وہ گھوڑا جس نے خیالستان کو الٹا کر دیا/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

وہ گھوڑا جس نے خیالستان کو الٹا کر دیا
(از: ایک راہگیر جو راستہ بھول چکا ہے)

قلعہ مبارک پور: زمانہ قدیم میں ایک عجیب و غریب ریاست تھی جس کا نام تھا “سلطنتِ خیالستان”۔ اس ریاست کے حکمران کو لوگ “شہزادہ ٹھنڈا خان” کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ شہزادہ اپنی غیر معمولی بردباری اور بے پناہ حکمت کے لیے مشہور تھا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ چاہے آسمان سر پر گر پڑے، شہزادہ صاحب کا چہرہ ہمیشہ بے حس و حرکت رہتا۔ “صبر کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا” اس کا پسندیدہ مقولہ تھا۔

ایک روز شہزادہ ٹھنڈا خان نے ایک نئے گھوڑے کی خریداری کا اعلان کیا۔ اس گھوڑے کا نام تھا “عجوبہ”۔ یہ کوئی عام گھوڑا نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں چمکدار تھیں، اس کے پیروں میں چاندی کی ٹاپیاں تھیں، اور اس کی دم پر سونے کے گھنٹے بندھے تھے۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ یہ گھوڑا الٹی سمت میں چلتا تھا۔

جب عجوبہ کو پہلی بار ریاست میں لایا گیا، تو لوگ حیران رہ گئے۔ ایک بوڑھے کسان نے شہزادہ سے پوچھا:
“حضور! یہ گھوڑا تو پیچھے کی طرف چل رہا ہے!”
شہزادہ نے اپنی ٹھنڈی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
“تمہاری عقل محدود ہے۔ یہ گھوڑا دراصل مستقبل کی طرف جا رہا ہے۔”

لوگ خاموش ہو گئے، کیونکہ شہزادہ کی بات کو “حتمی سچ” سمجھا جاتا تھا۔

عجوبہ گھوڑے کی کچھ عادتیں تھیں جو عام گھوڑوں سے بالکل مختلف تھیں

1.    یہ صرف خزانے کی گھاس کھاتا تھا۔

2.    جب بھی یہ دوڑتا، راستے میں جو کچھ آتا، اسے روندتا چلا جاتا۔

3.    اگر کوئی اس کے راستے میں آ جاتا، تو یہ اس پر “وطن دشمن” کا لیبل لگا دیتا۔

کچھ ہی عرصے میں عجوبہ گھوڑے نے ریاست کے تمام کھیت تباہ کر دیے۔ کسانوں نے فریاد کی:
“حضور! ہم بھوکے مر رہے ہیں!”
شہزادہ نے اپنی ٹھنڈی آواز میں جواب دیا:
“یہ قربانیاں ہیں جو ترقی کے لیے دینی پڑتی ہیں۔”

جب لوگوں نے مزید احتجاج کیا، تو شہزادہ نے ایک “خصوصی کمیٹی” بنا دی جس کا کام یہ تھا کہ وہ عجوبہ گھوڑے کی تعریف میں قصیدے لکھے۔ کمیٹی کے اراکین نے اعلان کیا:
“جو کوئی عجوبہ کے خلاف بولے گا، وہ سلطنت کا دشمن ہے!”

چنانچہ کچھ “محبِ وطن” کتے (جو عجوبہ کے ساتھ کھیلتے تھے) نے ان لوگوں کو بھونکنا شروع کر دیا جو گھوڑے کے خلاف بولتے تھے۔ کچھ لوگوں کو “خیالستان کی سلامتی” کے نام پر غائب کر دیا گیا۔ باقیوں نے خاموشی اختیار کر لی۔

شہزادہ ٹھنڈا خان نے ہر سال ایک تقریب منعقد کی جس میں عجوبہ گھوڑے کی “عظیم کامیابیوں” کا جشن منایا جاتا۔ اس تقریب میں یہ اعلان کیا گیا:

·         عجوبہ گھوڑا “دنیا کا تیز ترین گھوڑا” ہے (چاہے وہ الٹا ہی کیوں نہ دوڑتا ہو)۔

·         عجوبہ نے “خودکفالت” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ریاست کے تمام وسائل اپنے لیے مختص کر لیے ہیں۔

·         جو لوگ عجوبہ کی تعریف نہیں کرتے، وہ “دشمن ایجنٹ” ہیں۔

سالوں گزر گئے۔ عجوبہ گھوڑا موٹا ہو گیا، ریاست کا خزانہ خالی ہو گیا، اور عوام کی حالت ابتر ہو گئی۔ مگر شہزادہ ٹھنڈا خان اب بھی اپنی جگہ پر ٹھنڈا کھڑا تھا۔ جب لوگوں نے آخری بار فریاد کی:
“حضور! ہم مر رہے ہیں!”
تو شہزادہ نے اپنی روایت کے مطابق جواب دیا:
“صبر کرو، کل ضرور کوئی نئی منصوبہ بندی ہو گی۔”

julia rana solicitors

لیکن “کل” کبھی نہیں آیا۔ اور عجوبہ گھوڑا آج بھی الٹا دوڑ رہا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply