پاکستانی اسٹیٹ ایجنٹ کا کھتارسس۔۔اعظم معراج

ڈان اخبار کی خبر کے مطابق گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے علانیہ کے مطابق تعمیرات پر لگی پابندی کو اٹھا لیا گیا ہے۔ جو کہ ایک خوش آئند خبر ہے۔امید ہے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بابوں نے اسلام آبادی بڑوں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کرلئے ہونگے۔ جس سے سب سے پہلے مقامی گوادری پھر صوبے اور پاکستان کے مفادات کو اوّلیت حاصل ہوگی اور ترجیحات پہلے کی طرح کی نہیں ہونگی، جس میں سب پہلے سٹے باز دوسرے کرپٹ افسران تیسرے ہمارے چینی دوست اور سیکنڈ لاسٹ پاکستان وہ بھی تب اگر ، کروڑوں ،اربوں کے کسی سودے کی رجسٹری پٹوار خانے میں ہوئی تو،چند ہزار یا لاکھ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کو اور ملکی معیشت میں حصہ اس معاشی، عمل کا صفر اور آخر میں جہاں اتنا کاروبار ہوگا۔ تو مقامی 263,514(دوہزار سترہ کی افراد شماری کے مطابق) گوادریوں کو بھی کچھ مل ہی جائے گا یقیناً۔

اُمید ہے تبدیلی سرکار کے ماہرین معاشیات و معیشت نے اس بار ترجیحات 1990 سے جاری کیسں نو و فارمی رئیل اسٹیٹ کے ۔مقابلے میں الٹی تیار کی ہونگی جس میں پہلے نمبر پر مقامی لوگ،حکومت اور ملک ہوگا۔اگر صرف اس خطے میں رئیل اسٹیٹ کو ترقی یافتہ ممالک کے ماڈل پر مقامی، صوبائی،ووفاقی حکومت چند دنوں کی محنت سے رولز ریگولیشن کا مناسب نظام متعارف کروالیں ،تو یہ ضلع ہماری معاشی مصیبتیں دور کرسکتا ہے۔ ورنہ فوری مفاد ہمارے سٹے باز اور افسران کے اور طویل المیعاد مفاد ہمارے ہمالیہ سے اونچے اور سمندروں سے گہرے دوست کو حاصل ہونگے اور چند سال بعد اس لوٹ مار کی آڑ میں کینچوؤں سے اژدھوں کا روپ دھارنے والے نوسر بازوں کے ہاتھوں ریاست کے پہلے سے ہی گھن زدہ تینوں بلکہ چاروں ستون بلیک میل ہوتے نظر آئیں گے۔ (ان ستونوں کو گھن زدہ ایسے موقعوں سے فائدہ نہ اٹھانے کے رویے نے کیا ہے۔)اور مقامی لوگ اسلام آباد کے مقامی کسانوں کی طرح وہاں ملکی و غیر ملکی استحصالی اشرفیہ کے گھروں میں ملازم ہونگے۔اور یقین جانیے شفافیت اور انصاف پر مبنی پالیسیوں کے فوائد اس پیشے سے وابستہ افراد کو بھی ملیں گے۔ یہ غلط تاثر ہے کے اس سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ تباہ ہوتی ہے۔ کبھی شفافیت اور انصاف سے بھی کوئی تباہ ہوا ہے۔شفافیت اور انصاف پر مبنی معاشروں کے ہی سارے افراد کو ترقی کے یکساں مواقع ملتے ہیں۔ورنہ تو انفرادی ترقیوں کی بدولت تو قومی سطح کبھی ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلواروں کے سائے میں جینا پڑتا ہے۔اور کبھی سرمئی سے کالی سیاہ فہرستوں میں ڈالنے کی دھمکیاں سننی پڑتی ہیں۔

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں  ، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *