چہار درویشنیں۔۔ ۔۔شفیق زادہ/قسط4 ۔۔ ’ ٹِرپل وَن بریگیڈ ‘

جانیے کیسے مردانہ تکبّر اور نرینہ نخوت کے ٹوئن ٹاورز اِن نازک بیبیوں کے حسنِ سلوک سے ڈھے کر زمیں بوس ہو گئے ۔ اور عمر بھر کا بُھولا گھر لوٹ آتا ہے یا سنیاس لے گا؟ ، ہنستی مسکراتی اٹھکیلتی کہانی کیسے آگے بڑھ رہی ہے ،جاننے کے لیے پڑھیے ’ چہار درویشنیں ‘ کی چوتھی قسط ۔

چہار درویشنیں ؛ جدید دور کی ایکتا کپوری ٹرینڈ بیویوں کا دھماکہ خیز اتحاد جس نے راہ میں آنے والی ہررکاوٹ کا تورا بورا کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔

جلی رسّی کا بَل
پھر یوں ہوا کہ سیم و تھور کی ماری زمینیں ایک ایک کر کے کوڑیوں کے مول بکتی گئیں، چنانچہ ایک ایسا وقت آیاکی نہ جاگیر رہی نہ جاگیرداری۔ خالو کی جاگیرداری گئی تو اُنہوں نے مکھن خور نوکیلی مونچھیں منڈوا کر ایک نوکری پکڑ لی کہ دال دلیے کا آسرا چلتا رہے۔ گھریلو چخ چخ، ٹخ ٹخ نے دفتر میں بھی اِن کو پریشان کیے رکھا اور بالآخر چو تھی شادی کے پانچویں مہینے ہی خالو کو قبل اَز وقت ریٹائر کر کے خاموشی سے فارغ کر د یا گیا ۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دفتری معاملات میں خالو کا ’آئی کیولیول‘ پرائمری کلاس کے کسی بچے سے بھی گیا گزرا ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک متفقہ نوٹ بھی لکھا گیا تھا کہ’ کہانی گھر گھرکی‘ نامی انڈین سوپ ڈرامے نے خالو کی زندگی پر بہت گہرا اثر چھوڑا تھا۔ وہ خود کو رائے سلطان حسن کی بجائے پاروَتی بھابی سمجھنے اور برتنے لگے تھے۔شک ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ’ملٹی پل پرسنالٹی ڈِس آرڈر ‘ یا کثیر الجہتی شخصیت‘ نامی نفسیاتی بیماری میں نفسانی طور سے مبتلا ہو چلے تھے ۔ ایک بدخواہ نے تو اس کیفیت کو ان کے سیاسی کیریر کی جانب پیش قدمی بھی قرار دی۔
نوکری چھوٹنے کے بعد جب حساب کتاب شروع ہوا توہی ’بی چا روں‘ کو یہ پتہ چلا کہ جناب پر بے پناہ قرض ہے، جو واجب الادا بھی ہے۔ ماضی کے جھروکوں سے تلخ یاد کی مانند ایک کے بعد ایک قرض خواہ بِدکتا، بھڑکتا ، برستا نمو دار ہوتا اور پھر جَھڑپتا،جِھڑکتا اورجھگڑتا لوٹ جاتا۔ انفرادی قرض خواہ تو خیر چھوٹی موٹی گالم گلوچ پر اکتفاکرلیتے، جس میں خالو کا پلڑا ہی بھاری پڑتا کہ بلبل ہزار داستان کی لغو لغت اور چودہ طبق روشن کرنے والی شاہی بازاری زبان ابھی بھی ذہن نشین تھی ۔ وہ اب بھی ہاتھ سینے پر باندھ کر سیدھے کھڑے ہو جاتے سائبرئین برفانی ریچھ لگتے اور کرکٹ گیند کی مانند دونوں بازوؤں کی مچھلیاں نمایاں ہوجاتیں جو قرض کی وصولی کرنے والے اِن نسلی سود خوروں کے دفع کے لیے لاحول کا کام کرتے۔ مگر بینک والے کچھ زیادہ ہی پرابلم کرتے ، بہرحال خالو اُ ن کو بھی رام کر ہی لیتے کہ نیپئر روڈ کے دلّالوں سے بھاؤ تاؤ کرنے میں ہمیشہ ان کو چِت ہی کیا ۔ وہ البتہ تنہائی میں بیٹھ کر دل ہی دل میں خوب ہنستے کہ اگر قرضہ لوٹانے کے اہل ہوتے تو لیتے ہی کیوں۔
اب جو کچھ رقم فکسڈ ڈپازٹ میں میں لگی ہوئی تھی، وہی گزری سفید پوشی کا بھرم رکھنے میں معاون تھی۔ پیارے میاں نے ایک دن اُن کو بک اسٹال سے پنجاب اور مہران بینک کے صدور کی وہائٹ کالر مالیاتی جرائم کا پریکٹیکل مینیول المعروف آپ بیتی بھی خریدتے دیکھا تھا۔

ٹِرپل وَن بریگیڈ
حقوق نسواں کے حصول کے لیے جوڑی گئی یہ چوکڑی خالو حضور کے لیے ٹِرپل وَن بر یگیڈ سے بھی زیادہ مسموم، مہلک اور مستعدثابت ہوئی۔ خالہ اوّل کی اس ٹِرپل وَن بریگیڈ نے افغانستان میں قابض اتحادی فوج کی شکل اختیار کرلی تھی ، جس نے راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کا تورا بورا کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ عورت کو عورت پن کے اظہار کے لیے کسی تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا کچھ کر گذرنے ،کچھ کر دکھانے یا صرف خودنمائی کی چاہ ہی اُس کا قوّت بخش محرّک بن جاتا ہے۔ اس میں اگر ضد اور جھنجلاہٹ کا تڑکا بھی لگ جائے تو کیفیت بالکل ایسی ہی ہوجاتی ہےجیسی کہ بیوی کے مائکے جانے پر ، شوہر نامراد کے انڈا تلنے کے فوری بعد گرم توے کو پانی سے دھونے کی کوشش کرنے پر ہوتی ہے۔ چاروں خواتین میں ویسی ہی تپتی چن چنا ہٹ اورآتش فشانی یکجا ہوگئی تھی جو اچھل اچھل کر لہرارہی تھی۔
اگراَب خالو حضور حقیقتاًکسی سے جان چھڑائےپھرتے تو وہ خاص طور سے پہلو ٹھی کے عشق المعروف خالہ اوّلین اور بڑھاپے کے چونچال المشہور خالہ آخریں تھی۔ ایک مثلِ اُگال تو دوسری وبال کی صورت سینے پر مونگ دلنے کو ہمہ وقت تیار۔ جب بھی دونوں میں سے کسی ایک سے اِن کی نظر چار ہوتی، اِن کو یوں پھریری لگ جاتی کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ بڑی کی بڑی بڑی غزال آنکھیں آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا اور چھوٹی کی نیم وا سرخ ڈورے لیے مست نظریں ابھی تو میں جوان ہوں کی بجائے، ’ابھی ’میں‘ تو جوان ہوں‘ کے ایس ایم ایس ارسال کرتی محسوس ہوتیں۔ باقی بیچ کی دونوں منکوحائیں تو، وہ پہلے ہی خالہ اوّلین کے ہاتھوں بیعت ہوچکی تھیں، جس کے بعد تو خالو کی زندگی مسلسل منگتے بد خواہوں کے نرغے میں تھی ۔ گھر میں چہار درویشنیں اور باہر شتر بے مہار قرض خواہ، ہر ایک وصولی کی مُہم کو نیشنل ایکشن پلان سمجھے مامور تھا۔ گھر میں عزت اُترنے کا ڈرچین نہ لینے دیتا اور باہر پتلون اُتار لیے جانے کا خوف بے چین کیے رہتا۔ بہت سوچ بچار کے بعد آخر الذّکر کا خوف اوّل الذّکر پر غالب آگیا اور بزرگوار نے پتلون تیاگ کر تنگ پاجامے کو شرف قبولیت بخشا۔
گھر کی دہلیز پر بن بلائے مہمانوں کی آمد و رفت دور جدید کے ماڈرن والدین کی بے قابو آزاد خیالی کی طرح بڑھنے لگی ۔ روک ٹوک کے لیے مناسب اقدام یعنی کم اَز کم قابل ادائیگی رقم بھی نہ ہونے کی وجہ سے بینک کے شریف زادوں نے بھی شائستگی کی کینچلی اُتار پھینکی۔ بڑے صاحب، بزرگوار سے بڑے میاں پھر بڈھا اور سالا بڈھا تک کے القاب کا سفر اتنی سرعت سے طے ہوا کہ خالو ہق دق رہ گئے۔ زندگی کےپچھلی چند برسوں پر پھیلی عُسرت میں ایک سے ایک بُری صورتِ حال سے پالا پڑا تھا۔ ہمیشہ چکنے گھڑے کی مانند تمام مالی ،معاشرتی اور معاشی بحرانوں سےدامن جھٹکتے سرخرو ہوکر نکلے۔ مگر بُرا ہو اِکیسویں صدی کا کہ اِس دَور میں حرمزدگی اور خباثت ایسی ایسی جہتیں آشکارا کر رہی ہیں کہ الامان الحفیظ۔ برسوں سے مشقِ بہم پہنچائی تمام تیزی اور طرّاری پاؤں کے نیچے سے ساحل کی ریت کی مانند کھسکتی محسوس ہونے لگی۔ سوچا بھی نہ تھا کہ بے عزتی کے ایسے ایسے نادر اور عنقا پہلوؤں کا سامنا کرنا پڑے گا کہ موت کی تمنا کرنا ہوگی ۔
وہ بھی ایک عام سا ہی دن تھا، جب سورج اُتنا ہی روشن تھا جیسے ان دنوں ہوا کرتا تھا، ہلکی ہلکی ہوا چہرے کو چھو کر گذرتی تو کیف کا فرحت بخش احساس ہوتا۔ محلّے کے درودیواروں سے پرانی شناسائی برس رہی تھی پس سارا منظر نامہ بالکل ویسا ہی مانوس تھا، جیسے ہر روز ہوا کرتا تھا۔ خالو گھر سے نکل کر اپنی ترنگ میں حسرتؔ موہانی کی غزل ’چُپکے چُپکے رات د ن آ نسو بہانا یاد ہے‘ مترنم لے میں گنگناتے ہوئے چار گلی دُور پنواڑی بابو سے نقدی پان لینے روانہ ہوئے۔ نقدی پان اس لیے کہ اُدھار کا سنتے ہی پنواڑی بابو کو گویا قبض ہوجاتا، یا کم اَزکم چہرے پر بہ زورِ قوت ارادی ایسے تاثرات پیدا کر لیتا جیسے کسی سلطان راہی ٹائپ مہم جُو وارڈ بوائے کے ہاتھوں ’ انیما‘ کا منتظرکوئی بے چارہ مقبوض۔ یہ شخص کسی بھی طرح کا اُدھار لینے اور دینے سے انکاری تھا، ویسے لین دین میں بہت کھرا تھا۔ شنید ہے کہ بیوی کا حق مہر بھی عین نکاح کے وقت سسر کو ادا کر کے نکاح نامہ کے پیچھے رسید بھی لکھوا لی تھی ۔ لگے ہاتھوں کھلے ڈلے الفاظ میں سرگوشی بھی اِس طرح کی کہ تمام حاضرین بہ غور سن لیں ’نکاء اور تلاک کے درمیان چارہروف کے تین ٹھو لَفج ہیں، جن کے استمال میں اب کونہو مال کا لال رکاوٹ نئیں ۔ بٹیا کو بول دیجیو کتھے چونے کی طریوں مِل کر ریوے، ورنہ پھوک بناکر تھوکنے میں جیادہ ٹیم نئیں لوں آں ‘۔ اب یہ مادرانہ تربیت کا اثر تھا کہ شوہرانہ رعب کا اعجاز کہ طرفین میں آج تک گلوقند اور سونف جیسی مٹھاس اور یکجائی ہے۔ اس کے ہاتھ کے پانوں میں نہ جانے کیا مسیحائی تھی کہ اِس جہانِ قرض خواہ میں یہ واحد انسان تھا جس سے یہ نقد سامان لینے پر مجبور تھے حالانکہ حب الوطنی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے بھی قومی مفاد کا مشن اسٹیٹمنٹ ’ کشمیر کی آزادی تک ادھار قطعی بند ہے ‘ کا ٹنٹنا عین دکان کے ماتھے پر لٹکا رکھا تھا ۔ کچھ گاہکوں کے ڈراوے کو ’ ادھار محبت کی قینچی ‘ کا وارننگ سائن بھی نمایاں مقام پر لگا رکھا تھا۔ اس کے لیے گاہکوں کو پکّا کرنے کے لیے ’ آج نقد کل ادھار ‘ کا نعرہ اس کا پاور اسٹیٹمنٹ تھا جس کا بڑا سا اسٹکر اس نے گُلک پر چپکا رکھا تھا ۔
خالو حضور جیسے ہی دکان سے چند قدم کی دُوری پر پہنچے تو پہلے سے کھڑی ایک ڈبّہ نما بد صورت جاپانی گاڑی سے تین ہٹے کٹے بیل نما مرد نمودار ہوئے۔ اُن میں سے ایک نے اِن کا نام مع درست ولدیت کے پکارا تو یہ ٹِھٹک کر رُک گئے۔ یہ تصدیق ہوجانے کے بعد کہ مقصودِ تلاش یہی ہیں تو شکلاًکم خبیث دِکھتے چپٹی صورت والے نے سلسلہ جنبانی کو بڑھاوا دیا۔ اس غرض کے لیے جن غلیظ الفاظ کا سہارا لیا گیا تھا، وہ اتنے گھٹیا تھے کہ زندگی میں پہلی باران کے دل سے دُعا نکلی کہ کاش زمین پھٹ جاتی اور یہ اُس میں سماکر اِن الفاظ اور اِس سے بھی زیادہ مکروہ نظروں سے نجات پالیتے۔ خالو دھک رہ گئے۔ یہ احساس بھلا کیوں نہ ہو تاکہ خون میں گرمی بھلے کم ہوگئی ہو، مگررشتوں کا احترام تو ناپید نہ ہوا تھا۔ مخاطب نے بغیر کسی لگی لپٹی کے اِن کے وجۂ تولّد اور اِس میں شامل اِن کے عزیز ترین رشتوں کو لفظاً سرِ بازار برہنہ کرنا شروع کردیا۔ قُرقی کے ڈھول نما اِس شور سے آس پاس کے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے مکینوں کے سروں سے سج گئے۔ راہ چلتوں کی بھیڑ جمع ہو نے لگی، جن کے کان موقع واردات پر، مگر ایکسرے نظریں گیلریوں پر بے وقت، بے فائدہ اور بے جا بریکنگ نیوز کی طرح بے تحاشا نمودار ہونے والی صنفِ نازک پر طائرانہ مگر گہری انداز سے گزر رہی تھیں۔ خالو کو اپنے کانوں میں ٹپکتا ہوا صوتی لاوا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اِس ناگہانی سے کیسے نبٹیں ۔ انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ حبیب بینک پلازہ کے پیچھے کھڑے ٹھیلوں سے خریدے گئے آنجہانی انگریزوں کے پُرانے ٹائی کوٹ پہنے بینکروں اور ٹیلی فون پر وصولی کی طلبگار پُرکشش آواز والی بدصورت حسیناؤں کی بجائے بھاڑے کے بھاڑوؤں اور کوئلے کے دلالوں سے پالا پڑسکتا ہے، جو کہ دکھاوے کا بھی تکلف نہیں برتیں گے۔ نہ تکلّفاً ، نہ ظاہراً، نہ لفظً اور نہ طبعاً۔
خالو کثرتِ ازواج کے رنگیلے شوق میں پڑنے کی وجہ سے کسرت کے تکلف سے پرہیز کرنے لگے تھے۔ بچپن اور لڑکپن میں جو کچھ بھی گھی شہد کھایا پیا تھا، اُسی کو اپنے لیے ڈرائیونگ فورس سمجھتے ، پر اِس وقت اُن کی مدارات تواتر سے ہو رہی تھی۔ واقعاتی وقوع پذیری کے حوالے سے دیکھا جائے تو تفریق ہی نہ ہو پارہی تھی کہ تشریف پر لگنے والی زور دار ضرب مُکہ تھا کہ چپت، کیوں کہ بالکل اُسی وقت کسی گال پر چٹاخ کی زور دار آواز اُبھرتی۔ پشت کی جانب بچاؤ کو جاتا ہوا ہاتھ بڑی سرعت سے گال سہلانے کو چل پڑتا کہ اچانک کوئی جوتا تاک دھنی سے کھوپڑی پر بجتا اور منزل کو کھوجتا ہاتھ ایک نئی سمت پر ایک نئی تلاش کو نکل پڑتا۔ کم بخت، کمینے اور کنجروں نے خالو کو بغداد بنا دیا تھا کہ ایک دھماکے سے اُٹھتا ہوا دھواں تحلیل بھی نہ ہوا کہ دوسرا پٹاخہ دُھوم مچاتا پھٹ گیا۔ دیکھنے والوں کو خالو کی حرکات وسکنات جدید ریپ ڈانس سے مطابقت رکھتی معلوم ہورہی تھیں، جس میں نہ صرف اِن کے کپڑے بلکہ عزت بھی رِپ ہو رہی تھی۔ اور بے ڈھنگی پٹائی انگریزی کی بے ڈھنگی موسیقی ’ ریپ ‘ کی مانند تھی جس میں واضح رہے کہ چوتھا حرف یعنی ’ اِی‘ ہم نے ارادۃً شامل نہیں کیا۔ کچھ مقامی خرانٹ قرض خواہ یعنی محلہ دار اِس میں اپنی طرف سے اِی کا اضافہ کرکے کھی کھی تُھو تُھو کرنے کے تمنائی دکھا ئی دے رہے تھے۔
تسلسل کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی ’ڈو مور، ڈو مور‘ مطالبے کی مانند خالو پر بے بھاؤ کی ’مور اینڈ مور‘ اِس بُری طرح سے پڑرہی تھی کہ اگر جلد کوئی بیرونی امداد نہ پہنچی تو ڈھے جانے میں کوئی کسر باقی نہ تھی۔ بے چارے خالوحالات کے تاک دھنا دھن کا شکار ہو گئے تھے۔ چند ہی منٹ کی مختصر مگرپُر خوار جامع دُھنائی کے بعد، منہ سے الفاظ کی جگہ عف عف اور غف غف غیاؤں مغاؤں قسم کے ناقابلِ فہم صوتی اشارے مورِس کوڈ کی طرح برآمد ہونے شروع ہوگئے جو کہ تماشبینوں کی سمجھ سے ماورا تھے۔ ہائے ! ہائے! بے عزتی سے زیادہ بے وقعتی نے مار دیا تھا۔ آس پاس کھڑے موجود تماشائیوں میں چند کی آنکھوں میں افسوس تو تھا، لیکن بازوؤں میں طاقت یااِس کے استعمال کی ہمت مفقود تھی۔ کاش! اے کاش کوئی تو ایسا اپنا ہوتا کہ ڈھال بن کر لپٹ جاتا اور بڑھاپے کو اپنی جوانی میں سموکر للکارتا ،’خبر دار! جو کسی نے میرے باپ کو ہاتھ بھی لگایا تو‘۔ جسم پر لگتی چوٹوں کے مقابلے پر رُوح پر سوار یہ احساسِ زیاں اچانک اتنا بھاری نکلا کہ ہوش کھو بیٹھے۔ بے ہوش ہونے سے پہلے کسی کے باپ نہ ہونے کا ناوَک اتنا نوکیلا تھا کہ رُوح تک بھونکا ہوا محسوس ہو رہاتھا۔ بے ہوش ہونے سے پہلے ایک جانی پہچانی آواز ان کے کان تک پہنچی ضرور، مگر لفظ کیا تھے وہ کچھ سمجھ نہ سکے کہ اگلے چند ہی لمحوں میں خالو حضور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو چکے تھے۔

اُمّ الحرب
شام کو دفتر سے گھر آتے ہوئے جب ہم پنواڑی بابو کی دکان پر حسبِ ہفتہ وار معمول گلوقند کا خوشبودار بِیڑہ لینے رُکے تو ہمیں اُس کی باچھیں طویل لوڈ شیڈنگ کی مانند ایک سرے سے دوسرے تک چِری ہوئی نظر آئیں۔ جب سے ہم نے ایک نکمّے ڈینٹسٹ سے ڈاڑھ میں روٹ کنال کروایا تھا، تب سے بیگم نے ضد پکڑ لی تھی کہ شبِ جمعہ کی شبھ راتری کو خوشبودار پان کھالیا کریں۔ یہ ایسی ہدایت تھی، جس سے رُو گردانی کم اَزکم اِس نام نہاد بھری جوانی میں ہمارے بس کی بات نہیں تھی جس نے اصلی جوانی میں بھی کبھی ’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ‘ نہیں سوچا۔ ہمارے چہرے پہ نظر پڑتے ہی وہ ہنس پڑا تو ہمارا دھیان پہلے تو پتلون کی زِپ اور پھر فوراً وجۂ خرید پر گیا۔ ہمیں سخت طیش آیا، مگر خاموش رہے کہ کم بخت گھر کا بھیدی ہے، نہ جانے کہاں کہاں جاکر داستان عام کرے اور اپنے لیے مفت تھپّڑ کا موقع پیدا کرے ۔ وہ ہمارے اِن خیالات سے بے خبر تھا، کہنے لگا، ’کچھ سنا آپ نے؟‘ ہم نے استفسار کیا،’نہیں؟ کیا ہوا‘ وہ پھر ہنس پڑا اور بولا، ’آج اِدھر گلی میں عین میری دکان کے سامنے اُمّ الحرب ہوگیا‘۔ کم بخت کو جنس کی بھی تمیز نہ تھی۔ اِس سے پہلے کہ ہم کچھ کہنے کو منہ کھولتے اُس نے اُمّ الحرب کا اعلامیہ جاری کرنا شروع کردیا۔ اُس کے بیان کردہ اعلامیہ میں مقررہ مقدار سے کہیں زیادہ تکنیکی اصطلاحات یعنی فحش کنائے اور بازاری استعارے تھے، جو نہ تو ضبط تحریر میں لائے جاسکتے تھے اور نہ اشاعت کے قابل تھے، مگر آج کل کے اسٹیج ڈرامہ رائٹرز یا پھر ٹی وی پروڈیو سرز کے سٹ کوم ٹائپ گُڈ مارننگ جیسے لائیو کامیڈی پروگرامز کے لیے بہترین اسکر پٹ ہوتا، جو شام تک نشر ہوتے ہی رہتے اور ٹی وی بند ہونے کے بعد بھی ذہنوں میں گونجتے رہتے حتیکہ نئی بے ہودگی کے لیے نئی گڈ مارننگ طلوع ہو جاتی ۔
بعد میں جو کچھ ہمارے کانوں نے سنا اور جس کی تصدیق آزاد ذرائع سے بھی ہوئی، حیران کن حد تک جگجویانہ تھا۔ عین اسی وقت ادھر سے گذرتی ہوئی ہماری نیپالن نوکرانی نے جب یہ معرکہ ہوتے دیکھا تووہ بگٹٹ بھاگتی سیدھا خالو کے گھر پہنچی۔ چھوٹی خالہ نے دروازہ کھول کر اُسے اندر بلایا تو وہ چیخ کر بولی، ’اے لو! یہ غَر پر بلانے کا وَخَت نئیں، باہر نکل کر جیہاذ کرنے کا وَخَت ہے۔ جلدی چلیے ورنہ ساری بیغمات کو چوریاں تورنی پریں غی۔ باہرغلی میں بینک والے مرد تم سب کے مرد کو نامرد کرکے تم لوغ کو نامراد کرنے پہ تُلے ہیں‘۔ دالان میں بیٹھی ہاون دستے میں مصالحہ کوٹتی ہوئی خالہ اوّل معاملے کی نزاکت فوراًسمجھ گئیں ایک دن یہ دن بھی آسکتا ہے اور ننگے پاؤں دیوانہ وار گھر سے دوڑ پڑیں۔ اُن کو بھاگم بھاگ گھر سے نکلتے دیکھ کر بقایا تگڑم بھی اُن کے پیچھے دوڑ پڑی، مگر اِس بوکھلاہٹ میں بھی چھوٹی خالہ دالان میں پڑا کرکٹ بیٹ اُٹھانا نہیں بھولی۔ اس پلاٹون کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور واردات سمجھنے میں تو بالکل بھی دِقت نہیں ہوئی۔ خالو قانون نافذ کرنے والوں کی ہمت اور جرأت کی طرح ڈانواں ڈول ہو رہے تھے اور اُنہی کے انداز میں نابیناؤں کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر گویا ہوا میں سے اسٹریٹ کرمنلز پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس وقت بھی بینکار غنڈے بہت بے دردی سے ہاتھ، پیر اور جوتوں سے خالو کی مدارات اور گالیوں سے تواضع کر رہے تھے، کراچی والو ں کی زبان میں دے مار ساڑھے چار کا پروگرام فل ٹائم چالو تھا ۔ یہ فلمی منظر دیکھ کر خالہ اوّل کے اندر برسوں سے دبی وہ خون آشام چڑیل جاگ اُٹھی، جس کے سر پر انتقام کا امریکی صلیبی جنگی بھوت المعروف ’نِکّا بُش ‘ سوار تھا۔ وہ سب کچھ جو برسوں سے نہ کہا اور نہ ہی کرسکیں، ایک دَم ممکن نظر آنے لگا، کم بخت مردود ، میرے مرد کو نامرد کرنے پر تلُے تھے؟۔ آس پاس کھڑے تماش بینوں کو خالہ اوّلین کی شیرنی جیسی دھاڑنے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ ’او وو و کم بختو! خبردار! اگر کسی نے میرے میاں کی طرف انگلی سے اشارہ بھی کیا تو۔۔۔۔‘۔ بینکار غنڈوں کا سر غنہ اُن کی دھاڑ سن کر اُن کی طرف متوجہ ہوا۔ اِس سے پہلے کہ وہ ہاتھ روک کر منہ سے کوئی لفظ نکالتا، خالہ اوّلین نے دائیں ٹانگ پوری قوّت سے واہگہ بارڈر پر کھڑے لمبے تڑنگے رانگڑ سپاہی کی دُلکی چال کے لمبے ڈگ کی ماننداُس کے مرکزِ ثقل کی طرف روانہ کردی۔ کروز میزائل کی مانند یہ ’ ٹنگڑی میزائل‘ کاحملہ اپنے ہدف کے عین وسط پر ہی جاکر تمام ہوا۔ اس ناگہانی ڈرون حملے کی برکت سے سرغنہ ’ اووغ غ غ‘ کی آوازیں نکالتا ہوا بغیر کسی لگی لپٹی کے اِس حال کو پہنچ گیا کہ اگر بکرا ہوتا تو قربانی کے دنوں میں مُطّوَع و متقّی مسلمان منہ مانگی قیمت پر خرید لیتےکہ دو دانتوں کی اِضافی ویلیو ایڈیشن شرط تو منہ کے بل گرتے ہی پوری ہوچکی تھی۔ موصوف اِس وقت زمین پر کروٹی حالت میں اُسی طرح پڑے تھے، یعنی جیسے شکمِ مادر میں سیٹلڈ تھے، یعنی دونوں گھٹنے تمام بیماریوں کی جڑ یعنی پیٹ کی جانب موڑے یعنی حالتِ حمیل میں ۔ اُن کے منہ سے برآمد ہوتے بے ربط جملے پھر بھی معنی خیز تھے، جن کی برآمدگی سے سامعین و حاضرین کو اطلاع ہوگئی کہ اب اُن کی اپنی فیملی کسی پلاننگ اور سبز ستارہ شناسی کے بغیر بھی مزید بڑھ نہ سکے گی، الٹی میٹ سیفٹی کا انتظام ہو گیا تھا ‘ پرمننٹ ایلی مینیشن اوف تھریٹ ‘ ۔ ان کی گھر والی یقیناً خوشی سے پھولی نہ سمائے گی ، کہ مزدوری مشقت سے جان چھوٹی۔ اہل محلہ کے وسیع تر مفاد میں اُن کی پیدائشی صلاحیت میں غیر پارلیمانی ترمیم کرکے اُنہیں غیر مؤثر اور بقایا عمر کے لیے غیر فعال کر دیا گیا تھا ۔ عین اُسی لمحے چھوٹی خالہ نے جاویدمیاں داد کی نقاّلی کرتے ہوئے زمین پر پڑے مضروب خالو کی کرکٹ وکٹس کی طرح حفاظت کرتے ہوئے ، ان کے چاروں طرف شارجہ والے اسٹروک کھیلنے شروع کردیے۔ ملیر سعودآباد میں امّاں کے گھر میں ہاتھوں میں لکڑی کا پھٹّا پکڑ کر دھنائی کر کے کپڑے دھونے کی مشق خوب کام آرہی تھی۔ حالاں کہ اِنہوں نے بہت چاؤ سے بڑھائے ناخن اورہا تھ کی جِلد بچانے اور پریوں کے دیس سے ہنڈا ففٹی میں بیٹھ کر آنے والے کسی شہزادے کے چکر میں اس لونڈیا لانڈری سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی، مگر امّاں کی جنّاتی مزاج پُرسی سے ابّا تو بچے نہیں ، بِٹّیا کس کھیت کی مولی تھی، چار و ناچار ہفتے میں تین مرتبہ دھلائی کی اعزازی خدمات انجام دینی پڑتی تھیں۔ خالہ دوم اور خالہ سوم بھی کسی سے پیچھے نہ تھیں، بلکہ بلے بازی سے مضروب بینکار غنڈ ے جب عدم اعتماد کا شکار حکومت کی طرح راستے کا پتھر بن کر زمین پر گرتے تو دونوں خالاؤں کی لاتوں کی فٹبالی پذیرائی سے بھرپور استفادہ کرتے اور یہ فاتحانہ انداز میں چیئرگرلز کی طرح ایک دوسرے سے ہائی فائیو کرتیں، مگر کولہے نہ مٹکاتیں کہ حیا مانع تھی۔ کرکٹ جیسا شرفا کا کھیل ابھی تک پرئیمیر لیگ اور چئیر گرلز کے چھچورپن سے نہ صرف کئی برس کی دوری پر تھا بلکہ سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رکھے ہوئے تھا۔ اس طرح بیرونی کُمک اور خلائی مخلوق کی مداخلت کی وجہ سے راتوں رات وفاداری بدلنے والے ارکان اسمبلی کی مانند اِس معرکے کا بھی نقشہ بدل گیا تھا۔ چاروں سود خور غنڈے ’کوئین لطیفہ‘ سائز کی پنجابن ہیروئن کی طرح زمین پر ہی پڑے ہوئے مٹک مٹک کر جان بچانے کی کوشش کرتے، مگر اِن بیبیوں پر سوار جنّات کی طبیعت سیر ہی نہ ہو رہی تھی۔
اِدھر خالہ اوّل نے تو پہلے حملے میں ہی مخالف کو زیر کرنے کے بعد سڑک پر گرے ہوئے خالو کی طرف توجہ کی، جن کے ماتھے سے خون کی ایک لکیر گالوں سے ہوکر گردن تک جارہی تھی۔ اوپری ہونٹ دائیں گوشے سے زخمی تھااور گریبان کے سارے بٹن ٹوٹ چکے تھے اور موم جامے میں لپٹا مرشد کا تعویذ بھی گلے کی بائیں جانب پناہ گزین تھا۔ اُن کے ہوش گم، مگر سانس چل رہی تھی۔ خالہ نے اُن کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور غور سے اُن کے چہرے کی طرف دیکھا جو دُھول میں اَٹا ہواتھا۔ آج کئی برسوں کے بعد اِس قدر قریب سے ایک ٹک نظر جماکر چا ہ سے اُن کو دیکھنا نصیب ہوا تھا۔ اُن کے بکھرے اور اُلجھے بالوں میں انگلیاں بسائے شاید صدیاں بیت چکی تھیں۔آج خالو کا لمس اُنہیں بہت اجنبی محسوس ہو رہا تھا۔ بالکل یونہی، جیسے کوئی عورت پہلا بچہ جَن کر چھٹی نہانے کے بعد کنوارے بدن کے پُرانے کپڑے پہننے کی کوشش میں محسوس کرتی ہے کہ اپنا توہے، پر اپنا نہیں سکتی۔اس ہنگامی حالت میں بھی خالہ کی نظر اور توجہ صرف خالو پر ہی مرکوز تھی ،شاید اِسی لیے اُنہیں آس پاس کی آوازیں آنا بند ہوگئیں تھیں۔
ان کی نظر کے سامنے ایک پردہ سا کھچ گیا تھا، جس میں گزرے ہوئے ماہ وسال منظر بہ منظر گزر رہے تھے۔ ابّا کے گھر میں پہلی بار اُن سے نظر چار ہونا، ’ٹی روژ‘ کے پرفیوم سے خوشبومیں بسا پہلا خط پڑھتے ہوئے کپکپاتے ہاتھوں سے حلق ترکرنے کے لیے بار بار پانی پینا اور پھر رہ رہ کر چاندی کے اُسی پیالے میں اُنگلیاں ڈبو ڈبو کر تپتے ہوئے چہرے پر پھیرنا، دسمبر میں ہلکے نیلے رنگ سے سوئٹر بُن کر نئے سال کی علی الصبح چپکے سے اُن کی موٹر سائیکل سے باندھ کر گھر کی چھت کی با ؤ نڈری وال پر لگی جالیوں سے چھپ چھپ کر اُن کو حیران ہوتا دیکھنا۔ جب کونڈوں والے دن کھیر کی پَرات کو شرارتاً خوب لبریز اور بھاری کرکے اُن کو پکڑواتے وقت جب دونوں کی نظریں ٹکرائیں تو اِن سے بھی بڑھ کر شرارتی خالو نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اُ ن کے ہاتھ سے اِس وزن کو لینے سے صاف انکار کر دیا، جب تک کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد و پیمان نہ لے لیا۔ اسی لمحے کی منتظر خالہ جب اِس وزن کو سہار نہ سکیں توبنا کوئی جواب دیے بس نظریں نیچی کرلیں، غلافی پلکیں کیا گریں کہ خالوپوری آب و تاب سے نظر وں میں سما گئے، شرم کے مارے چہرہ گلال ہوا جاتا تھا۔ تب ہی خالو نے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ اِس طرح اِن کے ہاتھوں پر رکھ دیے کہ چاندی کی بھری پرات کے وزن کے ساتھ ساتھ پھول سی نازک خالہ بھی اُن کے دل میں اُتر آئیں۔ انہیں یاد آیا، جب ایک دن خالو نے بتایا تھا کہ اگر اُس دن تم مجھے ٹھکرا دیتیں تومیں جان سے چلا جا تا، تو اُنہوں نے بے تاب ہو کر اُن کے منہ پر اپناہاتھ رکھ دیا تھا، ان کی انکھوں میں تیرتی نمی کو خالو نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرکے اپنی پلکوں پر مل لیا تھا۔ آج بھی بے خوابی کے باعث دیر تک تنہاجاگتی خالہ جب ہتھیلی پر نظر کرتیں تو اندھیرے میں خالو کے لبوں کے غیر مرئی نشان روشن سے نظر آتے۔ انہیں پھر ی کچھ یاد آنے لگا تھا ، برسوں پہلے جب نازیہ حسن کا پہلا فلمی گانا ’ آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے‘چہار دانگ میں مشہور ہوا تھا تو رات دن اِسی گانے کو گنگنانے میں صرف ہوتے۔ وہ اس گانے کو سننے کے شوق میں صبح ساڑھے سات بجے ہی چپکے سے آل انڈیا ریڈیو ٹیون کر کے بیٹھ جاتیں اور پھر دن بھر امّاں کی صلواتیں بہ طور انعام سننی پڑتیں۔ پھر ایک دن پائیں باغ میں ہلکی برستی بارش میں پہلی ملاقات ہوئی اور اِسی ملاقات میں خالو نے کتنی بے باکی سے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور اُن کی ہتھیلی پر اپنی انگُشت ِ شہادت سے اپنا نام لکھا ۔ وہ کئی دن تک وضو کے وقت جب دونوں ہتھیلیوں میں پانی جمع کرکے اپنے چہرے پر چھپاک سے مارتیں تویوں لگتا کہ جسے چاہا اُس کا لمس گالوں کو چھو رہا ہے، اس لمسیاتی احساس پر خود سے اتنی شرم آتی کہ آئینے کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں ہو پاتی تھی۔ گلابی ہتھیلی پر یہ تحریر نہ خالو دیکھ سکے اور نہ خالہ پڑھ سکیں بس محبت کا یہ لمیس لمحہ یاد وں میں بس گیا۔ پھر نہ جانے کیسے ہتھیلی سے یہ نام دل پر یوں ثبت ہوا جیسے پتھر پہ لکیر، بہت کُھرچا مگراَ ن مِٹ ہی رہا، بس خالہ ہی اِن یادوں اور وعدوں کے گورکھ دھندے میں اُلجھ کر خود مٹ گئیں ۔ آج زندگی کے کس نازک موڑ پر یادوں کی طلسمی جھڑی لگی ہوئی تھی اور جہانِ خیال سے صرف وہ خوشیاں اپنا جلوہ دکھا رہی تھیں جو اِن دونوں نے کبھی صرف ایک دوسرے کو مختص کر رکھی تھیں۔ کوئی تلخی، کوئی دُکھ، کوئی شکوہ اِس منظر نامے میں جگہ نہ پا رہا تھا۔ حیرت بہت حیرت ،عورت کے دل کی وسعتوں کو عقل سمیٹ نہیں سکتی، شاید اسی دل کے لیے کہا گیا ہے۔
؏ سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
خالہ دنیا جہاں سے بے خبر خالو کے چہرے پر نظر جمائے ایک وجدان کی سی کیفیت میں تھیں۔اُن کے دل کے مدوجزر سے بے خبر آس پاس کھڑے دیکھنے والے سمجھ رہے تھے کہ بڑی بی کا صدمے سے دماغ چل گیا ہے، اسی لیے بت بنی مسکراتی ہوئی بڑے میاں کے چہرے پہ نگاہ جمائے گونگی، بہری، بے حس بیٹھی ہے۔ پولیس سے پہلے ہی ایمبولینس پہنچ چکی تھی، جس میں حملہ آوروں کو ڈنڈا ڈولی کرکے سوار کیا گیا ،کیوں کہ اُن میں سے کوئی بھی اپنے ذاتی آعضاء پر بیٹھنے اور کھڑا ہونے کے قابل نہ تھا۔ چاروں بینکار غنڈوں کو چھوٹی سی ایمبولینس میں پیپسی کے کریٹ کی طرح اُوپر تلے ایسے لوڈ کرکے روانہ کردیا گیا تھا، جیسے کمزور ایمان والے موسمی نمازی مسجد کے دا خلی دروازے کے باہر چپل میں چپل پھنسا کر چوری سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرغنہ کی شکمِ مادر والی اُکڑوں، یعنی حمیل پوزیشن میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی، مگر آواز بند تھی۔ شاید بیوی کی تسلی کے لیے اپنے فیوز اُڑنے کا کوئی جینیئن عذر سوچنے میں مصروف تھا۔ سودخور بینک کا نمک خوار پہلے ہی بندے کا پُتّر نہ تھا اور اَب آئندہ زندگی میں پُتّر کے قابل بند ہ بھی نہ رہا!

صبح کا بُھولا
چند محلے دار جو اِس معرکے کے چشم دید بے شرم گواہ تھے، اب اپنے خشک دیدوں میں آئے پانی کی موجودگی کا احساس کرکے احساسِ ندامت کا شکار تھے۔ جب اِن بے شرموں کو شرم آئی تو اِن لوگوں نے خالو کو قریب ہی واقع ڈاکٹر برکت شاہ کے کلینک پہنچایا۔ خالو طاقت کی برکتی گولیاں اِنہی سے لیتے تھے۔ خالہ بے زبان جانور کی طرح گم سم ساتھ تھی اور تگڑم کے بھی ہوش اُڑے ہوئے تھے۔ اس صورتِ حال میں منجھلی خالہ نے قیادت سنبھال لی تھی۔ وہ باری باری کبھی اپنی دونوں چھوٹی ہم جولیوں کے بہتے آنسو پونچھتیں اور کبھی خود سے لپٹا کر دلاسہ دیتیں۔دُرود پڑھو اور دُعا کرو ’ آرڈر آف دی ڈے‘ تھا۔ ڈاکٹر برکت نے فوراً طبی معائنہ کیا اور ہوش میں لانے کے لیے ٹیکہ بھی لگایا۔ ساتھ ہی اُنہوں نے یہ اطمینان بھی کرلیا تھا کہ کوئی بڑی جان لیو ا چوٹ اور ٹوٹ پھوٹ نہ تھی، مگر جسم جگہ جگہ سے زخمی اور متوّرم تھا۔ کئی گھنٹے کے جاں گسل انتظار کے بعد خالو نے کراہ کر آنکھیں کھولیں تو ڈاکٹر صاحب نے ذاتی گاڑی میں خالو فیملی کو گھر بھجوادیا ۔ اُنہوں نے یہ بھی باورکرا یا کہ حالت خطرے سے باہر ہے، مگر ہوش مکمل ٹھکانے آنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ شام بھیگنے لگی تھی اور کراچی کے ساحل سے اُٹھنے والی لطیف و نرم ہوا شہر میں خراماں خراماں چلنے لگی تھی ۔ خالوکو گھر لاکر اُن ہی کے کمرے میں لٹا دیا گیا تھا اور خالہ اوّ ل اُن کے کمرے میں رُک گئیں۔ تگڑم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ بات کی اور خامشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ خالو آنکھیں بند کیے لیٹے تھے اور چہرے سے نقاہت عیاں تھی۔ خالہ اُن کی موجودگی اور موجودہ حالت سے بے خبر لگ رہی تھیں۔ اُن کے چہرے کا تناؤ ہویدا تھا اور تاثرات اتنے سپاٹ کہ کسی خیال کو بھی اُن سے مخاطب ہونے کی ہمت نہ تھی۔ اُن کے سختی سے بھینچے لب اور پیشانی پر پڑے بَل اندرونی کشمکش کے عکّاس تھے۔ ان کی نگاہیں خلا میں مرکوز تھیں، نہ جانے کیا دیکھ رہی تھیں ،شاید گذرے دنوں کے خوش دل مناظر۔ خالہ یاد کی آکاش بیل میں لپٹی کچھ اِس طرح اُلجھ گئیں کہ ماضی کے دھندلکوں سے باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہ پار ہی تھیں۔ یادوں کا گور کھ دھندہ بہت گنجلک اور پیچیدہ ثابت ہوا۔ یاد کی ہرتار دوسری تار سے اِس طرح اُلجھ رہی تھی کہ علیحِدہ کرنا عذاب تھا۔ اِن تاروں نے آہستہ آہستہ اُن کو اپنے گھیرے میں لیتے ہوئے مومیائی مجسمہ کی طرح جامد کر دیا ۔دنیا ومافیہا سے بے خبر وبے پروا خالہ نے اپنی اندرونی کشمکش سے تنگ آکر اپنی پلکوں کو آنکھوں پر گرالیا۔ اُن کا دماغ رفتہ رفتہ اندھیروں میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ باہر برآمدے میں تینوں بیبیاں مصلیٰ بچھائے سجدہ ریز تھیں، سسکیوں سے بھر پور دُعاؤں کے لفظ تو سمجھ نہیں آرہے تھے، مگر اِس یقین میں کوئی تامّل نہ تھا کہ ہر لفظ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پُرخلوص برآمد ہو رہا تھا۔
خالو جب ہوش میں آئے تو آس پاس کا ماحول پہچاننے میں اُنہیں دِقت ہو رہی تھی۔ چھت پر لگے پنکھے کے ساتھ سر بھی گھومنے لگا تو انہوں نے آنکھیں موندلیں۔ آج جو کچھ بھی ہوا وہ شعور اور فہم سے بھی ماورا تھا۔ خالو نے اندرونِ صوبہ واقع بڑی حویلی میں اکثر والد صاحب سے تقسیم کے واقعات سنے تھے ، آج ایسا لگا، جیسے کسی بہادر نے اُنہیں بھی چیرا لگا دیا ہو۔ شاید اَب کبھی کلف لگے سفید کپڑے پہننے کا من نہ کرے۔ اُف! اتنی بے عزتی ، رُسوائی، ہائے ہائے۔ ان کی آنکھوں پر پہلے نمی اتری اور پھر جھڑی بن کر ٹپکنے لگی ۔ ان کے ذہن نے پھر ایک یاد کو دہرایا، کاش !اے کاش اپنا بھی کوئی جوان کندھا ہوتا توسہارا بنتا۔اچانک ایک خیال نے چونکا دیا کہ وہ ’خبردار‘ کی جانی پہچانی آواز کس کی تھی ؟ ذہن پر تھوڑا سا زور دے کر پھر اتنا تو یاد آہی گیا کہ کوئی اپنا ہی تھا ، مگر کون؟ ، یادوں کی کھڑکی ابھی پوری طرح نہ کھل پائی تھی ۔ اُن کی توجہ ابھی تک اپنے ارد گرد کے ماحول پر نہ گئی تھی۔اب گردن جو گھما ئی تو کرسی پر ڈھے ہوئے وجود پر نظر پڑی تو یاد آگیا کہ وہ جانی سی آواز کس اپنے کی تھی اور وہ کون تھا جسے خود ہی پرایا کردیا۔ احساسِ زیاں احساسِ ندامت میں بدل گیا، گویا کہ زیاں بر زیاں۔ آنسوؤں کی جھڑی جو شروع ہوئی تو دل پہ جمی لاپروائی اور بیزاری کی کالک چھٹنے لگی۔ کیا کچھ تھا جو یاد نہ آنے لگا تھا۔
ایک ایک زیادتی اور بے اعتنائی کے ساتھ ساتھ مردانہ فرعونیت کے بل پر چاہ سے بیاہی، چہیتی بیوی کا دل توڑنا بھی یاد آیا۔ وہی دل، جسے جیتنے کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے تھے۔ مہینوں خالہ کے گھر کے راستے پر پہرہ داری کی کہ کوئی نظر بھی اُنہیں میلا نہ کرسکے۔ عقیدہ نہ ہونے کے باوجود مزاروں پرحاضری دی اور باقاعدگی سے تعویذ لیے اور چِلّے کاٹے۔ ایک رات کسی ٹوٹی قبر میں تعویذ گاڑ رہے تھے تو ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ،لمبا سا جبّہ پہنے گورکن آگیا، جس کی ہانک سن کر اُسے بھوت سمجھتے سرپر پیر رکھ کر ایسے سرپٹ بھاگے کہ گھر آکر ہی دَم لیا۔ ڈر کے مارے کئی دن بخار میں مبتلا رہے، جو گاہے گاہے اُتر تو گیا، مگر عشق کا بخار جس بُری طرح سوار تھا، اُس نے نہ اُترنا تھا، نہ ہی اُترا۔ اُنہوں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ جس کو زندگی سے نکال باہر کریں گے، وہی اُن کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا دے گی۔ ہائے ہائے! یہ میں نے کیا کیا۔ دل پر ندامت کا بوجھ بڑھتا ہی جا رہا تھا کہ اُن کے ستم اور کٹھور پن سے متاثر صرف سامنے موجود عورت ہی نہیں، بلکہ تین اور جیتے جاگتے انسان بھی تھے، جو اپنے بھی تھے اور پیارے بھی۔ اُن کی ہمت تو پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی اور غرور اِن نازک عورتوں نے پاش پاش کردیا تھا۔ دل کا بوجھ اَب سوا ہوچلا تھا، ندامت کے ناوَک کچوکے لگا لگا کر دل و جان کو لہولہان کیے دے رہے تھے۔ وہ اپنی بچی کچھی ہمت مجتمع کرکے سَرک کر پلنگ کی پائنتی کی جانب آئے اور پاؤں فرش پر ٹکا کر ہتھیلیوں سے پوری قوّت لگا کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اُنہیں اپنے بہتے آنسوؤں کے جھرنے کے پیچھے سے سامنے بیٹھی خالہ بہت دھندلی نظر آرہی تھیں۔ وہ شکستہ قدموں سے آگے بڑھے اور کرسی کے نزدیک پہنچ کر تو یوں لگا، جیسے پیروں سے جان نکل گئی ہو۔ وہ اس سے پہلے کہ لڑکھڑا کر گرپڑتے، فوراً گھٹنوں کے بَل بیٹھ گئے اور سر جھکا کر دونوں ہاتھ اُن کے پیروں پہ رکھ دیے۔ ان کے کپکپاتے ہونٹوں کا ’مجھے اپنا دل دُکھانے پر معاف کردو‘ کہنے کی دیر تھی کہ اُ سی وقت اُن کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو خالہ کے پیروں پر گرے ۔ نیم خوا بیدہ خالہ کو ایسا لگا کہ جیسے کہیں کوئی زور دار دھماکہ ہواہو۔ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھیں ، شاید کوئی عمارت گری ہے۔ خالو کو اپنے قدموں پر جھکے دیکھ کر سٹپٹائی خالہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اُنہیں اُٹھانے کی کوشش کرنے لگیں، مگرہچکیاں بھرتے زارو قطارروتے خالو ہلنے سے بھی انکاری تھے۔ آج خالو کی مردانہ تکبّر اور نرینہ نخوت کے ٹوئن ٹاورز اِن نازک بیبیوں کے حسنِ سلوک سے ڈھے کر زمیں بوس ہو گئے تھے۔ کمرے سے اُبھرتا شور سُن کر باہر ذکر ومناجات میں مصروف تینوں بیبیاں بھی کمرے میں داخل ہو گئیں۔ خالہ کی آنکھوں میں قید برسوں کے ساون بھادوں سے بھرا بند ٹوٹ گیا ۔ پیاروں کو روتا دیکھ کر بھلا کون اپنے آنسو تھام سکتا تھا، چنانچہ کمرہ رونے کی آوازوں سے بھرنے لگا۔ خالو کی توبس ایک ہی رَٹ تھی، ’مجھے معاف کردو، مجھے معاف کردو، تم سب مجھے معاف کردو‘۔ کوئی سمجھ نہ پارہا تھاکہ اِس بلکتے، سسکتے بالغ بچے کو کیسے سنبھالیں، جس کی حالت اب غیر ہونے لگی تھی اور الفاظ بھی ہچکیوں میں بدلنے لگے تھے ۔ چھوٹی خالہ قریب تھا کہ غش کھاکر گر جاتیں کہ خالہ اوّل کے کانپتے ہوئے لبوں سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلے، ’میں نے معاف کیا، ہاں میں نے معاف کیا، معاف کیا‘ اور پھر تینوں نے یہ دُہرانے میں پَل بھر کی بھی تاخیر نہ کی۔ خالو کا وجود تھر تھرا رہا تھا، جیسے کہ رعشہ کا شکار ہو ، اُن کے آنسوؤں نے خالہ کے پیر تر کر دیے تھے۔ بالآخر خالہ نے بہت احترام اور چاؤ سے اپنے پیروں پہ پڑا اُن کا سر، اپنے ہاتھوں کا پیالہ بنا کر ٹھوڑی سے اُٹھا کر اپنے زانو پر رکھا، پھر پلّو سے اُن کے چہرے پر گرے اپنے اور ان کے آنسو خشک کرنے لگیں۔ تینوں بیبیاں کانپتے بدن لیے ،ہتھیلیوں سے اپنے آنسو پونچھتیں اُن کے گرد گھیرا ڈالے کھڑی تھیں۔
چہار درویشنوں کی طویل شامِ غریباں کے تعزیے آج ٹھنڈے ہو گئے تھے،اُن کے صبر کی تپسّیا نے بازی مار لی تھی۔ پِیا کے پیار کو ترسی بیاہی ابھاگنیں ایک بار پھر سہاگنیں ہو گئیں تھیں۔ صبح کا بُھولادیر رات گئے گھر لوٹ آیا تھا۔ قریبی مسجد سے فجر کی اذان بلند ہونا شروع ہوئی تو درویشنوں کے ہاتھ دوپٹوں پر چلے گئے۔ برسوں سے تنا ہوا ہجر کے حالات کا مکڑی جالا آج ٹوٹ چکا تھا ۔

کہانی ابھی باقی ہے دوستو ! اگلی قسط داستان ’ چہار دریشنیں ‘ کی آخری قسط ہوگی مگر ہوگا کیا، سوتنوں کا جنگجو اتحاد اپنی منطقی انجام پر پہنچتا ہےیا دشمن کوئی نئی چال چلتا ہے ، آخر جوگنوں کی چوکڑی کس چکر میں ہے ، یہ سب جاننے کے لیے پڑھیے اگلی قسط ’ غضب پریم کی امر کہانی ‘ جو کہ آخری بھی ہے اور دلچسپ بھی ۔

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *