میں نے اپنے دیرینہ شناسا اور ایک عرصہ سے دوست ڈاکٹر ساجد علی کی کتاب ” فرد فرد مجموعہ خیال ” آخر کار پڑھ ہی ڈالی۔
اتنی دیر بعد کیوں؟ وجہ یہ کہ کچھ مضامین پہلے سے پڑھے ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی کتابیں موصول ہوئیں جن میں فیاض باقر جو ہیں تو پی ایچ ڈی ہی لیکن ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے کہ باہر کے ملکوں میں رواج نہیں، کی انگریزی کتاب تھی جو بھیجے جانے کی شرط ہی یہ تھی کہ پڑھ کے تبصرہ لکھو گے۔
کچھ ناول تھے جو دلچسپ تھے، وہ پڑھ ڈالے جبکہ عزیزی کاشف بلوچ کا بھیجا ناول ” پلیتیں دا پورھیا ” تو میرے لیے قراۃ العین کا آگ کا دریا جو چوتھی سرتوڑ کوشش سے پڑھ سکا تھا اور جیمز جوائس کا ” یولیسس ” تو بار بار کی سعی کے سر نہ ہو سکا ، کی طرح ہو گیا ہے۔۔۔ خیر ابھی پہلی ہی کوشش ہے۔
اصل وجہ یہ رہی کہ میں مداح بہ مشکل ہی ہوتا ہوں اور داد دینے میں اس قدر خسیس کہ ابرار احمد مجھے اپنی شاعری سناتے ہوئے بہت جز بز ہوتا کیونکہ جانتا تھا کہ مرزا کے لیے داد دینا بنے گا تو داد دے گا۔ لیکن میں عاصم بخشی اور ساجد علی کی تحریروں کا مداح یعنی باقاعدہ فین ہوں۔ اس لیے غور سے پڑھنا چاہتا تھا۔
ساجد نے کتاب کو تین حصوں میں بانٹا ہے پہلا حصہ متفرق مضامین ہے جس میں شامل فلسفیانہ اردو ( غالبا” عربی کہ فارسی نہ ہیں ) اصطلاحات نے میرا مغز فرد فرد کر ڈالا لیکن ہمت نہ ہاری آخر ژاں پال کی وجود لاوجود پڑھ چکا ہوں اگرچہ انگریزی میں۔ کانٹ، سپینوزا جسے ساجد نے سپائی نوزا لکھا اور جو میرا پسندیدہ فلسفی ہے کو پڑھ چکا ہوں۔ مارکسزم کے سبب ہیگل سے بھی منہ ملاحظہ تھا لیکن میرے یار نے جہاں میرے لیے وجود کے در وا کیے، وحدت الوجود اور وحدت الشہود سے ادھر ادھر کیا وہاں میرے دماغ کی چولیں بھی ہلا ڈالیں۔
یہ ذات شریف ہیں ہی ایسے شاید فلسفی ایسے ہی ہوتے ہوں کیونکہ ہمارا تو واقف ایک یہی فلسفی ہے اگرچہ ہر شخص اپنی ذات میں مجموعہ اضداد ہوتا ہے۔ ایسے ہیں اس لیے کہا کہ جاوید احمد ( غامدی ) کو سب سے متعارف کرانے والے بلکہ منظر عام پر لانے والوں میں پیش پیش تھا، جماعت اسلامی سے علاقہ تھا جب ہم تینوں ( تھے تو اور بھی ) جاوید، ساجد اور میں جماعت اسلامی پنجاب کے دفتر اچھرہ لاہور میں مقیم تھے۔ مجھے تو میری ماں نے ملحد ہونے کی وجہ سے رمضان میں گھر نکالا دے دیا تھا مگر ساجد علی میری طرح روزہ نہ رکھتا اور سڑک پہ مرزا صاحب کے ریستوران میں جا کے ہم اکٹھے ظہرانہ لیتے۔
کچھ سال پہلے المورد کے دفتر میں اب جاوید چونکہ غامدی ہو چکے تھے، ملائیشیا سے تشریف لاتے تو میں اور الیاس ملنے جاتے۔ سب باجماعت نماز پڑھتے مگر یہ میرے ساتھ کھڑا سگریٹ نوشی کرتا لیکن لکھنے میں کمال کرنے کے باوجود کہیں کہیں جماعتی انداز تکلم و تحریر در آتا ہے اور کسی خالق پہ اعتقاد راسخ ظاہر کرتا ہے۔ ظاہر کرتا اس لیے کہ اگر راسخ ہوتا تو نماز روزہ کا دھیان کرتا۔ شاید فلسفیوں کو اللہ معاف کر دے۔
دوسرا حصہ اقبالیات ہے۔ شیخ اقبال صاحب کی ذات کے ایسے ایسے پرت واضح کیے۔ ان کی نثر نگاری کی جہاں بے حد تحسین کی وہاں فکر پر تنقید سے بھی گریز نہیں کیا۔ اقبال کی شاعری کو ایک اور بڑا اور اچھا مداح ساجد علی کی صورت میسر آیا۔ اور تو اور شاعر کے فرزند شاعر کو بھی اقبال پسندی کی راہ پر ڈال دیا۔
یہ کمال اس کتاب کے تیسرے حصہ میں جسے ادبی مضامین کے عنوان سے باہم کیا گیا ہے، بیان کیا گیا ہے۔ ناصر کاظمی کے شیدائی اور باصر کاظمی کے دوست اور مداح نے جہاں ان باپ بیٹے کے فن کو خراج تحسین پیش کیا جس کے دونوں حق دار ہیں اور باصر کے حوالے سے دوستی کا تقاضا بھی وہاں ظفر اقبال کی نثر کی ایک کتاب کو لے کر جس طرح ساجد نے شاعر اعظم کی ذات، شاعری اور نثر نگاری کی چھال اتاری ہے وہ حیراں کن اور خوش کن ہے۔ خوش کن اس لیے کہ ظفر اقبال سے بڑا خود پرست شاید ان کا اپنا فرزند آفتاب اقبال ہو ، کم از کم اور کوئی نہیں ہے۔ حیران کن اس لیے کہ اس مضمون میں ساجد علی فلسفے کے پی ایچ ڈی کے علاؤہ اردو زبان اور ادبیات کا باقاعدہ ڈاکٹر بلکہ جراح لگا ہے وہ بھی پلاسٹک سرجن بدصورتی سے حسن پیدا کرکے نکھارنے والا۔
ساجد علی کم لکھے گا لیکن جو بھی لکھے گا باکمال لکھے گا۔ آخر ہمارا یار ہے بھائی۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں