• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید /تحقیق و تحریر: عمران حیدر تھہیم

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید /تحقیق و تحریر: عمران حیدر تھہیم

آثارِ قدیمہ کے ماہرین بتاتے ہیں کہ حاصل شُدہ شواہد fossils کی روشنی میں تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار سال قبل کے زمانے سے 14 مختلف قسم کی species اور DNA lineage سے گُزرنے کے بعد آج سے لگ بھگ 12 ہزار سال قبل آج کے انسان کی موجودہ specie ظہور پذیر ہوئی۔ اِس سے قبل کی 13 انسانی species اپنے ارتقائی مراحل کے دوران اپنی جسمانی ساخت، سائز اور ظاہری شکل و شباہت کے لحاظ سے بعض اوقات عجیب الخلقت بھی رہی ہیں اور طاقتور بھی۔ زمین پر بقاء کے مُشکل ترین مراحل طے کرنے اور مظاہر قُدرت کی سختیاں جھیلنے کے باوجود بھی بالآخر تمام ہی ناپید (extinct) ہو گئیں اور Homo Sapiens نام کی صرف ایک specie بچ پائی جو تقریباً 99.97 فیصد مُشترکہ DNA کے ساتھ گُزشتہ 10 سے 12 ہزار سال سے اس کُرّہء ارض پر موجود ہے جس میں آج میرے اور آپ سمیت تمام 8 ارب انسان شامل ہیں۔

مشہور برطانوی سائنس فکشن رائیٹر Arthur C Clarke جنہوں نے 1960 میں آج کے دور کی موبائیل فون ڈیوائسز اور آرٹیفشل انٹیلیجینس کو predict کیا تھا اُن کا ماننا تھا کہ انسان اپنی organic evolution سے تقریباً گُزر چُکا ہے لہٰذا اب وہ inorganic evolution کے مُشکل راستے پر گامزن ہے۔ جس میں شعور اور ذہانت ہی کام آئے گی۔

آج انسانی specie اس موجودہ قدکاٹھ اور جسمانی ساخت کے قالب میں ڈھل کر اپنے ظاہری ڈیزائن کی ارتقاء پذیری حاصل کر چُکی ہے اور DNA کی دریافت کے بعد تو اب انسانی نسل کی تمام جنیٹک کوڈنگ اور بُنت کاری سامنے آ چُکی ہے۔ چنانچہ اب وقت ہے صرف شعور اور ذہانت کو استعمال کر کے اس کائنات کے سربستہ رازوں کو آشکار کیا جائے۔ جبھی تو 10 ہزار سال کی انسانی ترقی ایک طرف ہے اور گزشتہ 2 ہزار سال کی ترقی ایک طرف۔ بےشک کچھ لوگوں کے ہاں مذہب اور سائنس متصادم ہونگی لیکن بحیثیت ایک مُسلمان میرا یہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات کی آفاقی کتاب یعنی قرآنِ پاک بھی اسی 2000 سال کے اندر ہی اُتاری گئی کیونکہ انسان کا بائیولوجیکل ارتقاء مُکمّل کر دیا گیا تھا اور اب انسان کو شعوری بالیدگی عطا کرنی تھی لہٰذا اسی specie کے اندر ایک مُکمّل بےعیب انسان (حضرت مُحمّد ص) اور ایک مُکمّل celestial code قرآنِ مجید کی شکل میں بھیجے گئے۔
اب آتے ہیں انسان کے شعوری ارتقاء کے سفر کی طرف۔

گزشتہ 2500 سال کے اندر قبلِ مسیح کے یونانیوں مثلاً اقلیدس، ارشمیدس، ارسطو، افلاطون، سقراط جیسے باشعور انسانوں کے عقل و شعور پر مُشتمل ایک فطری chain-work کا آغاز ہوا۔ انسانوں نے کائنات کی تخلیق، اسکی ہیئت، ستاروں، سیّاروں اور ان سے جُڑے مظاہرِ فطرت کے بارے میں غوروفکر اور تدبّر سے کام لینا شروع کیا۔ قدیم یونانیوں نے اس مادہ اور توانائی پر مُشتمل کائنات پر سوچنا شروع کیا اور یہ سلسلہ قدرے سُست رَوی سے چلتا ہوا اسلامی مُفکّرین اور سائنسدانوں تک پہنچ کر کافی تیزی پکڑ چُکا تھا اس دوران البیرونی، ابن الہیثم اور جابر بن حیان جیسے محققین نے انسانی اجتماعی شعور کے سفر کو جِلا بخشی اور پھر سائنسی علم و فن کا یہ سلسلہ کوپرنیکس تک پہنچا۔ نکولیس کوپرنیکس 15 ویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والا وہ یورپی فلکیات دان تھا جس نے سب سے پہلے heliocentric system یعنی سورج کے گرد گُھومنے والے نظام جسے ہم نظامِ شمسی کہتے ہیں اُسکا تصوّر پیش کیا۔ اسی نظریے کے تحت اگلی صدی یعنی 16 ویں صدی کے اندر گلیلیو گلیلی نے نظامِ شمسی کے نظامِ حرکت کا کھوج لگایا۔ اس متحرک نظامِ شمسی کے بارے میں اگلے 100 سال کے اندر اندر یعنی گلیلیو کی وفات کے بعد آئزک نیوٹن نے اپنی شعور و ذہانت کے ذریعے مشہورِ زمانہ کششِ ثقل یعنی گریویٹی اور قوانینِ حرکت دریافت کر دیئے۔ نیوٹن کی دریافت شُدہ فزکس تقریباً 200 سال چھائی رہی اور پھر 19 ویں صدی کے اختتام پر 1879 میں پیدا ہونے والا تاریخِ انسانی کا ذہین ترین سائنسدان البرٹ آئن سٹائن جدید فزکس میں ایک بھونچال لے آیا۔ انسان جو پچھلے 2000 ہزار سال سے مادہ اور توانائی کو دو الگ الگ چیزیں اور کائنات میں زمان و مکان کو الگ الگ حقیقتیں/اکائیاں سمجھتا آ رہا تھا آئن سٹائن نے وہ نظریات یکسر تبدیل کر کے رکھ دیئے اور بتلایا کہ مادہ اور توانائی ایک ہی سِکّے کے دو رُخ ہیں اور اسی طرح کائنات میں زمان و مکان یعنی ٹائم اینڈ سپیس ایک دُوسرے کے ساتھ بُنے ہوئے intertwined ہیں جسے اُس نے fabric of spacetime کا نام دے کر اِس تھری ڈائمینشنل دُنیا کو چوتھی ڈائمینشن spacetime سے رُوشناس کرایا۔ آئن سٹائن کی وفات کے بعد اُسکی “تھیوری آف ریلیٹیویٹی” کے مندرجات درست ثابت ہو گئے۔ اور یوں اقلیدس سے شروع ہونے والا سائنسی غوروفکر کا سفر آئن سٹائن کی جدید فزکس تک کامیابی سے پہنچ گیا۔ آئن سٹائن کی زندگی میں ہی جدید فزکس کی ایک انتہائی پیچیدہ قسم کوانٹم مکینکس جنم لے چُکی تھی جس کا سُرخیل مَیکس پلانک تھا۔ اگر سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو ایک کائنات انسان کے باہر نظر آنے والی کائنات ہے جس کی کھوج انسان آسٹروفزکس کے اُصولوں کے تحت لگا رہا ہے جبکہ دوسری کائنات انسان کے اندر کی کائنات ہے جسے کوانٹم فزکس کے اُصولوں کے تحت پڑھنے کی ضرورت ہے۔ آج کے جدید طبعیات دان ان دونوں کائناتوں سے متعلق اپنی کھوج کو یونیفائی کرنے کےلیے آسٹروفزکس اور کوانٹم فزکس کے اُصولوں کو مِلا کر ایک “Theory of Everything” پر کام کر رہے ہیں تاکہ کائنات کی کھوج کی کوششوں کو ایک ہی اُصول یا ایک universal equation کے تابع کردیا جائے۔ تاکہ پھر اُس کے ذریعے mathematical calculations کی مدد سے ایسی مشینیں ایجاد ہو سکیں جو مُستقبل کے انسان کو کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اُٹھانے کےلیے خلاء کے اندر سپیڈ آف لائیٹ کے قریب قریب کی رفتار حاصل کرنے میں مدد دے سکیں اور انسان نظام ہائے شمسی اور کہکشاؤں کے لمبے فاصلوں کو عبور کر سکے۔

مندرجہ بالا بیان کردہ مُختصر سائنسی تحقیقاتی تاریخ کے پس منظر میں اب تک ہم کائنات کو کتنا سمجھ پائے ہیں آئیے اب اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
مادہ اور توانائی کے امتزاج سے مِل کر بنی اس کائنات کا تقریباً 96 فیصد حصّہ فی الحال ناقابلِ مُشاہدہ ہے کیونکہ وہ dark matter اور dark energy سے مِل کر بنا ہوا ہے جسے دیکھنے کی صلاحیت ابھی تک انسان کے پاس نہیں ہے۔ اس کی وجوہات مَیں اس مضمون میں آگے چل کر بیان کرونگا۔ باقی بچ جانے والا 4 فیصد حصّہ ایٹموں پر مُشتمل ordinary matter & energy سے مِل کر بنا ہے جسے انسان دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اس 4 فیصد atomic universe کا 99.99 فیصد حصّہ interstellar dust ہے جو ابھی تک کسی شکل میں نہیں ڈھل پائی۔ اور یُوں اس 4 فیصد یونیورس کا 0.001 فیصد حصّہ وہ ہے جو ہمیں night sky میں نظر آ سکتا ہے اور اسی میں تمام چاند، ستارے، سیّارے، سُورج اور کہکشائیں شامل ہیں۔
اس ساری observable universe کا اب تک کا پھیلاؤ کُل 93 ارب نُوری سال پر مُشتمل ہے جس میں سے انسان بذاتِ خُود ابھی تک صرف 1.3 نُوری سیکنڈ کے فاصلے (یعنی زمین سے چاند) تک ہی پہنچ پایا ہے اور انسان کی بنائی ہوئی کوئی بھی چیز voyager1 spaceship کے نام سے 1977 میں اپنے سفر کا آغاز کرکے 47 سالوں میں اسوقت interstellar space کے جس مقام تک پہنچ سکا ہے وہ صرف 19 نُوری گھنٹوں کے مساوی ہے۔ یعنی 93 ارب نُوری سال کے فاصلے تک پھیلی کائنات میں انسان ابھی تک ایک light day کے فاصلے پر موجود کائنات کو بھی دیکھ نہیں پایا۔

اب آتے ہیں dark matter & dark energy کی طرف۔ اسے سمجھنے کےلیے ہمیں پہلے انسانی آنکھ کی دیکھنے کی صلاحیت کو سمجھنا ہوگا۔ انسانی آنکھ دیکھنے کےلیے electromagnetism کی مرہونِ مِنّت ہے۔ دراصل ہر مادی شے کوانٹم سطح پر electromagnetic radiations EMR خارج کرتی ہے۔ جسے جانچنے کےلیے EM Spectrum کا استعمال کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جس طرح سفید روشنی سات رنگوں کی روشنی کا مجموعہ ہے اسی طرح الیکٹرومیگنیٹک ریڈیئیشن بھی 7 طرح کی ریڈیئیشنز پر مُشتمل ہے جن میں سے ہر ریڈیئیشن کی الگ الگ frequency اور wave length ہوتی ہے جن کی بنا پر ان EMR کی ذیل ترتیب بنتی ہے
1. Radio Wave
2. Micro Wave
3. Infrared
4. Visible Light
5. Ultra Violet Rays
6. X-Rays
7. Gamma Rays

julia rana solicitors london

ان تمام electromagnetic radiations کا استعمال کرکے بھی موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے انسان کو کائنات کا 96 فیصد حصّہ نظر نہیں آ سکا۔ لیکن سائنسی تجربات اور کیلکولیشنز کی بُنیاد پر یہ ضرور معلوم ہو گیا کہ ایسا کوئی matter اور ایسی کوئی energy ضرور موجود ہے جو کائنات کو ہر لمحے expension دے رہی ہے۔ مشہور فلکیات دان Edwin Hubble پہلا سائنسدان تھا جس نے 1929 میں کائنات کے پھیلنے کی تھیوری Expansion Theory پیش کی۔ اُسی کے نام پر ہبل ٹیلی سکوپ بنائی گئی ہے۔ اُس نے بتلایا کہ یہ کائنات سپیڈ آف لائٹ سے زیادہ تیزی کے ساتھ سپیس میں پھیل رہی ہے۔ کائنات کی ابتدا سے متعلق اب تک کی سب سے زیادہ تسلیم شُدہ اور تصدیق شُدہ تھیوری Big Bang Theory کے مطابق تو کائنات کی عُمر 13.8 ارب نُوری سال ہے اور اگر روشنی کی رفتار کے تناظر میں distinct glaxies سے آنے والی روشنی کی کیلکولیشنز کر کے بھی تخمینہ لگایا جائے تو کائنات اسوقت ایک طرف سے 46.5 ارب نُوری سال اور کُل 93 ارب نُوری سال تک پھیل چُکی ہے اور پھیلاؤ کی یہ رفتار بِگ بَینگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی روشنی کی رفتار سے تیز ہے۔ کائنات کے پھیلاؤ کے rate of expansion اور سپیڈ آف لائٹ کی حد کو مدّنظر رکھتے ہوئے یہ بات عیاں ہے کہ کائنات میں ordinary matter & energy کے علاوہ بھی لازمی دیگر کوئی matter & energy کارفرما ہے لہٰذا نامعلوم ہونے کی بنا پر اُسے dark matter & dark energy کا نام دے دیا گیا۔ فلکیات دانوں نے اس کائنات کو ہانک کر کھینچ کر پھیلانے والے نامعلوم عمل کا نام the great attractor رکھ دیا ہے۔ اسوقت کائنات تقریباً 68 کلومیٹر فی سیکنڈ کے expansion rate کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ چونکہ big bang سے لیکر اب تک کے تمام پھیلاؤ کو سپیڈ آف لائیٹ کی مدد سے کیلکولیٹ کر لیا گیا ہے لہٰذا اب آئندہ اس 93 ارب نُوری سال کے فاصلے تک پھیلی کائنات میں ہر سال ایک نُوری سال کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ انسان کی خلاء میں تیز رفتار سفر کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ آئن سٹائن کی matter-energy conversion کی عظیم مساوات E=MC2 کے ذریعے کوئی ایسی مشین ایجاد نہیں کر لیتا جو سپیڈ آف لائٹ کے قریب ترین سفر کر سکے یا پھر کائنات کے اندر Einstein-Rosen Bridges جنہیں Wormhole بھی کہا جاتا ہے وہ تلاش نہیں کر لیتا تاکہ کائنات کے اندر عظیم فاصلوں کو شارٹ کٹس کے ذریعے پار کر سکے تب تک انسان کا اس سولر سسٹم کو کھوجنے کا خواب شاید شرمندہء تعبیر نہ ہو سکے۔ یاد رہے کہ ہمارے سولر سسٹم کے قریب ترین فاصلے پر موجود ستارہ “الفا سینٹوری” بھی 4.5 نُوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور ہم ابھی تک صرف 1.3 نُوری سیکنڈ کے فاصلے تک پہنچ پائے ہیں۔ لیکن خُوش آئند بات یہ ہے کہ انسانی شعور کا ارتقاء اور فطرت کی رہنمائی ہر نینو سیکنڈ میں بھی جاری ہے۔
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دَما دَم صدائے کُن فَیَکُوں!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply