کم تعلیم یافتہ لوگ بات جلدی سمجھ جاتے ہیں/عامر حسینی

[تعلیم یافتہ لوگوں کو سمجھانا زیادہ مشکل ہوتا ہے اور کم تعلیم یافتہ باسانی سمجھ جاتے ہیں۔]
جب ہم تاریخ پر بات کرتے ہوئے مطلق جملوں کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے تاریخ مسخ ہوتی ہے اور یہ طریقہ دراصل تاریخ کو اپنے پہلے سے بنائے گئے مقدمات کے مطابق ڈھالنا ہوا کرتا ہے ناکہ تاریخی حقائق کی روشنی میں اپنے خیالات کی تشکیل کرنا –

کیا برصغیر ہند کے تعلیم یافتہ سارے لوگوں کا سیاسی شعور ہمیشہ سے یکساں رہا ہے؟ جب پاکستان بنا تو اس وقت کا تعلیم یافتہ پرت نہ تو طبقاتی اعتبار سے ایک تھی اور نہ ہی اپنے سیاسی شعور اور رجحان کے اعتبار سے ایک تھی – پاکستان بننے کے وقت پاکستان کی تعلیم یافتہ پرت کا ایک سیکشن تو وہ تھا جو آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف تھا – اس میں ایک بہت بڑی تعداد وہ تھی جسے حمزہ علوی تنخواہ دار تعلیم یافتہ درمیانہ طبقہ قرار دیتے ہیں اور اس کی بھاری اکثریت کا تعلق ہندوستان کا حصہ بن جانے والے علاقوں یو پی ، سی پی اور مشرقی پنجاب سے تھا ( ہم بنگال اور بنگالیوں کو یہاں سر دست الگ رکھیں گے) اور اس کی بھاری اکثریت پر کمیونل سیاست کا رنگ چڑھا ہوا تھا اور اسی پرت سے پاکستان کی وردی اور بے وردی نوکر شاہی کا تعلق بھی تھا – اس تعلیم یافتہ درمیانے طبقے کی تنخواہ دار پرت کا ایک بہت بڑا حصہ آل انڈیا مسلم لیگ میں پنجابی شاونزم اور مہاجر شاونزم سے جڑا ہوا تھا اور مسلم لیگ میں اس کے دو بڑے علمبردار تھے ایک پنجاب کے جاگیردار اور نوابوں کا ٹولہ تھا ، دوسرا لیاقت علی خان کی قیادت میں مہاجر بورژوازی اور مہاجر سول و (بہت قلیل فوجی ) نوکر شاہی سے گٹھ بندھن کیے ہوئے تھا ، اور ان کا ایک نہایت ہی قلیل گروہ جناح کے ساتھ خود کو نتھی کرتا تھا ، لیکن یہ تینوں گروہ اردو ، دو قومی نظریے کے نام پر بلوچ، پشتون اور سندھیوں کے حقوق دینے کو تیار نہیں تھے- مسلم تعلیم یافتہ طبقے میں دوسرا گروہ وہ تھا جو طبقاتی اعتبار سے پنجاب اور سندھ کی جاگیردار اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا اور اس طبقے کے اندر ایسے افراد موجود تھے جو پہلے دن سے پنجابی اور مہاجر حکمران اشرافیہ کے کلب میں بطور جونیئر پارٹنر شامل تھے اور جب یہ اس کلب سے نکالے گئے تو انہوں نے خود کو سندھی اور پشتون قوم پرست سیاست کی طرف موڑا۔

بعد میں قرار پانے والے مغربی پاکستان کے مسلم درمیانے طبقے کی ایک پرت وہ تھی جو پہلے دن سے بائیں بازو اور قوم پرستی کی ترقی پسند روایت سے منسلک تھی جس کی سب سے بڑی علمبردار کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان( اس میں یو پی ، سی پی، پنجاب – مہاجر اور مقامی ۔ دونوں تعلیم یافتہ درمیانے طبقے سے لوگ شامل تھے ) ، بلوچستان ، صوبہ سرحد ، سندھ پیپلزپارٹی( جی ایم سید ) ، سندھ ہائی کمیٹی ( حیدر بخش جتوئی ) ، خدائی خدمتگار (باچا خان ) ، آزاد پاکستان پارٹی (میاں افتخار الدین ۔۔۔ یہ مسلم لیگ میں شامل ترقی پسند پنجابی مسلمانوں کی پارٹی تھی ) اور نیشنل قلات پارٹی ( استمان گل پارٹی ۔۔۔۔ غوث بخش بزنجو ) اور عبدالصمد خان اچکزئی کی پارٹی جو بعد ازاں نیشنل عوامی پارٹی – نیپ بنی – اس میں کئی ایک لبرل تعلیم یافتہ درمیانے طبقے کے لوگ بھی شامل ہوئے- ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس پارٹی میں پاکستان کے تعلیم یافتہ درمیانے طبقے کی ایک بڑی تعداد تھی جبکہ چند ایک کا تعلق جاگیردار اشراف طبقے سے تھا- بعد ازاں پیپلزپارٹی میں بھی اسی ترقی پسند روایت کے تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہوئے – اس روایت سے جڑنے والے تعلیم یافتہ گروہ کے بارے میں یہ کہنا تو ہرگز درست نہ ہوگا کہ ان کا سیاسی شعور رجعت پرستانہ تھا یا یہ پاکستان کی سیاست کے زمینی حقائق سے نا واقف لوگ تھے ۔

آج بھی پاکستان میں جو ترقی پسند سیاسی جمہوری شعور ہے اسی روایت سے جڑے پڑھے لکھے دانشور سیاسی ، صحافتی ، قانونی شعبوں سے جڑے لوگوں کی مرہون منت ہے – اس لیے مطلق یہ حکم جاری کرنا کہ پاکستان کی ریاست اور سماج کی ساخت بارے انھیں سمجھانا مشکل کام ہے ۔
۔۔۔۔۔
[پاکستان ایک سیکیورٹی سٹیٹ ہے جسے گلف کی سیکیورٹی اور امریکی مفادات کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
پاکستان میں کبھی صنعتی انقلاب ایا نہ چرچ کو جلایا گیا اور نہ ہی جمہوریت کو بطور طرز زندگی قبول کیا گیا۔]
بریکٹ میں جو مقدمہ بیان کیا گیا ہے اس مقدمے کی تفصیل بارے جو لٹریچر اب تک دستیاب ہے وہ سارے کا سارا پاکستان کی ترقی پسند روایت سے جڑے پڑھے لکھے مصنفین اور لکھاریوں کی دین ہے اور عوام میں اس مقدمے کو پھیلانے کا کام بھی ترقی پسند سیاسی روایت سے وابستہ رہے سیاست دانوں نے ہی کیا اور جو آج یہ کر رہے ہیں ان کو بھی یہ ورثہ وہیں سے ملا ہے۔

[پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کو اقتدار منتقل نہیں کیا گیا تھا ۔ امریکی انتظامیہ کیری لوگر بل کی منظوری تک پینٹاگون کے ذریعے پاکستان کو چلاتی تھی۔]
اس مقدمے کا پہلا جزو مسلمہ تاریخی حقائق کی نفی ہے – جناح بطور گورنر جنرل نئی بننے والی ریاست کے سب سے طاقتور اور سب سے با اختیار حکومتی عہدے دار تھے ان کے زمانے میں وزیر اعظم کا آفس ایک ڈاک خانے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا ۔مسلح افواج کا انگریز سربراہ ان کے ماتحت تھا اور سویلین نوکر شاہی پر انھیں مکمل کنٹرول تھا اور یہ جناح تھے جنھوں نے سیکرٹری جنرل کا ایک عہدہ تخلیق کرکے ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول جما رکھا تھا اس کی تفصیل حمزہ علوی کے ہاں موجود ہے ۔ جناح پہلے دن سے امریکی اثر و رسوخ کو برا خیال نہیں کرتے تھے اور ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے پاکستان کے سوویت یونین کے خلاف بفر اسٹیٹ ہونے کا خیال بھی پیش کیا تھا- یہ جناح تھے جنھوں نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی منظوری دی تھی اور مخالفت کرنے پر ایوب کھوڑو کی وزرات ختم کردی تھی ، اور پھر سرحد میں کانگریس کی وزرات کو بھی انہوں نے ختم کیا تھا- یہ جناح ہی تھے جنھوں نے اردو کو زبردستی مسلط کیا اور وہ پاکستان کو کثیر اللسانی اور کثیر القومیتی ریاست نہیں مانتے تھے۔

[کبھی زندگی میں موقع ملے تو بھٹو کی تحریر کردہ کتب پڑھنے کی کوشش کیجئے۔
اسد مینگل کے قتل پر بھٹو نے لکھا تھا کہ پاکستان ایک جنگل ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلتا ہے۔]
بھٹو صاحب نے بلوچستان کے مسئلے پر کوئی کتاب تحریر نہیں کی اور جب وہ قید ہوئے اور انہوں نے “اگر مجھے قتل کیا گیا” نامی جو کتاب لکھی اس میں انھوں نے کسی ایک جگہ بھی 1972ء سے 5 جولائی 1977ء تک ان کے دور حکومت میں بلوچ اور بلوچستان کے ساتھ جو ہوا اس پر کہیں یہ نہیں لکھا کہ ریاستی ادارے ان کی مرضی اور منشاء کے برخلاف کردار ادا کر رہے تھے – جبکہ انھوں نے بلوچستان کے خلاف کاروائی کے دنوں میں جتنی بھی تقریریں کیں اور بیانات دیے وہ سب کے سب اس کاروائی کے جواز میں تھے ،اسد مینگل کی جبری گمشدگی پر انھوں نے جو کہا اسے استثنا تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس کو بنیاد بناکر ان کی درجنوں تقریروں اور بیانات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا- نیپ کے خلاف ریفرنس انھوں نے سپریم کورٹ بھجوایا تھا اور آئین میں ترمیم کرکے فوجی ٹربیونل بھی انہوں نے قائم کیا – آج جو فوجی عدالتیں نو مئی کے ملزمان کا ٹرائل کر رہی ہیں وہ انھی کے دور میں ہوئی ترمیم سے بننے والے قانون کے تحت ہو رہا ہے – اب یہ صاحب تحریر بتائیں گے کہ ان کی نظر میں اور کون سی بھٹو کی تحریریں ہیں جو سیاست کے طالب علم کو پڑھنی چاہیں ۔

[بھٹو نے ایوب خان کے ساتھ کام کر کے ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کے سسٹم کو سمجھا اور اس کی طاقت کو توڑنے کے لیے 1973 کا آئین بنایا۔]
اس چوتھے مقدمے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے جیسے کہ بھٹو اپنے سیاسی کیرئیر کے پہلے روز سے جمہوریت پسند تھے اور عوامی راج کا نعرہ لگاتے تھے اور وہ کیموفلاج کرکے ایوب خان کی کابینہ کے رکن بنے تھے، لیکن حقائق ہمیں کچھ اور بتاتے ہیں ، ذوالفقار علی بھٹو نے ایک خط گورنر جنرل اسکندر مرزا کو لکھا تھا اس خط کے مندرجات انھیں قطعی ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریت پر یقین رکھنے والا سیاست دان نہیں بتلاتے – بھٹو نے 65ء کی جنگ بندی سے پہلے تک ایوب خان کی حکومت کا دل و جان سے دفاع کیا اور وہ اس دوران پاکستان کی جمہوری سیاسی حزب اختلاف کی جماعتوں کے خلاف پوری طرح سے سرگرم رہے – صدارتی نظام کو وہ پوری طاقت سے دفاع فراہم کرتے رہے ، صدارتی انتخابات کے دوران محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف تاریخ کی جو بدترین سرکاری پروپگینڈا مہم چلی وہ اس کا حصہ تھے اور ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف جو انتہائی گندی پریس کانفرنس فلیٹیز ہوٹل میں کی تھی وہ اس میں نہ صرف موجود تھے بلکہ بعد میں بھی کبھی انھوں نے وہاں اپنی موجودگی پر کوئی شرمندگی ظاہر نہیں کی- پیپلز پارٹی بنانے میں شامل کسی ایک لیڈر نے کبھی ایسا بیان نہیں دیا جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ ایوب شاہی کا حصہ وہ کسی کیموفلاج حکمت عملی کے تحت بنے تھے – خود بھٹو نے نشتر پارک کے تاریخ ساز جلسے میں تقریر کے دوران کہا تھا ” میں پہلے ایوب شاہی کا حصہ تھا جسے میں چھوڑ کر عوام میں آگیا ہوں ” ۔

[1973 کے آئین میں صرف ایک اصول متفقہ طور پر طے کیا گیا۔
اقتدار ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول پر الیکشن کے ذریعے تبدیل ہوا کرے گا۔
1973 کے آئین میں عدالتی نظام اور فوج کو آئین کے تحت لانے کی نہ کوئی کوشش کی گئی نہ کوشش ہوئی اور نہ ہی یہ ممکن تھا۔
کیونکہ 1973 کے آئین کے وقت بھٹو کے علاوہ تمام لوگ اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کو بڑھانے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔
آئین میں پہلا قدم 1973 میں اٹھایا گیا ۔]
1973ء کے آئین کی تشکیل کا عمل اس وقت شروع ہوا جب اپوزیشن جماعتوں بشمول نیپ نے ملک سے مارشل لاء اٹھانے کا مطالبہ کیا- اس مطالبے کے جواب میں پہلے پیپلزپارٹی نے مارشل لاء اٹھانے سے انکار کیا اور کہا کہ ابھی وقت نہیں آیا – اس کا سب سے بڑا ثبوت پیپلز پارٹی کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 150 اراکین کے دستخطوں سے منظور کی جانے والی وہ قرارداد تھی جس میں بھٹو صاحب کو بطور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کام جاری رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا – نئے آئین کی تشکیل کے مطالبے سے پہلے اپوزیشن تو یہ موقف اختیار کیے ہوئے تھی کہ نومبر 1970ء کے انتخابات متحدہ پاکستان کے لیے ہوئے تھے جو ٹوٹ چکا، اب ملک میں نئے انتخابات ہوں اور نئی دستور ساز اسمبلی کا قیام وجود میں آئے جسے بھٹو نے ماننے سے انکار کیا اور اپوزیشن جماعتوں نے اس پر احتجاجی تحریک چلانے پر غور کیا تب کہیں جاکر بھٹو نے نئے آئین کی تشکیل کی تجویز دی ۔ اپوزیشن جماعتیں اس پر راضی نہیں تھیں خود نیپ کے اندر اس پر اختلاف تھا اور اسی دوران بھٹو بلوچستان میں مرکز کی سیکورٹی فورسز کے ذریعے مداخلت شروع کرچکے تھے – نیپ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کئی ایک اراکین موجودہ اسمبلی کے ذریعے سے آئین کی تشکیل کی مخالفت کر رہے تھے یہ میر غوث بخش بزنجو تھے جنھوں نے نیپ کی مرکزی مجلس عاملہ کو موجودہ اسمبلی کے ذریعے سے آئین کی تشکیل پر راضی کیا۔ نیپ وہ جماعت تھی جس کے بنیادی منشور میں پہلے دن سے بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ شامل تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ اس وقت کی سب جماعتیں اسٹبلشمنٹ کی طاقت کو بڑھانے کی جدوجہد کر رہی تھیں تاریخ کا انکار کرنے کے مترادف ہے – یہ کہنا کہ 1973ء کے آئین میں عدلیہ اور فوج کو آئین کے تحت لانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی سراسر غلط اور حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ قومی اسمبلی نے 1973ء کے جس آئین کی منظوری دی تھی اس میں عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کا صاف ذکر موجود تھا اور عدلیہ کے فرائض اور اختیارات کو صاف بیان کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کی تقرری کا صوابدیدی اختیار وزیراعظم کے پاس تھا – 1973ء کے آئین میں عدلیہ کے اختیارات بارے پہلی آئینی ترمیم خود ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی جس پر خاصی تنقید ہوئی اور ضمانت سے متعلق عدلیہ کے اختیار کو سلب کرنے والی ترمیم بعد ازاں خود بھٹو کے مقدمے میں ان کے خلاف استعمال ہوئی – فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے کی ممانعت کی شق آج بھی 73ء کے آئین کا حصہ ہے اور مارشل لاء لگانے اور آئین توڑنے کی سزا موت بھی اس آئین میں شامل کی گئی تھی -جس کا حوالہ دے کر بھٹو کہا کرتے تھے کہ انہوں نے مارشل لاء لگانے کا راستا ہمیشہ کے لیے بند کردیا ہے – اسی آئین میں مسلح افواج کے سربراہان اور آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کرنے کا اختیار بھی وزیر اعظم کو دیا گیا جو آج تک وزیراعظم کے پاس ہی ہے۔

[اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بھٹو دور میں مخالفین پر تشدد ذوالفقار علی بھٹو کی ترجیح تھا ۔ بلوچستان آپریشن ذوالفقار علی بھٹو کی ترجیح تھا ۔ تو پھر آنے والے وقت میں اپ کو تاریخ پڑھنا پڑے گی۔
مسئلہ یہ ہے کہ 1977 سے 1988 تک کی اخباری سرخیاں آپ نے حفظ کر لی ہیں اور اسے کامل علم سمجھتے ہیں۔]
بلوچستان آپریشن اور سیاسی مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنایا جانا اور بدنام زمانہ اذیت خانوں میں سیاسی مخالفین کو قید کیا جانا بھٹو کی ترجیح تھا یا نہیں یہ سب ان کے دور میں ہوا وہ طاقتور وزیراعظم تھے اور یہ ان کی غلطی تھی جس کا خمیازہ مارشل لاء کی صورت میں نکلا ۔میر غوث بخش بزنجو اور شیر باز مزاری نے اس موضوع پر اپنی سوانح عمری میں جو لکھا وہ ہرگز 1977_1988 کی اخباری سرخیوں سے اخذ کردہ نہیں ہے اور نا ہی ہم اسے بغض بھٹو کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں ۔

[آپ پاکستانی معاشرہ کی بنت کو سمجھنے سے انکاری ہیں ۔ اپ پاکستانی معاشرہ میں ایک فرد ایک ووٹ کے اصول کو تسلیم نہ کیے جانے پر احتجاج نہیں کرتے ہیں ۔ اپ منتخب وزیراعظم کی کمزوری کو انفرادی عمل دیکھتے ہیں اسے تاریخ کے ساتھ ملا کر نہیں دیکھ رہے کہ اپ کے بقیہ تمام وزیراعظم بھٹو سے زیادہ کمزور ثابت ہوئے۔
یہ سب باتیں اپ تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کو پڑھ کر تو سمجھ سکتے ہیں لیکن جب اپ جاوید چودری سہیل وڑائچ اور نجم سیٹھی کو دانشور مان کر تاریخ کا تجزیہ کریں گے تو بالکل وہی نتائج نکلیں گے جو اپ نکال چکے ہیں۔]
بھٹو اور پیپلزپارٹی کے سارے ناقدین نہ تو پاکستانی معاشرے کی بنت سے نا سمجھ ہیں اگرچہ پاکستان کی اربن چیٹرنگ کلاس کی اکثریت کو اس نا سمجھی کا طعنہ دیا جانا بالکل درست ہے – ایم آر ڈی کی تحریک ہو یا اس کے بعد عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے ہونے والی جدوجہد وہ پیپلزپارٹی پارٹی کے علاوہ بھی کئی اور جماعتوں نے کی اور اس کی صرف پیپلزپارٹی وارث نہیں ہے – اور نہ ہی آج بھی جمہوریت پسندوں کی ایک معتدبہ تعداد جاوید چوہدری، سہیل وڑائچ اور نجم سیٹھی ، حامد میر کو دانشور مان کر تاریخ کا تجزیہ کرتی ہے – نجم سیٹھی کو چیف منسٹر بنانے کی حمایت آصف علی زرداری نے کی تھی – پیپلزپارٹی کے مرکزی سیمیناروں جن میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر ہونے والے سیمینار ہوں یا 5 جولائی 1977ء کی مناسبت سے سیمینار ہوں ان میں مرکزی مقرر سہیل وڑائچ کو بھی پیپلزپارٹی کی قیادت نے بنایا تھا- آصف علی زرداری نے سب سے زیادہ انٹرویو بھی حامد میر، سہیل وڑائچ۔ عاصمہ شیرازی کو ہی دیے اور حامد میر کو گھر بلاکر اجرک بھی موجودہ قیادت نے پہنائی تھی – شہید بی بی کی برسی پر اسٹیج پر مجیب شامی ، عارف نظامی اور عبدالقادر حسن کو بھی پی پی پی کی مرکزی قیادت نے بٹھایا تھا کسی اور نے نہیں – جو تاریخ کا غلط شعور بانٹتے ہوں انھیں معتبر پیپلزپارٹی کی قیادت خود بناتی ہے اور ایسے میں اگر کوئی اس غلط شعور کا اسیر ہوتا ہے تو اس میں قصور خود پیپلزپارٹی کا بھی نکلتا ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

باشعور سیاسی کارکن اپنی جماعتوں کی قیادت کے کمزور لمحات کا دفاع نہیں کرتے بلکہ اس سے سبق سیکھتے ہیں – پیپلزپارٹی کی قیادت نے 1977ء میں اقتدار کھونے کے بعد اپنی غلطیوں کا دفاع نہ کرنے کا سبق بتدریج سیکھا اور پی این اے میں شامل کئی جماعتوں کو بھی بتدریج احساس ہوا تھا کہ وہ بھٹو اور پی پی پی کی دشمنی میں جہاں تک گئے وہ بڑی فاش غلطی تھی اور یہ سیکھنے میں دونوں اطراف کو قریب 6 سال لگ گئے تھے تب کہیں جاکر ایم آر ڈی مارچ 1983ء میں بن پائی تھی ۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply