گستاخ کون؟۔۔قمر نقیب خان

پاکستان میں ذاتی دشمنیاں نمٹانے اور دوسروں کے خلاف اپنے نفرت بھرے مذہبی جذبات کی تسکین کے لئے توہین مذہب یا توہین رسالت کے الزامات لگا دئیے جاتے ہیں۔ کوئی اہل سنت ہو تو توہین رسالت کا الزام، کوئی اہل تشیع ہو تو توہین صحابہ کا الزام. اتنے سنگین مسئلہ کو لوگوں نے بہت ہلکا لینا شروع کر دیا ہے، اوریا مقبول جان اور عامر لیاقت جیسے نامور صحافی میڈیا پر بیٹھ کر بہتان اور الزام تراشی کرتے ہوئے اللہ سے  ذرا نہیں ڈرتے۔ ایسے نوے فیصد الزامات عدالتی سطح پر ثابت نہیں ہوتے، جو ثابت ہو جاتے ہیں ان کے ملزمان کو سزائے موت سنا دی جاتی ہے، ان کی سزاؤں پر تقریباً کبھی بھی عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ کسی پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا گیا، مقدمہ درج ہونے اور عدالت میں پیش ہونے کی نوبت ہی نہ آئی اور مشتعل ہجوم نے اسے تشدد کر کے قتل کر دیا۔

ایسے میں پولیس موقع  پر  پہنچ بھی جائے تو بھی ملزم کو بچا نہیں سکتی، ایک بار ضلع شیخوپورہ کے گاؤں مکی میں ایک ان پڑھ مسیحی جوڑا کہیں سے پرانا پینافلیکس اٹھا لایا، جس پر مختلف کالجوں کے نام اور سلوگن لکھے تھے۔ مسیحی جوڑا سونے کے لیے اس پینا فلیکس کو بطور بستر استعمال کرنے لگا، کچھ دن بعد ان کے حجام پڑوسی کی نظر پڑ گئی، اس حجام نے دو لوکل مولویوں کو اپنے ساتھ ملایا اور اس مسیحی جوڑے پر توہینِ مذہب کا الزام لگا دیا. ارد گرد آبادی کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور اس غریب جوڑے کو مار مار کر گھر سے گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئے، ان پڑھ غریبوں کو پتا بھی نہیں تھا کہ انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ قریب تھا کہ وہ ہجوم اس جوڑے کی جان لے لیتا کہ

یہ پڑھیں   مشعال کیس،اب سبھی کو سبھی سےخطرہ ہے/عمران حیدر

پولیس آفیسر سہیل ظفر چٹھہ نے بروقت مداخلت کی اور اس مظلوم جوڑے کو ہجوم کے ہاتھوں مرنے سے بچالیا، مولوی کو گرفتار کر لیا گیا اور حجام بھاگ گیا. لیکن قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن کا مسیحی جوڑا اتنا خوش قسمت نہیں تھا، نومبر 2014 میں قرآنی آیات کی بےحرمتی کا الزام لگا کر اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مسیحی میاں بیوی شہزاد اور شمع کو اسی اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ وہ لگ بھگ پندرہ سو لوگوں کا ہجوم تھا جس نے پہلے ان دونوں پر اینٹوں، پتھروں اور ڈنڈوں کی بارش کر دی اور پھر جب ان دونوں میں ایک رمق زندگی باقی رہ گئی تو انہیں اسی بھٹے میں زندہ جلا دیا.

ایسے شدت پسند انسان   کو گستاخی ثابت کرنے کے لیے کسی وجہ کی، کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اس مُلک کا  دادا ہے ، وہ اس شہر کا بھائی ہے، حکومتی ادارے بھی  ایسے  شخص  کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے، یاد ہے جب پیمرا نے حمزہ عباسی کے پروگرام پر پابندی لگائی تھی؟ شائستہ واحدی کا شو بند کیا گیا تھا؟ لہٰذا آپ کو جہاں بھی  ایسے انتہا پسند مولوی نظر آئے، ایمان اور جان بچا کر بھاگیں،ایسے لوگوں سے  بحث نہیں کرنی، یہ لوگ گالی دے کر، الٹی سیدھی کرامات سنا کر آپ کو غصہ دلائیں گے، پھر آپ کچھ بھی کہیں وہ آپ  کے خلاف چارج شیٹ ہو گی، یہ آپ پر گستاخی کا الزام لگا کر قتل کرا دیں گے، یہی ان کا طریقہ واردات ہے.

یہ لوگ  آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بھی گستاخ گستاخ کھیلتے رہتے ہیں. اور کبھی کبھار خود اسی گڑھے میں اوندھے منہ گِر جاتے ہیں، چیچہ وطنی تھانہ غازی آباد کے نواحی علاقے میں مقامی مسجد کے خطیب محسن ارشاد جوش خطابت میں کچھ کا کچھ بول گیا. علاقہ مکینوں نے اس گستاخی پر احتجاج کیا، اور محسن کو علاقہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ “آج تک” ٹی وی کے جرنلسٹ روہت سردانا پر بھی یہ الزام تھا کہ اس نے گستاخی پر مبنی کچھ ٹویٹس کی تھیں، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ندیم جیمز پر بھی الزام تھا کہ اس نے پیغمبر اسلام سے متعلق ایک متنازعہ نظم اپنے ایک قریبی دوست کو واٹس ایپ پر بھیجی تھی اور وہ دوست فون اٹھا کر تھانے پہنچ گیا. اسلام آباد کی بارہ سالہ رمشا مسیح تو آپ کو یاد ہی ہو گی جس پر قرآنی صفحات جلانے کا الزام لگایا گیا تھا، بالآخر اسے بھی فیملی سمیت پاکستان چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا. لیکن اگر آپ کو پاکستان سے زندہ بھاگنے کا موقع مل گیا ہے تو واپس آنے کی غلطی مت کریں.  آپ دس سال بعد بھی اگر واپس آئے تو مارے جائیں گے، سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں فضل عباس نامی شخص پر گستاخی رسول کا الزام لگا تھا اور وہ جان بچا کر بیرون ملک بھاگ گیا، تیرہ سال بعد وہ پاکستان واپس آیا تو اسی کے محلے کی رہائشی تین بہنوں نے اسکے گھر میں گھس کر فضل عباس کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

یہ پڑھیں  ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے۔۔محمود اصغر چوہدری

آسیہ بی بی، مشہور زمانہ کیس ہے. آسیہ کا تعلق ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے اِٹانوالی سے تھا، وہ پانچ بچوں کی ماں تھی. آسیہ بی بی نے ایس پی انویسٹیگیشن شیخوپورہ محمد امین شاہ بخاری اور مسیحی برادری کے اہم افراد کی موجودگی میں اعترافِ جرم کیا اور کہا کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے، لہٰذا اسے معاف کردیا جائے۔ آسیہ بی بی نے اپنے خلاف مقدمے کے مدعی قاری سالم سے بھی معافی مانگی، لیکن قاری کی طرف سے مؤقف اپنایا گیا کہ توہین رسالت کے مجرم کو معافی نہیں دی جا سکتی۔ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا، گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بھی شیخوپورہ جیل میں آسیہ بی بی سے ملاقات کی آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ وہ آسیہ بی بی کو صدر آصف علی زرداری سے معافی دلوانے کی کوشش کریں گے۔ سلمان تاثیر نے 295 سی پر بھی تنقید کر دی جس سے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ پھر ایک دن سلمان تاثیر کے گارڈ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو موت کے گھاٹ اتار دیا.

کچھ ماہ قبل کراچی سے ایک تبلیغی جماعت چِلّے کے لیے نکلی، مرکز سے جماعت کی تشکیل چنیوٹ سے بیس کلومیٹر دور ایک گاؤں موضع عاصیاں میں ہوئی. موضع عاصیاں کی ایک مسجد میں اس تبلیغی جماعت کے تیرہ افراد دو دن سے مقیم تھے. عصر کی تعلیم کے حلقے میں حافظ اکرم خان عاصی ولد شیر خان کی تبلیغی جماعت کے افراد سے بحث چھڑ گئی. اس وقت مسجد کے باقی افراد نے معاملہ رفع دفع کر دیا. حافظ اکرم مسجد سے نکلا اور اپنے مولوی صاحب سے مسئلہ پوچھنے چلا گیا. مولانا نے بتایا کہ یہ تو سراسر گستاخی ہے اور تبلیغی جماعت کے لوگ گستاخ ہیں. اکرم گھر واپس آیا اور زمین کھودنے والا تیز دھار پھاؤڑا اٹھا کر مسجد کی طرف روانہ ہو گیا. رات کے پچھلے پہر مسجد میں سوئے ہوئے تبلیغی جماعت کے تیرہ افراد پر اکرم نے حملہ کر دیا. پہلی ضربیں ولی الرحمان کے سر اور گردن پر پڑیں، ولی الرحمان کا کام تمام ہوا تو اس کے ساتھ سوئے عبداللہ پر پھاؤڑے کے وار شروع کر دئیے. اسی اثنا میں شور شرابا سن کر باقی افراد اٹھ گئے اور چار پانچ  لوگوں  نے  حافظ اکرم کو دبوچ لیا. دو مزید جانیں ضائع ہوئیں مگر ہم نے کچھ نہ سیکھا.

گستاخی کیا ہے، گستاخی کا تعین کون کرے گا، گستاخی کی سزا کیا ہے، سزا پر عملدرآمد کون کرے گا؟ ان تمام سوالات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، اپنا عشق رسول ثابت کرنے کے لیے ہم جلاد بنے ہوئے ہیں.

ہمیں اپنے معاشرے پر نظر کرنی چاہیے. اصل گستاخی تو یہ ہے کہ کسی ملزم کو صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہ دیا جائے. گستاخی تو یہ ہے کہ رحمت للعالمین کے نام لیوا وحشت اور بربریت سے معصوم لوگوں کی جان لے لیں. گستاخی تو یہ ہے کہ بچے اور بچیاں بھی ہماری جنسی درندگی کا شکار بن جائیں. گستاخی تو یہ ہے کہ ملک کی چھیانوے فیصد عوام مسلمان ہو اور پھر بھی عدل و انصاف ناپید ہو جائے.

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *