سیلون کے ساحل ۔ہند کے میدان( باب نمبر12)غلامان جزیرہ،بیریا جھیل اور دارسلام /سلمیٰ اعوان

Slave Island کیلئے صبح سویرے نکلنا پڑا تھا۔کولمبو کے مرکزی حصّے کی جنوبی مائل سمت کا علاقہ۔رات کو لڑکیوں نے کہا تھا کہ ٹرین سے جانا۔گورش بہت ہوگا مگر مزہ آئے گا۔

یہ نام اِسے انگریزوں نے جزیرے پر قبضے کے بعد دیا۔انگریز تو یوں بھی دنیا کو غلام بنانے کیلئے بدنام زمانہ ہیں۔یہاں تو انہوں نے وہ جگہ ڈھونڈ لی تھی کہ جہاں وہ اپنے مفتوحہ علاقوں سے باغیوں کو بھیج سکیں کہ یہ کبھی کالا پانی تھا۔اس کے چچیرے ،ممیرے رشتہ دار بھی اِن سے کم نہ تھے۔دنیا کو کوئی گوشہ تو انہوں نے چھوڑا نہ کہ جہاں اپنے غلاموں کی منڈیاں نہ لگائیں۔
ٹرین سے سفر کیا۔ٹرین کا سفر ہمیشہ سے کمزوری رہا۔اپنے ملک میں اس کا بیڑہ غرق ہوتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ڈبے میں مقامی لوگوں کی بھرمار تھی۔جتنے لوگ بیٹھے تھے اُس سے زیادہ کھڑے تھے۔جن دو چار لوگوں سے کھڑے کھڑے باتیں
ہوئیں اُن کی وہاں دکانیں تھیں۔ایک کی گارمنٹس کی،دوسرے کی فش کی۔
ٹرین سرسبز درختوں کے بیچ سے گزرتی بہت خوبصورت مناظر دکھا رہی تھی۔جھک کر دیکھنے پڑتے تھے۔پھر ایک نوجوان لڑکے نے اپنی سیٹ دے دی۔شکریہ کہتے ہوئے میں نے فی الفور اس پر قبضہ جمالیا۔مہرانساء کو بھی ساتھ میں ٹانگ لیا۔اسٹیشن آتے ،لوگ اُترتے چڑھتے۔
مرکزی اسٹیشن کی کیا شاندار عمارت تھی۔1870 کی بنی ہوئی۔شاہانہ شان و شوکت والی جس کی محرابیں ،جس کا چوبی کام ،جس کا لوہے اور پتھر کی ڈیزائن کاری میں وکٹورین سٹائل۔ہم تو تصویر بنے بہت دیر تک عمارت کو ہی دیکھتے رہے۔
جاوا لین میں ضرور جانا ۔یہ سبق ہمیں ٹرین میں ایک بندے نے پڑھایا تھا کہ اگر آپ نے نچلے متوسط اور غریب لوگوں سے ملنا ہے تو وہاں جائیں۔مسائل بھی معلوم ہوں گے اور سری لنکا کا اصلی چہرہ بھی دیکھ لیں گی۔اور ہاں وہاں کا ہندو ٹمپل مروگنMurugunدیکھنا نہ بھولنا۔
واقعی ہم نے بھی یہ بات پلّے سے باندھ لی ۔بس تیر کی طرح سیدھا اسی طرف کا رُخ کیا۔جسٹس اکبر اور میلے Malayسٹریٹ کی رونقوں سے آنکھوں اور دل کو شاد کرتے اس کے کوچہ و بازار میں جا پہنچے۔
سیلوآئی لینڈSlave Island اُن لوگوں کا علاقہ ہے جو اپنا ایک تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان رکھنے میں بھی انتہائی سرگرم ہے ۔دراصل یہاں وہ لوگ آکر بسے جنہوں نے ڈچ قبضے کے وقت مزاحمت کی۔اِن میں راجے ،مہاراجے،سرکردہ لوگ،سرفروش قسم کے محب وطن جو شکست سے دوچار ہونے
کے بعد جزیرے سے بھاگ گئے۔پھر کہیں بعد میں وطن لوٹے اور یہاں آہستہ آہستہ سیٹ
ہوتے گئے۔
تقریباً 160 ایکڑ کا یہ ٹکڑا کولمبو کے دل کی سی حیثیت رکھتا ہے۔متوسط ،نچلے متوسط اور غریب لوگوں کا علاقہ۔یہاں جھونپڑیاں تھیں۔یہاں رنگ و روغن سے سجے چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔یہاں گلیوں میں ریڑھیوں پر بکتے سودے تھے۔جنہیں خریدنے کیلئے ننگے پاؤں پھرتی مائیں چھوٹے بچوں کے ساتھ کھڑی بھاؤ تاؤ کرتی تھیں۔یہاں کچی پکی گلیاں جن میں ایک ایک کمرے پر مشتمل گھروں کی بھی کثرت تھی۔صحن سانجھے اور جن کے باورچی خانے شیڈوں کے نیچے بنے تھے۔
یہی وہ علاقے تھے جہاں ڈینگی حملہ کرتا اور ان کی جانیں بھی لیتا تھا۔یہاں مند ر تھے اور بے حد انوکھی وضع کے تھے۔مسجدیں تھیں کہ یہاں مسلمان بھی خاصے ہیں۔ان کی اکثریت ملائی زبان بولتی ہے۔یہاں کے لوگ حکومت کی اپنے بھلے کیلئے بات کو بھی تھوڑی الٹی طرف کرکے دیکھنے اور سوچنے کے عادی ہیں۔چھوٹی چھوٹی سی بات پر بحث و مباحثے بھی زور و شور سے ہوتے ہیں۔لڑائی بھی اُسی شدت سے اور محبتیں بھی ویسی ہی۔کٹوریوں میں سالنوں کے لین دین اور گلاس بھر اُدھار چاول اورآٹا ، شادی بیاہ ،غمی خوشی پر اکٹھے ہونے اور روٹھنے کے منظر۔
دراصل راہ چلتے لڑکے لڑکیاں بڑے ہنس مکھ اور کچی پکی انگریزی میں مدّعا سمجھانے اورماحول کی صیح عکاسی کرنے والے تھے۔
مہر انساء کھلکھلا کر ہنسی تھی۔یہ تو من و عن برّصغیر کی تصویر کشی ہورہی ہے۔
‘‘ارے اُس کا ہمسایہ ہے۔ایک جیسا تو ہوگاہی۔’’
ملکیت کا احساس یہاں شاید لوگوں کی نفسیات کا حصّہ بنا ہوا ہے۔حکومت کی طرف سے ہر وہ قدم جو ان کی اصلاح کیلئے اٹھاے جانے کی کوشش ہوتی ہے وہ انہیں پہلے
کٹھکتی ہے۔اربن ڈیلوپلمنٹ اتھارٹی انہیں فلیٹ بنا کر دینا چاہتی ہے۔اِس ساری جگہ کو ہموار کردینے پر تلی ہوئی ہے۔مگر یہ انہیں فی الحال قبول نہیں۔ اب اِس پر احتجاج اور جلسے جلوسوں کا شوروغوغا ہے۔
ایک چھوٹے سے گھر میں خاتون خانہ سے باتیں کرتے ہوئے سونا،جہیز،شادی بیاہ زیر بحث آئے۔سچی بات ہے وہ ذہنیت کہ سونا کیش ہے۔ لڑکی کوہر صورت جہیز میں دینا ہے۔چاہے اس کے لئیے اُدھار لیا جائے۔ داج بھی چاہئیے۔لڑکے والوں کے دماغ بھی اونچے ہیں۔خیر سے اب شہری پڑھی لکھی لڑکیاں بھی بڑی سیانی ہورہی ہیں۔
میرے لئیے یہ قدرے تعجب انگیز بات تھی کہ مرد کیا اِس علاقے کی عورتیں بھی
خاصی سیاسی سوجھ بوجھ کی مالک تھیں۔ہاں بندرانائیکے خاندان سے کافی لوگوں کی وابستگی کاپتہ چلتا تھا۔سری ماؤ سے کچھ زیادہ ہی محبت کا اظہار تھا۔چندریکا کمارا تنگا پر چند نوجوان عورتوں نے غصّے کا بھی اظہار کیا کہ اُس نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کیوں کی؟
کوئی بات ہے بھلا ۔ایک لڑکی کا لہجہ بڑا جوشیلا سا تھا۔پوچھنے پر جانا کہ یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہے۔
اُسے خود بھی سیاست میں رہنا چاہیے۔اور اپنے بچوں کو بھی لانا چاہیے۔
وہیں دو بوڑھی عورتوں نے اس کے حق میں ہمدردی کا علم بلند کیا۔
‘‘ارے بیچاری کیا کرتی۔پہلے باپ قتل ہوا۔چودہ سال کی معصوم بچی نے یہ صدمہ جھیلا۔پھر شوہر کو آنکھوں کے سامنے خون میں نہلا دیا۔دونوں بچوں کے ساتھ گھر کے دروازے پر کھڑی تھی۔ناہنجاروں نے بھون کر رکھ دیا۔کلیجہ ابھی بھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا کہ اب اُسے دھرلیا۔بچنے کو تو بچ گئی پر آنکھ چلی گئی۔ اب کتنے تو قہروں سے گزری ہے۔ ممتا کو کیسے آگ اور خون میں جھونک دے۔
چند طالب علم بھی وہیں آموجود ہوئے۔اُن میں سے ایک کا کہنا تھا کہ انتہائی سمجھدار اور زیرک خاتون ہے۔اتنے خوفناک اور اذیت دہ حادثات کے بعد بھی وہ انتقامی کاروائیوں میں نہیں پڑی۔آج بھی غربت ،بیماری،بے روزگاری اور ناانصافی کو ہی دہشت گردی کا سبب سمجھتی ہے۔
مجھے اس خاندان کی بھٹو خاندان سے بہت مماثلت محسوس ہوئی تھی۔جیسے کراچی کا لیاری پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔کچھ ایسی ہی کیفیت مجھے یہاں محسوس ہوئی۔
wauxhallلین اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مسلمانوں کی خاصی اکثریت تھی۔گلیوں میں سیاہ برقعوں ،کہیں حجاب اور عبایا میں عورتیں گھومتی پھرتی سودے سلف لیتی نظر آئیں۔یہ سنہالی بولتی تھیں۔کچھ کی مادری زبان تامل تھی۔انگریزی بولنے میں اکثریت کوری ہی تھی۔ہاں دکانوں میں بیٹھے نوجوان لڑکے مفہوم سمجھنے اور اظہار کرنے میں رواں تھے۔لڑکیوں کی تعلیم کا پوچھنے پر پتہ چلا کہ مسلم کیمونٹی میں یہ پہلو اب ترجیحات میں شامل ہوا ہے۔مسلم لڑکیاں میڈیکل کی تعلیم کیلئے گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کا رُخ کررہی ہیں اور یورپی ملکوں میں بھی جارہی ہیں۔
امتیازی سلوک،ملازمتوں میں ڈنڈیاں مارنے اور فرقہ ورانہ فسادات پر بھی رائے جاننا چاہی۔
سنجیدہ سے مرد نے کہا۔‘‘یہ سب تو چلتا ہے ۔ہم نے اب ایک بات پر زور دینا شروع کیا ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد کھنا ہے۔’’
یہیں ہمیں مسلمانوں کی فعال تنظیم ال سیلون مسلم کانگریس کا پتہ چلا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ مرکزی دفتر دارسلام زیادہ دور نہیں۔ویکس ہال لین نمبر 53پر ہی ہے۔اب یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم مسلمانوں کے علاقے میں ہوں اور ہماری تواضع نہ ہو۔ہوئی اور بہت محبت بھرے انداز میں ہوئی۔ابراھیم ارست کا چھوٹا سا گھر مسجد کی قریبی گلی میں تھا۔
علاقہ تو وہی ویکس ہالwauxhallکاہی تھا۔
ماشاء اللہ پانچ بچے تھے۔بڑا لڑکا ربڑ پلانٹ پر کیمیکل انجنیئر تھا۔شادی شدہ تھا۔اس کی چار سالہ بیٹی یو اے ای کے شیخ زید النیہان کی اہلیہ ہرہائی نس شیخ فاطمہ کی طرف سے کھولے گئے اسکو ل میں پڑھتی تھی۔گھر اوسط درجے کا نمائندہ تھا۔ابراھیم ارست کا دادا ہندو تامل خاندان سے تھا۔صاحب علم تھا۔اسلام اُس نے قبول کیا۔ابراھیم سے ہی پتہ چلاتھاکہ یہاں مسلمانوں کی ایک تعداد تامل اور سنہالیوں کی دو تین نسلیں قبل کی قبول اسلام کرنے والوں کی بھی ہیں۔
کھانے میں اُبلے چاول تھے۔گاڑھے سے شوربے والی مچھلی تھی۔کریلے کے چھوٹے چھوٹے روسٹ ٹکڑے تھے۔سلاد اور اچار تھا۔مزہ آیا تھا۔کوئی تین گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد ہم لوگ رُخصت ہوئے۔مین سڑک پر آئے اور یہیں سے رکشے پر چڑھے اور Beira Lake چلے گئے کہ قریب ہی تھی۔ بھئی کیاخوبصورت جھیل تھی ۔
سبز ہلکورے مارتے پانیوں پر جیسے تیرتا یہ ٹمپل ۔ایک لمبا چوڑا راستہ مرکزی جگہ تک جانے کیلئے بنا ہوا جس پر چلنا بذات خود ایک دلچسپ شغل والا کام تھا۔مخروطی پگوڈا سٹائل عمارت جس کے بڑھے ہوئے ٹیرسوں کی دیواروں سے لگ کر کھڑے ہونا اور پانیوں میں جھانکنا اور شوخ و شنگ ہوا کے جھونکوں سے باتیں کرنے کی اپنی شان۔لوگ تھے۔بچے، بوڑھے تھے۔ عورتیں تھیں۔شوخ و شنگ لڑکیاں جنہیں دیکھ کر کبھی ہم بھی ایسے تھے جیسے احساسات ۔
عین درمیان میں بدھ کا ٹمپل۔کیا من موہنی سی چیز بنائی ہوئی تھی۔چبوتروں پر سجے سنورے بدھا کے ڈھیروں ڈھیر مجسمے کہیں اکڑوں بیٹھے ،کہیں لیٹے۔برج پر چلے پر بوٹنگ کیلئے طبیعت نہ مانی۔دراصل جھیل کے پانیوں سے ہلکی ہلکی باس کا اٹھنا اور فضا میں اُس کے پھیلاؤ کو زیادہ دیر برداشت کرنا مشکل تھا۔
یہاں کِسی نے سنی من Cinnamonگارڈننر اور Viharama hadevi park کو بھی اپنی فہرست میں شامل کرنے کا کہا۔
دونوں جگہیں قابل دید تھیں۔یہ اب کولمبو 7کہلاتا ہے۔واقعی سری لنکن چہرے کے ایک اہم نقش کو نہ دیکھنا بڑی محرومی ہوتی۔بڑا فیشن ایبل رہائشی علاقہ کبھی ہوں گے یہاں مصالحوں کے پیڑ بوٹے ۔اب تو ایسا کچھ نہ تھا۔ہم نے یہ سارا سیر سپاٹا حیرت و مسرت بھرے جذبات سے کیا۔پرانے کولونیل مینشن ہائے کیا بات تھی ایسے تاریخی گھروں کی۔ ابتدائی دور کی اِن عمارتوں کا حسن موہ لینے والا تھا۔ایسی گھتی ہوئی کندہ کاری کہ بندہ تو ہکا بکّا دیکھتا رہ جائے۔یہاں قدیم سیلونی طرز تعمیر کی جھلک بھی نظرآتی تھی۔ پرانے درختوں ،خوبصورت پارکوں سے گھرے اس علاقہ کو دیکھ کر مزہ آیا تھا۔بہت پیاس محسوس ہورہی تھی۔قریب ہی چائے ،کافی اور کولڈ ڈرنک کی چھوٹی سی دکان تھی۔اسی میں جاگُھسے۔بات چیت سے پتہ چلا کہ وہ بھی مور ہے۔مور سری لنکا میں مسلمانوں کو کہتے ہیں۔یہ اُنکا قدیمی نام ہے۔
میں دارسلام جانا چاہتی تھی۔مہرالنساء آمادہ نہ تھی۔بہرحال اُسے قائل کرنے کیلئے تھوڑی سی طرلہ منت کرنی پڑی۔چلئیے و یکس ہال لین 53پرجا پہنچے۔دفاتر بڑے رنگ ڈھنگ والے نظر آئے۔لوگ بھی خاصے تھے۔حسن علی نامی تنظیم کا سکرٹیری بھی ملا۔ اب جو باتیں ہوئیں تو سری لنکا میں مسلمانوں کے حالات کھل کر سامنے آئے۔
تامل ہندؤں کے بعد مسلمان جزیرے کی بڑی موثر اور معاشی لحاظ سے بھی اچھی مظبوط اقلیت ہے۔ فرقہ ورانہ فسادات کے حوالے سے میں نے سوال یہاں بھی کیا۔حسن نے کہا تھا۔
‘‘یہ تو ہوتے رہتے ہیں۔بدھ سنہالی اکثریت مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دینے میں اتنی
کامیاب نہیں ہے جتنی ہم توقع رکھتے ہیں۔تشّددہوتا ہے۔تاہم مسلمان کولمبو میں 9.7 کی ریشو میں ہیں اور کولمبو میں اُنکا خاصا اثر ہے یوں بھی وہ کنگ میکرز میں شمار ہوتے ہیں۔تین چار وزارتیں ہماری پکّی ہوتی ہیں۔
باتوں سے یہ بھی پتہ چلا کہ جزیرے کے پانچ شہروں آم پارہ، ترنکو مالی،بیٹیکولا ،کینڈی اور کولمبو میں مسلمان خاصی تعداد میں ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم بارے بات چیت کے دوران سری لنکا کے اُس سرکردہ بے حد معزز خاندان سررزاق فرید کا ذکر آیا۔اس خاندان نے 1892میں ال مدرستہ الا زہرہ کھولا۔آرسی ماریکر کا جونہی حسن علی نے نام لیا۔مجھے نیشنل میوزیم کی ساری تفصیل یاد آگئی۔میرے بات کرنے پر پتہ چلا کہ پورا خاندان بمعہ عورتوں کے فلاحی کاموں کیلئے بے حد سرگرم رہا۔اور ابھی بھی ہے مسلم لیڈیز کالج کو آپ ضرور دیکھئیے۔ایک ماڈل ادارہ ، اسلامک کلچرل ہوم ایک اور بڑا ادارہ بھی اسی خاندان کا قائم کردہ ہے۔ یہ بھی بہت شاندار اور کوئی پون صدی پرانا ہے۔ شیخ فاطمید ہوسٹل اور سکول یو اے ای کے سربراہ شیخ ہمدان بن زیدالنیہان کی اہلیہ کے نام پر کھولا گیا۔جس کی فنڈنگ اس خاندان نے کی۔ایک جدید موڈرن اور شاندار سکول۔
اس وقت پورے سری لنکا میں سنہالی ،تامل اور انگریزی میڈیم میں تعلیم دینے والے تقریباً ساڑھے سات سو ادارے کام کررہے ہیں۔215کے قریب مدرسے بھی سرگرم عمل ہیں۔
میرے جی میں آیا کہ کچھ اُس انتہا پسندی کے بارے پوچھوں جس کا مجھے تھوڑا سا تجربہ ہوا ہے۔مگر ہوا یوں کہ حسن علی نے خود ہی وضاحت کرتے ہوئے بتا دیا کہ یہاں کے مسلمان اپنے عقائد اور اپنی پہچان بارے بہت حساس ہیں۔ہماری عورتیں حجاب لیتی
ہیں۔اور ہم اِسے پسند کرتے ہیں۔
چائے پی۔مسلم لیڈیز کالج کو دیکھنے پر دوبارہ اصرار کیا۔پتہ کاغذ پر لکھ کر ہاتھوں میں تھما دیا۔
Kensington gardens, NO 22-B Bambala pitiya Colombo 4.
شام کو جب واپسی ہوئی تو ہماری ہمسائی غلام فاطمہ کی خادمہ ملاقات کا پیغام لے کر آئی۔ہم نے کوئی گھنٹہ بعد آنے کا کہہ کر بستروں پر چڑھائی کی کہ آج خاصی مشقت جھیلی تھی۔پھر منہ ہاتھ دھویا کنگھی پٹی کی۔تھوڑا ہونٹوں کو لال کیا اور خود سے پوچھا ۔
‘‘ہائے اتنے دنوں سے اچھا کھانا نہیں ملا ۔کیا یہ وطنی عورت ہمارے اوپر آج مہربان ہوسکتی ہے۔’’
اندر نے کہا شودی عورت دیکھ تو لیا ہے تونے سب کچھ۔ ہاں البتہ آج وطنی عورت ملے گی تو شاید وطنی پیاس کے کارن کچھ مل جائے۔’’
اب بہو کے نہیں ساس کے گھر جا پہنچے ۔ برآمدے میں بیٹھی آموں کی ٹوکری پاس رکھے شاید ہمیں کھلانے کے انتظار میں تھی۔
آم اتنے بڑے بڑے کہ ہم نے حیرت سے دیکھا ۔خوشبو برائے نام تھی۔ ذائقہ بھی بس ایسا ہی تھا۔واقعی دل والی بات ٹھیک نکلی تھی۔خاتون پیاسی تھی۔تین بیٹے اور ان کی بیویاں بھی موجود تھیں۔
سیاست کی ٹوہ لی تو معلوم ہو ا کہ بنیادی طور پر بڑی سیاسی پارٹیاں دو ہی ہیں۔سری لنکا فریڈم پارٹی اور یونائیٹڈنیشنل پارٹی بقیہ سب اقلیتوں کی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں ہیں۔ال سیلون مسلم کانگریس۔کیمونسٹ پارٹی اف سری لنکا۔ایلام پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی
ایسی بہت سی پارٹیاں اپنے اپنے گروپوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پریشر گروپ بن جاتی ہیں۔بڑی پارٹیاں ان کے ساتھ دے لے کر اتحاد کرتی ہیں۔
ہائے وہی میرے وطن والی صورت۔
سنہالی بدھوں کے بارے بھی کُھل کر باتیں ہوئیں۔بڑے دونوں لڑکوں کی رائے تھی کہ یہ جو بُدھ لوگوں بارے تاثر ہے کہ حد درجہ طبعاً شریف اور امن پسند ہیں۔اتنا درست نہیں۔اکثر بدھ مذہبی رہنما بہت طاقتور اور تشّدد پسند ہیں۔ عام سنہالیوں میں بھی ایک کلاس انتہا پسندوں کی ہے۔کوئی بھی ایسا قانون جسے اکثریتی آبادی اپنے مفادات سے ٹکراؤ سمجھے اُس پر احتجاج ہی نہیں بلکہ شدید ردّعمل کا اظہار ہوتا ہے۔
اکثر حکومتی عہدہ داروں اور سربراہوں کا قتل بدھ مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں ہوا۔ چندریکا کے باپ اور شوہر دونوں کے قاتل مذہبی رہنما تھے ۔سنہالی انتہا پسندوں کیلئے بھی قتل کرنا کرانا عام بات ہے۔
تامل لبریشن اف ایلام جسے ایل ٹی ٹی ای یعنی لبریشن ٹائیگرزاف تامل ایلام کہتے ہیں وہ تو بہت ساری محرومیوں اور زیادیتوں پر کہیں بعد کی پیداوار ہے۔
سب سے چھوٹے لڑکے جس کی میں دو دن پہلے نمک خوار ہوچکی تھی نے بڑی پتے کی بات کی۔دراصل پہلے وزیر اعظم D.S.Scnanay Ckeنے سنہالی بدھوں کی برتری کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مذہب کو سیاست اور ریاست میں دخل دینے سے انکار کردیا تھا۔مگر یہاں بھی وہ طاقتیں جو مارکسی نظریات کی حامل تھیں بدھ رہنماؤں کے ساتھ اثر انداز ہوئیں۔کہیں بعد میں بھی انہیں نتھ ڈلتی رہتی تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔
کھانا ہمیں ملا اور سچی بات ہے شاندار قسم کا ملا۔فش پلاؤ،فش کری،قیمہ آلو۔آم سویٹ ڈش کے طور پر کھائے۔مزیدار تو نہ تھے پر آم تو تھے اور میٹھے بھی تھے۔
ٹی وی لاؤنج میں حسب معمول لڑکیوں کا جتھا کسی بحث میں اُلجھا ہوا دِکھا تھا۔ہم بھی وہیں چلی گئیں۔پتہ چلا کہ ٹی وی ڈرامے کی قسط ابھی ختم ہوئی ہے اور اسی پر گفتگو کا پٹارہ کھلا ہوا ہے۔
چندراراتھنا بندرا جیسے بڑے ناول نگار کا ناول” میرو “جسے نیشنل لڑیری ایوارڈ کا ادارہ انعام دے چکا ہے۔اُس کا سریل بنایا گیا ہے جو آجکل ٹی وی پر دکھایا جارہا ہے اور خاص و عام میں مقبولیت کی بلندیوں پر ہے۔مصنف کے بارے مزید جانکاری ہوئی کہ بہترین ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ کہانی کار اور شاعر بھی ہے۔
میں چونکہ خود لکھنے والی تھی اس لئیے قدرتی طور پر میرا تجسّس کچھ ان کے مرد و خواتین لکھاریوں کے بارے میں جاننے کا ہوا۔اور یقینا میرے لئیے یہ حیرت کا مقام تھا کہ لڑکیاں نہ صرف اپنا فکشن پڑھنے کی عادی تھیں بلکہ بیسویں صدی کی وسطی دہائیوں کے بعد دنیا بھر میں پیدا ہونے والے عالمی سطح کے مسائل جن کا اثر کسی نہ کسی رنگ میں پوری دنیا نے قبول کیا۔جس پر بہت کچھ لکھا بھی گیا۔ایسے ٹھوس ادب کو بھی بیشتر نے پڑھا تھا اور بڑی نپی تلی رائے رکھتی تھیں۔
بات بیسویں صدی کے آغاز کی بہت خوبصورت لکھنے والی ناول نگار روسالنڈمینڈس سے شروع ہوئی۔جس کا ناول سنہالی ،تامل ،انگریزی،ہندی اور گجراتی میں ترجمہ ہوکر مقبولیت کی سند حاصل کئیے بیٹھا ہے۔”ایک ٹریجڈی کا اسرار۔”
روسالنڈ کے بارے میں نندو کی رائے میرے لئیے قابل توجہ تھی کہ چلئیے اُس کا ناول اپنے عہد کا نمائندہ ہے۔مگر وہ اہم مسائل جو اس وقت تیسری دنیا میں معاشروں اور حکومتوں کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔بڑے ملکوں کی ریشہ دوانیوں سے پیدا ہونے والی خانہ جنگیاں،لوگوں کی دربدری،اموات،والدین کے دُکھ جن کے بچے اِن وحشتوں کا ایندھن
بنے،عورتوں کا ریپ،ڈرگ مافیا،منی لارڈنگ کیلئے عورتوں کا استعمال اور گھریلو تشدد پر سری لنکن عورتوں نے جی داری سے لکھا ہے۔
وجیتا یایا نے اگر اکانومی اور investment جیسے موضوعات پر لکھ کر عورتوں کا ذہنی افق کشادہ کرنے کی کوشش کی تو وہیںRajakarunanayaakeنے بھی ممنوعہ موضوعات کو نہ صرف چھیڑا بلکہ کھل کر اس پر لکھا۔اس نے مردوں اور عورتوں کی ہم جنس پرستی اور جنسی استحصال پر کھل کر لکھا ہے۔وہ کہتی ہے میں اپنی تحقیق کے ذریعے حقیقتوں کے چہروں سے پردے اٹھاتی ہوں۔
Sunethra Rajakarunnayaka سونیترا راجہ کرونانا ایوارڈ یافتہ لکھاری ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اُس نے بہت بہادری سے مردوں اور عورتوں کے سیاست اور معاشرتی زندگیوں میں دہرے معیار پر لکھا اور خوب لکھا۔
لڑکیوں کی باتوں نے میرے چودہ طبق روشن کردئیے تھے۔اگر میں اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لڑکیوں سے اپنے ملک کے کِسی بڑے لکھاری کے بارے بات کروں۔ جیسا کہ اکثر کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تھیسس اور ایم فل کرنے والی لڑکیوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے ۔خدا شاہد ہے انہیں خاک نہیں پتہ ہوتا۔
میں نے ایک دن پہلے کی خریدی گئی کتابوں کا ذکر کیا۔اشوک فیری کا ناول The good little ceylonese girl ، امینہ حسین کا The moon in the water ماریہ تو نام سنتے ہی اچھل پڑی۔
‘‘ارے بہت شاندار ناول ہے۔لنکن مسلم کیمونٹی کی سماجی ،تہذیبی اور ثقافتی زندگی کا نمائندہ ۔امینہ نے کمال خوبصورتی سے کچھ خرابیوں اور مسلم وراثتی قانون بارے لکھا ہے جو اُس نے محسوس کیا۔میں نے پڑھا ہے اِسے۔’’
رومیش کے The Prisoner of Paradise اور اے وی سوراویرا کا Tread Softyکے متعلق بتایا۔دونوں ناول کسی نے نہیں پڑھے تھے۔
میں نے سوچا اور دل میں کہا چلو کل اگرچہ روانگی ہے۔تاہم صبح بازار کا چکر لگاؤں گی۔اِن میں سے جو بھی مل جائیں۔

julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply