یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے شیر کے خلاف کلیلہ کی کھلی بغاوت (6)- محمد ہاشم خان

دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
بوڑھا شیر نرغے میں، ابن البار کی آمد سے فوجیوں کی ہمت بلند
بادشاہ اپنی تقریر مکمل کرنے کے بعد آگے کے دونوں آہنی پنجے زمین میں گاڑ کر اسی جگہ چوتڑ کے بل بیٹھ گیا اور سستانے لگا، وہ اب باغی جانوروں کا رد عمل جاننا چاہتا تھا۔ شیرنی بھی جو بادشاہ کے پیچھے پچھاڑ مار رہی تھی آکر بیٹھ گئی۔ اس نے آنکھوں آنکھوں ملکہ أحراش سے اپنی ولولہ انگیز تقریر کی داد طلب کی اور کہا کہ فی الحال تو میں نے باغی گروہ کو تذبذب میں ڈال دیا ہے، ان کے نظام اعتقاد کو چیلنج کیا ہے، ان کے ایقان کی بنیاد کو لرزہ بر اندام کر دیا ہے لیکن اگر معاملہ افہام و تفہیم کے ذریعے حل نہ ہوا تو مجھے کوئی متبادل اختیار نظر نہیں آ رہا ہے۔ ملکہ أحراش نے بادشاہ سلامت کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے تمام ممکنات و خدشات پر غور کر لیا ہے اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے کہ اپنے ناراض قبیلے سے مدد طلب کریں۔ بوڑھے شیر نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارا قبیلہ ہمارا ساتھ دے گا، تم دیکھ نہیں رہی ہو کہ تمہارا بھائی اسدالغابۃ بھی باغیوں کے ساتھ ہے، اس کا خیال ہے کہ میں غاصب و خائن ہوں اور زبردستی اس تخت پر قابض ہوں، دوسری تشویش انگیز بات یہ ہے کہ ہم چاروں طرف سے باغیوں سے گھرے ہیں، ان کے پاس ہمارا پیغام لے کر کون جائے گا۔ ملکہ أحراش نے کہا کہ تم ادھر باغیوں کو سنبھالو باقی کام مجھ پر چھوڑ دو۔ شیرنی واپس اپنے کچھار میں چلی گئی۔ بادشاہ نے ایک معقول وقفے تک باغیوں کے رد عمل کا انتظار کیا لیکن جب اس نے دیکھا کہ کلیلہ نہ تو اس کی پیشکش کا کوئی جواب دے رہا ہے اور نہ ہی وہ اپنے مشیروں اور فوج کے اعلیٰ عہدیداروں سے کوئی رائے مشورہ کر رہا ہے تو وہ سمجھ گیا کہ اس کے اعلان عفو عام کو اس کی بزدلی سمجھا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے خامشی کا دورانیہ بڑھتا جا رہا تھا اس کے اہنکار کی آگ اور اس کے غرور و پندار کی آنچ تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی شریانوں میں وحشت کی وہی لہر دوڑنے لگی تھی جو اس نے اپنے بوڑھے باپ کو قتل کرنے اور سلطنت حاصل کرنے کے بعد اپنی رگ و پے میں دوڑتی ہوئی محسوس کی تھی، لیکن اس وقت معاملہ جوش و جذبات کا نہیں جنگلی فراست کے اظہار کا تھا سو بادشاہ واپس کھڑا ہوا اور اپنی گرجدار آواز میں کہا:
اے میری عظیم مملکت کے احسان فراموش منافقو! کیا تم بھول گئے ہو کہ میں تمہارا بادشاہ ہوں؟یہ جنگل میری طاقت سے قائم ہے، جب میں دہاڑتا ہوں تو سرکش و جبار سجدہ ریز ہو جاتے ہیں، یہ بلند قامت اشجار، یہ خس و خاشاک، یہ کوہسار و سبزہ زار یہ سب میری مدح و ثنا بیان کرنے لگتے ہیں، تم محفوظ ہو کیوں کہ میں موجود ہوں، میری موجودگی تمہارے تحفظ کی ضمانت ہے۔آج تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ میں نے ان ۲۵ برسوں میں کیا کیا۔ کاش اللہ نے تمہارے خمیر میں دو چار مٹیاں شکرانے کے بھی ڈال دیتا تو تم عالم خواب و خیال میں بھی یہ پوچھنے کی گستاخی نہ کرتے۔ ہمارے اجداد کہتے تھے کہ کمزوروں میں تشکر کا جذبہ نہیں ہوتا، دیوثوں میں غیرت نہیں ہوتی، مسکینوں میں سخاوت، بزدلوں میں شجاعت اور منافقوں میں مروت نہیں ہوتی اور وہ میں تمہارے اندر بھی دیکھ رہا ہوں۔ تم جاننا چاہتے ہو کہ میں نے ان پچیس برسوں میں تمہارے لیے کیا کیا تو سنو۔ میں نے تمہارے جان و مال کی حفاظت کی ہے، یہی میرا بنیادی عقیدہ تھا اور قسم واللہ جو میں اپنے اس عقیدے سے انچ بھر پیچھے ہٹا ہوں، میں اپنے اس عقیدے پر قائم تھا، قائم ہوں اور قائم رہوں گا۔میں نے تمہیں تحفظ فراہم کیا ہے، تمہیں رہنے کے لیے زمین دی، ندیوں کا پانی دیا، شکار کے اصول مقرر کیے، باغبانی، زراعت اور تجارت کے قوانین وضع کیے۔ تمہاری بقا اور ترویج و ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا، قصہ مختصر یہ کہ میں نے تمہیں زندگی دی ہے، زندگی گزارنے کا سلیقہ بخشا ہے، یہ جو تم سانس لے رہے ہو یہ میری عطا کردہ ہے۔ مگر تم ناشکرے کے ناشکرے ہی رہے۔ سچ کہا ہے اسداللہ نے ’دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر‘۔ اب یہ موت پوچھنا کہ یہ اسداللہ کون تھا۔ ہمارے فضلا کہتے ہیں وہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر تھا۔ شیر کی خون آشام آنکھوں میں آتش غیض و غضب دہک رہی تھی۔اس نے دیکھا کہ باغی عسکری اس کی تقریر کے سحر میں کھو گئے ہیں، چھوٹے جانور مبہوت اور بڑے مسحور شدہ کھڑے ہیں۔ مجمعے میں ہر سو سکوت چھایا ہوا ہے، جو جہاں ہے وہیں دم بخود ہے، پورا ماحول اسے کابوسی کیفیت میں غرق نظر آیا۔ اس نے سوچا کہ اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کا یہ بہترین موقعہ ہے، دوسرے الفاظ میں کہیں تو یہ کٹ مارنے کا اچھا موقعہ ہے۔ اس نے اپنے ۲۵ سالہ اقتدار کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو کہ میں نے تمہارے لیے کوئی تعمیری کام نہیں کیا لیکن کیا تم زندہ نہیں ہو؟ تم ٹھیک کہتے ہو کہ میں نے تمہارے بچوں کے مستقبل کے لیے کوئی تربیت گاہ قائم نہیں کی، کوئی شکار گاہ نہیں بنوایا، ان کے علاج و معالجے کے لیے شفاخانے نہیں تعمیر کروائے اور اب بھی ان کے لئے میرے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن کیا تم اور تمہارے بچے زندہ نہیں ہیں؟ تم کہتے ہو کہ میں نے ندیوں کی، تالابوں کی، پھل دار اشجار اور خود رو گھاس پھوس کی حفاظت نہیں کی، ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات نہیں کیے، مزید تالاب نہیں کھدوائے، چراگاہ نہیں بنوائے۔ تم ٹھیک کہتے ہو میں نے کچھ نہیں کیا لیکن جو موجود تھے میں نے ان کو بیچا بھی نہیں ہے، ندی، تالاب، سبزہ زار اور کوہ سار یہ پہلے سے موجود تھے اور تمہاری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کافی تھے۔ اب اگر تمہاری ضرورتیں پوری نہیں ہو رہی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وسائل کم ہو گئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری ضرورتیں بڑھ گئی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری آبادی بڑھ گئی ہے، دوسرے لفظوں میں کہوں تو غربت نہیں بڑھی ہے غریبوں کی تعداد بڑھی ہے اور ستم مستزاد یہ کہ قحط سالی آگئی، یہ قحط سالی نہیں تمہاری نافرمانی کا کفارہ ہے، یہ تمہارے ناکردہ گناہوں کی سزا ہے، یہ تمہاری مکافات عمل ہے اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے اب تصور کرو کہ ان گناہوں کا کفارہ کیا ہوگا جو تم نے میری شان میں کئے ہیں پس میرا محاسبہ نہیں بلکہ خدا کا شکر ادا کرو کہ تم زندہ ہو اور بے شرموں کی طرح میرے سامنے کھڑے ہو۔
میرے جنگل کے مسکین جاہلو! پس میرے خلاف تمہاری یہ بغاوت بغاوت نہیں ایک ناقابل معافی حماقت ہے۔ کیا تم کو نہیں معلوم کہ کل جب دشمن اس جنگل پر حملہ کرے گا تو کون تمہاری حفاظت کرے گا؟ یہ گیدڑ؟ بادشاہ نے کلیلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہاڑ پر اپنی پتلون گیلی کرنے والا یہ فلسفی تمہاری حفاظت کرے گا؟ پچیس سال تک میرے ٹکڑوں پر پلنے والا یہ طفیلیہ جب میرا خیر خواہ نہیں ہوا تو تمہارا کیا ہوگا خاک۔ اس گیدڑ کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے؟ یہ ڈرپوک تھا سو میں نے کہا کہ تو حکیم اور فلسفی بن جا۔ یہ ہے اس کی کل اصلیت۔ مجھے حیرت ہے کہ اس مرگی زدہ کو کس نے بھیڑیوں اور کتوں جیسے بہادر اور وفادار خاندان میں ڈال دیا۔کم از کم تم لوگ اپنا قائد تو قاعدے کا چن لیتے، اگر تمہارا قائد بہادر،ایمان دار اور ولی صفت ہوتا تو قسم ہے رب کعبہ و اسماعیل کی میں خوشی خوشی سلطنت سے دستبردار ہو جاتا۔ تمہارے اندر قائد منتخب کرنے کا شعور نہیں ہے اور مجھے چیلنج کرنے آئے ہو۔ اس نے اپنے لہجے کا آہنگ بلند کرتے ہوئے سید الکرکدنیات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
تم لوگوں کو اس موٹی کھال والے گریز پا، شکم پرست، بد ہیئت كَرْكَدَّن پر بہت ناز ہے، ایک ایسے خود نگر و خود مست گینڈے پر جس نے گھاس پھوس کھا کھا کر اپنا جسم تویلے جیسا کر لیا ہے، باہر سے دیکھنے میں سخت اور اندر سے پلپلا، جو چار قدم چلتے اور دس فرلانگ دوڑتے ہوئے ہانپنے لگتا ہے۔ نسوانی نرگسیت میں گرست یہ بھسیلا اگر اتنا ہی بہادر ہے تو اب تک کہاں روپوش تھا۔اے اپنے جسم کے اندر بھاری بھسیلا لے کر چلنے والا گینڈوں کا سردار! ذرا سامنے آ اور میں بھی دیکھوں کہ تیرے پٹھوں میں کتنا دم ہے۔ ایک ہی جست میں اگر میں نے تمہاری گردن پھاڑ کر تمہاری سینگ پر نہیں لٹکا دیا تو لعنت ہے میرے شیر ہونے پر،اور لعنت ہے میرے بادشاہ ہونے پر۔
بوڑھے شیر نے کہا:
میں تمہارے سارے الزامات کو درست مانتا ہوں لیکن یہ کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتا کہ میں نے تمہارے جان و مال کی حفاظت نہیں کی ہے۔ میں نے تمہارے جان و مال کی ایسے ہی حفاظت کی ہے جیسے کہ ایک بادشاہ کرتا ہے۔ لیکن کیا تم نے مجھے اپنا بادشاہ سمجھا؟ نہیں بالکل نہیں۔ کیا تم نے مجھے اپنا امیر مانا؟ نہیں بالکل نہیں۔ قسم واللہ تم لوگوں نے اگر تہہ دل سے مجھے اپنا امیر مانا ہوتا تو آج تم سے زیادہ ترقی یافتہ کوئی اور قوم نہیں ہوتی۔
بادشاہ نے سیدالقرود مسمی الفرطوت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے لال چوتڑوں والے بندروں کے سردار، کیا میری یہ بات سچ نہیں کہ تم سب کے سب ابن الوقت ہو۔ تیری نظر انسان سے تین گنا زیادہ تیز ہوتی ہے اسی لیے میں نے تجھے اپنے محکمہ سراغ رسانی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ لیکن تونے کیا کیا؟ تو جاکر میرے دشمنوں سے مل گیا۔ بادشاہ نے سید الفیول خرطومہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمہارے سر میں عقل کی جگہ کوئلہ نہ بھرا ہوتا تو تم اپنی طاقت، جسامت، سونڈ اور دانت کا یقیناً مفید استعمال کرتے مگر افسوس کہ آج تمہارے بچے ییتم ہو جائیں گے۔
بادشاہ نے اپنی تقریر مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ناشکروں سے بات کرنے کے لیے میرے پاس اس سے زیادہ وقت اور توانائی نہیں ہے۔ تم لوگ جلد فیصلہ کر کے بتاؤ کہ تم لوگ صلح کرنا چاہتے ہو یا جنگ۔ اگر تم لوگوں نے کلیلہ پر بھروسہ کرکے میرے خلاف خروج کیا ہے تو اتنا یاد رکھنا کہ تاریخ حیوانی میں اتنی بڑی غلطی پہلے کبھی کسی سے سرزد نہیں ہوئی ہے۔وما نرید الاالاصلاح، وما توفیقی الا باللہ۔ ابھی بادشاہ نے اپنا جملہ مکمل بھی نہیں کیا تھا کہ بھیڑیوں کا سردار سید الذئاب ابن البار کلیلہ کے بغل میں آکر کھڑا ہو گیا۔

Facebook Comments

محمد ہاشم خان
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں (مصنف افسانہ نگار و ناقد کے علاوہ روزنامہ ’ہم آپ‘ ممبئی کی ادارتی ٹیم کا سربراہ ہے) http://www.humaapdaily.com/

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply