پنجاب میں پنجابی کی تاریخ پڑھائی جاتی تو؟ ۔۔کاشف حسین

اگر میرا پنجاب اردو اور مذہبی تاریخ کی بجائے اپنی زبان کی  تاریخ پڑھا رہا ہوتا تو کیسا ہوتا ؟
پنجاب کی تاریخ ہڑپہ سے شروع ہوتی ہم دنیا کو یہ بتا پاتے کہ ہماری تاریخ حملہ آوری سے پاک رہی ہے، یہ دنیا کا وہ پرامن خطہ ہے ، صحتمند نظریات فروغ پاتے محبت اور امن کی بات ہوتی نا کہ مذہبی تاریخ کی وجہ سے جہاد کے نام پہ دہشتگردی قومی مزاج بنتی ۔بلھے شاہ، وارث شاہ کا کلام نا صرف پنجاب کو سیکولر بنیادوں پہ ترتیب دیتا بلکہ مُلا اور اس کی بنیادپرستی پنجابیوں کے نزدیک بھی نا پھٹک سکتی۔ خواجہ غلام فرید  کی شاعری کو فطرت کی بہترین عکاسی پہ دنیا بھر میں پہچانا جاتا اور دنیا کی بہترین جامعات میں ان پہ ریسرچ کی جاتی کہ انہوں نے معاصر شعراء کے برعکس کسی سرسبز جنگل کی بجائے صحرا کے حسن کو اپنے الفاظ سے جاودانی عطا کر دی تھی۔

میلے ٹھیلے جدید شکل لے کر پنجابیوں کی زندہ دلی کا عکس ہوتے، ان میلوں میں ملک کے بہترین فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرنا فخر سمجھتے، پنجاب اپنے کلچر کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا، اس کی بسنت نائٹ بسنت لاکھوں کروڑوں سیاحوں کی آمد کے باعث دنیا بھر کے بڑے فیسٹیولز میں شمار ہو کر اس کی پہچان بن چکی ہوتی ،پنجاب روایتی طور پہ فنِ کشتی کا گھر ہونے کے باعث اس کھیل میں بھی بیشتر اہم ٹائٹل جیت چکا ہوتا ۔پنجابی زبان ذریعہ تعلیم ہونے کی وجہ سے شرح خواندگی نوے سے سو فیصد کے درمیان ہوتی۔

پنجاب میں دارالترجمہ قائم ہوتے، جہاں سے دنیا بھر کے اہم ترین لٹریچر کا پنجابی میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے ہر علم و فکر پہ عوام نا صرف بغیر کسی درمیانی ذریعے کے مکالمے کے قابل ہوتی بلکہ اس مکالمے کی وجہ سے پنجاب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا جہاں جامعات تک کا نصاب پنجابی میں مرتب ہوتا۔

عوام میں اپنی قوم زمین سے عصبیت جنم لیتی جو زمین اور اس کے قیمتی اثاثوں سے محبت میں ڈھل کر ان کی حفاظت کرتی نا کہ زیرِ زمین موجود قیمتی پانی کی آلودگی ،دریاؤں کی فروخت ،جنگلات کے خاتمے، پنجاب کی تقسیم ،غیر مسلموں سے تعلق رکھنے والے تاریخی ورثے سے بے اعتنائی کی شکل میں بربادی میں حصہ لیتی ،جہالت اور مذہبی تنگ نظری کے خاتمے کے باعث پنجاب مناسب آبادی کا حامل نفیس  شہر ہوتا، نا کہ ناصرف پنجاب بلکہ تمام پاکستان کا معاشی بوجھ برداشت کرنے کے چکر میں اس پہ بے تحاشا آبادی کا بوجھ لدا ہوتا، چھ دریاؤں کے بے بہا پانی کے باعث پنجاب نا صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہوتا بلکہ اس کی معاشی ترقی کے لیے اس کی زراعت ہی کافی ہو جاتی اور اسے صنعتی ترقی کے لیے اپنے ماحول کی صفائی کی قربانی نہ  دینا پڑتی۔

وافر اچھی خوراک اور کبڈی و کشتی جیسی ورزش کا کلچر ہونے کے باعث پنجاب کے گبھرو جوان صحتمند اور اپنی مثال آپ ہوتے زراعت کے علاوہ دودھ گوشت پولٹری فارمی و دریائی مچھلی کی پیداوار و برآمد میں بھی پنجاب دنیا کے چند اہم ممالک میں شمار ہوتا۔ بیوروکریسی اشرافیہ اور عوام کی ایک ہی زبان ہونے کے باعث ان طبقات کو ایک دوسرے سے رابطے میں مشکلات نہ  ہوتیں۔ کمیونیکیشن گیپ نام کی کوئی شے دیہی و شہری عوام اور نئی و پرانی نسلوں میں وجود نہ  رکھتی، ملک کی بنیاد کلچر پہ قائم ہونے سے کام کاج اور روزگار کے ذرائع حاصل کرنے میں مرد و عورت کی صنفی تفریق عین اسی طرح غائب ہوتی جیسا کہ اب بھی پنجاب کے دیہی کلچر میں موجود نہیں۔ مرد اور عورت بغیر کسی جنسی تفریق کے ہر شعبہ زندگی میں برابر موجود ہوتے ۔سیکولر بنیادوں پہ قائم ہونے سے پنجاب دنیا سے مزید اچھی روایات امپورٹ کرنے میں بخیل نہ  ہوتا اور اپنی بری روایات کو بتدریج ان سے تبدیل کر لیتا۔

الغرض یہ کہنا بے جا نہ  ہو گا کہ کسی بھی قوم کی زبان اس کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے  جو ا س کی ہر طرح کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے  اور اس کے بغیر ترقی کے خواب دیکھنا یونہی ہے  جیسے دن میں تارے تلاش کرنا!

نوٹ:مجھے یہ مضمون اردو کی بجائے پنجابی میں لکھنے کا روایتی مشورہ مت دیجیئے گا کیونکہ آپ اس پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ملک کا دس بیس فیصد اور فیصلہ ساز طبقہ ہے  اور آپ کو پنجابی پڑھنے میں سمجھ نہیں آتی ،مجھے آپ تک باقی پنجاب کی اسی فیصد آبادی کی آواز پہنچانی ہے  ،مزید یہ کہ مضمون نگار سندھی پشتو اور بلوچی زبانوں کے لیے بھی یہی جذبات رکھتا ہے  جو پنجابی کے لیے رکھتا ہے اپنے اپنے وطن میں وطنی زبان یا زبانیں ہی مستعمل ہونا چاہییں !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *