ناصر ڈھلوں سے گفتگو۔۔سائرہ ممتاز

بہت کچھ ایسا ہے جو راکھ میں گُم ہے. راکھ جو شاہ عالمی لاہور سے اڑتی ہے اور گھمن گھیریاں ڈالتی ہوئی فیروز پور، گورداس پور، امرتا اور اے حمید کے امبرسر (امرتسر) سے گزرتی ہوئی چندی گڑھ، پٹیالہ، ہریانہ سے ہوتی ہوئی راجستھان کے صحرا میں ریت پر جا گرتی ہے. وہاں جہاں پانچ دریاؤں کی ماں سرسوتی کا جنم ہوا تھا جس کا بطون سوکھ سوکھ کر خشک ہو چکا ہے اور اب وہاں صرف برگ صحرا اگتے ہیں.

دیکھیں اگر آپ اسے نسلی تفاوت، عصبیت اور علاقائی تعصب نہ  سمجھیں تو مجھے کہنے دیں ‘پنجابی ہونے نے مجھ سے خراج لیا ہے. اور مجھے کبھی ٹھیک سے سانس نہیں لینے دیا. پنجاب کی دھرتی نے ہر دور میں خون دیا اور خون اُگلا ہے.
بات آگے بڑھانے سے قبل مجھے بھائی ناصر کا تعارف لکھنے دیں.

لائل پور فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد دادا اپنے گاؤں کے نمبردار ہیں. زمینداری سے وقت نکال کر کاروبار اس وجہ سے کرتے ہیں تاکہ اس کی آمدنی کا ایک حصہ فلاحی کاموں پر خرچ کر سکیں جس میں  سکول کے غریب و نادار بچوں کی کتابیں یونیفارم وغیرہ جیسے کاموں سے لے کر ایک بڑا کام پنجابی لہر بھی ہے.

میرا بھائی کے ساتھ تعلق کچھ زیادہ پرانا نہیں لیکن لگتا صدیوں پرانا ہے اس لیے کہ جو کچھ میری روح محسوس کرتی ہے اسے بھائی ناصر کب کا عملی جامہ پہنا چکے ہیں. پنجابی لہر کیا ہے؟ ایک خواب ہے ایک خیال، عشق کی دھمال ہے. ایک رنگ ہے. امیر خسرو کا گیت ہے، شاہ حسین کی کافی ہے گورو نانک کی بانی ہے پنجابی لہر وہ ہے جو روحوں کی سینچائی، صفائی اور ادھڑی ہوئی رگوں کی سلائی کرتا ہے.

ميں ونڈيا ميری روح ونڈی ميری تھاں ونڈی 47 نے
ميرے يار وڈے ميری ماں وڈی مير ا پيو وڈيا 47 نے
اوہناں ونڈياں تے وڈياں کنے دکھ دتے،کاکے_مُسلے نمانے نو
ڈھلوں ميرا فر وی دل کر دا گلوکڑی پاواں بارڈرو پار،امرو_سنگھ دے لانے نو

سوال:پنجابی لہر کے سفر کے دوران کن واقعات نے آپ کو بہت متاثر کیا. لگا ہو کہ قیامت اگر کوئی ہوگی تو ایسی ہوگی؟
جواب:ایک بابا جی کی کہانی ہے. اس کہانی کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا. جب بابا جی اپنی کہانی سنا رہے تھے تو مجھے لگ  رہا تھا میرا اپنا بیٹا زریون اس ٹرک کے پیچھے دوڑ رہا ہو جو پاکستان جا رہا تھا. پھر وہاں سے اس بابا جی کو ایک سکھ جس کا نام امرو سنگھ تھا نے پالا اور پھر چار سال وہ بابا جی وہاں رہے  اور میں کہتا ہوں کہ ہمارے اندر(سب مذاہب کے ماننے والوں کے اندر) پاکی پلیتی کا کانسپٹ جیسے رچ بس گیا ہے ویسا کسی مذہب نے نہیں بتایا آپ سوچیں کہ روح کانپ جاتی ہے جب بابا جی نے بتایا کہ امرو سنگھ کی گھر والی اس برتن میں مجھے کھانا کھلاتی تھی جس برتن میں، میں رات کو پیشاب کرتا تھا. (کوئی شاہ حسین کو بلاؤ مر گئی  ماؤں کا نوحہ لکھے)
اوپر جو پنجابی قطعہ ہے یہ میں نے اس واقعے کی شدت کو محسوس کرنے کے بعد لکھا تھا. ہر شے جو تقسیم ہوگئی  جسم، روح، یار بیلی حتی کہ ماں بھی ،ماں تو سانجھی ہوتی ہے ناں!
ایک  بزرگ کی کہانی ہے ،ایک اور کہانی جو انڈیا کے گاؤں سے آ کر لائل پور بسے تھے بس یہ سب بابے بتاتے ہیں کہ تقسیم کسی مذہب نے نہیں کی. سیاست دانوں نے اپنی حرکات سے ہمیں تقسیم پر مجبور کردیا

سوال:آپ کو  پنجابی لہر کا   خیال کیسے آیا ؟
جواب:ہم تین سال پہلے ایک  کتاب لکھ رہے تھے جس میں تاریخی عمارات اور قدیم ثقافتی یادگاروں، گوردواروں، قلعوں اور اس طرح کی سکھ عمارتوں کو بمع تصاویر مذکور کرنے کا ارادہ تھا وہ کرتے کرتے بس یہ وڈیوز اور تصاویر بنانی شروع کیں اب تک کوئی دو اڑھائی سو انٹرویوز یا شاید اس سے بھی زیادہ ریکارڈز کر چکے ہیں. یہ سب باتیں میں اپنے دادا جی سے سنتا تھا اور ان کا چار سال پہلے انتقال ہوا ہے. ان کو سب زبانیں آتی تھیں. میرے دادا جی صوفیاء سے عقیدت رکھتے تھے اور چشتی صابری لڑی سے بیعت تھے تو مجھے وہاں سے ان باتوں میں دلچسپی پیدا ہوئی

سوال:آپ اب تک کتنے  مقامات کا وزٹ کر چکے ہیں؟
جواب:ہم نے پنجاب کا تو کوئی شہر نہیں چھوڑا اس کے علاوہ کراچی اندرون سندھ، پشاور اور کے پی کے کی بہت سی جگہوں کا وزٹ کر چکے ہیں۔

سوال:آپ کو دوران سفر سب سے زیادہ کون سا تاریخی مقام پسند آیا؟
جواب:ویسے تو ہر شہر میں بہت ہی خوبصورت تاریخی مقامات ہیں لیکن مجھے کلر سیداں میں کھیم سنگھ کرن کی حویلی بہت پسند آئی وہ بہت خوبصورت اور عالیشان حویلی تھی. یہ وہ شخص تھا جس نے اٹھارہویں صدی میں اپنی بیٹی کی شادی پر تین لاکھ روپے بانٹے اور چھپن  سکول تعمیر کروائے تھے اور کاہدیاں میں ایک حویلی اچھی لگی تھی جسے دیکھ کر میں نے دو اشعار لکھے تھے
؎جے ونڈياں پا ہی لئياں نیں  ‘جے   تاراں لا ہی لئياں نیں  ‘جے اسی شکلاں وٹا ہی لئياں نیں
رب دا نا ں نا ونڈو ‘ رب دا تھاں نا ونڈو اوئے، رب دا ناں تے منو !
ظہیر:واہ بوہت ودھیا شعر

سوال:پنجابی سنگت کی وجہ سے سکھ برادری آپ کا کتنا مان کرتی ہے؟
جواب:پنجابی سنگت اور سکھ برادری میرا بہت مان عزت کرتی ہے. ابھی ہم دبئی گئے تو وہاں پر ہم نے ایک دن بھی ڈنر یا لنچ اپنی طرف سے نہیں کیا
سوال(رابعہ خرم صاحبہ کی جانب سے پہلا سوال)
پنجابی سفر میں کہاں کہاں کی خاک چھانی کتنے دریاؤں کا پانی پیا . کس مقام کے نمک نے آپ کو اسیر کیا؟
جواب:پنجاب تے سارے دا سارا پھر چھڈيا رہ کوئی نئی گيا ہن تے ياد وی نئی کے کتھے کتھے دا پانی پی ليا اے
رابعہ خرم:بات ابھی باقی ہے
ناصر ڈھلوں:نارووال سیالکوٹ

سوال:آپ کے اشعار میں تقسیم کا دکھ ہے. دو قومی نظریہ کی آپ کی نظر میں کیا اہمیت ہے؟
جواب:دو قومی نظريے دا حامی ہاں ميں وی، لیکن دو قومی سی يا دو مذہبی
قوم دی گل کر دے او تے پنجابی سارے اک قوم سن۔

سوال(ظفیر):السلام علیکم ڈھلوں صاب۔ اسیں پنجابیاں دی نویں پیڑھی خاص کر لیہندے پنجاب والے ، اپنیاں ریتاں رواجاں نوں چھڈدے جا رہے آں تے وچاراں نوں بھلدے جا رہے  آں۔ ایس بارے کی کہنا چاہو گے؟
جواب:اسی سمجھدے کہ  پنجابی بولی ماڑياں دی زبان اے،سڑک کنڈیے بيٹھا جوتی گنڈن والے ہی پنجابی بولنے نیں،
سبھ  تو ماڑی گل یہہ   ہے کہ اسی اپنے بچياں نو ں پنجابی بولن تو منع کر دے آں۔
ظفیر:صحیح کہہ رہے او!
ناصر ڈھلوں:جے تسی چڑھدے پنجاب دی گل کرو تے اوتھے پنجابی بولی دی سانبھ ہے پر پنجابی سبھيا چار لہندے پنجاب نالوں  گھٹ اے۔پاکستان پنجاب دے پنڈاں وچ اج وی سانو ں پنجاب دسدا اے،جو انڈيا پنجاب وچ ماند پئے  گيا اے۔
ظفیر:اوہ۔۔ایہہ میرے لئی  اک نویں گل اے۔

سوال(رابعہ خرم)آپ کا آبائی اور رہائشی مقام کون سا ہے؟
جواب:لائلپور پنڈ پنجوڑ

سوال(عمیر سعود قریشی)آپ پنجابی ادب کو جو تقسیم پاکستان کے بعد دو ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا اسے آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں. کیا اس کی ادبی ساخت متاثر ہوئی ؟(صرف ادبی اعتبار سے  ،بات کہیں دو قومی نظریہ کی طرف نہ مڑ جائے )
جواب:ادبی اعتبار نال ويکھيئے تے بہت نقصان ہويا،نویں  جنريشن نوں  کوئی نئیں  پتہ فريد کون سی بھلے شاہ کون سی تے کون سی وارث شاہ۔فیر دوجی گل کہ ادب دا کجھ اوجیہا چانناں وی نئیں  رہیا۔ویسے سچی پچھو تے کجھ دن پہلاں شیوکمار بٹالوی نوں پڑھدیاں ہک عجیب جیہا احساس ہویا کہ اسی ادب دے حوالے نال کافی متاثر ہوئے آں،بلکہ سچ تے ایہہ ہے  کہ انڈیا پنجاب آلے ایس حوالے نال ساڈے توں اگے نیں ۔کجھ مہينے پہلاں اک بہت وڈا نام افضل احسن رندھاوا ایس  جہانوں   ٹُر  گئے، پاکستان کسے نوں  کوئی خبر نئیں  سی تے انڈيا پنجاب بھونچال   آيا پيا سی ميڈيا اُتے

سائرہ ممتاز:سچ کہہ  رہے ہو، افضال احسن رندھاوا   جیسے   صاحب علم و فن کا جانا کچھ کم سانحہ نہ  تھا لیکن ہم  ایک ناشکری قوم  ہیں
ناصر ڈھلوں:ايس  طرحاں  دی  کہانی بابو رجب علی کوشری والے دی اے۔اوہناں دی فيملی اوکاڑہ وچ رہندی اے جنہاں  نوں  انڈيا پنجاب لوک پوجدے نیں  تے ايتھے پتہ  ای نئیں  کسے نوں
عمیر سعود قریشی:پنجابی ادب نوں جدوں تک پنجاب سرکار سرپرستی وچ نئیں لیندا مینوں تے مستقبل وچ ہنیرا ای  دسدا اے
ناصر ڈھلوں:عمیر  سولہ آنے  کھری گل تہاڈی، پاکستان دی گل کر لو تے تسی  ویکھنا  کہ  پٹھان جتھے مِلن گے اک دوجے نال پشتو بولن گے،ايسے طرحاں بلوچی تے سندھی اوہناں دا سليبس وی پڑھايا جاندا پر پنجاب وچ  صورتحال  قدرے وکھ  اے !سکولاں وچ پنجابی دا مضمون لازمی ہونا چاہیدا  اور جدوں تیک ایہہ  زبان بچے سیکھن گے نئیں وڈے ہو  کے  اوہناں نوں کیہ  پتہ ہونا  کہ پنجابی وی کوئی زبان اے.میرے دادا جی کہندے سن کہ  ایہناں دی جوانی وچ شادی بیاہ دی کو ئی محفل سیف الملوک (تصنیف میاں محمد بخش) توں بغیر  مکمل نئیں سی ہندی:اج کسے نوں پتہ ای نئیں سیف الملوک  ہے کیہہ۔

سوال(اسما امجد):پنجابی زبان کو ماں بولی کہتے ہوئے کسی نے شعر بھی لکھا ہے جو مجھے بہت پسند ہے؟
ماں بولی نوں جے بھل جاؤ گے
تے ککھاں وانگ رل جاؤ گے

سوال(ظفیر)تہانوں سب توں  بوہتا  کس پنجابی ہستی نے متاثر  کیتا؟
جواب:بابا بلھے شاہ!
بلھيا ب چوں نکل گيا واں
ميں پنجرے وچوں نکل گيا واں
مينو ميرے نال نا ميچو
ميں ميرے چوں نکل گيا واں

سائرہ ممتاز:ناصر بھائی آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنا سفر ترک کر کے جب کہ آپ کے بچے بھی آپ کا انتظار کر رہے تھے ہمیں اتنا مان دیا اور ہمارے ساتھ رہے جو کام آپ کر رہے ہیں اس پر ستر سال سے کتابیں لکھ لکھ کر لوگ تھکے جاتے ہیں لیکن دکھ ہیں کہ کم ہی نہیں ہوتے آپ جیسے لوگ میرے ملک کا روشن چہرہ ہیں سلامت رہیں تا قیامت رہیں، فی امان اللہ!

تقسیم کے دوران دکھ جھیلنے والے ایک بابا جی کی کہانی جو ناصر ڈھلوں صاحب نے ریکارڈ کی۔ لنک!

https://m.youtube.com/watch?feature=youtu.be&v=5XwAK2tFB_I

Save

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *