ایک معصوم درویش روح

وہ پہلے ہی دن براؤن عبایا پہنے، ڈھیلی ڈھالی ایڑی والی جوتی میں ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک کرتی اندر آئی۔
لیکچر کا ردھم ٹوٹ گیا۔
سب طرف خاموشی چھا گئی۔
پھر دبی دبی ہنسی ہنسی۔
میں اپنا لیکچر بھول گیا۔
اور اسے کوئی پروا نہیں تھی۔
پھر اسے اپنی کوئی چیز یاد آئی تو اٹھ کے باہر نکل گئی۔ ٹھک ٹھک ٹھک۔ اور اسی طرح پھر واپس آگئی۔
میں پھر چپ ہوگیا۔ سب طلبہ پھر ہنس پڑے۔ میں لیکچر دیتے ہوئے عمومًا ہنستا نہیں لیکن اس دن ہنسا۔ پھر سب کو خاموش کرایا ۔
بیٹا آپ کا نام؟
جی مریم! مریم چوہان۔
یہ تو مجھے درویش لگتی ہے!
سب بول پڑے۔ یس سر یہ واقعی ایسی ہی ہے۔
لیکچر آگے چل پڑا۔ کچھ دیر بعد اسے پھر کچھ یاد آیا تو وہ اٹھی اور باہر نکل گئی۔ لیکن اس دفعہ کسی ہیل کی کوئی آواز نہیں آئی۔ غور کیا تو اس نے جوتے اتار دیے تھے۔
گویا اس نے اس بات کو محسوس کیا تھا کہ کلاس اس کی ہیل کی آواز سے ڈسٹرب ہوئی ہے۔
یہ احساس ہی اس کی سب سے بڑی خوبی تھی۔
میں نے سمجھا کہ وہ کچھ کھسکی ہوئی سی ہے لیکن جب کلاس کو پہلی اسائنمنٹ دی تو وہ اگلے دن سب سے پہلے لاکر مجھے دے چکی تھی ۔ میں حیران رہ گیا۔ عجب ملنگ کردار تھا۔
آج میرے قائدِ اعظم یونورسٹی کے شاگرد کا میسیج آیا کہ آپ کو مریم چوہان یاد ہے؟؟
میں نے کہا نہیں بیٹا مجھے نام سے یاد نہیں۔
جواب آیا کہ وہ جو کلاس میں ننگے پاؤں چلتی تھی؟؟
اور میری آنکھوں کے سامنے ایک معصوم صورت گھوم گئی جو مجھے کملی لگتی تھی جو احساس کرتی تھی سب کا۔ جو بے پروا تھی۔ جس کو انگریزی کا کوئی کومپلیکس نہ تھا۔ جس کے سر پہ ہاتھ رکھنا ہاتھ کا فخر تھا۔ جو لوگوں کی ہنسی کا سامنا کرتی تھی اور خود بھی ہنس پڑتی تھی۔
شاگرد نے کہا آج شام اس کا نتقال ہوگیا ہے برین ہیمبریج سے۔
میں بے اختیار ہوگیا : ہائے ہائے! انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اللہ اس کی ہر منزل آسان کرے۔
مجھے بہت اچھی لگتی تھی اس کی معصومیت۔ لیکچر میں موجود نہ ہوتی تو ضرور پوچھتا تھا کہ وہ درویش لڑکی کہاں ہے۔
بے اختیار سر پہ ہاتھ رکھنے کا دل کرتا تھا۔
میری نظروں میں پھر رہی ہے اب۔ اور آنسو آنکھوں سے رواں ہونے کو راستہ مانگ رہے ہیں۔
اس سے کیاسوال ہونا!
میرے خیال میں تو بخشی بخشائی ہی ہوگی!!
اور مجھے لگا کہ میرا کوئی بچہ اللہ کے پاس چلا گیا!
اللہ اس کو معاف کرے۔ لیکن ایسی کملی تو شاید بخشی بخشائی روح ہی ہوتی ہے!
اے اللہ اس سے راضی ہوجا۔ آمین۔

گوجر خان کی رہائشی تھی وہ۔ یہ مجھے آج پتہ چلا۔ اور اس وقت بی ایس سی کر رہی تھی شاید۔
کم پڑھے لکھے ماحول کا احساس اس کے لہجے سے ہوتا تھا اور آگے بڑھنے کی ہمت کا احساس اس کے ہر قدم سے۔
چلو ایک معصوم طالبہ علم کے لیےدعا کریں کہ ہمارے بس میں یہی ہے۔
صبح گیارہ بجے جنازہ ہے اس کا! جاؤ کہ اللہ کے سپرد ہوئی اللہ کی امانت!
ایک طالبہ علم کے لیے دعا! یاد رہے گا ناں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *