موجودہ دنیاکے معمرترین منتخب حکمران رہنے والے ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنی بہترین صحت اورلمبی عمر کا راز’’نیوسٹریٹ ٹائمز‘‘ کے ذریعے بتایا کہ ان کی صحت کا راز کھانے پینے اوربودوباش پر کنٹرول کرنے کی عادات کو پختہ کرنے میں پوشیدہ ہے کہ زندہ رہنے کے لیے کھایا جائے نہ کہ کھانے کے لیے زندہ رہا جائے چینی چاول اورتیل دار غذاؤں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے روزانہ سات گھنٹے سونا چاہیے ہیں سگریٹ اورشراب نوشی بلکہ الکحل سے بنے مشروبات سے مکمل پرہیزکرنا چاہے روزانہ ورزش کرنا اور سائیکل پر سفر کرنا چاہیے مذہبی فرائض پابندی سے اداکرتے رہنا چاہیے اور ہر لحمہ ربْ العزت کا شکربجا لانا چاہیے
مہاتیر محمد کی کتاب ’’ایشیا کا مقدمہ‘‘ جو عالمی معیشتوں کا تصادم اور ابھرتے ایشیا کے بارے میں ایک فکر انگیز تصنیف ہے یہ کتاب مہاتیر محمد نے 1999ء A New Deal for Asia کے نام سے لکھی تھی اور اس کا اردو ترجمہ نعیم قادر نے کیا اور جمہوری پبلشرز نے 2002ء میں شائع کیا
A new deal for Asia
Book by Mahathir Mohamad
looks at whether Asia can reinvent itself for the new millennium after the chaos and turmoil of the Asian crisis. According to Dr Mahathir Mohamad, now is not the time for recriminations, but to reexamine the way the global economic system functions. Now is also the time to look ahead, move on and try to focus on the future. None of these, however, can be done in isolation. The lesson the world must learn from the crisis is that we all share a common fate, and that there must be willingness to challenge some of the most fundamental tenets of global capitalism.
مہاتیر بن محمد سابق وزیر اعظم ملائیشیاکی یہ کتاب در حقیقت ایک ترقی پذیر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کی داستان ہے۔ اس کتاب میں ملائیشیا کی سیاست، ثقافت اور معیشت کو موضوع بنایاگیا ہے کہ دنیا کا معاشی نظام کن تضادات کا شکار ہے اور ایشیا سمیت دنیا ایک نئے عالمی معاشی نظام کا تقاضا کر رہی ہے۔ مہاتیر محمد جنوب مشرقی ایشیا کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے 1997ء میں جارج سورس Soros Fund Management LLC کے بانی کی سرپرستی میں پیدا کردہ اقتصادی بحران کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ ’’ایشیاکا مقدمہ‘‘ نے پاکستان کے سیاسی اور فکری حلقوں میں دل چسپ حقائق کو منظر عام پر لانے میں مدد دی ہے ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتر محمد کا شمار اُن سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو حکمرانی کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کے حوالے سے بھی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں تنویر ظہور صاحب کے بقول”مہاتیر محمد کا ذاتی پس منظر ایک نہایت پسماندہ گھرانے سے ہے جنہوںنے غربت کی تکالیف کو کتابوں میں نہیں بلکہ خود اپنے اوپر گزرتے ہوئے دیکھا۔ ایک عام شہری کی طرح اپنی روزی کمانے والا ڈاکٹر مہاتیر محمد، ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی آزادی کی جدوجہد کا ایک کارکن بھی رہا۔ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں مہاتیر محمد لکھتے ہیں۔ ’’میں 1925ء کو ایلورستار (Alorsetar) میں پیدا ہوا جو ملایا (ملائشیا کا پرانا نام) کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ میں اپنے والدین کے دس بچوں میں سب سے چھوٹا ہوں۔ میرے والدین کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے تھا اور ہم ایک ایسی جگہ رہتے تھے، جسے آج کل جھونپڑ پٹی کہا جائے گا۔ میرے والد سکول میں استاد تھے اور بعد ازاں وہ گورنمنٹ آڈیٹر بنے۔ انہوں نے اپنے خاندان کی پرورش روایتی انداز میں کی، جس میں انکی خاص توجہ نظم و ضبط اور تعلیم پر تھی۔ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت رہا کہ میں نے اچھی تعلیم حاصل کی۔ میرے والد جنہوں نے قرآنی تعلیم حاصل کر رکھی تھی، مجھے قرآن پڑھایا۔ میرے لیے ایک دینی معلم بھی مقرر کیا گیا جو گھر آ کر مجھے قرآنی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم اور ایمان کے مسائل کی تعلیم دیتا تھا۔ اگرچہ ہمارا گھر کوئی شدید مذہبی رجحانات نہیں رکھتا تھا مگر پھر بھی ہم لوگ اسلامی عقائد سے جڑے ہوئے تھے۔ اس چیز نے مجھے زندگی میں اچھی ابتدا دی۔ جس کی بنیاد ایک مضبوط خاندان، اچھی تعلیم اور پاکیزہ دینی ماحول تھا۔ میرے والد بہت سے صوبوں میں تعلیم دیتے رہے اور آخر میں ’’کیداہ‘‘ (Kedah) صوبے کے قصبے ’’ایورستار‘‘ میں سکونت اختیار کی۔ یہیں میری پیدائش ہوئی‘‘ مہاتیر محمد نے اپنی کتاب میں ابھرتے ہوئے ایشیا کو درپیش اقتصادی مسائل اور اسکے روشن مستقبل پر بھرپور انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اپنے طالب علمی کے زمانے اور اپنی شریک حیات سے ملاقات کے حوالے سے مہاتیر محمد لکھتے ہیں ’’میں خود کو ایک بڑا لیڈر ثابت کرنے کیلئے اعلیٰ تعلیم کی ضرورت محسوس کرتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں اپنی باقی ماندہ زندگی سیاست کے نام وقف کردوں۔ اس سلسلے میں 1947ء میں میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے سنگاپور چلا گیا۔ اس دوران میں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو پسِ پشت ڈالے رکھا تھا۔ لیکن اسکے ساتھ ہی اس زمانے میں ملائشیا کے سیاسی افق پر ہونے والی تبدیلیوں کا بھی بغور جائزہ لیتا رہا۔ سنگاپور ہی وہ جگہ ہے جہاں میں پہلی بار اپنی بیوی سیتی ہشما محمد علی سے ملا۔ ہم دونوں ایک ہی کالج میں زیر تعلیم تھے اور پہلے ہی سال کے دوران ہم اچھے دوست بن چکے تھے۔ اگرچہ ڈگری مکمل ہونے سے پہلے تک ہماری باقاعدہ منگنی نہ ہوئی تھی لیکن ہم نے شروع ہی میں شادی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ سنگاپور وظیفے پر پڑھنے کیلئے آئی تھی۔ وہ دوسری لڑکی تھی جو کہ میڈیسن کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ میرے باپ کی طرح اسکے باپ کی بھی خواہش تھی کہ اسکے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ ہم دونوں نے سات بچوں کی پرورش کی جن میں سے تین بچوں کو ہم نے گود لیا۔ اپنی تمام زندگی جس میں پہلے ڈاکٹر اور بعد میں سیاست دان بنا۔ میری یہ اولین کوشش رہتی ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ وقت اپنے بچوں میں گزاروں‘‘ ڈاکٹر مہاتیر محمد سمجھتے ہیں کہ مستقبل نوجوان نسل کی امانت ہے اور انہیں انکے حق سے محروم نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کیلئے اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسے تاریخ کا طوق اپنے گلے سے اتارنا ہو گا۔ اکیسویں صدی کے نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ دنیا کے حقیقی شہری ہیں۔ انہیں رنگ و نسل اور زبان و مذہب سے بالاتر ہو کر اقوام کے امتیاز سے باہر نکلنا ہوگا”
آخر میں مہاتیر محمد کی 22 ستمبر 2003ء کو کی گئی تاریخی تقریر جو انھوں نے لندن” سکول آف اورنٹیٹل اینڈ افریقن سٹڈیز “میں کی تھی کچھ اقتباس شیئیر کرنا چاہوں گا کہ” مذہبی تعلیم کی طرح سائنس ٹیکنالوجی اور ریاضی کی تعلیم کو بھی عبادت کا درجہ ملنا چاہیے “
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں