• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اور انعام رانا کی بہترین تجویز

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اور انعام رانا کی بہترین تجویز

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اور انعام رانا کی بہترین تجویز
محمد نذیر ناصر
محترم جناب انعام رانا صاحب نے سوشل میڈیا میں مقدس شخصیات کی توہین کے سدباب کے لیے ایک بہترین تجویز دی ہے جس پر اگر عمل کیا جائے تو مسئلے کا دائمی حل مل سکتا ہے. انعام صاحب نے لکھاہے.کہ”جذباتی بیان بازیوں، جوشیلے نعروں اور ایک دوسرے کے ایمان ماپنے، اور ایسے موقعوں کو اپنا قد بڑھانے کیلیے استعمال کرنے والوں سے بچتے ہوے عملی قدم اٹھائیں”۔ پاکستان میں فیس بک پر مخصوص پیجز یا سوشل میڈیا بند نہیں ہو سکتے ، یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ بدبخت مسلسل توہین رسالت کے مرتکب ہورہے ہیں امت مسلمہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچارہے ہیں ۔ مذہب اور مذہبی شخصیات کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایک گناہگار سے گناہگار مسلمان کے لیے بھی قابل قبول نہیں ۔ تو پھر اب ہمیں کیا کرنا چاہیے
اس کا میری ناقص عقل میں تو ایک ہی حل ہے،کہ مل کر منظم انداز میں ایک مہم چلائی جائے جس کے تحت ہم میں سے جو بھی انگریزی لکھنا جانتا ہے وہ فیس بک انتظامیہ کو خط لکھے اور انکی توجہ دلائے کہ انکو اپنی پالیسی کو بہتر کرتے ہوے کسی بھی ملک کے عدالتی حکم یا حکومتی درخواست کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرے ۔ چنانچہ جسٹس صدیقی بجائے عدالت میں جذباتی ریمارکس دینے کے فورا ًپیجز بلاک کرنے کا حکم دیں۔ حکومت اس فیصلے کی کاپی کے ساتھ فیس بک انتظامیہ کو پیجز کے خلاف ثبوت دیتے ہوے بند کرنے کی فوری درخواست کریں”
میری نظر میں ایک بہترین تجویز ہے. کیوں کہ گستاخانہ مواد کو روکنے کیلئے ہمارے نعروں. ہمارے احتجاج اور ہماری جدوجہد کا نتیجہ اس وقت تک مرتب نہیں ہوسکتا جب تک ہم منظم انداز میں فیس بک اور دیگر سوشل نیٹ ورک انتظامیہ تک اپنی آواز نہ پہنچائیں اور اس کے نقصانات سے آگاہ نہ کریں انہیں یہ باور نہ کرائیں کہ اسلام دنیاکا واحد مذہب ہے جو کسی بھی مذہب کی اہم شخصیات کی گستاخی کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔
اس لیے شعائر اسلام اور اہم شخصیات کی توہین کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے ہاں اگر اس کے باوجود ہماری کوئی بات نہیں سنتا تو پھر یاد رکھیں ہم میں سے کوئی بھی ممتاز قادری. قاضی علم الدین کے راستے پر چلنے میں حق بجانب ہوگا پھر نہ کہنا کہ ہم سے کہتے،عدالت جاتے، انصاف مانگتے، ایسا نہ کرتے، غلط کردیا اور یہ شدت پسندی ہے وغیرہ وغیرہ ۔کیونکہ ہم جب کسی کی توہین نہیں کرتےاور نہ ہی آج تک دنیا میں ایسی بازگشت کسی نے سنی ہوگی کہ مسلمانوں نے کسی مذہب کی شخصیت کی گستاخی کرکے عیسائیت، یہودیت یا،کسی قوم کی دل آزاری کی ہو۔
هجوت محمدا فاجبت عنه
وعندالله فی ذاک الجزاء
’’تم نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و آلہ وسلم کی ہجو کی، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جواب دیا ہے اور اس کی حقیقی جزاء اللہ تعالیٰ کے پاس ہے‘‘۔
هجوت محمدا براً حنيفاً
رسول الله شيمته الوفاء
’’تم نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو کی، جو نیک اور ادیان باطلہ سے دور رہنے والے ہیں، وہ اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ان کی خصلت وفا ہے‘‘۔
فان ابی و والدتي وعرضی
لعرض محمد منکم وقاء
’بلاشبہ میرا باپ، میرے دادا اور میری عزت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے تمہارے سامنے ڈھال ہے‘‘۔
پھر دنیا والو مجھے بتاؤ پھر ہم اپنی جان مال والدین دنیا مافیہا سے زیادہ محبوب و مشفق رحمت العالمین کی گستاخی برداشت کیسے کرسکتے ہیں؟ تم ان کی ناموس پر حملہ کرو ہم کیسے خاموش رہیں گے.. یہ ہمیں دین سکھاتا ہے کہ کسی کوچھیڑو نہیں جو چھیڑے اسے چھوڑو نہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *