تبصرہ کتاب: فیصل عظیم ۔۔۔Echoes from the Mountains (By: Ghani Khan)۔۔۔۔پشتو سے ترجمہ(خالدہ نسیم)

ترجمے سے ہمیں کم سے کم چار باتوں کا پتہ چلتا ہے۔ ایک یہ کہ جس زبان سے ترجمہ ہوا ہے اس میں کس طرح کا کام ہو رہا ہے، دوسرے، جس کی تحریر کا ترجمہ کیا گیا ہے، اس کے کام کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ تیسرے مترجم کی تخلیقی صلاحیتوں کا معلوم ہوتا ہے اور چوتھے مترجم کے ذوق کا پتہ چلتا ہے اس انتخاب سے جو اس نے ترجمے کے لیے کیا۔ میں خالدہ نسیم صاحبہ کی تخلیقی صلاحیتوں اور ذوق کا قائل تو پہلے بھی تھا مگر اس کتاب کو پڑھ کر اور ہوگیا ہوں۔ ان کا شکریہ کہ ان کے توسط سے اتنی اچھی کتاب پڑھنے اور اس پر اظہارِ خیال کا موقع ملا۔

julia rana solicitors london

اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ اس مجموعے کو پڑھتے ہوئے یہ احساس نہیں ہوا کہ میں ترجمہ پڑھ رہا ہوں۔ مجھے خود کو بار بار یاد دلانا پڑا کہ میرے سامنے پشتو کلام کا انگریزی ترجمہ ہے۔ خالدہ نسیم صاحبہ خود بھی نظمیں لکھتی ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ شاید باقاعدگی سے نہیں لکھتیں لیکن اس ترجمے کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے شاعری کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے، بحیثیت قاری ہی نہیں بلکہ بحیثیت شاعر بھی اور یہ ترجمہ ان کی ریاضت کا ثبوت ہے۔ انھوں نے جس عمدگی سے غنی خان کو ہم سے متعارف کرایا وہ قابلِ ستائش ہے۔ اس کام کے لیے انگریزی کا واسطہ ایک الگ موضوع ہے جس کا تعلّق مابعد نوآبادیات سے بھی ہے اور اس پہ اعجاز احمد صاحب کی کتاب “V In Theory” پڑھنے سے تعلّق رکھتی ہے۔
اب آئیے اس کلام کی طرف۔ بات یہ ہے کہ رومانی ادب اور ترقی پسند ادب ایک ہی سکے کے دو رخ اور ایک ہی ارتقاء کے مراحل ہیں۔ ان دو منزلوں کے بیچ جو ایک پل ہے، غنی خان آپ کو ایک وقت میں اس پل کے رومانی کنارے کے زیادہ قریب ملیں گے۔ وہ اِس فکری جہت کے علمبردار اُس وقت نظر آتے ہیں جب دوسرے کئی شاعر اپنا اسلوب مزاحمت کی طرف لے جارہے ہیں اور رومانی طرز اظہار کو کھردرے لفظوں سے بدل رہے ہیں۔ مگر جب امریکہ کے گھوڑے پہ افغان جہاد کی زین کسے جانے کا دور آیا تو وہ پل کے دوسری طرف نظر آئے۔
اگر میں نے ترجمے سے ان کے لہجے کے بارے میں صحیح نتیجہ اخذ کیا ہے تو ان کی شاعری دھیمے لہجے کی ہے جو رومانی شاعری کی فضا کو بھرپور کرتی ہے۔ البتہ نظم “Lament” اور اس جیسی دیگر نظموں میں یہ فضا یکسر بدل جاتی ہے۔ ملّا اور مذہبی ٹھیکیداری کی علامات انھیں صوفیانہ اسلوب سے قریب کرتی ہیں جب کہ منصور، بہلول، ایاز اور یزید کے حوالوں سے ان کی ترقی پسندی کے رنگ جھلکتے ہیں مگر اس کا اصل پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ مغربی مفاد کے لیے لڑی جانے والی جنگ میں اپنے لوگوں کو جھونکتا دیکھتے ہیں۔ “Islam: O political Momin” ان نظموں میں سے ہے جن میں وہ پشتونوں کو جنگ میں جھونکنے کے لیے اسلام کا نام استعمال کرنے والوں کو سیاسی مومن کہہ کر مطعون کرتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی مومن کیا ہوتا ہے۔
غنی خان کے نزدیک خیر اور شر کا منبع ایک ہی ہے، بس کردار اسے بدل دیتا ہے مثلا دیکھیے نظم “Humility”۔ ان کی شاعری میں انالحق کی کیفیت ہے۔ وہ بار بار خود کو دیوانہ کہتے ہیں۔ قطرے میں دریا دیکھنے کا اور وحدت الوجود کا فلسفہ ان کے ہاں جابجا ملے گا۔ قطرے سے دریا، اس سے آواز، رباب، نغمہ اور روشنی تک ایک تسلسل نظر آئے گا۔ ان کے ہاں زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور محبت زندگی ہے۔ محبت کے لیے شبنم کے قطرے میں قلزم کا استعارہ، ان کی رومانی فطرت اور محبت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دراصل فطرت کی رگوں کے سیاح ہیں۔
غنی خان محبوب صرف اپنی محبوبہ کو نہیں بلکہ خدا کو بھی کہتے ہیں، اس سے بار بار ہمکلام ہوتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں تو بھی اپنائیت اور محبت کے ساتھ، اس کی بڑائی کے اعتراف کے ساتھ۔ اس چلن سے نہیں جس میں خدا کو برا بھلا کہنا دانشوری کا ایک سستا سا نسخہ بن چکا ہے۔ یہ نازک سا فرق ان کے خدا سے کلام کو ترقی پسندی کے فیشن سے دور کرکے صوفیانہ شاعری کے قریب کردیتا ہے۔
ان کے ہاں ساقی، مے خانہ، جام، شراب، وقت، راستہ اور کارواں صوفی طرز فکر کا پتہ دیتے ہیں مثلاً ان کی نظم “You and Me” دیکھیے۔ ان کے ہاں فطرت، نغمہ، رباب، ستار، خوشبو، پھول، موسم، خیام، سرور، انبساط، محبوب اور اس کے لب و عارض جیسے استعاروں کے علاوہ جو کچھ ان کے خیالات کا مرکز ہے، ان سب سے ان کا رومانی طرز احساس کھلتا ہے۔ اس کی ایک مثال، ان کی نظم “Moon, O Mad Saqi” بھی ہے۔ ان کے ہاں کیا اور کیوں کی بازگشت ہے۔ پس منظر اور اس کے پیچھے دیکھنے کی جستجو ہے۔ وہ سب کچھ اپنے اندر ڈھونڈتے ہیں اور ضدوں سے مطلب نکالتے ہیں۔
مجھے ان کی کئی نظمیں بہت پسند آئیں، ان میں سے دو کا خصوصی حوالہ دوں گا اور وہ ہیں “Man, Like a Sitar”  اور “Truth”۔ آخری بات اور سن لیجیے کہ یہ کتاب پڑھ کر مجھے باچا خان کے علاوہ مولانا آزاد اور چودھری رحمت علی بھی یاد آگئے۔ اب آپ سوچیں گے کہ ’’۔۔۔۔۔ لیکن چودھری رحمت علی کیوں‘‘۔ اچھی بات ہے، ضرور سوچئے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply