سفرِ حج(10)-عاصم اظہر

اپنے انداز و اطوار میں انڈنیز پرفیشنلز دکھائی دیئے۔ عرفات میں ان کے واش رومز کی طرف نکل گیا وہاں میں نے دیکھا کہ وہاں وہ ہماری طرح بھیڑ بھڑکا کرنے کے بجائے تحمل سے ہر دروازے کے سامنے باقاعدہ قطار باندھ کر کھڑے ہیں ۔ اب پتا نہیں یہ ان کا نظم و ضبط ہے یا پبلک ٹوائلٹس استعمال کرنے سے یہ عادت پختہ ہوئی ہے۔
البتہ بازاروں میں انڈنیز کی آمد سے گہما گہمی پیدا ہوگئی کیونکہ وہ چائنا کی پراڈکٹس پہ ٹوٹ پڑے تھے شاید انڈیا میں چائنا کا مال نہیں ملتا جبکہ ہمیں یہ نہیں سمجھ آتی تھی کہ ہم کیا خریدیں کیونکہ ہر وہ چیز جو یہاں بک رہی تھی پاکستان میں بھی دستیاب تھی بلکہ کم قیمت پہ۔
لیکن خالی ہاتھ تو نہیں جانا تھا سو بچوں کے لئے کچھ نا کچھ لے لیا ۔

بنگالی
حرمین میں اور بازاروں میں بڑی تعداد میں بنگالی ملتے ہیں حرمین میں صفائی کا سارا کام انہی کے ذمے ہے۔
مجھے تو خوشحال بنگلہ دیش ہمارے والےاسٹاک ایکسچینج جیسا ہی لگا کیونکہ اگر بنگلہ دیش اتنا خوشحال ہوتا تو اس کی عوام بیرون ملک اتنی معمولی جابز کیوں کرتی، سوئپر کی ماہانہ تنخواہ آٹھ سو ریال ہے ،بولے تو تقریباً ساٹھ ہزار پاکستانی روپے یا تیس ہزار بنگالی ٹکا۔

خوشحالی اور تونگری انسان کے چہرے بشرے سے ٹپکتی ہے لیکن خدا جھوٹ نہ بلوائے بنگالی حجاج اپنے حلیے اور لباس سے غریب مہاتڑ ہی دکھائی دیتے تھے۔

کہنے کو ساری ٹیکسٹائل انڈسٹری بنگلہ دیش شفٹ ہوگئی ہے اور وہ ساری دنیا کو کپڑا بنا کر دے رہا ہے مگر اپنے حاجیوں کو ایک چج کا تھیلا نہ بنا کر دے سکا۔ جیسے حکومت پاکستان نے اپنے حجاج کو پیراشوٹ کا بنا ہوا ایک بہترین شولڈر بیگ دیا ہوا تھا جس میں آپ حرم جاتے ہوئے اپنی چپل یا جائےنماز پانی کی بوتل وغیرہ ساتھ رکھ سکتے تھے اس کے پیچھے عربی اور انگلش میں پاکستان لکھا ہوا تھا۔ ایسے بنگلہ دیش نے اپنے حاجیوں کو ایک کپڑے کا تھیلا دیا ہوا تھا جو کمر کے بجائے کنگرو کی طرح سینے اور پیٹ پہ لٹکا کر پیچھے کمر اور پیٹھ پہ کپڑے کی تَنیوں سے باندھا ہوا ہوتا اس پر بنگلہ دیش کا پرچم چھپا ہوا تھا اور یقین کریں کہ وہ تھیلا ایسا تھا جیسا ہمارے دس کلو والے آٹے والے خالی تھیلے سے بنایا ہو۔

اسی طرح خواتین کے سکارف بھی سرکاری تھے اور بالکل گھٹیا۔ اسکارف ہمارے والے بھی کچھ اچھے نہ تھے مگر کوالٹی نہیں بلکہ ڈیزائن کی وجہ سے اور کپڑا بھی موسم کے حساب سے کچھ موٹا تھا اس لئے شاید ایک فیصد خواتین نے بھی استعمال نہیں کئے اور اس کی جگہ اپنا اپنا اسکارف اوڑھا جبکہ بنگالی خواتین کی اکثریت نے سرکاری اسکارف ہی اوڑھے رکھا۔

زیادہ بنگالیوں سے بات نہیں ہو سکی کیونکہ انہیں اردو بولنا تقریباً نہیں آتی البتہ حرم میں جو بنگالی ملازمین ہیں وہ بہت بہتر  اردو بول اور سمجھ لیتے ہیں اور بڑی خوش اخلاقی سے آپ کی راہنمائی بھی کر دیتے ہیں۔

ایک دن حرم میں بیٹھا مغرب کا انتظار کر رہا تھا میرے ساتھ دو بنگالی بزرگ بیٹھے تھےایک بزرگ قرآن تھامے دھیمی آواز میں تلاوت کررہے تھے انکے لہجے میں اک عجب سا سوز تھا جو سیدھا دل پہ اثر انداز ہورہا تھا اور میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپکنے لگے۔پھر ان بزرگ نے اچانک آواز پست کر کےخاموش تلاوت شروع کردی تو میں نے ان سے آواز بلند کرنے کی فرمائش کی جو بڑی مشکل سے ان کی سمجھ میں آئی لیکن اس سمجھنےسمجھانے میں سارا ردھم ٹوٹ گیا اور پھر وہ سماں نہ بندھ سکا کیونکہ ارادی انداز میں وہ سوز پیدا نہ ہو سکا جو انکے قدرتی انداز میں تھا۔

ترکی
ترکی بھی بڑی تعداد میں فریضہ حج ادا کرنے لئے   ارض مقدس میں موجود تھے ایک طویل عرصے تک غیر مذہبی نظام کے زیرسایہ رہنے کےباوجود اتنی بڑی تعداد میں ترکیوں کی حج کے لئے آمد بڑی حیرت انگیز لگی۔

خوش شکل و خوش اخلاق ہیں آپس میں گھل مل کر رہتے ہیں رفع الیدین نہیں کرتے اور کسی نے بھی عمرے کے بعد حلق نہیں کروایا بلکہ مشین بھی شاید اکا دکا نے پھروائی ہوگی، حج کے بعد کا نہیں کہہ سکتا کیونکہ اس کے بعد ہم فوراً ہی ملک واپس آ گئے تھے۔ ایک عجیب بات یہ دیکھی ہر ترکی مرد جو پچاس سےاوپر کا تھا اسکے گوڈے کَھڑکے ہوئے تھے اسے نماز میں اٹھنے بیٹھنے میں دقت پیش آتی تھی بلکہ اکثر خواتین  کو بھی یہ پرابلم تھی جو چلتے وقت دکھائی دیتی تھی۔ مرد پتلون پہنتے اور اتنی گرمی میں بھی شرٹ کے اوپر ایک اَپر ضرور پہنتے تھے۔

انڈونیشی
انڈونیشینز کا جذبہ حج ہمیشہ سے ہی سب سے زیادہ ہے اس لئے ان کے حجاج کرام میں جوان بلکہ نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی کافی تعداد میں تھے شاید عمر چور ہیں اس لئے لڑکے دکھتے تھے۔ ان کا لباس ذرا ہٹ کے ہے یہ بڑی نِک سک سے تیار ہو کر آتے تھے مرد ایک جناح کیپ ٹائپ کی ٹوپی سر پر رکھتے اور نیچے ایک تہہ بند باندھتے تھے مگر اس پر مکمل بھروسہ نہیں کرتے تھے اس لئے اسکے نیچے ایک پاجامہ بھی پہنتے تھے۔ تقریباً تمام ہی سگریٹ پیتے تھے اور چین اسموکنگ کرتے تھے۔

ملائیشین
یہ بہت پیارے اور نفیس لوگ تھے اور ان کی بھی ایک بڑی تعداد وہاں نظر آتی تھی۔

افریقی۔
جتنا سنتے تھے اتنے نظر نہیں آئے، نسل کے علاوہ میں ان کی قومیت کی تخصیص نہیں کر سکا۔ کوئی قابل ذکر بات بھی نوٹ نہیں کر سکا، سوائے ایک ملک کے کالوں کی کہ ان کے لباس کا پرنٹ زنانہ ہوتا تھا۔

ایرانی۔
خوبصورت لوگ تھے مگر وہاں بھی جتھے بنا کر جھنڈے وغیرہ اٹھا کر الگ تھلگ چلتے پھرتے رہے۔ خواتین نے سیاہ اسکارف اوڑھا ہوتا تھا۔
اس کے علاوہ عراقی، ازبک بھی نظر آئے، ازبکی بھی بہت خوبصورت تھے انکی خواتین فیروزی رنگ کا اسکارف لئے ہوتی جو بہت بھلا لگتا تھا۔
البتہ گورے یعنی یورپین مجھے بالکل دکھائی نہیں دیے، دو چار پہ مجھے شبہ ہوا تھا ویسے کہتے ہیں کہ یہ پورے پورے ٹائم سے آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں، چونکہ حج کے بعد مجھے ایک دن بھی رہنے کا موقع نہیں ملا ورنہ شاید نظر آتے ۔

اسی طرح آس پاس کے یعنی متحدہ امارات والے یا یمنی وغیرہ بھی اپنی گاڑیوں پہ پورے ٹائم سے آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں۔
ایک اور بات یہ ہے کہ میں نے مکہ شہر میں کہیں پیٹرول پمپ نہیں دیکھا پتا نہیں گھر کے واٹر پمپ سے ہی تیل نکل آتا ہو۔

julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply