کربلا-تہذیب کا مستقبل/مہ ناز رحمٰن

(ایک انسان دوست معاشرے کی تشکیل کے لئے دی جانے والی قربانی)
پاکستان کے مشہور فلسفی، دانشور،ادیب اور صحافی سید محمد تقی نے 1980میں” کربلا-تہذیب کا مستقبل” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔2024میں سمیرا نقوی نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا اور لائٹ سٹون نے اسے 2025 میں شائع کیا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ تقی صاحب بائیں بازو کی اقدار میں یقین رکھتے تھے جن کے لئے افکار و اعمال میں علم کی تلاش، عقلیت پسندی، جمہوریت، برداشت، آزادیء اظہار اوردردمندی کا ہونا ضروری ہے۔
اکیسویں صدی میں جب ہم مڑ کے انسانی تکالیف اور المیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
تو تین ہیروابھر کر سامنے آتے ہیں۔

٭سقراط،

٭عیسیٰ ابن مریم اور٭

حسین ابن علی علیہ سلام۔

یہ تینوں شخصیتیں ان اقدار کی نمائندگی کرتی ہیں جو ایک انسان دوست معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہیں لیکن کربلا میں حسین علیہ
سلام کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سارے المیوں سے بڑھ کر ہے۔کربلا ہم سب کے لئے حق کی سربلندی کے لئے جان دینے اور باطل کے خلاف جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔
حسین ابن علی علیہ سلام ایک جری اور نڈر شخص تھے جو موت کا سامنا کرنے سے کبھی نہیں ڈرے۔انہوں نے یزید کے ہاتھ پر بیعت سے انکار کیا اور شہادت کو گلے سے لگایا۔انہیں تاریخ کی جدلیات کا مکمل شعور تھا۔انہیں عوامی انقلاب کی راہ روکنے والی سماجی بد عنوانی اور اس کے مضمرات کا اندازہ تھا۔اسی سماجی بد عنوانی کی وجہ سے انہوں نے دمشق میں مسلح تنازع سے گریز کیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ واقعات کا جو سلسلہ چل نکلاہے، وہ بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہو گا۔تاریخ کے کسی اور انقلابی رہنما نے امر واقعہ اور قانونی حق کے درمیان فرق کو تسلیم کرتے ہوئے اسٹیٹس کو کی قبولیت کی ایسی مثال قائم نہیں کی۔کربلا کا سانحہ اپنے اندر ایک انقلابی پیغام
رکھتا ہے جس کا اطلاق دنیا بھر کی عوامی تحریکوں پر ہوتا ہے۔یہ موجودہ سماجی ضابطوں اور اقدار کے اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنے والی ایک روشن علامت اور انقلاب کا موزوں ترین آدرش ہے۔حسین ابن علی علیہ سلام کی شخصیت ساٹھویں ہجری کے مسلم معاشرے کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ کربلا کے بارے میں گفتگو انفرادی رد عمل سے بڑھ کر  انسانیت کے اجتماعی شعور کے بارے میں ہونے لگی ہے جس میں آفاقی سچائیوں،اخلاقی اقدار اور مہذب زندگی کا گہرا شعور شامل ہے۔کربلا صرف دکھ اور ابتلا کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ نبی کریم صلعم اور ان کے اہل بیعت کی زندگی، پیغامات، افکار اور مشن کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔یزید نے امام حسین علیہ سلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور امام حسین علیہ سلام نے راہ حق میں شہادت حاصل کرنے کاعزم کیا۔26رجب سے دس محرم 61 ہجری تک امام کے تمام اقدامات اور فیصلے ان کے غیر متزلزل عزم اورذہنی استقامت کا ثبوت ہیں۔

julia rana solicitors

مدینہ سے لے کر مکہ تک کا سفر جہاں ایک مچھر کو بھی مارنا منع تھانے
حکومت کے قائد کو جس کا دعویٰ تھا کہ وہ فتنہ فساد کو روکنا چاہتا ہے
ایک کڑے امتحان میں ڈال دیا تھا۔ امام حسین علیہ سلام نے شعبان کے تیسرے دن مکہ پہنچنے کے بعد سے دس رمضان تک خاموشی اور سکون سے قیام کیا یہانتک کہ انہیں کوفہ والوں کے خط ملنا شروع ہو گئے۔ان خطوط کے ملنے اور کوفہ کے لوگوں کے اصرار پر انہوں نے مسلم بن عقیل کو صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کوفہ بھیجا۔
26رجب 60ہجری سے لے کر جب امام حسین علیہ سلام کوسرکاری طور پر بیعت کرنے کے لئے کہا گیااور اس مطالبے کو ماننے یا بصورت دیگر موت کا سامنا کرنے کے لئے کہا گیاسے لے کر سات ذی الحج تک جب وہ بالآخر مکہ سے روانہ ہوئے کا درمیانی عرصہ ساڑھے چار ماہ پر محیط تھا۔اس عرصہ میں امام امام حسین علیہ سلام نے نہ تو دیگر مسلم شہریوں سے مدد مانگی اور نہ ہی دمشق کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کی اپیل کی۔مکہ میں رہتے ہوئے انہوں نے نہ تو کوئی فوج منظم کی اور نہ ہی کسی مشن کے لئے رضاکار بھرتی کئے۔پہلے بھی انیس سال تک وہ حضرت معاویہ اور امام حسن علیہ سلام کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے ایک پرامن شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے۔لیکن اب یزید اس توازن کو برقرار رکھنے کو تیار نہیں تھا اور طاقت کا استعمال کرنا چاہتا تھا۔چونکہ صورتحال عوامی انقلاب کے لئے سازگار نہیں تھی اس لئے امام حسین علیہ سلام نے جرات اور بہادری کے ساتھ موت کو گلے لگایا۔انہوں نے اصولوں کو زندگی پر مقدم رکھا اور شہادت کے واقعے کوایسا پر اثر اور دلنشیں گوہر بنا دیاجو اخلاقی جمالیات سے بے مثال طریقے سے آراستہ ہے۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
سمیرا نقوی کی یہ کتاب ان کے پیارے نانا سید محمد تقی کے لئے محبت بھراخراج تحسین ہے۔-

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply