ایک جناب نے طنز کے متعلق سوال پوچھا کہ وہ طنز کرتے بھی ہیں اور انہیں طنز سننے سے الرجی بھی ہے، ایسا کیوں ہے ؟اور اس رویے کو کیسے درست کیا جاسکتا ہے۔ ؟
طنز ایک بہت غیر صحتمندانہ طریقہ ہے اپنے جذبات یا سوچ کا اظہار کرنے کا، اسے نفسیات میں پیسو-اگریسو-رویہ (وہ جارحیت جس میں طنز کا استعمال ہوتا ہے نہ کہ مار پیٹ یا چیخنے چلانے کا) کہتے ہیں۔ یہ رویہ غصہ یعنی کہ اگریشن سے بھی زیادہ چیرتا ہوا نکلتا ہے دل کو اور نفسیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر تو بچپن میں آپ کے گھر یا والدین کا اندازِ بیاں ہی ایسا رہا ہو بات چیت کرنے کا،بچپن میں چند خاص چیزوں یا معاملات کو لے کر والدین نے آپ پر طنز کیے ہوں تو پھر بہت ممکن ہے کہ یہ رویہ آپ کو محرک (ٹریگر) کرتا ہو۔ طنزیہ گفتگو کے زیرِ اثر رہنے والے بچوں کو ذہنی وضاحت (مینٹل کلیئرٹی) نہیں ہوتی کیونکہ ایک بچے کا ذہن طنزیہ گفتگو کو نہیں سمجھتا اور ایسا بچہ الجھن کا شکار رہتا ہے گفتگو کو لے کر۔بچے طنز کو سمجھ نہیں پاتے البتہ طنزیہ لہجہ کی سختی، کڑواہٹ اور منفی اثرات ان تک ضرور پہنچتے ہیں۔
اور اگر آپ خود بھی طنز کرتے ہیں تو مطلب یہ کہ جس ماحول میں آپ رہے ہیں وہاں گفتگو کا انداز ہی غالباً ایسا ہو، ایسا ماحول جہاں براہ راست اپنی بات کہنا ممکن نہ ہو، جہاں گفتگو میں وضاحت نہ ہو۔ جہاں اپنے اندر کے منفی جذبات کو بہترین الفاظ میں پرو کر مسکراہٹ کے ساتھ پیش کرکے آپ کی روح(خود-توقیری) کو زخمی کیا جاتا ہو۔
اگر آپ محرک (ٹریگر) ہورہے ہیں دوسروں کے طنز سے تو کہیں نہ کہیں آپ کا دماغ (شعور) جانتا ہے کہ یہ درست طریقہ نہیں اپنے جذبات یا خیالات کا اظہار کرنے کا۔ سامنے والے کے چہرے پر مسکراہٹ ہے لیکن اسکی بات نے آپ کو غصہ سے آگ لگا دی، آپ سوچ رہے ہیں کہ میں کیوں اتنا غصہ میں آرہا ہوں، اس نے تو ایسا کچھ نہیں کیا، لیکن آپ کا دماغ اور باڈی طنز کا تیر کھا کر گھائل ہوچکے ہیں تبھی آپ کو بہت عجیب محسوس ہورہا ہے۔
اگر آس پاس والے پیسو-اگریسو ہیں تو انہیں بدلنا ممکن نہیں، البتہ اگر وہ اپنی حد پھلانگ رہے ہیں تو انہیں انکی حد میں رہنے کے لیے سختی سے کہا جائے، لیکن اگر تو آپ مجبور ہیں تو پھر انکی باتوں کو اپنی ذات پر لینا بند کردیں کیونکہ آپ انہیں بدل نہیں سکتے، ایسے لوگوں کے ارد گرد رہنے کا نقصان تو ہوگا لیکن اس بات کا معلوم ہونا کہ طنزیہ گفتگو والا رویہ ایسے لوگوں کی اپنی ہی صحت کو نقصان دیتا ہے، شاید یہ سوچ کر آپ کو کچھ سکون پہنچے!
لیکن اگر آپ طنزیہ گفتگو کرتے ہیں تو اسکو کو نارمل گفتگو میں کیسے بدلا جائے؟؟
طنز سے ہٹ کر نارمل گفتگو کے لیے سب سے پہلے تو غور کریں کہ کیا واقعی آپ کا رویہ “پیسو-اگریسو” ہے، اگر تو آپ کو معلوم ہوجائے کہ ایسا ہے تب آپ غور کرتے ہیں کہ کن حالات اور کن باتوں پر آپ محرک (ٹریگر) ہوکر طنز کرتے ہیں، اور کن طنز پر آپ محرک ہوتے ہیں۔ یہاں خود آگاہی ضروری ہے۔ اور پھر غور کریں کہ کیا یہی رویہ والدین اور آس پاس کے بڑوں کا بھی تھا۔ پھر آپ اپنے اس رویے کو تبدیل کرنے کا سوچیں گے اور اس کے لیے آپ کو “واضح اور مضبوط گفتگو” کی ضرورت ہوگی۔ یہ سب دو دن میں حاصل نہیں ہوگا۔ یہ پریکٹس ہے۔
آپ کو پہلے اندرونی معاملات کو بہتر کرنا ہوگا، اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا، اور چھوٹی چھوٹی کوششوں سے طنز کو نارمل گفتگو میں بدلنا ہوگا۔
دماغ میں اتنی پریکٹس کرنی ہوگی کہ طنز کو فوری طور پر نارمل اور واضح جملے میں بدل سکیں۔ اگر طنز کر بھی لیں اور بعد میں افسوس ہو تو خود کو معاف کریں کیونکہ آپ سیکھ رہے ہیں ایک نیا اندازِ گفتگو۔
مثال کے طور پر اگر آپ کو کسی بھی قریبی رشتے کی کوئی حرکت پسند نہیں آئے اور عادت سے مجبور آپ کو لگے کہ طنز کرنا چاہیے تو اس وقت اپنی اس طلب کو نوٹ کرتے ہوتے، طنز کی جگہ واضح اور سادہ الفاظ میں بول دیں کہ یہ حرکت درست نہیں اور آپ کو پسند نہیں آئی، دوبارہ نہ دہرانے کی تنبیہ کردیں۔
اگر آپ کے اندر منفی جذبات ابھر رہے ہیں اس رشتہ دار کے لیے تو انہیں نوٹ کریں، خود کو منفی جذبات (جلن حسد وغیرہ) کے لیے جج نہ کریں اور منفی جذبات کو کڑوے، سخت اور زہریلے طنز میں بدل کر اپنی ہی صحت کے دشمن نہ بنیں۔ سامنے والے کو محض برا لگ سکتا ہے لیکن یہ ساری کڑواہٹ آپ کے جسم کے اندر کی کیمیاء لیب میں ہی سارے کیمیائی ردِ عمل (کیمیکل ری-ایکشنز) کررہی ہے۔
طنز کی جگہ مزاح (ہیومر) کا استعمال کریں۔ طنز کا بہترین نعم البدل مزاح ہے، اگر آپ کے پاس بہترین طنز کرنے کا فن ہے اور آپ لوگوں کو سیخ پا کردیتے ہیں جو آپ نے والدین سے سیکھا تو یقیناً آپ کا اندازِ مزاح (سینس آف ہیومر) بھی کمال ہوگا۔ مزاح کا استعمال آپ کے منفی جذبات کو پراسس کرنے میں مدد دے گا۔ طنز منفی جذبات کو ہوا دیتا ہے۔
طنز شخصیت کی خصوصیت نہیں ہوتی، مطلب یہ کہ ہم اس خصوصیت کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ وقت کے ساتھ ماحول کی وجہ سے ہمارے رویہ کا حصہ بن جاتی ہے، اسے ہم اپنے بڑوں یا ماحول سے سیکھتے ہیں۔ جیسے آپ نے لاشعوری طور پر طنز کرنا سیکھا، ویسے ہی اب آپ کو شعوری طور پر “واضح، مضبوط اور نارمل” گفتگو کا فن سیکھنا ہوگا۔ طنز آپ کی جسمانی صحت پر بہت برا اثر ڈالتا ہے۔
کاش میرے پاس الفاظ ہوتے سمجھانے کے لیے کہ کیسے پیسو-اگریسو رویہ ایک زہر کی مانند ہے جو انسان کے اپنے ہی جسم اور نفسیات کو نقصان دیتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں