ہمیں راؤانوار کو بچانا ہے۔۔ندیم منصور

ہِٹلر کے قریبی ساتھی اور نازی پارٹی کے اہم عہدیدار ہنرچ ہملر نے کہا تھا، ’بہترین سیاسی ہتھیار خوف کا ہتھیار ہے، ظُلم سے ہی احترام ملتا ہے، ہوسکتا ہے لوگ ہم سے نفرت کریں، ہمیں اُن کی محبت کی ضرورت نہیں، ہمیں اُنہیں صرف خوف میں مبتلا رکھنا ہے۔‘

ڈان کارلیون  ، سیسلین  مافیا کا گاڈ فادر جس کا اصلی نام  “توتورینا “تھا، اس نے سیاست اور جرائم کی اِس قدرِ مشترک کو صحیح معنوں میں اٹلی کے شہر سسلی  میں اپنے  جرائم پیشہ گروہ  کے لئے  اپنایا، سِسیلین مافیا کی سفاکی اور دہشت کا تو بہت چرچا ہوا لیکن یہ مافیا اپنے آغاز سے ہی اِس قدر سفاک نہیں تھا، سفاکی کی انتہا پر لے جانے والے سلواتورے توتورینا نے اٹلی میں مافیا کی ’اَن دیکھی‘ حکومت بنانے کی کوشش کی تو اٹلی کی حکومت اور امریکہ  دونوں ہی اِس کے درپے ہوئے اور  بالآخر اس مافیا کا زوال شروع ہوا۔

کارلیون کے ڈان کی حیثیت سے توتورینا نے 1978ء اور 1982ء کے درمیان دیگر مافیا باسز کا قتل کرایا اور مافیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی۔ مافیا باسز کے سفاکانہ قتل پر توتورینا کو ’بیسٹ‘ یعنی حیوان کا لقب دیا گیا۔ توتورینا  نے اپنے مافیا گینگ کو مضبوط کرنے کے لئے تمام مخالف مافیا باسز کے قتل  کروائے ،اِس جنگ میں درجنوں مافیا کارندے مارے گئے اورتوتورینا نے پولیس کے تفتیش کاروں اور ججوں کو ڈرانے کے لیے دو ججوں فالکن اور بورسلینو کو 1992ء میں بم دھماکوں میں ہلاک کروایا۔ اٹلی بھر میں ٹرینوں کے اندر، گِرجا گھروں اور عجائب گھروں کے باہر بھی دھماکے کرائے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر توتورینا پر ہاتھ ہلکا رکھے ہوئے تھی، کیونکہ کئی سیاستدانوں کو بھی توتورینا کی سرپرستی حاصل تھی، اِس لیے یہ مفرور رہا، مگر عوام کے دباؤ پر آخرکار پولیس کو گرفتار کرنا ہی پڑا۔ہائی سکیورٹی جیل اور توتورینا کے باہر کی دنیا سے رابطے منقطع کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود مافیا توتورینا کے زیرِ اثر رہا اور وہ کسی نہ کسی طرح مافیا سے رابطے میں رہا۔ توتورینا کا اصول تھا کہ طاقت ہی ہر قسم کے حالات میں فیصلہ کُن  ہوتی ہے۔  سِسلی اور اٹلی بھر میں قتلِ عام سے توتورینا نے عام انسان کی نظروں سے اوجھل مافیا کو سب کے سامنے طشتِ ازبام کیا، یہی غلطی اُس کی مافیا کوسا نوسترا کی تباہی کا سبب بن گئی۔

مافیا کے سب سے بڑے گاڈ فادر کی موت ہوچکی لیکن یہ مافیا ختم نہیں ہوئے ، جس کا یقین اٹلی کی پولیس کو بھی ہے اور حریف مافیاز کو بھی ہے، اور مافیا کے وہ  ہرکارے جن کو گاڈ فادر اپنے مخالفین کو  قتل عام کروانے کے لئے استعمال کرتا تھا،اور ان سے اپنے غیر قانونی کاروبار منشیات وغیرہ کے معاملات کرواتا تھا وہی لوگ گاڈ فادر کے مرنے کے بعد خود ایک مافیا بن جاتے ہیں ، جہاں نسل در نسل ایک ہی دھندا ہوتا ہے۔

راؤ  انوار بھی ایسے ہی ایک مافیا کا ہرکارہ یا مضبوط مہرہ ہے، راؤ  انوار بھی ایسے ہی ایک گاڈ مافیاز کے نظام کے تحت کام کرنے والا فرد ہے، اس مافیاز میں تمام مقتدر قوتیں شامل ہیں، راؤ  انوار پولیس یا کمیٹی کے سامنے اسی لئے پیش نہیں ہو رہا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ دوسروں کے لئے کرتا تھا، یہ الگ بات ہے جب وہ اس طاقت میں ان کے لئے کچھ کام کرتا تھا تو کچھ معاملات وہ اپنے فائدے کےلئے  بھی کرلیتا تھا،جسے ان مقتدر حلقوں کو کوئی فرق  نہیں پڑتا ، ہاں فرق پڑتا ہے تو عوام کو ، اور عام عوام اس نظام میں فقط کیڑے مکوڑے ہی ہیں، اگر واقعی راؤ انوار کمیٹی کے سامنے پیش ہو اور اس کی حقیقی تحقیقات کی جائیں تو وہ بھی عزیر بلوچ کی طرح ایسے تمام راز افشاں کرے گا ، جو ہمارے مقتدر حلقوں کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔کیونکہ یہ نظام ہر موجود ہ مقتدر حلقوں کی بقا سے جڑا ہوا ہے اور اس کی حقیقی تحقیقات اس نظام کو دھکا لگا سکتی ہے اور اس نظام کے تمام حلقوں کے لئے ایک دوسرے کو بچانا مجبوری ہے۔ اس نظام کو خطرہ پیدا ہو جائے  گا اور ہمارے تمام مقتدر حلقے حقیقتاً  اس نظام کو ابھی بھی چلانا چاہتے ہیں۔اس نظام کی اشرافیہ ایسے تمام مہروں کو چلاتی ہے ، اس میں وردی والے بھی ہیں اور جرائم پیشہ افراد بھی، چاہے وردی والوں میں  ماضی  کا چوہدری اسلم ہو یا حالیہ ایس پی راؤ  انوار  یا جرائم پیشہ افراد میں چھوٹو گینگ ہو یا رحمان ڈکیت یا عزیر بلوچ ہو یا صولت مرزا،  یہ سب اپنی اپنی ضرورت  پر سیاسی جماعتوں یا دوسرے مختلف مقتدر حلقوں کے لئے فقط ایک مہرے کی حیثیت رکھتے تھے اور وقت اور حالات کے اعتبار سے راز افشاں ہونے  پر ان کو بھی مار دیا جاتا ہے۔

ایسا ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا، پنجاب پولیس نے بھی قصور شہر میں چند مہینے پہلے بچوں سے  زیادتی کے الزام میں ماورائے عدالت قتل کیا اور بعد میں انکشاف ہوا کہ ان کا ڈی این اے مختلف تھا، یہاں فقط فائلیں بند کی جاتی ہیں۔

۱۹۸۱ میں  ایس پی ہاربر کے کلرک کے طور پر کام کرنے والا راؤ  انوار کیسے اتنے عروج پر پہنچا، وہ مسلسل ۱۰ سال ایک تھانے کا کیسے ایس پی رہا، راؤ انوار  پر ۲۵۰ سے زائد مقابلوں کا الزام ہے ، اس سے پہلے  انتظامیہ کی طرف سے کیوں اس بابت بات نہیں کی گئی؟

کیا راؤ  انوار کا ٹرائل ہوگا؟ راؤ  انوار کسی بھی افسر پر اعتماد کیوں نہیں کررہا ہے ، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بحیثیت ایک مہرہ ، اس کی ضرورت ختم کی جاسکتی ہے اور وہی متعلقہ پولیس افسران  جو ٹرائل کمیٹی کے ممبران ہیں وہ خودبھی مہرے ہی ہیں۔

مجھے ہرگز امید نہیں ہے کہ اس کا حقیقی ٹرائل ہوگا، کیونکہ کئی سال پہلے ہماری ریاست نے خود  فیصلہ کیا تھا، ۱۹۹۴ کراچی آپریشن میں کہ جرائم پیشہ افراد کو ہمیشہ عدالتوں سے رہائی مل جاتی تھی کہ ماوارئے عدالت قتل کرکے ان جرائم پیشہ افراد کو قتل کر دیا جائے، حیرت تو یہ ہے کہ ایس پی راؤ  انوار کی   ابھی تک صرف معطلی ہوئی ہے، جس معطلی سے اس کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا، یہاں تک کہ اس کو اس معطلی کے دوران تنخواہ تک  ملتی رہے گی۔ یہی چیزیں ان کو بڑھاوا دیتی ہیں جب ریاست خود ماورائے  عدالت قتل کی سند عطا کرے تو آج نقیب محسود ہو یا انتظار یا مقصود، یہاں ۲ دہائیوں سے یہ کھیل کھیلا جارہا ہے، ورنہ راؤ  انوار کے  ٹرائل سے زیادہ فقط راؤ  انوار کے ذاتی موبائل فون کا فرانزک ہی کافی ہوگا، یہ بتانے کے لئے کہ گزشتہ دس سالوں میں ان کے کن کن سیاستدانوں سے رابطے تھے، راؤ  انوار کے ساتھ آپریشن کرنے والے تمام پولیس والے اس ماورائے  عدالت قتل میں ملوث رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے ، راؤ  انوار کو بھی ایسے ہی پولیس مقابلے میں مار دینا چاہیے  ، اور ممکن ہے مقتدر حلقوں کے لئے شاید  اس نظام کی بقا کے لئے اب یہی راستہ بچے، لیکن میرا خیال ہے ہمیں راؤ   انوار کو پولیس مقابلے میں مرنے سے بچانا ہوگا۔

تا کہ ہم یہ جان سکیں کہ اس وقت راؤ  انوار کے ذاتی عقوبت خانوں میں مزید کتنے لوگ موجود ہیں؟

نقیب کے قتل کے دو دن بعد راو  انوار پر جو  خودکش حملہ ہوا ، اس خود کش حملہ آور کو گولی کس نے ماری؟ اگر کوئی خودکش حملہ آور پھٹ جائے  تو اس کے چیتھڑے اڑنے  کے بجائے اس کے جسم کو آگ کیسے لگی؟ کیا یہ واقعی خود کش حملہ تھا یا وہ بھی ایک جعلی حملہ تھا اور اس میں جل کر مرنے والا کون تھا؟

راؤ   انوار  کے ماتحت کام کرنے والے اور وہ تمام پولیس افسران  جو ٹرائل کمیٹی کے ممبران ہیں ان سب کے ساتھ بھی راؤ   انوار کیا کیا کام کرتا رہا ہے؟راؤ انوار کے پاس وہ کیا ذرائع تھے جس سے اس نے اتنی جائیدادیں بنائیں ؟

یہ مسئلہ ایک راؤ انوار کا نہیں یہ پورے نظام کا مسئلہ ہے ، جو پورے پولیس سسٹم، قانون، عدلیہ اور  سیاست  دانوں سمیت تمام مقتدر حلقوں سے جڑا ہے۔ورنہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جو پولیس عوام کی محافظ ہے ، ہمیشہ  بے قصورعوام  انہی پولیس والوں کے ہاتھوں ہی ماری جاتی ہے، جہاں سرحد کے محافظ جنہوں نے کبھی سرحد کے پار اتنے دشمن نہیں مارے ہوں گےجتنے انہوں نے  سرحد کے اندر مار دئیے، جہاں حکمران جماعت کا صدر نواز شریف اپنی ذاتی نا اہلی پر  عدل تحریک چلا رہا ہو، اور عدلیہ کا چیف جسٹس سیاست کے داؤ  پیچ سکھائے ، فوج کا ترجمان جمہوریت کے  تحفظ کی یقین دہانی کروا رہا ہو، جہاں پارلیمنٹ میں شیروانی پہن کر داخل ہونے کے خواب دیکھنے والا پارلیمنٹ پر لعنت بھیج  رہا  ہو، جہاں جمہوریت کے دعوے کرنے  والی پارٹی کا چئیرمین اپنے جرائم چھپانے کے لئے راؤ  انوار کے فئیر ٹرائل کا تقاضا  کر رہا ہو، جہاں استاد کے ہاتھوں معصوم بچے قتل ہو رہے ہوں ، جہاں شفیق اساتذہ کو شدت پسندی کی بنیاد پر طالبعلم قتل کردیں، جہاں معصوم بچیاں روز ریپ ہوتی ہوں ۔

وہاں ہمیں  راؤ  انوار جیسے ایک درندے  کو ایک مہرے کی موت سے بچاناہوگا۔ایسی کسی بھی موت سے جو بظاہر حادثاتی ہو یا پولیس مقابلے کی صورت میں ہو، یقینا ایسے گلے سڑے نظام میں ایک پہلا قدم ہوسکتا ہے ، پہلا ہوا کا جھونکا جو اس سڑاند زدہ  معاشرے اور نظام میں تبدیلی یا  صحیح قانونی بالادستی کے تحت انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں  قابل عمل ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *