تبصرہ کتب: ناول “موٹی” مصنفہ: ثمینہ مشتاق تبصرہ نگار : صادقہ نصیر

حال ہی میں ایک دوست کی جانب سے ایک کتاب بھجوائی گئی۔ جس کو پڑھنے کے لئے قلتِ وقت کے علاوہ کشش محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔ لیکن کتاب دسترس میں ہو اور جان بوجھ کر نہ پڑھی جاۓ،تو علم دوستی کا دعوی نہیں کیا جا سکتا ۔ دوسرے صاحب کتاب کے ساتھ زیادتی ہے ۔ اور کتاب کی بے وقعتی کا جرم سرزد ہوتا ہے ۔
چونکہ یہ کتاب بڑی چاہت سے بھجوائی گئی تو اس کو پڑھنا لازم تھا ۔ اگرچہ یہ کتاب ایسا ناول ہے جو سلسلہ وار خواتین کے مقبول ڈائجسٹ دوشیزہ میں شائع ہوا ۔ میں ابتدا ءسے ہی ناول اور ڈائجسٹ پڑھنے کی اتنی شائق نہیں رہی ۔ بس اتنا کہ یہ ناول اور افسانے جو ڈائجسٹوں میں شائع ہوتے ہیں خواتین ہی لکھتی ہیں ۔ عام طور پر اس پر کبھی توجہ نہیں دی ۔ کیونکہ ان تحریروں میں عموما ََچھوٹی عمر کی لڑکیوں کے شادی کے بارے میں اور محبتوں کے سلسلے میں آئیڈیل ازم اور رومانس کی بات ہوتی ہے اور ان ناولوں اور افسانوں پر یہی الزام دھرا جاتا ہے کہ یہ تحریریں کچی عمر کی لڑکیوں کو عملی زندگی سے دور کرکے صرف شادی اور کزن کے ساتھ رومانس کو زندگی کا مقصد حیات سکھاتی ہیں ۔ اسی خیال سے اس ناول کو پڑھنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا مشکل لگا ۔
لیکن زیر نظر کتاب جو ایک ناول ہے اس کے نام ” موٹی” نے توجہ کھینچی ۔

512 صفحات پر مشتمل یہ ناول ایک ضخیم کتاب کہلانے کے قابل ہے ۔ خوبصورت سرورق اور فلیپ اور بیک ٹائٹل والی کتاب ایک خوبصورت کتاب ہے ۔ جس میں ناول نگار اور افسانہ نگار مونا شہزاد کیلگری ، لبنی غزل ، مرزا یسین بیگ مسی ساگا کینیڈا ، شگفتہ شفیق کراچی ، ماہ رخ آصف ، سنبل کمال زئی ، نسیم سکینہ صدف اور ہاجرہ عمران کے علاوہ انگبین شاہ (سینئر ہیں کانٹینٹ مینیجر اے آر وائی ) اور منزہ سہام مرزا ؛ مدیرہ اعلی دوشیزہ میگزین واشنگٹن جیسی ادبی شخصیات کے تبصرے اور آراء شامل ہیں ۔
یہ ناول 2022 میں شائع ہوا ۔
انتساب مرحوم والدین کے نام
اور پیش لفظ کے طور پر ثمینہ حرف چند میں رقمطراز ہیں کہ “موٹی ” میری تحریر نہیں ہر لڑکی کے خواب کی تحریر ہے”

ناول پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ ناول بے شک پاکستان کے اردو ڈائجسٹوں کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور بلا شبہ اس میں بھی لڑکیوں کے کزن کے ساتھ رومانوی انسیت کا پر زور تذکرہ ملتا ہے جو ہمارے پاکستانی معاشرے کا رنگین نسائی آئیڈیل ازم ہے ۔ لیکن ثمینہ مشتاق کے اس ناول کو مکمل پڑھ کر احساس ہوا کہ اس ناول میں اس چاشنی کے علاوہ بھی بہت سے نفسیاتی ، سماجی، معاشی اور تمدنی مسائل کو بڑی تندہی اور فنکارانہ صلاحیتوں کے ساتھ اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ایک قاری بہ آسانی سمجھ سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے تمدنی ڈھانچے میں عورت کے رومانوی جذبات کس طرح اور کیونکر دبا دئیے جاتے ہیں ۔ اگرچہ زمانے کی تیز رفتار ترقی نے بہت کچھ بدل دیا ہے لیکن پاکستان کی پڑھی لکھی لڑکیاں ابھی بھی ان تمدنی ڈھانچے کے معیارات کے تابع رہ کر امید ویاس کی کیفیات سے دوچار ہیں ۔
ثمینہ مشتاق تحسین و داد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے اس ناول کے ذریعہ ان مسائل کی نشاندہی کرکے ڈائجسٹ کے معیار سے بلند کرکے اور اپنی اس تخلیق کو مقصدیت کے ذریعہ ادب برائے اصلاح اور ادب برائے شعور کی کاوش کی ہے جو لائق تحسین ہے ۔
جو چیز اس ناول کو بلند کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مصنفہ نے شعوری یا لاشعوری طور پر بہت سادہ اور آسان فہم انداز میں معاشرے کے اس نرگسی روئیے کی جانب توجہ مبذول کروائی جس کی وجہ سے لڑکیاں شادی کی عمر میں باڈی شیمنگ یعنی اپنی فطری جسمانی ساخت میں کمی بیشی کی وجہ سے لوگوں حتیٰ کہ اپنے ہی گھر والوں کے ہاتھوں تنقید ، تضحیک اور طعن و تشنیع کا نشانہ بن کر اپنی عزت نفس کھو بیٹھتی ہیں جس کی وجہ سے وہ نہ تو اپنے پسند سے اپنی زندگی کے فیصلے کر پاتی ہیں بلکہ معاشرے کے ان منفی رویوں کی وجہ سے سمٹ کر مزید مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں ۔
دوسری طرف معاشرے میں مروجہ معیارات کے ساتھ چمٹے رہنے اور چوائسز کی عدم دستیابی ، شادیوں کے سلسلے میں اپنے بہن بھائیوں کی طرف نظریں لگا کر ان سے اپنے بچوں کی شادیوں کی آس امید لگائے رکھنا اور بعد میں ان آس امیدوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے بہن بھائیوں میں دوری پیدا ہونا ، جائدادوں اور مالی مفادات کی خاطر ایک ہی خاندان کو قابو میں رکھنے کی کوشش ، لڑکوں کا شادی کے لئے ظاہری حسن کو فوقیت دینا اور خاندانی دباؤ کے تحت وقتی تعلقات اور منافقت کے ساتھ دھوکہ دہی جیسے معاملات کو بھی بڑی کامیابی سے زیر بحث لایا گیا ہے ۔ ایک اور بات جس کو ثمینہ مشتاق اپنے ناول میں بتانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی شادیوں کے لئے اپنے بہن بھائیوں پر اتنا انحصار کر لیتے ہیں کہ وہ اپنی اچھی بھلی سیٹ زندگی کو چھوڑ کر شہر حتی کہ صوبہ بھی چھوڑ دیتے ہیں اور مصر رہتے ہیں کہ بس فلاں ماموں یا پھوپھی کے لڑکے سے ہی شادی کرنی ہے ۔ادھر لڑکے کے والدین بھی اپنے بہن بھائیوں کے قرب کی خاطر اپنے بیٹوں کو زبردستی دور دراز مقیم بندھنوں میں باندھ دیتے ہیں اور لڑکے بھی اس دباؤ میں آ کر والدین کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی سچی محبتیں ظاہر کرکے حامی بھر لیتے ہیں لیکن جوں ہی موقع ملتا ہے منگنی یا شادی توڑ دیتے ہیں ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مصنفہ یوں تو لگتا ہے کہ اس ناول کے ذریعہ صرف لڑکی کی مشکلات بتاکر اس ناول کو فیمنزم کی طرف داری کرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن ناول کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کی کہانی کی بنت مرد ، عورت اور ان تمام لوگوں کے متاثر ہونے کے ثبوت بھی فراہم کرتی ہے ۔ ایک طرف ایک لڑکی جو اپنی فربہی پن کی وجہ سے مسترد ہوتی ہے لیکن اس بات کو ضروری سمجھتی ہے کہ وہ اسی شخص سے شادی کرنے کو تیار ہے جس نے اسے ٹھکرایا ہے یوں بے وفائی ثابت ہونے کے باوجود خود اذیتی میں مبتلا ہے ۔ دوسری طرف ایک دوسری عورت کا کردار بھی نظر آتا ہے جو اپنی بلند معاشی حثیت کے زعم میں مرد کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ہے ۔
لیکن بنیادی طور پر ناول کا مرکزی کردار ایک لڑکی زوبی ہے جو اپنی جسمانی ساخت یعنی محض فربہی  ہونےکی وجہ سے جذباتی اذیت کا سامنا کرتی ہے ۔ اور اس کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پورا گھرانہ معاشرتی اور معاشی تکالیف اور نفسیاتی جنگ کی حالت میں رہتا ہے ۔
یہ ناول اگرچہ بہت سادہ اور ہمارے معاشرے کی عام کہانی ہے لیکن اس ناول کو بلند مقام دلوانے میں مصنفہ نے اس میں ایک گہرا اور عظیم پیغام دیا ہے کہ کس طرح ہمارے معاشرے کی عورت تمدنی معیارات اور رویوں کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔
ثمینہ مشتاق نے زوبی کے کردار کی آڑ میں عورت کو احساس دلایا ہے کہ عورت کی تعلیم ، اس کا معاشی طور پر مستحکم ہونا اس میں اعتماد جیسی اعلی ٰصفت پیدا کرکے اس کے وقار اور رتبے کو اتنا بلند کر سکتا ہے کہ وہ شادی جیسے بندھن میں بڑے اعتماد سے داخل ہو سکتی ہے ۔ غالبا ََنہیں بلکہ یقیناََ ثمینہ مشتاق یہی کہنا چاہتی ہیں ۔ اس طرح یہ کہنا ہرگز مبالغہ آرائی نہیں کہ انہوں نے خواتین ڈائجسٹ کے اس ناول کو مقصدیت سے بھرپور بنا کر اپنا معیار بھی بلند کیا ہے اور ڈائجسٹ کا بھی ۔
ثمینہ مشتاق مبارک باد کی مستحق ہیں اور ان سے آیندہ بھی اس مقصدیت کے تحت تحریریں لکھے جانے کی توقع کی جاسکتی ہے ۔
آخر میں یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ کتاب سٹی بک پوائنٹ کراچی نے شائع کی ہے ۔
کتاب حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
Ph# 021 32762483
e-mail..citybookurdubazaar@gmail.com

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply