نو دولتیوں کی نشانیاں ۔۔گل نوخیز اختر

ہمارے اردگرد بہت سے امیر لوگ گھوم رہے ہوتے ہیں‘ پتا ہی نہیں چلتا کہ کون خاندانی امیر ہے اور کس کا چھ مہینے پہلے پرائز بانڈ نکلا ہے۔نودولتیوں میں ایسوں کی بھی کمی نہیں جن کی بنجرزمین اچانک کسی ہاؤسنگ سکیم کے اندر آگئی یادادا کی چھوڑی ہوئی جائیداد کا فیصلہ ہوگیا اور وارے نیارے ہوگئے۔ایسے نودولتیوں کی پہچان بڑی آسان ہے۔توجہ فرمائیں۔۔۔!!

نودولتیوں کو فون کریں تو اکثرآگے سے کالر ٹون سنائی دے گی’’اساں ڈھول مناوناں اے‘ بھانویں جان دی باز ی لگ جاوے‘۔اِن کو ہمیشہ کوٹ پینٹ کے ساتھ سرخ یا تیز گلابی رنگ کی شرٹ پہننے کا شوق ہوتاہے۔ٹائی بھی پہننا شروع کر دیتے ہیں لیکن نیچے ایرانی سویٹر پہننا نہیں بھولتے۔اِن کی جرابوں سے ہر وقت بھینی بھینی بدبو آتی رہتی ہے۔یہ بنیان پرانی اور جوتے نئے پہنتے ہیں۔یہ ہمیشہ ایسا پرفیوم پسند کرتے ہیں جس کی خوشبو پورے ضلع میں پھیل جائے۔یہ گھر میں خرچے کے لیے بے شک بیوی کو تین سو روپے بھی نہ دیں لیکن بیگانی شادیوں میں خواجہ سراؤں کے رقص پرپر ہزار ہزار کے نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔

یہ جونہی امیر ہوتے ہیں پہلی فرصت میں گاڑی کی بیک سکرین پربچوں کے نام لکھواتے ہیں’ٹونی‘ شکیل‘انجم‘۔چونکہ ان کی جیبیں بھری ہوتی ہیں لہذا یہ نارا ض رشتہ داروں سے بھی یکدم صلح کرلیتے ہیں اورگولڈن گھڑی پہن کر اُن سے ملنے جاتے ہیں۔پیسہ ہاتھ میں آتے ہی اِنہیں صابن سے نفرت اور ہینڈ واش سے عشق ہوجاتا ہے‘ اچھی چیز کو دیکھ کر ’واہ‘ کی بجائے ’واؤ‘ کہنا شروع ہوجاتے ہیں تاہم بوتل کے سٹرا کو ’پائپ‘ اور ٹوتھ پکس کو’’تیلی‘‘ ہی کہتے ہیں۔کولڈ ڈرنک پی رہے ہوں تو تب تک بوتل کا پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک بوتل خود نہ بول پڑے ’’وے ہُن تے مینوں چھڈ دے۔۔۔‘‘یہ یکدم بچوں کی سالگرہ ہوٹل میں منانا شروع ہوجاتے ہیں اور سالگرہ نہ ہو تو گھر میں اُس دادا کی روح کے ایصال ثواب کے لیے ختم رکھ لیتے ہیں جس کی قبر پر کبھی فاتحہ پڑھنے نہیں گئے ہوتے۔

اِنہیں یکدم امیرانہ طور اطوار اچھے لگنے لگتے ہیں۔چینی کی جگہ sweetner استعمال کرنے لگتے ہیں ‘ یہ الگ بات ہے کہ ایک کپ میں50 گولیاں ڈالے بغیر چین نہیں ملتا۔تازہ تازہ دولت مند ہونے کی وجہ سے اِن کے پاؤ ں میں موچ بھی آجائے تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یقیناًبلڈ پریشر ہائی ہوگیا ہے۔نودولتیے اکثر بلڈ پریشر کو ’بی پی‘ کہنے سے گریز کرتے ہیں۔یہ موبائل میں ایسی ایپلی کیشن انسٹال کرتے ہیں کہ جب کسی کی کال آئے تو پورا موبائل نیلی پیلی بتیوں سے جلنے بجھنے لگے۔ان کی رِنگ ٹون بھی سب سے نرالی ہوتی ہے‘ کال آئے تو’’چٹیاں کلائیاں‘‘ چل پڑتاہے۔

ان کے پاس بے شک نئے ماڈل کی گاڑی آجائے‘ یہ نیا ون ٹو فائیو ضرور خریدتے ہیں۔امیر ہوتے ہی اِنہیں فیشن کا بھی شوق پیدا ہوجاتاہے لہذابڑے دھڑلے سے جم جوائن کرتے ہیں اور اگلے ہی دن کراہتے ہوئے بتا رہے ہوتے ہیں کہ ’کھلیاں‘ پڑ گئی ہیں۔ان کی زندگی کا سٹائل یکدم بدل جاتا ہے ‘ ناشتے میں سلائس اور جیم کھاتے ہیں اور پندرہ منٹ بعد دو پراٹھے ’ڈاپھ‘ جاتے ہیں۔یہ گاڑی چلا رہے ہوں تو پوری سڑک اِن کی گاڑی میں لگے سپیکروں کی آواز سے دھم دھم کر رہی ہوتی ہے۔یہ ڈٹ کے کھانا کھا لیں تو ہزار کوشش کے باوجود محفل میں اپنے ڈکار پر قابو نہیں پاسکتے۔

یہ کسی کی شاد ی میں سلامی دیں تو ہزار کا پورا نوٹ دینے کی بجائے لفافے میں پانچ پانچ سو کے دونوٹ رکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی کسی چیز کی قیمت پچاس ہزار ہو تو ہمیشہ آدھا لاکھ بتاتے ہیں۔یہ سگریٹ پئیں نہ پئیں اپنے پاس مہنگی ڈبی اور لائٹر ضرور رکھتے ہیں۔پیسے کی فراوانی ہوتے ہی یہ محلے کی مختلف انجمنوں کے سرپرست اعلیٰ بھی بن جاتے ہیں۔یہ چائینز ریسٹورنٹ بھی جانا شروع کر دیتے ہیں تاہم گھر واپس آکر اطمینان سے کھانا کھاتے ہیں۔یہ اچانک سے ادب پرست بھی بن جاتے ہیں‘ شاعری کی کتابیں بھی خریدنے لگ جاتے ہیں اور دیکھا دیکھی چند بڑے شاعروں کے نام بھی یاد کرلیتے ہیں‘ مزا تب آتا ہے جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ آپ کا پسندیدہ شاعر کون سا ہے ؟ اور یہ کچھ سوچ کر فخریہ انداز میں کہتے ہیں’’فیض علی فیض‘‘۔

جونہی اِن کے پاس چار پیسے آتے ہیں یہ 10X10 کے بیڈ روم میں دو سپلٹ اے سی لگواتے ہیں اورجگہ جگہ آہیں بھرتے ہیں کہ جو مزا ‘ونڈو اے سی کا تھا وہ دو ٹن کے سپلٹ کا بھی نہیں۔ہزار کوشش کے باوجود یہ لفافے کو ’’فلافا‘ ساشے کو’شاشے‘ اور تھیٹر کو’’ٹھیٹھر‘ ہی بولتے ہیں۔یہ امیر ہوتے ہی عمرہ پر جانے کا پروگرام بناتے ہیں‘ گھرمیں سولہ دیگیں پکواتے ہیں اور رشتہ داروں کو عمرے کے ایک ایک مناظر کی سیلفیاں وٹس ایپ کرتے ہیں۔یہ اچانک اپنی بیگم سے انتہائی محبت دکھانے لگتے ہیں ‘ دوبئی بھی جائیں تو احباب کو ہنستے ہوئے یہی بتاتے ہیں’’یارتمہاری بھابی نے تو ضد ہی پکڑ لی کہ اس ہفتے دوبئی جانا ہی جانا ہے‘‘۔یہ آئی پیڈ سے کم بات ہی نہیں کرتے حالانکہ انہوں نے اُس پر زیادہ سے زیادہ نصیبو لعل کے گانے ہی سننے ہوتے ہیں۔

یہ دوستوں میں بیٹھے ہوں توہر وقت حاتم طائی نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور جھٹ سے ہزار کا نوٹ نکال کر ملازم کو پکڑاتے ہیں کہ جاؤ کالی مرچ کی کڑاہی بنوا لاؤ۔اِنہیں پیسہ خرچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ نہ آئے تو بیٹھے بٹھائے گاڑی کے ٹائر تبدیل کروا لیتے ہیں‘ سٹیرنگ کا نیا کور چڑھا لیتے ہیں‘ بمپر پر شوخ لائٹیں لگوا لیتے ہیں‘ لڑکی کے نقاب والا سن شیڈ لگوا لیتے ہیں اور پھر بھی دل نہ بھرے توگاڑی کے اندر ایسا سسٹم لگوا لیتے ہیں کہ انڈیکیٹر کا بٹن دبایا جائے تو جب تک گاڑی مڑ نہ جائے مسلسل ’’بد تمیز دل‘‘ چلتا رہے۔

تازہ تازہ امیر ہونے کی وجہ سے یہ کئی جگہ منچورین کے ساتھ پراٹھا بھی کھاتے پکڑے جاتے ہیں ‘ یا پھر زیادہ ماڈرن ہونے کے چکر میں ہاف فرائی انڈا‘ سلائس میں رکھ کر زور سے ’چک‘ مارلیتے ہیں۔پیسے آنے کے بعد اِنہیں چائے بھی کانٹے سے پینے کا شوق پیدا ہوجاتاہے۔یہ رضائی کی بجائے کمبل پسند کرنے لگتے ہیں اورٹوتھ پیسٹ کے ساتھ ماؤتھ واش بھی استعمال کرنے لگتے ہیں تاہم کافی دنوں کے بعداِنہیں بریکنگ نیوز ملتی ہے کہ ماؤتھ واش پینے والی چیز نہیں ہوتی۔یہ بلیڈ کی بجائے ریزر سے شیوکرنا شروع ہوجاتے ہیں اورپھٹکڑی کی بجائے آفٹر شیو لوشن سے بھی واقفیت ہوجاتی ہے۔یہ اچانک سے بہت قہقہے لگانے شروع ہوجاتے ہیں ‘ گھر کوئی مہمان آجائے تو کوشش کرتے ہیں کہ وہ اِن کے ہوم سٹیریو سسٹم پر کوئی گانا سنے بغیر نہ جائے۔ مہمان عدم توجہی کا اظہار کرے توآئی فون نکال کر ڈرائنگ روم سے بیگم کو کال کردیتے ہیں’’بیگم شکیل صاحب آئے ہیں کوئی جوس وغیرہ بھجواؤ‘‘۔
مالی آسودگی کس کو اچھی نہیں لگتی لیکن خدا کسی کو ایسا نودولتیا نہ بنائے کہ بیس ہزار کے سوٹ میں سواتین روپے کا بندہ نظر آئے۔۔۔!!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *