کراچی پولیس یا مافیا؟ عارف خٹک

کراچی پولیس گردی کے بارے میں لکھنے کا دل بھی نہیں کرتا۔ آج پھر ایک اور قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود ولد محمد خان پولیس کے CTD کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

تین جنوری 2018 کو ابوالحسن اصفہانی روڈ،  چیپل گارڈن کے سامنے 26 سالہ نقیب اللہ محسود اپنے کپڑے کے تاجر دوستوں کو مبلغ ساٹھ لاکھ روپے کی ادائیگی کررہا تھا کہ اچانک CTD کے سول لباس اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور نوجوان کو رقم سمیت اُٹھا لیا گیا۔
موصوف پڑھا لکھا اور اچھے خاندان سے تھا۔لیکن بدقسمتی سے اُس کا شناختی کارڈ جنوبی وزیرستان کا تھا۔

16 جنوری کو اُس کی لاوارث  لاش چھیپا کے سردخانے سے برآمد ہوئی۔اور ابھی تک سہراب گوٹھ پولیس اسٹیشن میں رکھی ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ موصوف تحریک طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کے ڈرائیور رہ چکے ہیں۔ پولیس کو یہ نہیں معلوم کہ بیت اللہ محسود اگست 2009 میں ڈرون حملے میں مر چکے ہیں۔ اگر ہم پولیس کا موقف تسلیم بھی کرلیں تو نقیب اللہ اُس وقت تیرہ سال کا  تھا۔ جو کہ ممکن نہیں ہے۔

کراچی پولیس گردی کا سب زیادہ شکار کراچی کا مہاجر،  پشتون اور بلوچ ہے۔ مہاجر کو ایم کیو ایم کا ٹارگٹ کلر قرار دے کر ماورائے عدالت گولی سے اڑا دو۔ شاباش ملتی ہے۔
پشتون کو تحریک طالبان کا کارندہ کہہ  کر بآسانی ماردو اور بلوچ تو ویسے ہی BLA کے کارکن ہوتے ہیں۔ لہذا ملکی مفاد مدنظر میڈیا بھی وہی دکھاتا ہے جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔ اخبار  کوئی پڑھتا ہی نہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا پر چیخیں چلائیں تو آپ کو غدار وطن کہہ کر آپ کا منہ بند کردیا جاتا ہے۔

میں الزام نہیں لگارہا میں بھی ایک محب وطن اور ذمہ دار شہری ہوں۔ مگر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ میرے  ہی ٹیکس کے پیسوں پر پل کر مجھے آپ ہراساں کررہے ہیں۔ عدالتیں نمائشی ہیں۔ جہاں انصاف بکتا ہے۔ اور آپ کی حرکتوں کی وجہ سے میں مزید  آپ سے بدظن ہوتا جارہا ہوں۔

کل مجھے بھی مار دیجیے  اور کہہ دیجیے گا  کہ غدار تھا ملکی اداروں پر انگلی اٹھا رہا تھا۔ لوگ کہیں گے شکر ہے ٹھکانے لگ گیا۔ بہت خطرناک کلچر متعارف کرایا جارہا ہے۔ آپ کی حرکتوں کی وجہ سے نہ تو ہندوستان کو  آپ کیساتھ دشمنی کی ضرورت ہے نہ امریکی ایجنسیوں کو کوئی کشٹ اٹھانے کی ضرورت ہے۔آج کراچی اتنا غیر محفوظ ہوچکا ہے  کہ بندے کی اولاد بھی قتل ہو تو   پولیس کے پاس جانے سے کتراتا ہے۔ خیر چھوڑئیے آگے بڑھتے ہیں۔

پولیس کی ایجنسیاں اس وقت کراچی میں جرائم پیشہ مافیاز بن چکی ہیں۔ ان میں زیادہ تر اہلکار پولیس کے اہلکار ہی نہیں ہوتے۔ بلکہ انسپکٹر لیول کے آفیسرز کے ذاتی مُخبر ہوتے ہیں۔ جن کو اسلحہ دیا جاتا ہے۔اور مہینے کا اچھا خاصا مشاہرہ بھی دیا جاتا ہے۔اغوا برائے تاوان میں یہی لوگ ملوث ہیں۔ MI اور ISI نے پولیس کی سرگرمیوں سے اس لئے آنکھیں بند کی ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو کیموفلاج کرسکیں۔ اور اپنا سارا کیا دھرا انہی پر ڈال سکیں۔ مگر یہ بہت زیادہ خطرناک عمل ہے۔

2014ء میں کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاؤن سے معروف اسپائنل سرجن  کو بھی پولیس نے اٹھایا تھا۔مگر ملٹری انٹیلیجنس کی مداخلت پر اسے رہا کردیا گیا۔ کیونکہ موصوف کے خاندان نے دھمکی دی تھی۔کہ اگر بندہ رہا نہیں ہوا تو ان کا پورا خاندان پریس کلب پر جاکر براہ راست میڈیا کے سامنے ایجنسی کا نام لے  گا۔

ان لوگوں کا طریقۂ کار بہت سیدھا سادہ ہے۔ سول کپڑوں اور بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں چھاپہ مارتے ہیں  اور اغوا کرکے چلے جاتے ہیں۔ تاوان مانگتے ہیں۔ اگر تاوان نہیں ملتا تو بندے کو زبان بندی کے چکر میں جان سے مار دیتے ہیں۔ اگر اغوا ہونیوالا اثرورسوخ کا مالک ہو،تو ان کو یہ کہہ کر جانے   دیتے ہیں کہ غلط شناخت کی وجہ سے آپ کو اٹھایا گیا ہے۔
پولیس کے اندر یہ کلچر 1992ءکے کراچی آپریشن کے بعد متعارف ہوا۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ پالنے شروع کیے. جیسے چوہدری اسلم کو ایم کیو ایم نے معافی بھی اس شرط پر دی تھی کہ وہ ان کے مخالفین کو ٹھکانے لگائےگا۔ بعد میں اسے پی پی پی نے ہائیر کرلیا۔ اور رحمان ڈکیت جب ان کیلئے خطرہ بن گیا۔تو اسے چوہدری اسلم کے ہاتھوں ان کاؤنٹر کروا کے مروایا گیا۔آج کل ایم کیو ایم اور پی پی پی کو قابو  میں رکھنے کیلئے ایس اپی انوار راؤ کو ہائیر کیا جاچکا ہے۔

میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس جیسی پروفیشننل ایجنسیوں کے  ذمہ داران سے اپیل کروں گا کہ کراچی پولیس کے ان کرداروں کا سب سے زیادہ نقصان آپ کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ لہذا ان کو کنٹرول کیجیے۔اور شہری پولیس کے اندر سوائے ضلعی انٹیلیجنس ایجنسی DIB کے علاوہ کسی اور ایجنسی کو ممنوع قرار دیجیے ۔ ورنہ امریکہ کی بلیک واٹر تو آپ کو اچھی طرح یاد ہے۔جو عراق میں سی آئی اے سے کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد کس طرح داعش کو کنٹرول کررہی ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کراچی پولیس یا مافیا؟ عارف خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *