• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چیف جسٹس آف پاکستان’قاضی فائز عیسیٰ ‘کے نام تحریکِ شناخت کے رضاکار اعظم معراج کا کھلا خط

چیف جسٹس آف پاکستان’قاضی فائز عیسیٰ ‘کے نام تحریکِ شناخت کے رضاکار اعظم معراج کا کھلا خط

14جون2024
قاضی فائز عیسیٰ
چیف جسٹس آف پاکستان
سپریم کورٹ اسلام آباد

محترم چیف جسٹس صاحب
اسلام و علیکم
جناب، آج کل اقلیتوں و خواتین کی مخصوص نشستوں کے بحران نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

دنیا بھر میں بڑے بزنس، جنگی اور تزویراتی تعلیمی اداروں میں کیس  سٹڈی طریقہ تعلیم میں یہ پڑھایا جاتا ہے  کہ کسی بھی درپیش مسئلے پر تفصیلی تحقیق و سوچ بچار کے بعد اسکی درست تشخیص جس میں تین مرحلوں میں طالب علم اس مسلئے کا تعین ،مسئلہ ہے کہاں ؟ مسئلہ پیدا ہونے کا خاص میدان اور اسکی   وجوہات کے درست تعین کے بعد اس مسئلے کے قلیل المیعاد، وسط المیعاد اور طویل المیعاد حل تجویز کیے جاتے ہیں۔

میرے خیال میں موجودہ آئینی سیاسی اور عدلیہ کے اس بحران کا فوری اور درمیانی میعاد کا حل تو امید ہے، آپ ملک وقوم اور عدلیہ کے وقار کے مفاد میں جو تجویز کریں گے وہ اچھا ہی ہو گا ،لیکن میں نے 10اپریل 2024کو بھی اس بحران کے پس منظر پر مبنی ایک تفصیلی خط آپ کو ارسال کیا تھا ۔۔ امید ہے آپ کو مل چکا ہوگا ۔جس میں  مَیں نے اس بحران کے ماضی وحال سے اس کےطویل المیعاد آئینی حل کے لئے آپ سے مقننہ کی راہنمائی کرنے کی گزارش کی تھی۔جس کا لب لباب یہ تھا  کہ یہ کہاں کی جمہوریت ہے؟ کہ تقریباً 12کروڑ خواتین اور ایک کروڑ مذہبی اقلیتوں کی صنفی و مذہبی شناخت پر 226قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو ریوڑیوں اور خیرات کی طرح چار یا پانچ لوگ تقسیم کرتے ہیں ۔جس کی بدولت دیگر سیاسی سماجی ،معاشرتی و دیگر سینکڑوں قسم کے مسائل کے ساتھ موجودہ آئینی بحران جیسے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہمیشہ ہی رہتا ہے ۔۔ اس لئے اس بحران کے دوران یا اس سے نمٹنے کے بعد جب آپ مناسب سمجھیں، اس مسئلے کے طویل المیعاد حل پر بھی ضرور سوچ بچار کریں ۔ میں نے یہ حل تقریبا ًایک دہائی کی مسلسل عرق ریزی سے برصغیر میں اقلیتوں کے انتخابی نظام کے بغور مطالعے اور 1909سے آج تک کے اقلیتی انتخابی نظاموں کی خوبیوں خامیوں کے حقائق وشواہد اور پاکستانی معاشرے کے معروضی سیاسی و معاشرتی حالات اور مخصوص مذہبی و سماجی تاریخی پس کی روشنی سے تیار کیا ہے ۔آپ سے گزارش ہے کہ میرے اس اور 10اپریل 2024 کے خط کو میری آئینی پٹیشن ہی سمجھا جائے۔

میں ذاتی طور پر پیش ہو کر اس غیر جمہوری، غیر آئینی، غیر انسانی اقلیتی و خواتین کی مخصوص نشستوں کے طریقہ انتخاب کو ان مسائل سے پاک کر کے اس انتخابی نظام کو بے ضرر آئینی ترمیم سے آئین اور تیرہ  کروڑ پاکستانی خواتین و حضرات کی ایوانوں میں حقیقی نمائندگی کے لئے تیار کی گئی سفارشات پیش کر سکتا ہوں۔

یہ سفارشات میں آپکو اپنے 10اپریل 2024 والے خط کے ساتھ بھیج بھی چکا ہوں ۔ کیونکہ اس مسلئے کا حل ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہی ہونا ہے ۔اس لئے میں بارہا یہ مسئلہ اور اس کا بے ضرر حل ریاست کے دیگر آئینی ستونوں کے رکھوالوں (وزیراعظم ،چیرمین سینٹ ،اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی بھیج چکا ہوں) انکے کیونکہ موجودہ اقلیتی وخواتین کے انتخابی نظام سے مفادات بھی وابستہ ہیں ۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے ،کہ آپ ان کی اس بنیادی انسانی حقوق کے خلاف،جمہوریت کی روح کے منافی ،غیرآئینی طریقہ انتحاب میں ترامیم کی راہنمائی کریں۔

امید ہے  آپ اس خط کو اسی سیاق و سباق میں پڑھ کر اس میں اجاگر کیے گئے مسئلے کو حل کرنے میں اپنا حصّہ ڈال کر مستقبل میں بھی قوم کو اس طرح کے بحران میں گرنے سے بچائیں  گے ۔
شکریہ
ولسلام
اعظم معراج

julia rana solicitors london

منسلک
کاپی آف سابقہ خط مؤرخہ 10اپریل 2024

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply