سفر طویل ہو اور راستے میں گاڑی جُل دے جائے تو بھلا اس سے بڑی کلفت اور کیا ہو گی؟
ڈرائیور نے تپتے بونٹ کو دقتوں سے کھولا تو پتہ چلا کہ ریڈی ایٹر میں پانی ندارد اور گاڑی کی بیٹری بھی سوکھے کا شکار ۔ سردی میں تیزی سے ڈھلتی شام کالی ردا لیے دل کو ہراساں کرنے پہ کمر بستہ تھی۔
میں متفکر سی گاڑی کے پاس ہی کھڑی ڈرائیور سے میکینک کے متعلق بات کر رہی تھی کہ قریب سے گزرتے بزرگ نے صورت حال دریافت کی۔ بپتا سن کر کہا۔۔
بیٹی ! میرا گھر یہاں سے نزدیک ہی ہے آپ وہاں بیٹھو میں اور آپ کا ڈرائیو کچھ جگاڑ کرتا ہوں ۔ دل ان کی تجویز پر کچھ ٹھکا کچھ جھجکا مگر مجبوری کا نام شکریہ کہ دوسرا کوئی چارہ نہ تھا۔ گہری ہوتی دھند میں گاؤں کے مدقوق بلب روشنی کے نام پہ تہمت ہی تھے۔ عجیب اجاڑ سا گاؤں تھا جہاں نہ بندے نہ بندے کی ذات۔ دوسری گلی کا موڑ مڑتے ہی بزرگ کا گھر آ گیا۔ گھر کیا تھا مٹی کا کچا پکا سا کوٹھا جس کا محافظ سال خوردہ دروازہ بھی آخری دموں ہی پہ تھا ۔ دروازہ کھلتے ہی صاف ستھرا لپا پتا آنگن، جس کے آخری سرے پر چھپر تلے باورچی خانہ ۔ میں نے فون پر بابا جی کی اپنے میاں سے بات کروائی اور بابا جی نے مبشر کو تسلی دینے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کا تفصیلی پتہ اور فون نمبر بھی لکھوا دیا۔ پتہ ملتے ہی مبشر نے مجھے اپنے آنے کا عندیہ دے دیا۔ اس تمام کاروائی نے میری گھبراہٹ دور کر دی تھی اور میں اطمنان سے چولھے کے قریب پیڑھی پر بیٹھ گئی۔ اسی اثنا میں آنگن میں کھلتے دو دروازوں سے مزید خواتین بھی کمروں سے نکل آئیں۔ بابا جی مجھے ان کے حوالے کر کے گھر سے باہر جا چکے تھے۔
اس گھر میں کل پانچ خواتین تھیں، نہیں پانچ خواتین نہیں، دو تو نو عمر لڑکیاں تھیں۔ وہ سب بہت ہی خوب صورت اور موہنی سی، ان سب نے کالی چادریں اوڑھ رکھی تھیں۔ دونوں ٹین ایج لڑکیوں میں جو قدرے بڑی تھی اس نے اپنا تعارف گل خنداں اور اپنی خالہ زاد بہن کا پری گل کہ کر کروایا۔ دونوں لڑکیاں اردو بولنے پر قادر تھیں سو یہی میری ترجمان ٹھیریں۔ بقول گل خنداں، عمر رسیدہ خاتون اس کی نانی، پھر اس کی والدہ اور تینوں میں جو سب سے کم سن، بمشکل بتیس چونتیس برس کی تھیں وہ اس کی چھوٹی خالہ ۔ پری گل چھوٹی خالہ ہی کی بیٹی تھی۔ فرشتہ صفت بزرگ اس گھر کے سربراہ گل خنداں کے پر نانا تھے۔
ہلکی پھلکی بات چیت، قہوے اور نمکین پستے سے میری مدارات ہوئی۔ گل خنداں کی والدہ اور خالہ، دونوں رات کے کھانے کی تیاریوں میں جت گئیں۔ نانی اور دونوں لڑکیاں میرے قریب ہی بیٹھی میرا احوال لیتی رہیں۔ نانی، ڈرائیور کے ساتھ میرے تنہا سفر پر بہت جز بز ہوئیں اور پشتو میں ناگواری سے اپنی نواسی سے کچھ سخت ست بھی کہا، جس کا گل خنداں نے ترجمہ نہ کرنے ہی عافیت جانی۔ اس گھر میں اتنے لوگوں کے باوجود ایک عجیب سی اداسی اور ویرانی تھی۔ میں نے گل خنداں سے پوچھا تم سب نے کالی چادریں ہی کیوں اوڑھ رکھی ہیں؟
کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے یا محض روایت ؟
میرا یہ سوال سننا تھا کہ گویا دکھوں کا بند ہی ٹوٹ گیا۔ وہ تینوں خواتین زار زار رونے لگیں۔ گل خنداں نے سسکیوں اور آہوں کے درمیان بتایا کہ آج سے پونے پندرہ برس قبل یعنی پہلی جنوری 2010 کو جب وہ محض ڈھائی سال کی تھی۔ جنوری کی اس ٹھٹھرتی شام ہمارے گاؤں شاہ حسین خیل میں والی بال کا بہت بڑا مقابلہ تھا۔ والی بال گاؤں والوں کا پسندیدہ کھیل سو قریبی گاؤں کے لوگ بھی میچ دیکھنے کے لیے جوق در جوق آئے ہوئے تھے۔ دوسرے دن چونکہ اتوار تھا اس لیے کسی کو کام پہ پہنچنے کی فکر بھی نہ تھی کہ مہمانوں کے رہنے، سونے کو خان کا ڈیرا حاضر تھا۔ شام سے بڑے میدان میں رش لگا ہوا تھا۔ کھیل شروع ہو چکا تھا اور کانٹے کا میچ تھا۔ ڈھول کی تھاپ اور لوگوں کے جوش نے سماں باندھ دیا تھا۔ میرے نانا، میرے ابا اور میرے دونوں چھوٹے ماموں بھی تماش بین میں شامل تھے۔ میرے اکلوتے خالو یعنی پری گل کے والد گاؤں کی ٹیم میں بطور کھلاڑی شریک تھے۔
میرے پرنانا میدان سے پچیس تیس گز دوری پر بنی مسجد میں امن کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے۔ مغرب کی اذان ہونے ہی والی تھی کہ نانا جی بتاتے ہیں کہ اتنا زبردست دھماکا ہوا کہ مسجد کی کھڑکیاں اور دروازے اڑ کر ہم پر آن گرے۔ نانا جی ننگے پیر گرتے پڑتے میدان کی طرف بھاگے۔ ہر جگہ آگ اور کراہیں تھیں۔ نانا دیوانہ وار اپنے بیٹوں اور دامادوں کو ڈھونڈ رہے۔ دھماکے سے میدان میں بہت بڑا گڑھا پڑ چکا تھا۔ پتہ چلا کہ کسی خود کش بمبار نے آتش گیر مادے سے بھرا ڈبل کیبن ٹرک میدان کی دیوار سے ٹکرا دیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے بیس کے قریب کھلاڑی مارے گئے۔ تماش بین میں سو سے زیادہ لوگ ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے۔ اس سیاہ بخت شام ، پر نانا کے علاوہ ہمارے گھر کے سارے مرد مارے گئے۔ یہ صرف ہمارے ہی گھر کی نہیں بلکہ گاؤں کے ہر گھر کی کہانی ہے۔ گاؤں میں اب مردوں کی تعداد ایک تہائی بھی نہیں ہے۔ گاؤں میں یا تو بوڑھے ہیں یا پھر بچے، جوانوں میں بچ رہنے والے زیادہ تر معذور ہیں۔
اب ہمارے گاؤں کا نام “شاہ حسین خیل” نہیں بلکہ “کونڈو کلے” ہے۔ کونڈو کلے یعنی بیواؤں کا گاؤں سو سیاہ چادریں ہماری عورتوں کا مقدر۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں