو۔
بندہ سمجھدار ہے، نوشابہ بھابھی کے کہنے پہ سگریٹ چھوڑ دیے، ویسے جو بندہ سگریٹ چھوڑ دے بے اعتبارا ہوتا ہے، وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔
تیسری شادی بھی۔ ۔لیکن بادل بھائی ایسے نہیں ہیں، پیروں کے ماننے والے ہیں سلسلہ ازدواجیہ، ہاشمیہ کے مرید ہیں، اب اپنے مرشد کے کہنے پہ اپنے بھائی سعید سادھو سے مل کر تمباکو نوشی کے خلاف تحریک چلارہے ہیں۔
دونوں بھائی “کلیان جی آنند جی “بنے ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں،
سادھو کے آرٹیکل کے مطابق کرونا کی وباء میں سگریٹ مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے اور بندہ قرنطینہ کے دوران “تھلے “لگ جاتا ہے۔
انہوں نے تو یہ بھی لکھا کہ سگریٹ چھوڑنے والے بندے کو لیٹ نائیٹ پیکج کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، خواب فل ایچ ڈی ٹوٹوں کی شکل میں آتے ہیں، رمضان کے بعد تجربہ کروں گا، سادھو جی کے مطابق روزہ خوری اور تمباکو نوشی کی تاریخ ایک جتنی پرانی ہے،ان کی تحقیق کے مطابق سگریٹ نوش کو بھوک کم لگتی ہے، وہ سگریٹ بہلانے کیلئے کھاتا اور کبھی کبھار پی بھی لیتا ہے، اس کا مقصد پیٹ بھرنا نہیں، صرف سائلنسر صاف کرنا ہوتا ہے، اسی لئے رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اسے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے، اور اکثر رمضان سے ایک دن پہلے سگریٹ نوش کے پاس سے شیطان یوں وکٹری کا نشان بناتا گذرتا ہے جیسے سیاستدان نیب کی حراست میں جاتے ہوئے صحافیوں کو دیکھ کر بناتے ہیں۔
میں نے ہمیشہ سادھو سے سیکھا ہے، اسی نے مجھے بتایا کہ جب کار کا ٹائر فلیٹ ہو تو اسے پنکچر لکھتے ہیں، اور جب موٹر سائکل کا پہیہ پٹاکا مار جائے تو اسے پنچر لکھتے ہیں۔
میرے تو دونوں فلیٹ ہوگئے، کاش ڈاکٹر وحید مجھے بتائیں میں اب کیا لکھوں؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *