شملہ کہانی(2)-محمد علم اللہ

ان دنوں پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے درالحکومت شملہ کے مضافات سنجولی میں واقع ایک مسجد کو لیکر ہنگامہ بپا ہے۔ شملہ سفر کے دوران میں مسلمانوں سے متعلق میں نے کچھ معلومات اکٹھا کی تھیں۔ کچھ اقتباسات اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

۔۔۔۔۔
وہاں سےرات گئے جب ہم واپس لوٹے تو ایک مسلم ہوٹل میں رات کے کھانے کا منصوبہ بنا ۔ یہاں مسلم ریستراں تلاش کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ بہر حال ہم ایک ہوٹل میں پہنچے، اس کا نام دلی ریسٹورنٹ ہے۔ شملہ میں حلال گوشت کی دکان تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ مال روڈ پر مسجد کے سامنے کشمیریوں کی ایک دکان ہے، جہاں حلال گوشت ملتا ہے۔ مسلم طلبہ جو ہما چل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں یا مزدور ہیں، وہ یہیں سے گوشت لے جاتے ہیں۔ لکڑ بازار سے ذرا آگے، ڈھلوان اتر کر دلی والوں کا ایک مسلم ہوٹل ہے، جہاں حلال گوشت کے علاوہ بریانی بھی ملتی ہے۔ ہم دو مرتبہ اس ہوٹل میں گئے۔ دلی کی طرح عمدہ اور سستا کھانا تو نہیں تاہم غنیمت تھا۔
مجھے شملہ کی مسلم کمیونٹی کے مسائل اور ان کی بود و باش دیکھنے اور سمجھنے میں خاصی دلچسپی رہی۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہاں مسلم آبادی بہت کم ہے، جن کی تعداد دو فی صد سے بھی نیچے ہے۔ شہری آبادی میں خال خال ہی مسلمان ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی تھی لیکن تقسیم ہند کی بنیاد پر پنجاب کے کچھ علاقوں میں جو مار کاٹ ہوئی، اس کی وجہ سے بہت سے مسلمان یہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے، یا ان غریبوں نے اپنی شناخت چھپا لی۔
یہ جان کر مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ شملہ میں بھی وقف کی اراضی ہے، مگر یوپی، بہار اور بنگال کی طرح یہاں بھی وہی لوٹ کھسوٹ اور بد عنوانی کا بازار گرم ہے۔ بڑے بڑے باغات پر قبضے ہیں۔ مسجدوں اور درگاہوں تک کو نہیں چھوڑا گیا۔ یہ سب ناجائز قبضہ کسی اور نے نہیں، اپنے تئیں مسلمان کہلائے جانے والوں کے ہاتھوں یہ انجام پا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلم شہنشاہوں نے صرف عیاشیاں کیں، اگر انھوں نے کام کیا ہوتا تو آج مسلمانوں کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے! مجھے اس سے قطعاً اتفاق نہیں ہے۔ ذرا تصور کیجیے، دور بے آب و گیاہ چٹیل زمین، جہاں آدم نہ آدم زاد، ہمارے بزرگوں نے وہاں بھی ایمان کی قندیلیں روشن کیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بہت کچھ چھوڑ کر گئے۔ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جائیں گے۔ کاش مسلمان ایسا سوچتے!

چوں کہ اگلے روز دہلی کے لیے روانگی تھی اور جمعہ کا دن بھی ۔ لکھتے پڑھتے اور گپ شپ کرتے کب وقت گزرا اندازہ ہی نہ ہوا ۔ اس دن ایک بزرگ نے ہمیں کھانے کی دعوت دی تھی۔ ہم جب اپنے میزبان سے ملنے نکلے، تو دو پہر کا ایک بجنے کو تھا۔سورج ابھی بیچ آکاش میں تھا، لیکن ساتھ ہی ابر کے ٹکڑے گھیرا ڈالے ہوئے تھے، تاہم بادلوں سے ابھی سورج کے رخسار واضح تھے اِدھر ہم دھرتی کے سینے پر اونچی نیچی پہاڑیوں کو عبور کرتے ہوئے شملہ، بالو گنج میں واقع ایک چھوٹی سی مسجد پہنچے تو وقتِ جمعہ کی شُبھ گھڑی تھی۔ کچھ نمازی نوافل اور سنتوں میں محو تھے، تو کچھ وضو کرنے میں منہمک۔ ہم بھی جمعہ کے اجتماع میں شریک ہو گئے اور نمازِ دو گانہ ادا کی۔
اس اجنبی جگہ پر ہمارا یہ آخری پڑاؤ تھا۔ نماز کے بعد بزرگ امام صاحب اپنے حجرے میں جا بیٹھے، اب مریدین کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ ہم بھی ادب سے ایک کنارے بیٹھ گئے۔ کوئی تام جھام، نہیں بالکل سادہ زندگی اور سادہ مزاج لوگ!
عادل نے مجھ سے کہا ”کیا تم نے مولانا کو بتا دیا ہے کہ ہم آ گئے ہیں؟“
میں نے کہا”ابھی بتائے دیتا ہوں۔“ تعارف کراتے ہی اس نورانی داڑھی والے بزرگ نے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دیر تک دعائیں دیتے رہے۔
ہم بیٹھے تو انواع و اقسام کے کھانے دستر خوان پر چُن دیے گئے۔ کھانے کے ساتھ کہانی جاری ہو گئی۔
مولانا نے پوچھا: ”قیام کہاں ہے“؟۔ ہم نے کہا : ”ایڈوانس اسٹڈی میں“۔ان کے چہرے پر جیسے چمک سی دوڑ گئی ۔ کہنے لگے: ” ایک زمانہ تھا، جب ایڈوانس اسٹڈی میں ہمارے واقف کار تھے، تو ہم وہاں جاتے تھے۔ چار پانچ سال پہلے پروفیسر اختر الواسع صاحب بھی کسی سیمینار کے سلسلے میں یہاں آئے تھے اور بہت دن قیام کیا تھا، تب ہم بارہا ان کے پاس جاتے تھے“۔
ہم نے پوچھا: ”غالِباً یہی آپ کا مدرسہ ہے، جس کے بارے میں وحید الدین خاں صاحب نے تفصیل سے لکھا ہے “، تو مسکرائے اور گویا ہوئے: ’بالکل یہی وہ ادارہ ’مدرسہ اصلاح الفکر‘ ہے۔
ان کی کہانی جاری تھی : ”شملہ، ہماچل پردیش ہندوستان کی ایک الگ بود و باش والا علاقہ ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کے مدرسے کی نوعیت بھی دیگر اداروں سے مختلف ہے۔ ہمارے ادارے کے طلبہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں اور قیام و طعام ہمارے یہاں کرتے ہیں، اس سے انھیں دینی ماحول مل جاتا ہے۔ وہ کہے جا رہے تھے،” تعلیم و تربیت کے حوالے سے ہمارا نظریہ، زمانہ طالب علمی ہی سے دوسروں سے جداگانہ رہا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہندو قوم بڑی سیدھی قوم ہے۔ جو بے چاری لکشمی کی پوجا کرتی ہو، ہر طاقت وَر چیز کے سامنے جھک جاتی ہو، یہاں تک کہ سانپ، بندر وغیرہ کو پوجتی ہو، وہ سیدھی قوم ہی ہو سکتی ہے“۔ شملہ کی پہاڑیوں ہی کی طرح بات ایک چھور میں نہیں جا رہی تھی۔
جانے کیا بات نکلی کہ انھوں نے کہا : ”ہم اس وقت تک دنیوی اعتبار سے کامیاب نہیں ہو سکتے، جب تک ہم ’ایڈمنسٹریشن‘ میں نہیں جائیں گے۔اب دیکھیے سِکھ تعداد میں ہم سے بہت کم ہیں، لیکن انتظامیہ میں اُن کا پورا دخل ہے، ہم جب تک انتظامیہ میں نہیں جائیں گے، بات نہیں بنے گی۔ اسی نظریے کے تحت ہم نے منظور نعمانی کے حکم سے 1988ء میں یہ ادارہ بنایا تھا، جس کا الحمدللہ خوش کُن نتیجہ بھی مل رہا ہے۔ ہمارے مدرسے میں دینیات اور حفظِ قران،عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دی جاتی ہے۔ اب ہمارے کافی فُضلا سرکاری نوکریوں میں ہیں۔ اب تو ہمارے بڑے اکابر نے بھی اس کی ضرورت محسوس کرلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سنگ بنیاد کے موقع پر اپنے خطبے میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی قدس سرہ نے بھی اسی نظریے پر زور دیا تھا۔“
ہم نے مولانا سے دریافت کیا: ”آپ کے مدرسے میں کتنے مقامی اور کتنے غیر مقامی طلباء ہیں“۔ کہنے لگے ” ہمارے ادارے میں ایک آدھ کو چھوڑ کر تمام طلبا مقامی ہی ہیں۔ہم نے مولانا سے پوچھا : ”آج جو مسلمانوں کی صورت احوال ہے، اس حوالے سے آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟“، تو انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ”ہم تو سیدھے سادھے مولوی، ملا آدمی ہیں، ہمیں حالات حاضرہ کے تعلق سے زیادہ شعور نہیں ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے، جب آپ جیسے عصری تعلیم یافتہ لوگ یہاں آتے ہیں۔ ہمارے یہاں اکابر علما بھی آتے رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں کے طلبا کے حالات یہ ہیں کالجوں میں پڑھتے ہیں، پھر ہمارے یہاں آ کر لباس تبدیل کرتے ہیں اور یہ کام وہ چوری چھپے نہیں کرتے، بلکہ سب کو معلوم ہے، ہمارے یہاں تمام طلبا مقامی ہی ہیں، ایک آدھ ہی باہر کا ہوگا۔ ’ہماچل‘ کے آثار و باقیات کو دینک نامی گاؤں میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ یہاں سے قریب ہی ہے، جب میں ’دینک‘گاؤں میں گیا تھا تو مسجدیں کچی تھیں۔ بدعات کا زور تھا، اب تو علم کا خوب چرچا ہے“۔
”آپ یہاں کیسے پہنچے؟“، ہمارے اس بے چین استفسار پر ان کا کہنا تھا:
”ہمیں تو یہاں ایک نظریے کے تحت ’جمعیت علمائے ہند‘ کی جانب سے 1973ء میں بھیجا گیا تھا۔ ’جمعیت علمائے ہند‘ وہ جماعت ہے، جو بٹوارے سے پہلے پاکستان بنانے کے خلاف تھی، لیکن جب ملک تقسیم ہو گیا، تو اس کے بُرے اثرات پنجاب، بنگال اور راجستھان پر پڑے! جمعیت کے اکابر مثلاً مولانا حفظ الرحمن سیو ہاری، مولانا عبدالقادر رائے پوری، مولانا سید حسین احمد مدنی اور مولانا سید محمد میاں نے سوچا کہ پنجاب کے دیہات میں جو بچا کھچا مسلمان ہے، اس کو منظم کر کے ان کی آبادکاری کی کوشش کرنی چاہیے۔“
بات کرتے کرتے کب وہ تقسیم کا قصہ سنانے لگے کچھ پتا ہی نہیں چلا، بولے : ” پنجاب کے علاقوں میں جو مسلمان باقی رہ گئے تھے، انھیں مسلمان ہونے کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس لیے روکا گیا تھا کہ وہ مزدور قسم کے لوگ اور نچلے پیشے مثلاً نائی، دھوبی اور تیلی وغیرہ تھے، اور ان سے انھیں کام لینا تھا۔ اگر یہ لوگ بھی ہجرت کرجاتے تو ان لوگوں کو بڑی دشواری ہوتی، اسی لیے انھوں نے انھیں راضی کر کے ہجرت سے باز رکھا۔ نائی کا کام بال بنانا،تیلی کا کام تیل نکالنا، دھوبی کا کام کپڑے دھونا تھا، تو اس لیے یہ بے چارے رکھ لیے گئے تھے۔ یہ مزدور طبقہ دینی اعتبار سے بھی پس ماندہ تھا۔ ان کے یہاں مذہبی تعلیمات و رسومات کی کوئی زیادہ حیثیت نہیں تھی۔ یہ سیدھے سادھے لوگ علاقے کی بڑی برادریوں کی تقلید کرتے تھے اور ان کی رسموں کو اپناتے تھے، اسی لیے ان کو روکنے میں بھی مقامی لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ اس طبقے کو اس وقت بھی اشراف اقوام اپنے سے دور رکھتی تھیں، اگرچہ اسلامی تعلیمات کی وجہ سے چھوت چھات تو نہیں تھی، لیکن اس کا اثر ضرور تھا۔ مغربی اتر پردیش میں تو یہ اثر کسی حد تک آج بھی ہے۔“
انھوں نے ایک آہِ سرد بھری اور پھر گویا ہوئے : ”تو اکابرِ جمعیت نے ان علاقوں میں اپنے آرگنائزر بھیجے اور ان کی دینی حالت کی درستی کے لیے جگہ جگہ مکاتب قائم کرنے شروع کیے۔یہاں دینک نامی ایک گاؤں ہے، جہاں بدعات کا بہت رواج تھا اور بدعات جہالت کی وجہ سے پھیلتی ہیں ۔ اس گاؤں میں جو بھی عالم جاتا وہ مقامی لوگوں سے بحث بہت کرتا تھا کہ ’ختم‘ اور ’فاتحہ‘ ناجائز ہے، اسے نہیں کرنا چاہیے، یہ حرام ہے وغیرہ۔
’ختم‘ کا طریقہ یہ تھا کہ جمعرات کی شام کو ایک بہت بڑا دسترخوان بچھایا جاتا، پھر امام صاحب قرآنی آیات پڑھتے۔ اس محفل میں انواع و اقسام کے کھانے جمع کیے جاتے اور ’فاتحہ‘ وغیرہ کے بعد سب مل بانٹ کر کھا لیتے تھے۔ تو اس طرح دو تین عالم یہاں سے لڑ جھگڑ کر چلے گئے تھے۔ اچھا میرا خاندان کوئی علمی تو نہیں ہے۔ وہ تو بس، میرے دادا مذہبی آدمی تھے۔ اور ان کی تمنا تھی کہ میں عالم بنوں۔“
ان کی کہانی جاری تھی : ”میرے والد صاحب یونانی ڈسپنسری میں سرکاری ملازم تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ تو میں دیوبند سے فراغت کے بعد ’طبیہ کالج‘ میں داخلہ کی سفارش کی غرض سے مولوی سید محمد میاں کی مسجد واقع بَلی ماراں میں پہنچ گیا۔ عصر کے وقت ہم پہنچے تھے۔ مولانا کا معمول تھا کہ عصر کے بعد وہ لوگوں سے ملاقات کرتے تھے۔ اس دن بھی بہت سے لوگ اکٹھا تھے۔ ہم بھی انہی کے ساتھ بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے، تا آں کہ ہمارا نمبر بھی آ گیا،انھوں نے ہم سے پوچھا، کیوں آئے ہو؟۔ ہم اس وقت نئے نئے فارغ ہوئے تھے، تو ہم نے بغیر کسی تمہید کے مدعا عرض کر دیا۔ کہ ’طبیہ کالج‘ میں داخلے کے لیے، آپ کی سفارش چاہیے۔ یہ سن کر مولانا غصہ ہو گئے اور ڈانٹتے ہوئے کہا داخلہ کوئی ایسے ہی ہو جاتا ہے؟ —کس نے کہا تم سے۔۔۔ میں نے عرض کیا: ایک ساتھی نے کہا تھا کہ مولانا میاں کی سفارش مل جائے گی، تو داخلہ ہو جائے گا، میں اسی لیے یہاں آ گیا۔ پوچھا :کیا پڑھا ہے؟ میں نے کہا،دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوں۔یہ سن کر انھوں نے ایک لمبی سانس لی، ان کی کیفیت آج بھی میرے نہاں خانہ ذہن میں محفوظ ہے، پھر فرمایا ’میاں! حکیم، ڈاکٹر تو بہت بن جائیں گے، تم دیو بند سے فارغ ہو، دین کا کچھ کام کرلو۔‘ ہم نے سوچا، داخلے تو اگست میں ہوں گے اور بڑے میاں ناراض بھی ہو رہے ہیں، تو ان کی خوشی کی خاطر ہی چند ماہ تک ان کے کہنے کے مطابق کرلیں، تب تک یہ بھی ہم سے راضی ہو جائیں گے اور داخلے کی تاریخ بھی قریب آ جائے گی۔ میں نے کہا، حضرت! جو حکم ہو“۔
پوچھا ”ہماچل جاؤ گے؟“، ہم نے اس وقت ہماچل کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ ہم مظفر نگر میں پیدا ہوئے۔ ہمیں پنجاب کے اثرات بھی نہیں معلوم تھے۔ ہم نے ان سے کہا :چلے جائیں گے۔ اگلے دن ’جمعیت‘ کے دفتر آ گئے۔ انھوں نے بلاس پور تک کے لیے پندرہ روپے دے دیے اور کہا ’دس کرائے کے ہیں پھر ایک پرچا لکھ کر یہ کہتے ہوئے ہمیں پکڑا دیا۔ اگر تم کامیاب ہو گئے، تو اللہ کے ہاں بہترین اجر ملے گا۔ پھر ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”میاں! شرک نہ کرنا اور بدعات کے ختم کرنے میں احتیاط سے کام لینا“۔
ان کی کہانی جاری تھی ۔”اب ہم دیوبند آئے، اپنے روم میں دوستوں کو جمع کیا اور اعلان کیا کہ ہم تو پڑھانے ہماچل جا رہے ہیں۔ میرے ساتھی مولوی نہال ہیں۔ انھوں نے کہا،ابے! تجھے ہماچل کا کچھ پتا بھی ہے؟ میں نے کہا :مجھے راستہ بتایا ہے اور کرایہ دے دیا ہے۔ اب مجھے اور کیا جاننا؟ انھوں نے کہا :چل، پہلے ہمیں چائے پلا۔ اب ایک ہوٹل میں بیٹھ کر ہم نے چائے پی۔ پھر سہارن پور اسٹیشن سے سوار ہو کر تین دن میں روپڑ اسٹیشن پہنچے۔ وہاں اتر کر دیکھا، تو سب سِکھ ہی سِکھ نظر آرہے تھے۔ اس وقت وہاں کی ’جمعیت‘ کے ذمہ دار مولانا ظہیر عالم تھے۔ اسٹیشن سے ہم نے ایک رکشے والے کو پکڑا، اس سے پوچھا بلاس پور جانا ہے۔ اس نے کہا میں دو روپے میں ’بلاس پور‘ بس اڈے چھوڑ دوں گا۔ہم ’بلاس پور‘ کے لیے بس کے ذریعے روانہ ہوئے۔ جب راستے میں پہاڑی علاقہ شروع ہوا، تو سب کو الٹی ہونے لگی، میں نے کنڈیکٹر سے پوچھا یہ بیمار ہیں کیا جو الٹی پہ الٹی کر رہے ہیں، یہ سن کر اس نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر کہا،ْپہلی دفعہ جا رہے ہو، چپ چاپ بیٹھو! تمھیں بھی الٹی آ جائے گی۔ خیر مجھے کچھ نہیں ہوا۔‘
سفر کے احوال کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وہ گویا ہوئے ’جس گاؤں میں مجھے بھیجا گیا تھا وہ سارا گاؤں مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ 1947ء سے پہلے وہاں ایک راجہ کی ریاست قائم تھی۔تقسیم کے وقت اس گاؤں سے بھی اکثر لوگ پاکستان چلے گئے لیکن کاشت کار وغیرہ نہیں گئے ۔ وہاں بدعات بہت زیادہ تھیں۔ 18 مارچ 1973ء کو میں وہاں پہنچا اور اپریل کے پہلے ہفتے میں، میرا ذہن بالکل بدل گیا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ابھی آئے ہوئے مجھے چند ہی دن ہوئے تھے، ایک دن میں سو رہا تھا، ایک آدمی میرے پاس آیا، اس نے مجھے اٹھایا اور کہا میں پاکستان سے آیا ہوں۔ میں نے کہا تو پھر؟ کہنے لگا، پہلے میری پوری بات سن لو۔‘
مولانا کی گفتگو نے ماحول میں ایک سنسنی پھیلا دی ۔انھوں نے بتایا کہ ’وہ بولا کہ جگندر نامی ایک جگہ ہے۔ وہاں ایک آدمی مر گیا ہے، اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاؤگے تو گاؤں والے اسے جلا دیں گے۔ خیر !میں وہاں چلا گیا۔ وہاں میاں بیوی دو لوگ تھے۔ بوڑھی عورت مجھے دیکھتے ہی میرے پیروں میں گرنے لگی اور کہنے لگی ’مولبی ساب‘ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ مجھے بڑا اچنبھا ہوا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا؟یہ بُڑھیا میرے پاؤں میں گر کر ایسا کیوں کَہہ رہی ہے، تو معلوم ہوا کہ اس علاقے میں نمازِ جنازہ پڑھانے والے قاضی کی فیس طے ہوتی تھی! وہ آتا تھا تو پہلے کچھ میوہ جات کھاتا، اس کے بعد نمازِ جنازہ پڑھاتا اور فیس لے کر ہی جاتا تھا، بغیر فیس کے نماز پڑھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یہ سن کر مجھے بڑا دکھ ہوا، کیوں کہ ایک تو انسانی فطرت کے اعتبار سے بھی یہ غلط ہے اور شرعاً تو خیر غلط ہے ہی۔ میں اس امّاں کے پاس گیا اور کہا ’امّاں! صرف کرایہ ہی لے لیتا، مگر اب وہ بھی نہیں لوں گا‘۔ یہ کَہہ میں نے مجمع سے پوچھا قبر کھودنے کیوں نہیں گئے؟ لوگوں نے کہا :’قبر کھودنے نہیں دیں گے!‘ اب میں تو اس جگہ سے آیا تھا، جہاں یہ مسئلے تھے ہی نہیں۔ خیر میں انھیں لے کر قبرستان پہنچا، وہاں قبر کھودنی شروع کی تو ایک پولیس والا آ گیا۔ کہنے لگا یہاں کیا کر رہے ہو۔ ہم نے کہا اور کیا کر نا ہے قبر کھود رہے ہیں۔ کہنے لگا یہاں نہیں کھود سکتے۔ اس بحث کے دوران میں میرے ساتھ جو لوگ آئے تھے، وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے، میں اکیلا رہ گیا تھا۔ مجھے قدرتی طور پر ڈرنا چاہیے تھا، لیکن میں ڈرا نہیں، لیکن دوسری طرف وہ بالکل اَڑ گیا کہ قبر نہیں کھود سکتے، میں نے بھی ہٹنے کا نام نہ لیا، پتا نہیں کہاں سے ایک غیبی طاقت میرے اندر عود کر آئی تھی، میں نے اسے ہڑکاتے ہوئے کہا؛ ’بات سن یہاں قبر ضرور کُھدے گی۔ ہم پولیس والوں کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ وہ ہمیں تھانے لے گیا اور ’ایس پی‘ کو فون ملا دیا۔ اس وقت ’ہماچل‘ میں افسر زیادہ تر ’یوپی‘ اور ’بہار‘ وغیرہ کے ہوتے تھے۔ اس نے ’ایس پی‘ سے کہا یہ بہت بکواس کر رہا ہے۔ ’ایس پی‘ نے اس سے کہا، اس سے پوچھو یہ ’جمعیت‘ کا آدمی تو نہیں ہے۔ میں سُن رہا تھا۔ اس سے ’جمعیت‘ کا نام نہیں لیا گیا، میں نے سنتے ہی کہا ہاں میں ’جمعیت‘ کا آدمی ہوں۔ یہ سن کر اس ’ایس پی‘ نے اس افسر کو دھمکی دیتے ہوئے کہا اس کی مدد کر، ورنہ تیری نوکری چلی جائے گی۔
اس وقت پنڈت نہرو سے مولانا حفظ الرحمن سیوہاری نے ایک ’خط‘ لکھوایا تھا کہ ’جمعیت‘ کے آدمی کو پریشان نہ کیا جایے۔ اب ہمیں یہ پتا ہی نہیں تھا۔ یہ سن کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وہ ہمارے ساتھ قبرستان آیا اور خود بھی قبر کھودنے میں ہماری مدد کرنے لگا۔ ہم نے ’نمازِ جنازہ‘ پڑھائی اور تدفین کر دی۔ اس واقعہ سے میرے ذہن کا رخ یک لخت تبدیل ہو گیا۔ ہم نے تہیہ کیا کہ اب یہاں رہ کر ہی کام کرنا ہے۔ ہم نے اس بستی کے لوگوں کے نام پوچھے، تو کسی کا نام مَلِک رام تھا، کسی کا تلک رام، کسی کا ابھشیک علی۔
اس بستی کی حالت بڑی نا گفتہ بہ تھی۔ ہم نے بستی والوں سے کہا کہ ہمیں اپنے بچے دو، ہم انھیں پڑھائیں گے اور ان کی تربیت کریں گے۔ خیر! اس وقت انہوں نے بچے تو حوالے نہیں کیے، لیکن اُن پر یہ تاثر ضرور قائم ہو گیا کہ ’جمعیت‘ اس علاقے میں کچھ کام کرنا چاہتی ہے۔۔اس وقت میں نے بڑی دل جمعی اور سکون سے کام کیا۔ اس وقت میں ایک سال تک گھر نہیں گیا۔ والد صاحب بہت کہتے رہے گھر آ جاؤ، مگر مجھ پر کام کی دُھن سوار تھی، اسی لیے میں گیا ہی نہیں۔ تبھی مولانا میاں کی اس نصیحت کی معنویت ہم پر آشکار ہوئی کہ بدعت کے ختم کرنے میں حکمت سے کام لینا۔‘
ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ’اپنے سفر کا احوال سناتے وقت اب مولانا ممتاز قاسمی بھی شاید پھر کٹھنائیوں سے گزر رہے تھے، ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے سلسلہ تکلم جوڑا اور بولے ’مجھے اللہ نے یہ طریقہ سمجھایا ہے کہ بحث و تکرار سے نہ تو مسئلہ پہلے حل ہوتا تھا نہ اب ہوتا ہے۔ ’بلاس پور‘ میں ’جمعیت‘ کا مرکز تھا۔ مولانا ظہیر عالم نے مجھے دینک نامی گاؤں میں لے جاکر چھوڑا تھا۔ وہاں میرے بہت شاگرد اور رشتے دار ہیں۔ اب تو وہ گاؤں دینی و تعلیمی اعتبار سے مالامال ہے، بدعت کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ میرے ایک شاگرد نے وہاں اسلامیات کا ایک اسکول بھی بنایا۔آدمی جب بگڑتا ہے، تو اسے سدھارنے کے تین طریقے ہیں۔ عصری تعلیم، مذہبی ’شکشا‘ اور ’گیان‘ وغیرہ اور جو ان دونوں طریقوں سے نہ مانے اسے تھانے کے حوالہ کیا جاتا ہے! میرا ماننا ہے بات اگر سمجھانے بجھانے سے بن جاتی ہے، تو بے وجہ لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے ہندؤوں سے تعلقات اچھے ہیں، ہم ان سے برابری کی سطح پر بات کرتے ہیں اس سلسلے میں کسی مداہنت یا دباؤ کا شکار نہیں ہوتے۔ مولانا وحید الدین خان کو ہماری یہ بات بھی بہت پسند آئی تھی کہ ہم غیر مسلموں سے بھی میل جول رکھتے ہیں۔‘
’بہت پہلے کی بات ہے ‘ مولانا کی گفتگو نئے پڑاؤ کی طرف داخل ہونے کو تھی، وہ بولے ’ایک پنڈت تھے، جو فکری طور پر ’آر ایس ایس ‘ سے منسلک تھے۔ وہ میرے پکے دوست تھے۔ جب رام مندر کے لیے اڈوانی نے ’رَتھ یاترا‘ نکالی، تو اس پنڈت نے مقامی یاترا نکالتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ مسجد کے سامنے ہنگامہ نہیں کیا جائے گا۔ میں اس وقت حکومت کے عہدے پر تھا۔ تو حفاظت کے خاطر ’ایس پی‘ منہاج نے یہاں دو ’کانسٹیبل‘ بھیج دیے۔ اس وقت ملک کا ماحول بڑا زہر آلود تھا۔ دونوں قوموں کے درمیان نفرت کی گہری کھائی تھی۔ خیر جب وہ کانسٹیبل یہاں آئے، تو پیچھے پیچھے پنڈت جی بھی آ گئے اور کہنے لگے: مولانا آپ کو ہم پر’ وشواس‘ نہیں ہے، جو ان پولیس والوں کو بلا لیا۔ میں نے’ کانسٹیبل ‘کو بلا کر ان کے سامنے پچھوایا کہ ذرا بتلانا تمھیں کس نے یہاں بھیجا ہے۔ معلوم ہوا، وہ ہماری بغیر طلب پر یہاں بھیجے گئے تھے۔ تو پنڈت جی خوش ہو گئے اور کہا آپ کو یہاں کوئی پریشان نہیں کرے گا۔ وہ پنڈت جی بڑے ’ مزاحیہ ‘ آدمی تھے۔ میں ان کے ہر پروگرام میں شریک ہوتا تھا۔ حالاں کہ وہ پکے ’آر ایس ایس‘ کے آدمی تھے، وحید الدین خان جس دن یہاں آئے، وہ بھی آ گئے تو وحید الدین خان نے پنڈت جی کا انٹرویو لیا۔ سوال کیا کہ تمھیں، مولانا سے کوئی پریشانی تو نہیں ہے۔ پنڈت نے کہا وحید صاحب دھرم تو ہم دونوں کا جداگانہ ہے، لیکن ہم یہ مانتے ہیں کہ یہ مولانا بڑے اچھے انسان ہیں۔ ’ہندو مسلم‘ کے نام پر کبھی کچھ غلط نہیں کرتے۔‘
مولانا نے شاکرانہ لہجے میں کہا ’خدا کا شکر ہے، اللہ نے ہم سے جو کام لیا، ہم نے اسے بغیر کسی لالچ کے انجام دیا۔ میرا اپنا کوئی مکان نہیں ہے۔ جس گاؤں کا ذکر کر رہا ہوں، وہاں لوگوں نے مجھے زمین کی پیش کش کی، اس کے باوجود میں نے قبول نہیں کی۔ نہ میں ولی اللہ ہوں اور نہ میں نے کبھی خود کو کچھ سمجھا۔ ایک عام مولوی ہوں، عوامی طور سے لوگوں سے ملتا ہوں۔ میری زندگی کا بیش تر حصہ سُکھ میں گزرا ہے، ہاں البتہ 22 جولائی 2019ء کو میری اہلیہ کا انتقال ہوا، اس کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔‘
اب لفظوں میں دکھ کی لہر دَر آئی، اپنی اہلیہ کے فوت ہو جانے کے اثر کا ذکر کرتے ہوئے وہ بولے:’وہ اثر ہونا بھی چاہیے، یہاں پہاڑی علاقے میں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں، جو ان علاقوں میں رہے ہیں، لیکن تمام تر پریشانیوں کے باوجود انھوں نے میرا بڑا ساتھ دیا، حالاں کہ وہ ’یوپی‘ کی پروردہ تھیں۔ انہوں نے کہا، میں تمھارے ساتھ رہوں گی۔ میں نے کہا تم پریشان ہو جاؤگی، دراصل یہاں اس وقت بیت الخلا بھی نہیں تھے۔ اس حوالے سے وہ سارا سارا دن پریشان رہتی تھیں، لیکن ہر مشکل برداشت کی۔ کھانے کی قلت بھی ہوئی لیکن میں نے کبھی کسی سے نہیں کہا۔ یہ ہماری کوئی خوبی نہیں ہے، بس میرے اللہ کو مجھ سے کام لینا تھا۔ ہمارے تمام بچے اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں، کسی کے ملازم نہیں، ورنہ میں دباؤ میں رہتا۔ سب کاروباری ہیں۔ میں لکھ پتی اور کروڑ پتی نہیں ہوں اور نہ ہی کسی کا محتاج ہوں۔ مدرسے کی آمدنی سے بھی ہمارا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ہمارے دو کمپیوٹر سینٹرز بھی ہیں۔‘
انہوں نے قدرے توقف کیا پھر بولے:’بی جے پی‘ کی حکومت میں حمید اللہ بھٹ نے اردو کا ایک پروگرام رکھ دیا۔ اس وقت شانتا کمار ’ہماچل‘ کے چیف منسٹر تھے۔ لگ بھگ تمام افسر تو مجھے جانتے ہی تھے۔ حمید اللہ نے مجھے بھی بلایا، وہاں میں نے اردو کے تعلق سے ایک تقریر کی جو بھٹ کو بہت پسند آئی۔ میں نے اس تقریر میں کہا تھا کہ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی اور خالص ہندوستانی زبان ہے ۔ مگر آپ نے اسے مسلمانوں کی زبان بنا دیا۔ کیا تلک چندر مسلمان تھے، فراق مسلمان تھے؟ زبانیں کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں ہوتیں بلکہ جو اسے اپناتا ہے یا اس کی آبیاری کرتا ہے، یہ اس کی ہو جاتی ہے۔ حکومت والے تو میری مخالفت کرتے ہیں۔ ایک افسر نے کہا،نہیں آپ کو غلط فہمی ہے۔ میں نے کہا، شانتا جی نے یہ زبان اس لیے ختم کی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ آپ ’نوٹیفکیشن‘ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔
پروگرام کے بعد حمید اللہ نے کہا :میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا پتہ دے دیجیے، میں خود آ جاتا ہوں، خیر وہ خود ہی یہاں آ گئے۔ انھوں نے کہا میں آپ کو کمپیوٹر سینٹر دینا چاہتا ہوں، میں نے کہا ٹھیک ہے، آپ یہیں دے دیں، تو کہنے لگے، یہاں نہیں دوں گا ورنہ آپ پر فتویٰ لگ جائے گا۔ کمپیوٹر سینٹر میں لڑکیاں بھی آئیں گی اور یہاں مسجد بھی ہے۔ ’منالی‘ جاتے ہوئے منڈی شہر ہے، وہاں ہمارے رشتے داروں کے مکان ہیں، وہاں انھوں نے دے دیا۔ اب بچوں نے اپنا دفتر علاحدہ لے رکھا ہے، اس طریقے سے زندگی چل رہی ہے، خوش رہتے ہیں، ٹینشن میں نہیں رہتے، جو اللہ کوکرنا ہے، وہ کرنا ہے۔‘
جاری ہے

julia rana solicitors

محمد علم اللہ کے سفرنامہ “ہم نے بھی شملہ دیکھا” سے ماخوذ

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply