سفر” سفریلا “سا (2)- کبیرخان

ہماری ممدوحہ تہواروں کی دلدادہ ہیں اور ہر تہوار سے ثواب کشیدینے کی قائل۔ اپنے سفر نامہ میں “ہولووین کا تہوار اور کدّوکی اُڑانیں ” کے عنوان سے فرماتی ہیں : “۔۔۔کیونکہ ہولووین تہوار منایا جا رہا تھا لہذا ایک بڑا حصّہ اس کی مناسبت سے سجایا گیاتھا۔ خاص طور پر اورنج رنگ کے کدّو۔ ان بڑے بڑے پاپکن پر باقاعدہ آنکھیں ، منہ اور شکلیں بنی ہوئی تھیں جو لان میں باؤنڈری وال کے ساتھ ساتھ اور گیٹ پر لٹکے ہوئے تھے۔ ہم نے اس تہوار سے منسلک صرف چڑیلوں اور بھوتوں کی کہانیاں ہی سُنی یا کومک میں تصاویر۔ جہاں تک کدّو کی اہمیت کی بات ہے تو ہم نے آپ اپنے علاقہ کے باسیوں کو (چڑیل کے بُوتھے کا) حلوہ بڑے شوق سے کھاتے دیکھا ہے۔ اس سے جُڑی کوئی مِتھ یا روایت نہیں سُنی۔۔۔”

لیکن ہمارا خیال ہے کہ بیگم جان نے امریکہ ہی میں کدّو سے چڑیلیں تراشنے کا فنّ سیکھا ہے۔ مگر بتلاتی نہیں۔ (اور یہ بھی یقین ہے کہ کسی جمعرات کی رات کو اپنی تراشیدہ چڑیل “ہاؤ” کرکے اُنہی کا “تراہ” نکالے گی۔ اور وہ پھر محولہ بابا جانی کے چرن چھونے نکل جائیں گی ۔ امریکی باباکی نظر کے بغیر ہمیں اپنا آپ آپنا آپ نہیں لگتا۔

صاحبو! “ہیلو تُرکیہ ، ہائے امریکہ” بظاہر ایک سفر نامہ ہے۔ لیکن درحقیقت یوں ہے جیسے کسی نے سُنّی اور شعیہ مولوی کو ایک تھالی میں ،ایک وقت پر روزہ افطار کرنے بٹھا دیا ہو۔ اِس کی افطاری ہوئی نہ اُس کی۔ تُرکیہ کا اپنا دین ہے، امریکہ کا اپنا دھرم ۔دونو کا خلط ناجائز اگر نہیں تو مباح ضرور ہے۔ ڈاکٹر مرحب قاسمی نے یہ بدعت کیوں کر اختیار کی؟ ،وہ جانیں اُن کا ربّ جانے ۔۔۔ ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن “یقین کریں یا نہ کریں” نامی تحریر کا ایک اقتباس نمونے کے طور پر درج کرتے ہیں:

“ہماری اگلی منزل “بِلیوّ اِٹ آر ناٹ” تھی۔ یعنی ہم یقین کریں یا نہ کریں لیکن اس دُنیا میں لوگ ، چیزیں، ماحول ،رسوم وغیرہ ایسے ہیں جن پر یقین تو نہیں آتا مگر کرنا پڑتا ہے۔”یقین کریں یا نہ کریں” کے عنوان سے اس مختصر سی تحریر میںگھُس کر بندہ سوچتا ہے میں کہاں پھنس گیا ہوں۔اب نکلوں تو کیسے؟۔ اور جب نکل لیتا ہے تو پھر سے پھنسنے کی سوچتا ہے۔ سفرنگار کے ساتھ چلتے چلے جائیں تو حیرتیں ٹھوکریں مارتی ہیں ، وہ بھی خوشگوار۔ سفرنگار نے قاری کو پٹخنیاں نہیں کھلائیں، سیدھے سادے انداز میں جو دیکھا ،وہی قاری کے حوالے کردیا۔۔۔۔۔ سپردم بتوخویش را۔ ۔ اس سفر نامہ کا لطف لینا ہو توبندہ دسمبر جنوری کی دھوپ میں ،منگ پھلی کی تھیلی لے کر دھوپ میں دراز ہو جائے اور کانوں میں “بُجّے” ٹھونس کر سفرنگار کے ساتھ سطر سطر مُونگ پھلیاں کھاتا اورگاتا جائے۔۔۔ چل اُڑ جا رے پوُنچھی کہ یہ دیس ہوا بیگانا

ویسے آپس کی بات ہے ، ڈاکٹر صاحبہ کے پیروں میں بلّی بندھی ہے، وہ سال کےچھ ماہ گھر میں بیٹھے رہنے کی تیاری سے آتی ہیں ،اورتیاری شیاری کرتی ہیں ۔پھر اچانک سفر آغاز کرتی ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ اپنی دہلیز پر کھڑے کھلوتے اُنہیں”اٹلس” لاحق ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔”میں کہوں کیا نام ہے سے ، گلی کی نکّڑ سے منہ طرف کعبہ شریف کر ، بسم اللہ پڑھ، ناک کی سیدھ میں چل پڑو تو اپنا کرانچی سامنے کھڑا سمجھو۔ دن کی روشنی میں بھی اُفق پر ڈولتا صاف نظر آتا ہے۔خیر سے جماندروُ عروس البلاد ہےگا،شام سویرے چُونا کتّھا لگا، پان بیڑی سلگا اُفق پر جگمگا رہا ہوتا ہے ۔میں کہوں روشنیوں کا شہرجو ٹھہرا ۔ تمہاری برفانی بولی میں ، کیا کہتے ہیں۔۔۔، “کَنّ ترڈّے” نہ ہوئے ہوں تو ذرا کان دھر دیکھو ۔۔۔اپنے گروُ مندر کے پچھواڑے سے بیت کے بول ٹوٹتے چھوٹتے صاف سنائی دیتے ہیں :

“بندر روڈ سے کیماڑی
میری چلی رے گھوڑا گاڑی
بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر ”

اور

“چل اُڑ جا رے پُونچھی

کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ ”

ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ گھر سے نکلتے ہوئے مروڑ پڑتے ہیں ، تو نکلنے کی ضرورت کیا ہے؟

موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سفر نامہ اور سفر نگار کے حوالے سے چند گذارشات عرض کر دیں کہ:

ابتدائے شوق کے دن تھے،ہمیں فوُن کرنے کے لئے اتوار مبارک کی صبح کاذب کو بلدیہ کی بس پکڑ کر پچیس کلومیٹر دوُر المفرق کے ٹیلیفون ایکسچینج پہنچنا پڑتا تھا۔ اور پہلی بس پانچ بجے چھوٹتی تھی۔ بھرپور دوڑ دھوپ کے باوجود ہم سے پہلے جملہ فون بوتھ دھوتیوں سے اٹ چکے ہوتے تھے۔ شاید ہی کبھی ایسا حسین اتفاق ہوا ہو کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہماری باری آئی ہو۔ چنانچہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انگریزی محاورے کے مطابق ہم “اِیول” کو بیڈ پر “نَپّ” سکے ہوں۔ جب بھی ہم نے فون کی گھنٹی کھڑکائی ، تُرنت اُدھر سے ماسی سنائی دی ۔۔۔”اے ہیلو ! مڈّم گئی ہیں۔ کوئی سِکّھ سَنیا ہو، بندی حاضر۔آئٰیں تو کیا کہوں۔۔۔؟” ۔ تنگ آکر ایک بار ہم نے ماسی سے پوچھا، تمہاری میڈم گئی ہی رہتی یا کبھی آتی بھی ہیں۔؟  “کبھی کبھی آتی بھی ہیں جی۔ آئیں نہ تو بھلا جائیں کیسے؟ آپ بھی تو نِرے سائیں ہیں۔۔۔۔میری نیک صلاح مانیں تو چھوٹی عید سے پہلے جو افطاریاں پڑتی ہیں ،اُن میں اذانوں کے آگے پیچھے گھنٹی کھڑکا دیا کریں،اس ٹَیم اُن کا موُنڈور(موُڈ) کڑاکے دار ہوتا ہے۔ ہر ایک سے سیدھے منہ بات کر لیتی ہیں   ۔۔۔میرے سے بھی”۔

“ونّ فائن مارننگ” ہماری لائن ملی تو ہم نے گھما پھرا کر کہہ ہی دیا  ،آپ سے بے تار برقی ملاقات کا بھی کوئی شیڈول ہوتا ہے۔۔؟،جب فون لگائیں ، کہیں نہ کہیں گئی ہوتی ہیں ۔ آپ کے پیروں میںبِلّی بندھی ہوئی ہے کیا۔ ۔۔؟”

“میں جتنی بار کہیں گئی ہوں ،اُس سے زیادہ واپس بھی آئی ہوں ۔۔ کہیں تو گِنوا دیتی ہوں”۔ قِصّہ مختصر اُن کی آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں ۔ اور اس پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی شدّومدّ کے ساتھ قائم ہیں ۔ ۔ ” بہو بھی بیٹے کے پاس چلی گئی ہے، خالی گھر گھانے کو دوڑتا ہے۔ میری مانو تو نکل چلتے ہیں ۔”

یہ کوئی نکلنے کی عمر ہے۔۔۔۔ ؟ ہم نے کہا ، اللہ اللہ کرنے کا وقت ہے۔ ۔

” تو اللہ اللہ کرنے کو ہی سہی ، چلتے ہیں بنکاک کے جنگلوں میں”۔اُنہوں نے جواب دیا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بیگم اب بھی نچلی نہیں بیٹھ سکتیں ۔کہتی ہیں ،اب بیٹھ گئی تو اُٹھ نہیں سکوں گی۔ ۔ شاید اسی خدشہ کے پیشِ نظر اکنامکس کی پروفیسر ہونے کے باوجو د وہ طالبات کی ہم نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتی تھیں، رکھتی ہیں ۔۔۔۔ آج لاہور، کل پشور۔ اس مہینے کشمیر، اگلے ماہ بلوچستان۔ ثابت ہوا کہ آوارہ گرد کا چسکہ لگ جائے تو چُکے کے نہیں دیتا۔

گھومنے پھرنے کے اسی مرض نے ڈاکٹر مرحب قاسمی کو ایک طرح کی آوارہ گرد بنا چھوڑا ہے۔ آرام کی عمر میں موصوفہ کو بے کل کر رکھا ہے۔ چنانچہ جہاں جاتی ہیں ،وہاں سے کسی نہ کسی کتاب کا مسوّدہ یا خاکہ بُن لاتی ہیں ۔ “ہیلو تُرکیہ، ہائے امریکہ” نامی سفرنامہ بھی اسی مرض کا نتیجہ ہے۔

ہم مانتے ہیں کہ محترمہ اِس دور کی کھدر پوش ،ابن انشا یا عالی نہیں لیکن وہ خالی ٹھالی بھی نہیں ہیں ۔ اُن کے کِیسے میں وہ سفرنامہ ہے جس میں وزن ہے۔ آپ اس کی ورق گردانی کر کے تو دیکھیئے۔۔۔۔”ہیلوتُرکیہ،ہائے امریکہ” مواد اور سواد سے بھرا سفر نامہ ہے۔ اگرچہ اس سفرنامہ میں مصنّفہ نے ہماری چھوٹی سی بھول کو پھلا کر “میاؤں” کی بھول بھلیّاں بنا ڈالا ہے لیکن استنبول کے تکسیم اسکوائر کو بھی ایک پیراگراف میں پینٹ کر دیا ہے۔ وہاں ہمارے قیام کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے کہ وہ ہمارا کیریکیچر بن گیا۔ مصنّفہ نے اس کیریکیچر کو اتنے پیار سے رکھا کہ ہم اُس سے خار کھانے لگے۔ سفر نامہ میں آپ “دیدہِ حیران”،پڑھ لیں خواہ “دوغلا دیس””۔ ہماری ترکی” دیکھ لیں چاہے”پرنسز آئی لینڈ” کھنگال دیکھیں،آپ کو “ماسی برکتے کے تندور” سے”نیلی مسجد” کی تاریخ تک مزا نہ آیا تو پیسے واپس۔

julia rana solicitors london

پِیرِرومیؒ کے مزارشریف اور مریدِ ہندی کی قبرمبارک تک آپ اک اور ہی جہاں سے نہ گذرے تو ہم گنہگار۔ آپ بُرصہ میں چنار کے تقریباً نو صدی قدیم درخت تلے عالم بیداری میں زندہ خواب نہ دیکھیں تو جو شرط ۔آپ اس سفر نامہ میں آدھے سے زیادہ امریکہ کی سیر نہ کر پائیں تو واپسی کا ٹکٹ ہمارے ذمے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply