• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اسلامی مدارس ایک تاریخ اور ایک تجزیہ ۔۔ڈاکٹر غلام نبی فلاحی/آخری حصہ

اسلامی مدارس ایک تاریخ اور ایک تجزیہ ۔۔ڈاکٹر غلام نبی فلاحی/آخری حصہ

دارالعلوم دیوبند کا قیام!
مورخین نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس  سانحہ کے کم و بیش دس سال بعد مولانا قاسم نانوتوی ؒ نے 1867ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی اور اس ادارے کے ذریعہ امت مسلمہ کی تربیت کرنے کی اسکیم تیارکی۔ اس مہم میں مولانا نوتوی بذات خود شریک تھے۔ چونکہ انگریروں کا زور تھا وہ اپنی تہذیب مسلمانوں پر مسلط کرنے کے در پے  تھے۔ حالات انتہائی سنگیں رخ اختیار کرچکے تھے۔ حد سے زیادہ تاریک اور مہیب مستقبل کا اندیشہ تھا ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مولانا نانوتوی اور انکے رفقاء کا  میدان کارزار میں اترنا اور اس میں اپنے کمالات دکھانا انہی  کے بس کی بات ہے وہ جو کچھ کرسکا کرگزا۔ یوں اسلامی ہند کی تاریخ میں ایک مستقل  دینی و علمی تحریک کی بنیاد پڑگئی۔ مسلمانوں کو نکبت و ادبار سے نکالنا  اور روز کی بڑھتی  زبوں حالی و انحطاط پر روک لگانا اس کا اصل گوہر مقصود بن گیا۔

حضرت نانوتویؒ نے  اس مدرسہ کو محض درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کے لیے نہیں قائم کیا بلکہ1957ء کے غدر یا خونچکان کی ناکامی کے بعد یہ مدرسہ اس لیے قائم کیا گیا کہ یہ مرکز کا کام دے جس کے ذریعہ لوگوں کو تیار کرکے اس ناکامی کی تلافی کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی بقاء اسلام اور تحفظ علم دین اس مدرسہ کا بنیادی مطمع  نظر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس     کا   نصاب بہت سی غیرضروری منطقی کتابوں سے ہلکا رکھا گیا۔ تعلیم  کی مدت کو بھی صرف چھ سال مقرر کیا گیا تاکہ یہاں کے فارغین کو دوسرے عصری علوم کے حصول کا بھی بھر پور موقع مل سکے۔اگر دیکھا جائے تو اس طرح سے دارالعلوم کی تحریک بہت حد  تک کامیاب رہی اور آج اس کی شاخیں  نہ صرف برصغیر ہندو پاک میں بلکہ مغربی دنیا میں اسکا ایک اچھا خاصا اثر نظر آتا ہے۔ فرانس, برطانیہ میں خاصکر اس کی چند شاخیں قائم ہیں جہاں درس نظامی کے طور طریقوں سے اسلامی تعلیمات کو عام کیا جارہاہے۔مگر اس کے تیرہ سال کے قیام کے بعد ہی اسکے بانی حضرت نانوتویؒ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے جس کی وجہ سے انہیں اس کے خاکے میں پورا رنگ بھرنے کا موقع نہیں ملا۔آج یہاں تقلید جامد، فقہ حنفی میں غلو اور جزئیات فقہ سے تشبہت و التزام اس کا مابہ الامتیاز بن کررہ گیا۔

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ آج بھی اسکے فارغین فقہی موشگافیوں یا حنفیت کی حقانیت کو ثابت کرنے میں اپنی تونائیاں صرف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آج اس کے نصاب میں سب سے زیادہ نظر انداز کردہ اورغیر ضروری اگر کوئی چیز ہے تو اسلام کی دعوت اور اس کے دفاع کے وہ موضوعات ہی ہیں جنھیں ہم بانی دارالعلوم کا طرہ امتیاز کہہ سکتے ہیں۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ علماء دیوبند ہی نے جمیعۃ العلماء کی بنیاد ڈالی اور اس جماعت کا بنیاد مقصد دین کی نشرواشاعت اور دینی الہی کا قیام ہی تھا جیسا کہ اسکے پہلے ناظم اعلی مولانا محمد میاں مرحوم نے ان الفاظ میں تحریر فرمایا تھا۔ جمیعۃ العلماء ہند نے ابتدائے قیام 1919ء سے لیکر 1945ء تک جتنے کام کئے ہیں وہ سب اسلامی تعلیمات کے ماتحت اور ان کاموں کا محور صرف ایک ہے یعنی یہ کہ کلمۃ اللہ بلند ہو۔ اسلامی اصول کا احترام قائم ہو۔اس کے نصاب تعلیم اور اسکے بانی کی دورس نگاہوں کو بھانپتے ہوئے ایک انگریزی مستشرق نے لکھا کہ اگر انہیں کبھی اسلامی حکومت کے قیام کا موقع  ملا تو یہاں چوتھی صدی کی لکھی ہوئی متداول فقہ  کی کتاب ہدایہ پر مبنی حکومت ہوگی۔ جس کو برصغیر کے تمام مدارس میں پڑھایا جاتاہے۔ دیوبند کی ایک خاصیت یہ رہی ہے کہ نہ اس نے کبھی بھی سرکاری سرپرستی حاصل کی ہے اور نہ کوئی سرکاری خرچہ ہی قبول کیا ہے۔ اس کے برعکس اب تک یہ صرف عوامی تعاون سے چل رہا ہے۔ The Deoband seminary was dependent on public subscription; assistance from government was always refused till to the present day. The Deobandi ‘Ulama’ had ameans of affirming Islamic identity in the face of British colonial power, by providing a system of religious education which updated the traditional model of studies centred on the Qur’an and the Sunnah. The Deoband seminary was dependent on public subscription; assistance from government was always refused till to the present day. The Deobandi ‘Ulama’ had a means of affirming Islamic identity in the face of British colonial power, by providing a system of religious education which updated the traditional model of studies centered on the Qur’an and the Sunnah (Lewis 1994).

حقیقت یہ کہ بانی دارالعلوم کی پوری زندگی خود اس مقصد کے لیے ایک عظیم مثال تھی۔ انہوں نے اپنی تمام تر علمی اور جسمانی قوتوں کو اسلام اور شرائع اسلام کے دفاع و تحفظ کے لیے وقف کررکھا تھا۔ جس کی مثال آپ کی تصانیف میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آپ انگریری کے مخالف نہیں تھے بلکہ آپ یہ سمجھتے تھے کہ آج کے دور میں انگریزی زبان میں اسلام کی موثرترجمانی کی جاسکتی ہے۔ مگر اے کاش اگر ایسا ہوا ہوتا تو دیوبند کی علمی تحریک کا رنگ ہی یقینا کچھ اور ہی ہوتا۔ٍ اسکے بعد علماء بالخصوص اکابردیوبند نے مسلمانوں کے قومی و ملی تشخص کے بقا کے لیے برصغیر کے دوسرے علاقوں میں بھی دیوبند کے طرز پر ہی بہت سے  دوسرے مدارس قائم کیے جن میں مظاہر العلوم کا نام بھی لیا جاسکتا ہے اسی انداز پر پورے برصغیر میں مدارس کا ایک جال بچھادیا یا اور ایک حدتک اس پر عمل بھی ہوا۔
مدرسہ اہل حدیث کا ذکر یہاں اس لیے لازم ہے کہ اسکا بنیادی سرا بھی دیوبند اور شاہ اسماعیل شہید علیہ الرحمہ کی تحریک سے جاملتا ہے۔ اہل حدیث اپنے خیالات میں دیوبندیوں سے بھی زیادہ سخت مذہبی ہوتے ہیں۔ عام طور سے انہیں سلفیہ کہا جاتاہے۔ اہل الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کے تابع چلنے والے۔ ایک معاصر مستشرق نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ۔
The Ahl al-Hadith comes from the same background of revival and reform as the Deobandi. They were more extreme in their religious ideas, more consciously sectarian in their behaviour, but less influential. The name of this movement, ‘People of the Tradition of the Prophet’, places at its centre the importance of hadi?h in the interpretation of the Qur’an and the Sunnah. They rejected the decisions of the medieval law schools and made direct use of the Qur’an and the hadith. They disapprove all almost all expressions of Sufism (Lewis 1994:219).

مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم فرماتے ہیں مولانا اسماعیل شہید نے تو اپنے جدامجد کے طریقہ پر عمل کیا۔ انہوں نے اپنی ایک خاص جماعت بھی تیار کی جو شافعیہ کی طرح رفع الیدین اور آمین بالجہر کرتے تھے چونکہ بصغیر میں امام شافعی ؒ کا کو زیادہ اثر نہیں تھا اس لیے جب دہلی کے عوام نے انہیں رفع الیدین اور آمین بالجہر کرتے  دیکھا تو ان میں ایک شورش سی پھیل گئی۔ دوسری جانب روشن خیال اور تجدد پسند طبقے نے اس سارے عمل کو بہ نظر استخفاف دیکھا۔ قدیم دینی علوم کی تحصیل و تدریس کو بے وقت کی راگنی قرار دیا۔ مولویوں کے وجود کو قوم کی خستہ اقتصادی حالت پر ایک بارگراں سے تعبیر کیا۔ ان حضرات کا خیال تھا اب علم برائے علم نہیں، علم برائے معاش کا دور ہے۔ قوم کے دردکا درماں علوم قدیمہ کے مدارس نہیں، علوم جدیدہ کی دانشگاہیں ہی کرسکتی ہیں۔ سو علی گڈھ کی ک سرزمین پر اس کا بھی تجربہ کیا گیا اور اسی نقش اور انداز پر پورے ہندوستان میں اسکولز اور کالجز میں ایک لامتناہی سلسلہ قائم کردیا گیا۔ علی گڈھ تحریک جو اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی بنی درحقیقت اپنے سرپاتا اخلاص بانی سرسید علیہ الرحمہ کے خوابوں کی تعبیر ہے۔

ندوۃ العلماء کا قیام اور اس کی تحریک
دونوں ادارے دارالعلوم دیوبند اور مسلم ینورسٹی علیگڑمسلمانا ن ہند کو قدیم و جدید کا سنگم یا ایک پلیٹ فارم پر یکجا اور اکٹھا کرنے کے بجائے دو انتہاؤں کی جانب دھکیلنے میں کا میاب رہے تو برصغیر کے علماء نے ایک تیسری تحریک قائم کی جس کا نام ندوۃ العلماء رکھاگیا۔ اسکا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اسلام کی نشرواشاعت کیساتھ ساتھ مغرب مفکرین کے جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈے کا تھا۔ اور قدیم و جدید علوم کا ایسا امتزاج پیدا کرنا تھا جو حالات زمانہ کا ساتھ دے سکیں۔ چنانچہ اسی تحریک کے نتیجہ میں 1896ء میں ایک ادارہ قائم کیا گیا جس کا نام اسی تحریک پررکھاگیا ہے۔ اس ادارے کا یہ مقصد بھی تھا کہ اس وقت کے مدارس عربیہ کے مروجہ تعلیم میں اصلاح کی جاسکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ندوہ نے درس نظامی کی خامیوں اور کمزوریوں کی تلافی کے لیے ایک نئے متبادل نصاب تعلیم کا نقشہ پیش کیا۔ اس کے تجربے کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو کے دفتر کو استعمال کیا گیا۔ ندوۃ العلماء کے بانی معمار علامہ شبلی مرحوم نے اپنی صدارات میں دارلعلوم میں ہندی, سنسکرت کے ساتھ ساتھ دوسرے مروج علوم کو بھی جگہ دی اور باقاعدہ درجات قائم کئے جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس زمانے میں آریوں نے اسلام کے خلاف جو محاذ کھولا  تھا اسکا  مقابلہ کرسکیں۔ اس ادارے کا جوسرا امتیاز یہ تھا اس میں عربی اداب کو ایک خاص جگہ دی گئی اسی لیے دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں کے فارغین کو دوسرے مروجہ مدارس کے مقابلہ میں عربی زبان پر کسی حدتک عبور حاصل ہوناہے جو عربی میں بات کر سکتے ہیں یہ انفرادیت آج بھی اس ادارے میں قائم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ادارے نے بڑی بڑی شخصیات کو جنم دیا ہے مگر حقیقت کی دنیا میں یہ ادارہ اب تک کوئی موثر تحریک پیدا نہ کرسکا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ ادارہ گرچہ دارالعلوم دیوبند کے نظام سے کچھ مختلف تھا مگر اسکو وہ وسعت و عموم حاصل نہ ہوسکا جو دارالعلوم دیوبند کا امتیاز رہا ہے۔

اس کے بعد مدرستہ اصلاح سرائمیر اور جامعۃ الفلاح کی منزل آتی ہے جو کسی قدر اپنے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ نصاب میں مشترکہ ہیں مدرسۃ الاصلاح نے گرچہ قرآن پاک کی تعلیم کو اپنا محور بنا یا اور اپنے بانی صدر ترجمان القرآن مولانا حمید الدین فراہی کے فکری فراہی  میں گرفتار ہوکر گم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ دوسرا ابھی ابتدائی منازل میں جہاں سے فارغ ہونے والے زیادہ تر افراد کچھ حرکی مزاج کے ہیں جو مدارس کے  بجائے یونیورسٹیوں کا رخ کرکے موجودہ دور کے تضاصوں کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے نظر آتے ہیں۔ یہ تجربہ ابھی اپنی ابتدائی صورت میں نظرآتا ہے۔
اسکے علاوہ ایک اور مدرسہ مولانا رضا احمد خان بریلوی کے ساتھ وجود میں آگیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی محبت و عقیدت کو ہی اپنا مطع نظر اور مطمع مقصودبنایا۔ یہ مسلک مذکورہ تمام اداروں سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ انکا عقیدہ ہی یہ ہے کہ رسول ﷺ اللہ کا نور ہے اور انکے پاس بھی غیب کی خبریں ہیں وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ اس مکتبہ فکر کے تمام ادارے برصغیر ہند میں موجود ہے اور ایک اچھا خاصہ حلقہ انکے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے اپنی فکر کے لیے اپنے طرز کے مدرسہ کھولے یہ کوئی منظم گروہ تو نہیں ایک جذباتی اور بے ہنگم سا گروہ ہے۔مگر گذشہ ایک دہائی سے اب یہ منظم ہونا شروع ہوا ہے مگر اس میں بہت سے گروہ ہیں جو ایک دوسرے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس گروہ کے بارے میں ایک انگریزی مصنف نے لکھا ہے کہ یہ دنیا کسی بھی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ خوش ہیں۔In politics the movement was, if anything, pro-British, supporting them during World War one. Barelwis have no any problem to live with any establishment as it appears in their past history in India where they represented a peaceful resistance to colonial domination. Flexibility is a feature of their behaviour. Within the party they have
different groups who belong to different Sufi sects, such as Qadiriyya, Alawiyyas, Chistyya, etc. (Lewis 1994:40)

یہ ہے ان مدارس کا ایک مختصر سا جائزہ جنکی چھاپ پاکستان میں بھی دیکھی جاسکتی ہے اور وہاں اسکی ہزاروں شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔من حیث الجملہ یہ تمام دینی مدارس ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچے میں کامیاب تو رہے مگر جس مقصد کے حصول کے لیے انہیں قائم کیا گیا تھا اس میں یہ سب مکمل طور کامیاب نہ ہوسکے۔ آج برصغیر ہند میں ان تینوں طرح کے اداروں کی شاخیں ہرجگہ قائم ہیں۔ ان میں ہر روز خاطرخواہ اضافہ ہورہا ہے۔ ان مدارس کے بارے میں ایک عالم دین نے کیا خوب کہا ہے کہ ان سے جو کچھ ہوا وہ بس اتنا ہے کہ کفرستان میں کہیں کہیں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں گونجتی رہیں۔دینی اور شرعی و ضع قطع کی کچھ صورتیں بازاروں میں چلتی پھرتی نظر آتی رہیں۔ علمی و دینی اور اخلاقی موضوعات پر کچھ کتابیں چھپتی چھپاتی رہیں۔ کبھی کبھی تحفظ دین اور تحفظ شریعت کے نام پر کچھ مظاہرے اور کچھ جلسے جلوس ہوتے رہے۔ مساجد کے لیے کچھ امام، مدارس کے لیے کچھ مدررسین اور مجالس کے لیے کچھ واعظین تیار ہوتے رہے۔ البتہ وہ اصل کام جس کے لیے یہ مدارس وجود میں آئے تھے، وہ کام نہیں ہوا۔ ان مدارس سے ایسی قرانی نسلیں تیار ہوکر نہیں نکلیں جو اپنے گردو پیش پر اثرانداز ہوسکیں اور انھیں قرآن کا گرویدہ بناسکیں۔

ناکامی کے اسباب
مگر یہ آواز کسی فرد واحد کی نہیں بلکہ تمام ان لوگوں کی ہے جو دین کے ساتھ تھوڑی بہت شدبدھ رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے درد رکھنے والے اس مسئلہ پر غور کرتے ہونگے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش بھی کی ہوگی۔ مگر ان مدارس کے حالات ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم تمام ارباب اہل دانش مل کر مدارس کردار سازی کے سلسلے میں اپنا واجبی رول یا اپنا متوقع کردار اداکرنے میں ناکام رہے؟ جہاں تک ان کے ناکامی کے اسباب ہیں ان پر غور کرکے چند بنیادی نکات ہمارے سامنے آتے ہیں جن کو مختصر درجہ ذیل بیان کیا جاسکتاہے۔ ان میں سب سے زیادہ اور بنیادی نقطہ جس پر سبی اہل مدرسہ متفق ہیں وہ بنیادی سبب خود وہ نظام تعلیم ہے جو ان مدارس میں رائج ہے۔ یہ نظام تعلیم مختلف پہلووں سے قابل توجہ ہے۔ ان مدارس میں جو نصاب رائج ہے، اس میں نہ زمانے کی رعایت کی جاتی ہے نہ طلبہ کی احوال و معیار کی، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں وقت تو زیادہ صرف ہوتا ہے اور حاصل کم۔ آج بھی ان اداروں میں وہی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں۔ جن کی عبارت اتنی مشکل ہے کہ کئی بار پڑھنے کے بعد میں سمجھ میں آنا تو مشکل‘۔یہ نصابی کتب یا تو ایسے فنون پر مشتمل ہیں جن کا دور گذر چکا ہے اور یا پھر ایسی کتابوں پر مشتمل ہوتا ہے جو پڑھنے والوں کو بور کردیتی ہیں۔ مثال کے طور پر آج قدیم منظق، قدیم فلسفہ، اور قدیم علم کلام کا دور نہیں رہا۔ لہذا آج ان علوم پر جو قوت بھی صرف ہو وہ بے نتیجہ اور لاحاصل ہوگی۔ اسی طرح وہ کتابیں جو آج سے سیکڑوں سال پہلے لکھیں گئیں انکو آج کے دور کے نصاب میں شامل کرنا طلبہ کے ساتھ زیادتی اور خود اصول تعلیم کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری ایک اہم چیزجس کا ہم آئے دن مشاہدہ کرتے ہیں وہ دین و دنیا کی تفریق‘ اس تفریق کے ذریعہ ہم نے علوم کو بھی شرعی اور غیر شرعی کے ضمرے میں لاکھڑا کیا جب تک ہم اس تفریق کو ختم نہیں کریں گے ہم ایک اینچ بھی آگے نہیں بڑھ ہوسکتے ہیں۔
میں خود ایک دینی درسگاہ کا فراغ ہوں میں نے بہت سے اداروں کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ کئی کئی مہنیے صرف یہ دیکھنے کے لیے صرف کئے ہیں یہاں کا نظام تعلیم کیسا ہے اور کس طرح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میں خود دیکھ رہا ہوں کہ آج بھی ہمارے ان دینی درسگاہوں میں ہدایہ، شرح وقایہ، مفصل، شرح جامی، متون اصولیہ، حجۃ اللہ البالغہ، تفسیر بیضاوی وغیرہ ایسی کتابیں داخل نصاب ہیں جو طلبہ و اساتذہ دونوں کو بور رکردینے والی ہیں۔ تدریسی و تعلیمی نقطہ نظر سے یہ وقتی طور تو مفید ہوسکتیں ہیں مگر پڑھانے کو تو پڑھائی جاتی ہیں لیکن سال بھر میں یہ چند صفحات سے زیادہ نہیں ہوپاتی۔ اور اگر کہیں زیادہ احساس ذمہ داریت کے تحت طلبہ کو تیزی کے ساتھ ان کتابوں سے گزارے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہ محض کتاب خوانی کی ایک دوڑ ہوتی ہے جو طلبہ کے لیے بالکل بے سود ہوتی ہے۔ ان کتابوں سے طلبہ کے پلے کچھ بھی نہیں پڑتا اور انھیں بالکل پتہ نہیں ہوتا کہ اس کتاب میں کیا ہے۔ میں ایک مدرسہ میں جہاں اب امتحان کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ میں نے طلبہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے فلاں حدیث کی کتاب کو مکمل پڑھا ہے تو کہنے لگے نہیں نہیں ایسا کبھی نہیں ہوتا یہاں تو سال بھر میں چند صفحات پڑھائے جاتے ہیں تو پھر آخری وقت دو یا تین دن میں اس کتاب کا دورہ کرایا جاتاہے یعنی استاد پوری حدیث کی کتاب کو دویا چار دنوں میں طلبلہ کے سامنے سن لیتے ہیں جسکو دورہ حدیث کہا جاتاہے۔

اب قارئین خود ہی اندازہ کرلیں کہ اس دورہ سے طلبہ نے کیا حاصل کیا ہوگا۔ میں نے جب دوبارہ انہیں طلبہ سے پوچھا تو کہنے لگے ہمارے پلے تو کجھ نہیں  پڑھا البتہ ایک بار تمام کتاب کو نظر سے گزارا گیا جو کافی سمجھا جاتاہے۔ بقول کسے اس کو دورہ حدیث کہاجاتاہے یعنی وہ حدیث کے اردگرد کھومتے ہیں مگر اس میں داخل نہیں ہوپاتے کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔ اس سے بھی بڑا جو نقصان ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتابیں طلبہ کو ان فنون سے مانوس کرنے کے بجائے اور زیادہ وحشت زدہ کردیتی ہیں۔
دوسری خامی جو دیکھنے میں آئی ہے جو ہماری دینی درس گاہوں کے نظام تعلیم کے سلسلے میں قابل غور ہے وہ یہ کہ طلبہ کی ذہنی سطح کے لحاظ سے نصاب تعلیم میں گوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔ حالانکہ ابتدائی زمانہ میں طلبہ کو انکے ذہنی صلاحیتوں مطابق درجات میں داخل کیا جاتا تھا اور ذہنی سطح کے مطابق انہیں تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں کچھ طلبہ تو اپنی ذہنی سطح کے لحاظ سے نہایت بلند ہوتے ہیں اپنے حوصلوں اور عزائم کے لحاظ سے بھی نہایت ذہین ہوتے ہیں، اپنی شرافت و نجابت، اورنیک نفسی کے لحاظ سے بھی نہایت بلند ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے طلبہ ہوتے ہیں جو تمام پہلووں سے ان سے یکسر مختلف اور ان سے کمتر ہوتے ہیں۔ یہ دونوں گروہ اپنے ذہن کے مطابق پھر دو راستوں کا انتخاب کرلیتے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اب اگر ان دونوں طرح کے طلبہ کے لیے بس ایک ہی نصاب رکھا جائے تو یہ نصاب ذہین طلبہ کی صلاحیتوں کو کند کرسکتا ہے اور وہ کبھی بھی مردم گری اور شخصیت سازی کا عظیم کام نہیں انجام دے سکتا ہے۔ کیونکہ کہ ایک ایسا نصاب تعلیم جس میں ایک کمزور اور بے ذوق کالب علم اور ایک شوقین اور ذہین طالب علم دونوں ایک ساتھ چلنے پر مجبور ہوں، ایسا نصاب تعلیم ذہین طلبہ کی ذہانت کوشل کردیتا ہے۔ اور ان کے اندر سے ساری امنگیں ختم کردیتا ہے۔

تیسری خامی جو آج کل ان اداروں میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ کہ دینی مدارس سے وابستہ مقتدار طبقہ اپنے چند سالہ کورس کے اندر کسی بڑی سے بڑی یونورسٹی کے نصاب کو سمودینا چاہتے ہیں اور اس بات کے آرزو مند ہوتے ہین گہ ہمارے مدرسے سے جو بھی پڑھ کر فارغ ہوو وہ مفسر بھی ہو، محدث بھی اور، فقہیہ بھی ہو، ادیب بھی ہو اور سیاست کے داؤ پیچ سے بھی واقف ہو، ماہر معاشیات بھی ہو، عربی زبان کا ماہر بھی ہو، انگریزی زبان کا گرایجوٹ بھی ہو، وہ بہترین خطیب بھی ہو۔ایک طرف ہماری یہ طویل و عریض خواہشات ہوتی ہیں۔ دوسری طرف ہمارے وسائل اس قدر محدود ہوتے ہیں کہ ہم ان طلبہ کے لیے ایک پرسکون علمی ماحول بھی فراہم کرنے سے عاجز ہوتے ہیں جس کا نتیجہ لازما یہ ہوتا ہے کہ ہماری جدوجہد بکھرکر رہ جاتی ہیں اور ان کوششوں سے جن عظیم نتائج کی ہمیں توقع ہوتی ہے ان کا عشرعشیر بھی حاصل کرنے میں ہم ناکام ہوتے یں اور پھر مایوسی کے ایسے دلدل میں پھنس جاتے ہیں جہاں سے نکلنا بڑا ہی مشکل ہوتا ہے۔
موجود ہ دور میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ طلبہ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کب اور کس وقت ان اداروں سے فارغ ہوکر کسی جدیدینورسٹی میں دا خلہ لیکر جلد سے جلد پینسہ کمایا جاسکے۔ گرچہ یہ کوئی بری بات نہیں مگر اس خواہش یا اس طرز فکر کا نتیجہ اس طور سے سامنے آرہا ہے کہ طلبہ جب تک دینی مدرسوں میں رہتے ہیں، دین سیکھتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی صدی کے اہل فن کے فنون کو تمام صدیوں کی نسلوں کے لیے لازمی قرار نہیں دیا جاسکتاہے ہاں اس سے استفادہ ایک لازمی امر ہے مگر ان پر قناعت کرنا ایک حماقت ہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں یا تو انہیں بنیادی کتابوں کی تصحیح کی جائے اور ان کو اس قابل بنایا جائے تا کہ وہ موجودہ دور کی علمی رفتار کا ساتھ دیں یا پھر انکی روشنی میں ایسا نصاب تیار کیا جائے جو نہ صرف جدید و قدیم کا سنگم ہو بلکہ انسانیت اور سماج کی رہنمائی کے لیے بھی ایک بنیادی راہ فراہم کرے۔ ورنہ قدامت پرستی کے ساتھ چمٹے رہنے سے نہ امت کو کوئی فائدہ پہنچ سکتاہے او رنہ ہی یہ افراد امت کی رہبری و رہنمائی کے قابل علوم کے لیے یکسو نہیں ہوپاتے وہ غیر شعوری طور پر قدیم و جدید کی ذہنی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں اور جب وہاں سے فارغ ہونے لگتے ہیں تو انھیں یہ احساس دامن گیر ہوتا ہے کہ وہ قدیم و جدید کے اس مجمع البحرین میں رہتے ہوئے جدید علوم میں کوئی دست گاہ نہیں پیدا کرسکے۔ بلکہ اس لحاظ سے ابھی وہ بہت پیچھے ہیں۔ چنانچہ اس کمی کی تلافی کے لیے وہ کالجوں اور ینورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں مگر وہاں پہنچ کر ان پر کچھ ایسی مرعوبیت طاری ہوتی ہے کہ وہاں رہ کر چاہیے جدید علوم حاصل کرسکیں یا نہ کرسکیں، البتہ دینی علوم کا جو کچھ اثاثہ ان کے پاس پہلے سے ہوتا ہے وہ سب وہاں لٹا آتے ہیں۔

ناقص نظام تربیت
ہماری ان دینی درسگاہوں کی ناکامی کا دوسرا اہم اور بنیادی سبب طلبہ کی اخلاقی تربیت سے مکمل غفلت ہے یا وہ بے روح نظام تربیت ہے جو آج بہت سی درسگاہوں میں رائج ہے۔آج کتنے ہی مدارس اور کتنی ہی درسکاہیں ایسی ہیں جہاں خالص دین و شریعت کی تعلیم ہوتی ہے۔ لیکن وہاں طلبہ کی اخلاقی و روحانی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ طلبہ، بلکل ہی بے قید اور آزاد ہوتے ہیں۔کوئی انھیں یہ بتانے والا نہیں ہوتا کہ انہیں کس طرح رہنا چاہیے کس طرح اپنے شب و روز گزارنے چاہیں۔ ان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد کیا ہے؟ اور اس اہم تر اور عظیم تر مقصد کے لیے انھیں کس طرح اور کیا تیاریاں کرنی چاہیں؟ ہمارے ملک‘ ہمارے شہریوں اور ہمارے ہمسائیوں کے ہم بر کیا حقوق ہیں۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کیسے رشتے اور رابطے ہونے چاہیں۔ ان مدارس میں سیرت رسول ﷺ سے متعلق کوئی کتاب نصاب میں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے جو تربیت و تزکیہ کا نظام ہمیں دیا تھا اسکو کس طرح سے آج کی عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔
آج عام طور پر ہماری درسگاہوں میں تربیت کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ وہاں بس کچھ ضابطے ہوتے ہیں جن کی پابندی طلبہ کے لیے ضروری ہوتی ہے اور اگر کوئی طالب علم ان کی کچھ بھی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ بیک بینی ودوگوش وہاں سے چلتا کردیا حاتاہے۔ اور اس پر یہ الزام لگایا جاتاہے کہ اس نے اساتذہ کرام کے ساتھ بے ادبی کی ہے۔ اگر کبھی کبھار وہ سرپرٹوپی رکھے بغیر ہی اپنے استاد کے پاس سے گزرا پھر اسکی خیر نہیں۔ یا بعد میں معمولی سی باتوں پر اسکے ساتھ ایسا توہین آمیز سلوک کیا جاتاہے کہ وہ مدرسہ کے اندر بھی سر اٹھاکر چلنے سے معذور دیکھائی دیتاہے۔ اس ضمن میں ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کے ساتھ جو بھی معاملہ کیا جائے اس میں ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے ان کے ساتھ کوئی اہانت آمیز سلوک نہ کیا جائے ان کے ساتھ کوئی ایسا رویہ نہ اختیار کیا جائے جس سے وہ خود اپنی نگاہوں سے گرجائیں کہ یہ چیز مستقل طور پر ان کے اندر ذہنی پستی اور احساس کہتری پیدا کرسکتی ہے۔

اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جن نسلوں کے اندر یہ ذہنی کیفیت پیداہوجائے ان کے سامنے ترقی کی تمام راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ ان کے لیے ذہنی غلامی اور دوسروں کی نقالی کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں رہ جاتی۔ اس صورت حال کی بہت کچھ ذمہ داریاں ان استاذہ اور ان ذمہ داراں مدارس پر آتی ہے جن کی آغوش تربیت میں رہ کر انھوں نے اپنی عمر کی کتنی ہی بہاریں گزاری ہوتی ہیں۔
ظاہر ہے وہ طلبہ جو اپنی طالب علمی کے بہترین دور میں اپنے اساتذہ کی شفقت و محبت سے محروم رہے ہوں اور جو اپنے گھروں اور اپنے مدرسوں میں کسی قسم کی عزت و تکریم نہ پاسکے ہوں، ان طلبہ کے اندر اپنی عزت اور اپنی قدرو قیمت کا احساس پیدا ہوتو کیوں کر ہو؟ دوسری چیز جو طلبہ کی مطلوبہ تربیت کے لیے ضروری ہے۔ہ یہ ہے کہ ہمیشہ ان سے قانونی الفاظ میں گفتگو نہ کی جائے اور انھیں غیر ضروری ضابطوں کے شکنجوں میں کسنے کی کوشش کی جائے. چند موٹے موٹے قوانین جو کسی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں بس انہیں پر اکتفا کیا جائے اس کے بعد انہیں پوری آزادی دی جائے۔ اس ضمن میں ہمیں اللہ کے رسول اللہ کی حکمت عملی کو اپنا سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح سے بڑوں اور چھوٹوں کی نفسیات کا خیال رکھکر ان سے بات کرتے تھے۔ انکا تعلق اپنی صحابہ کے ساتھ قانونی نہیں بلکہ رشتہ محبت کی بنا پر استوار ہوارکرتا تھا۔ کیونکہ ہر چیز قانونی ڈنڈوں سے سیدھی کرنا مشکل ہوتاہے۔ تیسری چیز جس کا مدارس سے وابستہ افراد کو خیال رکھنا چاہیے یا جوزیر تعلیم طلبہ کی تربیت کے لیے ضروری ہے وہ یہ کہ ہم طلبہ کو جس مقام پر پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس مقام پر ہم خود پہلے سے کھڑے ہوئے ہوں۔ جس اخلاق سے ہم انھیں آراستہ کرنا چاہتے ہیں اس اخلاق کی کرنیں خود ہماری شخصیت سے پھوٹ رہی ہوں۔ دین کی جو غیرت و حمیت ہم ان کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں اس حمیت و عیرت کی انگیٹھیاں خود ہمارے سینوں میں دمک رہی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو طلبہ ہماری تربیت گاہوں سے نکلتے ہیں وہ دین و اخلاق سے آراستہ ہونے کے بجائے طرح طرح کی اخلاقی اور روحانی کمزوریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کی ذمہ داری سے ہم کبھی بھی اپنے آپ کو بری نہیں کرسکتے۔

آج ہمارے دینی مدارس کے اساتذہ میں وہ عزت نفس اور وہ احساس خودداری نہیں پایا جاتا، جو کبھی علماء دین کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اس کے جو بھی اسباب ہوں ضروری ہے کہ ان اسباب کا سراغ لگایا جائے اور جس قدر ممکن ہو ان کو جلد سے جلد دور کرلیا جائے۔ ایک خاص اور قابل ذکر سبب جو اس سلسلے میں ہمارے سامنے آتا ہے وہ یہ ہیکہ آج دینی مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں زمانے کے معیار سے بہت کم ہوتی ہیں۔ یہ تنخواہیں اس دور کے عام معیار سے کم اور ان کی ضروریات زندگی کے لحاظ سے بھی ناکافی ہوتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتاہے کہ اساتذہ اس بات کے لیے مجبور ہوتے ہیں کہ وہ چہرے پر ذلت کی نقاب ڈال کر ذمہ دارران مدرسہ کے سامنے دست سوال پھیلائیں اور کبھی ان سے تنخواہوں میں اضافہ کی درخواست کریں اور کبھی مہنگائی الاونس کے نام پر ان سے رحم کی اپیل کریں۔دوسری جانب ذمہ داران کی طرف سے مسلسل بے توجہی اور بے اعتنائی کا اظہار ہوتاہے۔ جس کا فطری نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ان کی غیرت و خودداری بالکل دم توڑدیتی ہے اور ان کے اندر اپنی کمتری اور لاچارگی کا ایسا زبردست احساس پیدا ہوتا ہے جو انھیں اس قابل نہیں چھوڑتا کہ وہ مدرسہ کے نونہالوں کو غیرت و خودداری کا درس دے سکیں اور ایک غیور اور بلند طببعت نسل تیار کرسکیں۔نتیجہ یہ ہوتاہ یکہ یہاں سے ہی ان اساتذہ کی یہ بیماری ان کے طلبہ میں منتقل ہوتی ہے اور طلبہ غیر شعوری طور پر احساس کہتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ وہ اس علم سے ہی بیزار ہوجاتے ہیں اور یہ بے زاری اس حدتک بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے چہرے مہرے یا اپنی وضع و قطع سے یہ شبہ بھی نہیں ہونے دیتے کہ ان ا اس علم سے کوئی دور کا بھی تعلق ہے۔

غلط تشخیص
جب یہ ادارے ایسے افراد تیار نہ کرسکے اور اپنا متوقع کردار ادا کرنے سے عاجز رہے تو لوگوں کے اندرد علم دین سے مایوسی اور بے دلی پیدا ہو ہونا ایک فطری
عمل ہے بھر ان سے یہ توقعہ رکھنا کہ وہ دور جدید کے لیے ماڈل کا کام دیں یہ انکے ساتھ ایک زیادتی ہی ہوگی۔دینی اداروں کی ناکامی کا اصل سبب یہ نہ تھا وہ خود علم دین اس دور کی امامت کرنے اور آج کے انسانوں کے مسائل حل کرنے سے عاجز تھا، بلکہ اس ناکامی کا اصل راز یہ تھا کہ اس علم کو سیکھنے سکھانے یا اسے نئی نسلوں کی طرف منتقل کرنے کے لیے جو طریقے اختیار کئے گئے وہ غلط تھے اور جو نظام تعلیم و تربیت اپنا گیا وہ بالکل ناقص تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری درسگاہوں میں قال اللہ و قال الرسول کو گونج تو ہوتی رہی، قرآن پاک کی تفسیریں تو پڑھی پڑھائی جاتی رہی، کتب حدیث کے دورے تو ہوتے اور فلسفہ و کلام کے معرکے تو برپا رہے لیکن علم دین اور علم قرآن ان تمام مدارس سے بہت دور الگ کھڑا مات کرتا رہا نظر آرہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں وضع قطع کی کچھ شکلیں تو تیار ہوتی ہیں مگر وہ اس قابل نہیں ہوتیں کہ قوم کی زمامکار کو بھی سنبھال سکیں جس سے ہم خود بھی دوکھ کھاتے ہیں کہ شاید ہم اصلی مسلمان ہیں اور باقی شب نقلی۔ اگر ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو آج ہم سب ہم اور ہمارے حکمران صدیوں سے اس عالم خیال میں مبتلا ہیں کہ ہم نماز بڑھتے ہیں یا جمعہ کے دن نہا کر سفید کپڑا زیب تن کرکے خطبہ سنتے ہیں‘ رمضان کا روزہ رکھتے ہیں یا پھر حج کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فریضہ ادا کردیا۔ مگر اس حقیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہم اس کے خوگر ہوگئے ہیں اور اب یہی اصل معلوم ہورہا ہے۔ ہم ایک مصنوعی دنیا (Fake World) میں اپنی زندگی گزارہے ہیں جہاں ہماری یہ تعلیم ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور ان علوم و فنون کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جس کی بنا پر آج کی ترقی یافتہ دنیا نے ہمیں غلام بنا رکھا ہے۔ پھر دیکھئے کہ دہشت گردی ختم م ہوتی ہے کہ نہیں۔ باقی یہ الزام کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے حقیقت کے برعکس ہے۔
دارالعلوم دیوبند برصغیر ہند کا جامعہ ازہر ہے اس کا اپنا ایک وقار ہے اس نے ہمیشہ دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ ہمیشہ اسکے خلاف پوری قوت کے ساتھ فتوے بھی جارے کئے ہیں۔ 30 مئی 2008ء کو دہلی کے ایک مرکزی میدان رام لیلا گروانڈ میں علماء دیوبند نے ایک عظیم الشان کانفرنس میں کھل کر دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اسکے خلاف ایک فتوی بھی جاری کیا جسکو متعدد مسلم تنظیموں نے پسند کیا۔On that day at the Delhi Ramlila grounds, in its anti-terrorism conference, attended by a large number of Muslim seminaries, the seminary issued a fatwa against terrorism. This fatwa was issued to remove the tag of terrorism attached to Islam and also to condemn terrorism in all its forms. Even before the fatwa was issued, a lot of debate had been under taken while condemning terrorism. Economic and Political Weekly, Vol. 43, No. 31 (Aug. 2 – 8, 2008), pp. 16-18 .

ہاں چند مدارس کو اس مقصد کے لیے غیر شعوری طور استعمال کیا جاتاہو یا استعمال ہوتے ہوں اسکا مطلب یہ نہیں کہ تمام مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں۔ دہشت گردی مدارس کی پیدا کردہ نہیں بلکہ چند مدارس کو اس کے لیے استعمال کیا جاتاہے اس ضمن میں انہیں مختلف ذرائع کے ذریعہ فنڈس بھی مہیا کئے جاتے ہیں۔ یہی وہ مدارس ہیں جو مسلکی اور گروہی تعصب کی آگ بڑھکاتے ہیں اور ملکی دہشت کا سبب بھی بنتے ہیں۔ان کا نظام تعلیم و تربیت ہی کچھ اسطرح بنایا گیا ہے کہ طلبہ میں خود بخود یہ بیماری لگ جاتی ہے۔ جب وہ ان مدارس سے فارغ ہوتے ہیں تو وہ اپنی مسلکی مساجد سے یہی آگ برسانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔اسطرح وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ عین قرآن و حدیث کے مطابق ہے۔ ایسے اداروں پر قدغن لگانا یا انکی اصلاح کرنا اسٹیٹ کا فرض ہے اور آنے والے نسلوں کا قرض بھی ہے۔ اسکا تدارک جتنی جلدی ممکن ہوسکے کرلینا چاہیے تاکہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کا جو ناسور بہت سی جگہوں میں پھیلا ہوا ہے اسکو روکا جاسکے۔
آخر میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مدارس میں جو نصاب تعلیم رائج ہے یا جو کتب پڑھائی جاتی ہیں ان میں کوئی بھی ایسی کتاب نہیں جس میں سے
دہشت گردی کی بو آتی ہو یا دہشت گردی سکھائی جاتی ہے۔ تفصیلات کے لیے مختلف مستند مدارس کے نصاب کو دیکھا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کا تعلق مدارس یا اسکے نصاب تعلیم سے نہیں ہے بلکہ یہ موجودہ دور کی بڑی طاقتوں کے ظلم و ستم کا نتیجہ ہے،جو انہوں مسلم دنیا میں جاری رکھاہے۔ ایک انگریزی مصنف نے کیا خوب لکھاہے کہ:
Analyzing the data over the past thirty years (30) Robert Pape, asserted that religion is neither an essential, nor a sufficient factor in the generation of suicide attacks and the 35taproot of suicide terrorism is nationalism not religion (st Robert Pape. (2005). Dying to Win: The Strategic Logic of Suicide Terrorism. [1 Ed]. New York: Random House)
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے جب مدارس کی تعلیمات کا دہشت گردی سے دور کا بھی واسطہ نہیں یہ تصور کہاں سے آیا اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں یہ ابھی پردہ اخفا میں ہیں۔

پہلی قسط کا لنکhttps://www.mukaalma.com/18777

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *