زینب بھی لاوارث ہوگئی۔۔رعایت اللہ فاروقی

سانحہ بس اتنا نہیں کہ ایک شخص آیا، قصور کی معصوم زینب کو ورغلا کر لے گیا اور اسے درندگی کا نشانہ بنا کر کچرے کے ڈھیر پر پھینک گیا۔ یہ تو محض پہلے سے جاری بہت بڑے  سانحے کے جاری رہنے کا تازہ ثبوت ہے۔ اس شہر میں سالوں سے بچوں پر قیامت بیت رہی ہے۔ سینکڑوں بچے اس قیامت کی نذر ہوچکے اور یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ زینب اس کا آخری نشانہ تھی یا اس قیامت نے ابھی مزید ستم ڈھانے ہیں۔ جب قوم کے بچے ہی تسلسل کے ساتھ بے امان ہوجائیں تو قصور حکمرانوں کا ہی ہوتا ہے۔ پنجاب پر دس برس سے ایک ایسا خادم اعلیٰ حکومت کر رہا ہے جو مصروف بہت ہے۔ اسے پل بنانے ہیں، اورینج ٹرین کا منصوبہ مکمل کرنا ہے، ملک کے سب سے طویل انڈر پاسز کو حقیقت کا روپ دینا ہے اور لاہور کی سڑکوں پر آرٹیفیشل رنگ و نور کا وہ سیلاب بکھیرنا ہے جسے دیکھ کر خادم اعلیٰ کے لاہور کو “What a Beautiful City” کہا جا سکے۔ کوئی شک نہیں کہ صوبے کے لئے انفراسٹرکچر بہت ہی ضروری ہے۔ کوئی انکار نہیں کہ صرف لاہور کیا صوبے کے شہر کو بیوٹی فل بنانا لازم ہے۔

کون کافر آپ کو اس سے منع کرتا ہے ؟ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر رنگ و نور کے سیلاب کے بیچوں بیچ ایک ایسا گٹر سالوں سے ابل رہا ہو جو صرف غلاظت ہی نہیں معصوم بچے بچیوں کی لاشیں بھی اگل رہا ہو تو یہ رنگ و نور کسی ماتم کدے پر چراغاں اور آتش بازی جیسی حماقت بن کر رہ جاتی ہے۔ خادم اعلیٰ نے ابھی لاہور کو بھی پوری طرح سہولیات اور رنگ و بو سے نہیں بھرا لیکن یہ رنگ و نور پورے صوبے میں بھی ہوتا تو قصور جیسے گٹر کے ہوتے یہ رنگ و نور قیامت کے شعلوں کے سوا کچھ نہ ہوتا۔اگر سانحہ صرف زینب کی حد تک بھی ہوتا تو تب بھی سانحہ ہی رہتا مگر خادم اعلیٰ کے لئے در گزر کی گنجائش رکھتا۔ لیکن جب یہ سانحہ ایک بڑے سانحے کی محض ایک کڑی ہے اور سانحہ در حقیقت اپنے پورے حجم کے ساتھ سالوں سے جاری و ساری ہے تو خادم اعلیٰ کو کیسے بری الذمہ سمجھ لیا جائے ؟ کوئی خادم اعلیٰ کو خبر کرے کہ ان کی ساری بھاگ دوڑ اور سارے انفراسٹرکچر پر قصور کا یہ ایک گٹر بھاری ہے۔ اس گٹر پر آپ نے ڈھکن رکھا ہوتا تو یہ گزشتہ روز ایک اور زینب کو کیوں اگلتا ؟ وہ گلستاں کس کام کا جہاں زینب جیسے پھول نہ کھل سکیں ؟

المیہ یہ ہے کہ اب اس سانحے کے اطراف بھی سانحے ہی برپا ہونے لگے ہیں۔ اخلاقیات کی ارتھیاں اور انسانیت کے جنازے اٹھ رہے ہیں۔ ایک طرف وہ سیاسی رہنماء ہیں جو زینب کو ایک ’’موقع‘‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ میڈیا ہے جو یہاں بھی ’’سب سے پہلے ہم نے بتایا‘‘ کا مکروہ کھیل کھیلنے میں مگن ہے۔ حزب اختلاف کے ان رہنماؤں کو کون سمجھائے کہ قصور کا سانحہ صرف نون لیگ کی ناکامی ہوتی شاید اطمینان کی کچھ گنجائش باقی رہتی، صدمہ تو یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ ایک ناکام معاشرہ ثابت ہوگئے۔ ابھی کچھ ہی دن تو ہوئے جب ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایک بچی کو سر بازار عریاں کرکے سفاکیت کا ننگا کھیل کھیلا گیا تھا۔ اور ان بچیوں کا حال کون نہیں جانتا جنہیں بوڑھوں سے مسلوانے کے لئے نکاح کا تکلف بھی برت لیا جاتا ہے۔ معاشرے میں ذلت کی ایسی پستیوں کا نظر آجانا اور آتے چلے جانا ہمارے معاشرتی وجود پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ یہ سوال زہریلی گیس کا ایک کھلا سلینڈر بن کر ہمارے بیچوں بیچ آکھڑاہے کہ کیا وہ معاشرہ معاشرت کی تعریف پر پورا بھی اترتا ہے جہاں زینب جیسے معصوموں کی کچلی بے حرمت لاشیں کچرے کے ڈھیر پر چن دی جاتی ہوں ؟ نہیں ! یہ معاشرہ نہیں، یہ تو گدھوں اور عقابوں کا غول ہے جو انسانیت کو شکار کرتا چلا جا رہا ہے اور اس شکارگاہ کی پنجاب نامی سب سے بڑی چٹان پر یہ وارننگ درج ہو چکی ؂

چڑیوں سے کہو شاخ نشیمن سے نہ اتریں
اس دور کا ہر شخص عقابوں کی طرح ہے

قصور میں شہری اپنی غیرت دکھانے کے لئے سڑکوں پر نکلے بھی تو زینب کو انصاف دلانے نہیں بلکہ ڈی پی او آفس کو نذر آتش کرنے اور ہسپتال کو تالے لگوانے۔ اور یہ سب کرنے والا ہجوم یہ مطالبہ بھی کرتا نظر آیا کہ ’’زینب کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے !‘‘ جنہوں نے گرفتار کرنا تھا انہیں بھاگنے پر مجبور کرکے قاتلوں کی گرفتاری کا امکان باقی رہ بھی جائے تو کیسے ؟ اور جو نکلے انصاف دلوانے ہوں وہی شہر کی ہر زینب کے لئے ہسپتال کے دروازے بند کرا دیں تو یہ انصاف کی جنگ کیسے قرار پا سکتی ہے ؟ المیہ نہیں کہ اس قوم کو احتجاج کرنے اور مطالبہ منوانے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا ؟ یہی ہجوم لاٹھیاں اور ڈنڈے اٹھائے بغیر پر امن طور پر ڈی پی او آفس پر ہی جا کر بیٹھ جاتا اور ایک رات ہی بیٹھے بیٹھے گزار دیتا تو قانون نافذ کرنے والوں کی قاتلوں کی تلاش میں دوڑیں اپنی آنکھوں سے دیکھتا۔ آپ زینب کے لئے کیا انصاف لیں گے، آپ نے تو شہر کی ہر زینب اور اس کے ماں باپ کی ہی راہیں بند کردیں۔

ستم ظریفی صرف قصور والے ہجوم پر ہی کیا موقوف۔ یہ تماشا تو اس ہجوم نے زیادہ بے رحمی سے لگایا جو سوشل میڈیا پر پایا جاتا ہے۔ اس ہجوم کی غالب اکثریت نے اس سانحے کو سیاسی عینک سے ہی دیکھا۔ نتیجہ یہ کہ سیاسی کشمکش سے جنم لینے والے جذبات ہی ہر وال پر نظر آتے چلے گئے۔ کوئی کہہ رہا تھا ’’نون لیگ ناکام ہوگئی !‘‘ تو کوئی جواب دے رہا تھا ’’ڈی آئی خان کا واقعہ بھول گئے کیا ؟‘‘ کوئی کسی سے اس بات پر لڑ رہا تھا کہ ’’میرا سٹیٹس اپنی وال پر کاپی کرکے میرا نام کیوں نہیں لکھا ؟‘‘ تو کوئی انکشاف کر رہا تھا کہ ’’سوشل میڈیا پر زینب کو ہیش ٹیگ بنانے کا سہرا میرے سر ہے‘‘ اس بد ترین خود غرضی نے ثابت کیا کہ گٹر صرف قصور میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی ابل رہا ہے اور ان ابلتے گٹروں کے بیچوں بیچ پڑی زینب کی لاش کی اگر کوئی حیثیت ہے تو بس ایک ’’موقع‘‘ کی۔ وہ موقع جسے ہاتھ سے کوئی بھی جانے نہیں دینا چاہتا۔ ان موقع پرستوں کو کون سمجھائے کہ ہر بار معصوموں کے قاتل اگر گرفت میں آ کر بھی انصاف کے کٹہروں سے آزادی کے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں تو اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہماری انہی خود غرضیوں کے سبب پاکستانی قوم اب قوم نہیں رہی بلکہ یہ موقع پرستوں کا منتشر ہجوم بن چکی اور ہجوم میں معصوم لاوارث ہوکر گم ہوجاتے ہیں۔ زینب بھی لاوارث ہوگئی، زینب بھی گم ہو جائے گی !

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *