آزاد منڈی کی صحافت اور آزادی اظہار کا ڈھول ۔۔ شاداب مرتضی

 

لڑکپن میں کرکٹ کھیلنے صبح گراؤنڈ جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ راستے میں اخبار فروش دو صفحے کا ایک رنگین اخبار بیچتا نظر آیا۔ اخبار کا نام “رونق میلہ” تھا اور اس میں انڈین فلمی اداکاراؤں کی بڑے  سائز کی ہیجان انگیز تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ اخبار جنگل میں آگ کی طرح شہر کے لڑکے بالوں اور نوجوانوں میں مقبول ہوگیا اور دھڑادھڑ بکنے لگا اور پھر کچھ عرصہ بعد مارکیٹ سے ایسے غائب ہوا کہ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اخبار کی اشاعت کا مقصد اور اس کا اچانک مارکیٹ سے غائب ہونا دونوں ہی باتیں سمجھنا دشوار نہیں۔ اخبار کا مقصد ہیجان انگیز تصویروں کے  ذریعے لڑکوں کے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرنا اور پھر اخبار کو جنسی تسکین پہنچانے والی شے کی حیثیت سے لڑکوں کو فروخت کر کے “صحافت” کے “مقدس” ذریعے سے جلد از جلذ پیسہ کمانا تھا۔

جب صحافت کے شعبے میں قدم رکھا تو یہ جاننے کی بھی کوشش کی کہ “رونق میلہ” نامی یہ اخبار کون سی جلیل القدر صحافی ہستی نوجوانوں کی شخصیت سازی کے لیے شائع کرتی تھی۔ اتفاق سے تحقیق کے کھرے جس شخص کی جانب لے گئے وہ بدقسمتی سے ہمارے ہی “صحافتی استاد” نکلے۔ استاد کے پیشہ ورانہ اور شخصی احترام کو دھچکہ پہنچا لیکن ایک امید باقی تھی کہ مبادا تحقیق میں کوئی کمی یا خامی رہ گئی ہو۔ تاہم، یہ غلط فہمی بھی تین ایسے واقعات نے دور کر دی جنہوں نے تقریباً  ہر حوالے سے صحافتی استاد کے پیشہ ورانہ احترام کی فضول خرچی کے سارے جواز ختم کر دیے۔ ان تین میں سے دو واقعات تو یہاں لاتعلق ہیں۔ تیسرا واقعہ صحافت کیا ہوتی ہے اس بارے میں استاد کا یہ مقولہ تھا کہ “صحافت تنازع پیدا کرنے کا کام ہے”. اس کی وجہ صاف ظاہر تھی۔ اخبار ایک پروڈکٹ ہے جس کا مقصد اسے فروخت کر کے پیسہ کمانا ہے۔ اخبار جس قدر تنازعات پیدا کرے گا اس کی پہچان، طلب اور فروخت اسی قدر بڑھے گی۔

مشہور شخصیات کے بارے میں گھٹیا تحریروں کو “تحقیق” کر کے ڈھونڈنا اور شائع کرنا بھی تنازعات پیدا کر کے توجہ حاصل کرنے اور مارکیٹ ویلیو قائم رکھنے کی ہی کوشش ہے جس کا تعلق ظاہر ہے معاشی مفاد سے ہے پیشہ ورانہ اخلاقیات یا صحافتی اقدار سے نہیں کہ جن پر علمدرآمد کا ثبوت یقیناً  مشہور خواتین کی “مخصوص” تصویریں شائع کرنے سے نہیں ملتا۔

جہاں تک اظہارِ رائے کی آزادی کو جواز بنا کر پیشہ ورانہ اخلاقیات یا صحافتی اقدار پر عمل پیرا رہنے کے دعوے کے ڈھول پیٹنے کا تعلق ہے تو یقیناً  بعض لوگوں کو اپنی پست و گھٹیا ذہنیت کے اظہار کے لیے بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا حق درکار ہوتا ہے! تاہم، حقوق کے ساتھ فرائض بھی نتھی ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے معیارات بھی ہیں جن سے طے ہوتا ہے کہ کون سا “اظہار” اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کے زمرے میں آتا ہے اور کون سا نہیں۔ یوں تو گالم گلوچ بھی اظہارِ کی ایک صنف ہے تاہم اسے کسی “تہذیبی مکالمے” یا اظہارِ رائے کی آزادی کا جواز بنا کر عوام الناس کی واقفیت کے لیے شائع کرنا صحافت کی پیشہ ورانہ اقدار کے منافی ہے۔

تہذیبی مکالمے کا حق صرف وہی رکھتے ہیں جو تہذیبی مکالمے کے فرائض بھی ادا کرتے ہوں۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور توانائی کو عوام الناس کے مسائل اجاگر کرنے اور عوام الناس کو ان مسائل کے حل کی ترغیب دینے اور راہ دکھانے میں صرف کرنے کے بجائے کسی کی خواب گاہ میں جھانکا تانکی، کسی کے کپڑوں کے اندر گھسنا، کسی کے نجی تعلق کی ٹوہ میں رہنا، کسی کے جنسی رشتے کو چوراہے پر بیان کرنا، کسی پر من گھڑت الزام تراشی کرنا، کسی کی ذات پر کیچڑ اچھالنا، تاکہ اس کی شخصیت کو متنازع بنایا جائے اور ایسے “اظہارِ رائے” کو عوام الناس تک “فرض” سمجھ کر پہنچانا کسی لحاظ سے بھی تہذہبی مکالمے کا معیار نہیں۔

تہذیبی مکالمے کی آڑ میں صحافتی گھٹیا پن اور بازاری پن کو فروغ دینا تو دوہرے اخلاقی اور پیشہ ورانہ جرم کے مترادف ہے۔ لیکن آزاد منڈی کی معیشت کے تہذیبی، پیشہ ورانہ اور اخلاقی “معیارات” یہی ہیں۔ کیونکہ اس میں اخلاقی اصول و ضوابط سے متعلق کوئی بھی “پابندی” قابلِ قبول نہیں۔ کیا کیا جائے؟ بازاری صحافت آزاد منڈی کی معیشت کا منطقی نتیجہ  ہے اور اسی لیے اس کا جزو لاینفک ہے۔

Avatar
شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *