پہلے چھٹی ملی پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہو ا میں تیرتی اُس دل کش و دلربا حسینہ کی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔
یہ ڈاکٹر شائستہ نزہت تھی جو فون پر مجھ سے مخاطب تھی۔
‘‘وزیراعلیٰ پنجاب جنا ب پرویز الہی بھارت کے شہر پٹیالہ میں ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ آپکا نام اُن کے ساتھ جانے والے وفد میں شامل کیا گیا ہے۔ کاغذات فوراً بھجوایئے ’’۔
‘‘نزہت اگر تم سامنے ہوتیں تو میں تمہارا منہ چوم لیتی۔ ہندوستان جانے کی دیر ینہ تمنا بر آنے کا کتنا خوبصورت موقع مل گیا ہے۔ ’’
میری آواز کی پو ر پور میں خوشی کی لہریں رقصاں تھیں۔ کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھا ۔نومبر کا آسمان نکھرا نکھرا ، کِھلا کِھلا ، ہنستا مسکراتا محسوس ہو ا تھا۔
کسی بھی ملک جانے کے لیے اتنی پابندیاں اور سختی نہ تھی جتنی ہمسائیوں نے اپنے گھر آنے کیلئے عائد کر رکھی تھیں ۔اور سچی بات ہے انکے گھر جانے کی بھی بڑی حسرت اور تمنا تھی۔ دونوں گھوانڈیوں میں بہت سے معاشرتی اور تہذیبی ناطوں میں خاصی گوڑی قرابت داری ہونے کے باوجود ایک دوسرے دیکھنے اور جاننے کو دل تھا کہ مچل مچل جاتا تھا۔اِک آہ سی سینے میں اکثر و بیشتر بھانپڑ مچاتی رہتی تھی۔
جالندھر تو یوں بھی جنم بھومی تھی ۔ اپنی جنم بھومی میں تو بندے کی جیسے نال گڑی ہوتی ہے۔
جانے کا نشہ دو آشتہ ہو رہا تھا کہ کم وبیش سب سہیلیاں جارہی تھیں۔ ایک سرکاری وفد اور دوسرا غیر سرکاری ۔ دراصل کچھ ماہ قبل وزیراعلیٰ پرویز الہی کی دعوت پر انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن (ر) امر یندر سنگھ لاہور آئے تو وقت رُخصت انہوں نے اپنے ہم منصب وزیراعلیٰ کو تو سرکاری طور پر مدعو کیا پر اپنے یار دیرینہ فخر زمان کو بھی دعوت دیتے گئے۔
فخر زمان جو ورلڈ پنجابی کا نگریس پاکستانی چیپٹر کے چیئر مین اور روح رواں ہیں۔ پاک بھارت امن دوستی کی کاوشوں کے حوالے سے بھی اُنکا نام بڑا معتبر ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزرا ء سفرا ء سے گہرے تعلقات ہیں۔ ہریانہ کے وزیراعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ بھی اُنکے پگڑی بدل بھائی بنے ہوئے ہیں۔
اوم پرکاش چند ماہ قبل ہی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے لاہور آئے تھے۔سوہدرہ میں بھائی کنیا لال کے کنوئیں سے پانی کی بھری مشک بھی تبرک کے طور پر ہریانہ لے کر گئے تھے۔اور جاتے جاتے فخر زمان کو دعوت بھی دیتے گئے۔
اب اِ ن مشترکہ دعوت ناموں سے لکھاریوں کی تو موجیں ہو گئیں۔ جو سرکاری وفد میں شامل ہونے سے رہ گئے انہیں فخر زمان گروپ نے پذیرائی دی ۔ ہماری گوڑی سہیلی سیما پیروز کے میاں پیروز بخت قاضی اگر سرکاری وفد میں تھے تو سیما فخر زمان گروپ میں۔ نیلم احمد بشیر، پروین عاطف ،بُشرٰی اعجاز ،ثروت محی الدین ، فرخندہ لودھی سب اکٹھی تھیں۔بچوں جیسا اضطراب اور خوشی رگ رگ سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔دن میں کوئی دسیوں بار ایک دوسرے کو فون کیئے جاتے۔کپڑوں پر تبادلۂ خیال ہوتا۔ جوڑے کتنے اور کیسے ہونے چاہییں؟دعائیں مانگتے۔
‘‘ہائے ربّا چلے جائیں۔ بیچ میں کوئی پھڈ ا نہ پڑے ۔اللہ میاں جی گھر اور باہر سب جگہ خیریت رہے۔’’
شہزاد قیصر ہمارے سربراہ تھے۔ وزیراعلیٰ کی آمد دو دن بعد تھی۔
واہگہ بارڈر پر دونوں وفد اکٹھے ہو گئے تھے۔ سہیلیوں نے ایک دوسرے کو جپھیاں ڈالیں۔ منہ ماتھے یوں چومے جیسے زمانوں کی بچھڑی ہوئی ہوں۔بڑا رش تھا۔ڈاکٹر شائستہ نزھت سرپھینک ، کا غذات کی خانہ پُری میں خود بھی جُتی ہوئی تھی۔
چلیئے کاغذات کی خانہ پُری مکمل ہوئی۔ جانے کا اذن ملا۔ اپنے اپنے اٹیچی کیسوں کو دھکیلتے ،باب آزادی کو دیکھتے ،اُسپر لہراتے جھنڈ ے کیلئے دعائیں مانگتے ،قُلیوں کے سروں پر سامان کے ڈھیر اُنکے لاغر سے بدنوں کو گھورتے ،تجسس کی کُھلی آنکھیں چہار سو دوڑاتے ،ہندوستانی علاقے میں داخل ہو گئے ۔اٹاری بارڈر۔قدموں کی چھوٹی سی گنتی نے ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل کر دیا تھا۔ پل جھپکتے میں سارے جذبات بدل گئے۔ ہر شے اجنبی ہوگئی ۔
پہلا موازنہ دونوں ملکوں کی امیگریشن آفس کی عمارات اور طریق کار کا ہوا۔ ہندوستان کو دُکھ کے ساتھ نمبر زیادہ دینے پڑے ۔اپنے حکمرانوں پر لعن طعن اور پھٹکار بھیجی کہ اللّے تللّو ں سے فرصت ملے تو قوم کا سوچیں۔ ماحول اور لوگوں کے رویوّں سے متعلق عناصر کو آنکھوں میں فٹ ترازو میں تولتی امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑی ہوئی تو اُدھیڑ عمر کے سِکھ نے ہنستے ہوئے کہا ۔
‘‘تہا ڈا خط تے بڑا سوہنا اے۔’’(تمہاری لکھائی بڑی خوبصورت ہے)
میں تو اتنے ڈھیرسارے سِکھو ں کو ہی شوق و تجسّس کی بلندیوں سے مسلسل تانک رہی تھی کہ ایسا پیار ا کمپلیمنٹ ملا۔ شکریہ ادا کیا اور محبت سے اُسے دیکھا۔یہ میٹھے بول اور ایک دو تعریفی جُملے بھی کیا چیزہیں کہ دل کی دنیا کو پل میں ہی زیر زبر کر دیتے ہیں۔
کسٹم کے مراحل سے نکلے تو کِسی نے کرنسی کی بابت پوچھا۔مجھے ضرورت نہیں تھی۔ میاں نے ایک دن قبل بندوبست کردیا تھا۔
باہر گاڑیوں کا ایک ہجوم تھا۔ گیندے کے ہار منوں کے حساب سے تھے۔ڈھول تھے۔اور رنگا رنگ شلوار قمیضوں، ساڑھیوں اور پگڑیوں والوں کے جھرمٹ میں بڑ اوالہانہ استقبال تھا۔کوئی دو گھنٹے محبت و پیار کے کُھلے عام مظاہروں میں صرف ہوئے پھرگاڑیوں میں لد لدائی ہوئی ۔ پولیس کی ٹولیوں اور انکی گاڑیوں نے ہمیں آگے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا۔یہ حفاظتی اقدامات تھے۔ ہم پر بے اعتباری تھی یا ہماری حفاظت مقصود تھی۔ نیتوں کا حال تو میرا رب جانتا ہے۔
ہائے منظروں میں کتنی اپنائیت اور یکسانیت تھی؟ ذہن تو فوراََ ہی اپنے اور ہمسائے کے تقابلی جائزوں میں جُت گیا۔سڑک کی کشادگی بس مناسب تھی۔اطراف میں تاحد نظر کھیتوں کا پھیلاؤ ، سڑک کنارے جنج گھر جو اب میرج ہال بن گئے ہیں بڑی چھب دکھا رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے کا رخانوں کی خاصی کثرت تھی۔
کہیں کہیں ماٹھے گھروں کی دیواروں پر چسپاں اُپلوں کی گلگاریاں ،کہیں کوڑے اور روڑیوں کے ڈھیر ،کہیں جانوروں کے ریوڑ،چلتے ٹیوب ویل جنکی موٹی دھاریں گویا جیسے مائع چاندی بہہ رہی ہو۔کہیں عالیشان گھر ، کہیں سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے گندے نالوں سے اُٹھتی بدبوئیں ، گاؤں اور قصبو ں کے بے ہنگم سے پھیلاؤ خاصے مُطمئین کرنے والے
تھے۔
اندر کہیں اطمینان بھری سرگوشی سی تھی کہ بھئی یہ سب کچھ تو اپنے جیسا ہی ہے۔آخر کو ہم ایک ہی ہیں۔
بس انہی موازنوں میں امر تسر میں داخلہ ہوا۔ شہر بھی جانا پہچانا سا لگا ۔ بس ایک منظر بڑا مختلف تھا۔ لڑکیاں گھیردار شلواریں اور کہیں جینز پہنے سکوٹروں پر بیٹھی تتلیوں کی طرح اُڑتی پھرتی تھیں۔
‘‘ہائے کہیں یہ منظر کاش میرے لاہور کی سڑکوں پر ہوتا ۔ مار ڈالا ہمیں تو ملائیت کی انتہا پسندی نے۔’’
چائے تھی۔ محبت کی گرمی تھی۔ خوشیوں کی مہکار تھی۔ امر تسر کے ذائقے دار سموسے اور مٹھائیاں تھیں۔ خوش آمدید کہنے والے بچوں بچیوں کے شوخ و شنگ کرتے، لاچے اور گھیر دار شلواروں قمیضوں میں سروں کو ڈھانپے گوٹے لگی چنریوں کی بہار تھی۔
جالندھر میں سے گزرتے ہوئے جی چاہا تھا اُتر جاؤں ۔کوئی چار کو س پر سمّی پور نام کا گاؤں تب تھا۔ جہاں بس بیٹھی حسرت سے باہر تکتی اِس عورت کے اندر کی بچی نے جنم لیاتھا۔ پتہ نہیں وہ گاؤں اب وہاں ہے بھی یا مٹ مٹا گیا۔
اُس وقت جانے کیوں میر اجی چاہا میں درواز ہ کھول کر چھلانگ ماروں اور بھاگتی بھاگتی اُس گاؤں چلی جاؤں جسکے ہجر میں میں نے اپنی ماں اور ماسیوں کو آہیں بھرتے دیکھا تھا۔ جو اُنکا دیس تھا۔جنکی گفتگو کی ہرتان ‘‘دیس ’’کے ذکر پر ٹوٹتی تھی ۔
اپنی اِس احمقانہ سی خواہش پر ہنسی بھی آئی۔آنکھیں بھی گیلی ہوئیں کہ ماں یا د آئی تھی۔
لُدھیانے میں استقبال بہت شاندار تھا ۔ ڈھول ڈھمکوں اور بھنگڑوں نے فضا کو
گرما رکھا تھا۔ لدھیانہ ساحر کا شہر ہے۔لدھیانہ کیول دھیر کا شہر ہے۔اِنسانیت کے علمبردار پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کرنے والے ڈا کٹر کیول دھیر جنہیں ساحر سے محبت ہے جو ہر سال جشن ساحر مناتے ہیں۔لدھیانے کو روشنیوں سے سجا اور جگمگا دیتے ہیں اور پاکستا نیوں میں ساحرایوارڈ بانٹتے ہیں۔
شُدھ پنجابی میں لپٹی یہ تقریر یں ہمارے پلّے تو کچھ زیادہ نہ پڑیں تاہم لوگوں کے چہروں پر بکھرے سُچے اور سچے جذبات ہی یہ سمجھا رہے تھے کہ یہ سب چاہتوں سے یہاں آئے ہیں اور ملنے کے متمنّی ہیں۔
اب رات ہو گئی تھی۔ رات میں پٹیالہ کا حُسن تو کیا نظر آتا ۔ البتہ بس میں بیٹھے لوگوں کے تبصروں نے خوب ہنسایا۔عقبی نشستوں سے آواز آئی تھی۔
‘‘بھئی پٹیالہ میں کیا چیزیں دیکھنے والی ہیں۔’’
ایک تیکھی آواز کانوں سے ٹکرائی ۔
‘‘ پٹیالہ کی عورتوں کی چال ۔مورنیوں کو تو ایسے ہی ہم لوگوں نے ٹلّے پر چڑھا رکھا ہے۔اُنکی چال پر محاورے گھڑ لیے ہیں ۔کوئی پٹیالے کی عورتوں کو دیکھے۔ شاہانہ اندا ز سے چلتی ہیں کہ بندے کا کلیجہ پھڑکنے لگتا ہے۔
میں نے گردن موڑی کہ ایسی خوبصورت بات کہنے والے منچلے کو تو دیکھو ں۔ مگر عقبی نشستوں کے سہارے اتنے اونچے تھے کہ کسی چہرے کو دیکھنا گویا ہمسائے کی اونچی دیوار سے تانکا جھانکی کی ناکام سی کوشش تھی۔
ایک آواز اور اُبھری ۔
‘‘یہاں کے پراندوں کا بھی جواب نہیں۔ اتنے خوبصورت جیسے قوس و قزح کے رنگوں میں غوطے کھائے ہوئے ہوں ۔سلمے ستاروں میں گندھے ،لشکارے مارتے،دلوں
میں ہلچل مچاتے۔ ’’
ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
‘‘دیکھو تو ذرا اِن کمبختوں کی ذہنی سوئیاں صنف نازک کے گرد ہی گھوم رہی ہیں۔
پھر ایک نسوانی آواز نے جیسے ہنسی کا گولہ چھوڑا ۔
‘‘ارے بیبا اِن عورتوں کی جوتیاں بھی شاندار ہیں۔کسی نے اُن کے رعب ودبدے کا مزہ چکھا ہے۔’’
اِسپر شوروغوغا ہوا۔ بہر حال کٹھے میٹھے تبصروں میں پٹیالہ آگیا تھا۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں