قصہء مختصر پادِ نسیم کا/ خنجر عظیم آبادی

اے بے بصیرت دُکمہ چشم، مربع صورت، پرنشیب پیشانی، خفیف ہے تیری کھوپڑی، مسکین، جائے سکونت ہے تیری جھونپڑی۔چوڑے چوتڑوں پر پھیر نزاکت کا آب تھرکتا پھرے ہے باب در باب، لوگ مانگیں ہیں پناہ ۔کون مقعد بھجنگ میں لے کر مول لے گنہ۔
اسم تیرا ہے زنانہ اے نسیم اور بدن قدرت نے کردیا مانند گینڈا جسیم، شک گزرے ہیں کہ والد کے انتقام کا نتیجہ ہے، ان کے مطابق نطفہ ترا دوجا ہے۔

تری خمیدگی کی ساری داستان دسترس خنجر میں ہے، بالکل لیٹیسٹ ورژن میں ہے۔این سی پی یو ایل کی رکنیت بہ عوض پری چہرہ بُت، لعنت ہے تری ذات پر، افسوس ہووے ہے اس معصوم بی بی کے حالات پر۔ اگر خاندانی وجاہت اور خانقاہِ جنگ جدل پاس نہ ہوتا، میرے ایک ہی وار سے کھل جاتا لباس کاغذی، پھرتا برہنہ کبھو عالمِ بے خیالی میں بھی ترے ہاتھ جامہ ہوتا نہ ناڑے پر ہاتھ ہوتا۔
تو خنجر، دریائے علم، رستمِ زماں، بحرِ فصاحت و بلاغت، جہانِ معنی، جس کے غلام گردش کی لونڈی ہے حسینہء ادب پرانی۔ تو سکھلاوے گا خانقاہِ جنگ و جدل کے چراغ لافانی، خنجر داستانی کو روسی ادب۔ اے جہل کا کوہِ ہمالیہ ، سسی فس لایعنی، میں پیٹر برگ سے آرکی پلوگو سائبریا اور بحر الکاہل سے بحر اوقیانوس تک پھرا، ہمارے اجداد کے آگے روس کے نثار ااور شاعر اول پشکن نے زانوئے تلمذ تہہ کیا، خانقاہِ جنگ و جدل میں ہمارے نایاب مسودوں کے ساتھ جیا، سکھائے اسے بھارتیہ رس کے سارے گن، کہا مہابھارت کہ گیتا ہے اس میں سار، اسی کے اندر ہے سارا سارا سنسار سنا کیجو، کتھا سرت ساگر، پرانوں کے قصے سنائے گئے، فردوسی، حافظ، رومی کو گھول کر پلایا، اس طرح یہ پشکن عالمِ وجود میں آیا۔ بعد ازاں قافلہ ادب روسیہ چل پڑا، گوگول کی مردہ روحیں سے لے کر شولوخوف کے اور ڈان بہتا رہا خانقاہِ جنگ و جدل کی کرامت ہے، الحمداللہ ہماری جانفشانی سے روسی ادب سلامت ہے۔ ذرا غور کر اے مصرعہ بے بحر، میری تصویر یادگار ہے اس زمانے کی جب سرزمین روسیہ    پر میں تقسیم کررہا تھا علم کے گوہر اور تو بے کرن گپھا میں نطفہء بیگانہ کا تھا منتظر۔

julia rana solicitors

کبھی علم کی ہوس جاگے تو چلے آئیو، بس اپنی چوتڑوں کو قابو میں رکھیو مریدین کے آگے نہ اٹھلائیو۔ہم تو ہیں صوفی منش تارک الدنیا راہب ۔ ہوتی ہم سے خطا نہیں لیکن پرجوش لونڈے مریدین کا کچھ پتہ نہیں۔ یہ ہر سوراخ کو کنواں اور کنویں کو دریا بنانے کا ہنر جانتے ہیں اسی واسطے خنجر کو بابا جانی اپنا مانتے ہیں۔ تھوڑے لکھے کو زیادہ جانو اور چپ چاپ پتیلے میں آٹا سانو۔
اے نسیم رائحہ کریہہ اس لکھے کو محض تعارف جان، موئے قلمِ خنجر پر دھری ہے تیری طویل داستان، صفحہ برقیہ ابیض پر جلد بکھیریں گے، صبر کر الفاظ کے سناں تجھے چہار جانب سے گھیریں گے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply