ساختیات جدیدیت کے تحت پروان چڑھنے والی صورت حال ہے جو روایتی اندازِ نقد کو رد کرتی ہے۔ ساختیات سے پہلے کسی فن پارے کو یا تو مصنف کے منشا، سوانحی حالات اور ذات کی روشنی میں دیکھا گیا، یا اسے اپنے عصر کے تناظر میں تاثراتی، جمالیاتی، سماجی، عمرانی، سیاسی، مذہبی، مارکسی، رومانوی اور نفسیاتی دائروں میں پرکھا گیا۔ساختیات کے مطابق کسی متن کو مصنف یا عصر کے ساتھ جوڑ دینا گویا اسے محدود کردینا ہے۔ ساختیات متن اساس تنقید کی قائل ہے یعنی اس کے خیال میں کوئی فن پارہ یا متن اس لیے اہم نہیں کہ اسے کسی مصنف نے کسی خاص تناظر میں لکھا ہے بلکہ وہ اس لیے اہم اور اصل ادب پارہ ہے کہ یہ رسمیات، شعریات اور ثقافت میں تحلیل ہوکر سامنے آیا ہے۔ظاہری بات ہے کہ کوئی ثقافت کسی بھی مصنف سے زیادہ مستحکم اور وقیع ہوتی ہےبل کہ ثقافت ہی مصنف کی تشکیل کرتی ہے۔ ثقافت مقدّم جب کہ مصنف کا درجہ موخّر ٹھہرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساختیات مصنف کو پسِ پشت رکھ کر متن اور اس کی ساخت کوثقافت و شعریات کی روشنی میں ٹٹولتی ہے اور حقیقت کے جتنے بھی ممکنات ہیں ان کا احاطہ ضروری سمجھتی ہے۔ ساختیات میں معانی کا تعین قرأت کے تناظر میں نقاد یا قاری کرتا ہے۔ساختیات معانی کا سرچشمہ خارج میں نہیں بل کہ متن کے اندرون میں دیکھتی ہے۔ان تصورات کی روشنی میں مصنف کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساختیاتی مفکر رولاں بارتھ نے مصنف کی موت کا اعلان کردیا تھا۔ قاری اور متن کی ساخت کی طرف توجہ مبذول کرتے ہوئے ان کے مطابق فن پارہ لکھنے کے بعد گویا مصنف مرگیا (The Author is died)۔ اس لیے ساختیات میں مصنف نہیں بل کہ قاری اور متن اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ساختیات اور ساختیاتی نقاد کے متعلق ناصر عباس نیئر کہتے ہیں:
’’ تنقید کا بھلا تو تب ہوتا ہے جب وہ (نقاد) متن کی گہری تہوں کو کھنگالنے میں کامیاب ہو اور مصنف کی اُنگلی پکڑنے سے قاری متن کے ساحل پر سرگرداں رہتا ہے اور گہری پانیوں میں نہیں اُتر پاتا، ان گہرے پانیوں میں جن سے خود مصنف تخلیقِ متن کے دوران واقف نہیں ہوتا۔۔۔ ساختیات متن کو اکہرا اور The Message of Author-God نہیں سمجھتی، یہ متن کو کثیرالجہات قرار دیتی ہے۔‘‘(۱)
ساختیات کی اصطلاح ایک سوِس ماہر لسانیات فرڈینیڈ ڈی سوسیئر(۱۸۵۷۔۱۹۱۳ء) نے متعارف کرائی۔ مذکورہ تصورات کے مطابق انھوں نے زبان اور متن کا تصور پیش کیا۔ ان کے مطابق زبان کےپسِ پشت ایک جامع اور کلی نظام ہوتا ہے جو پہلے سےتجریدی صورت میں موجودہوتا ہے اور جس کے بغیر زبان وجود میں ہی نہیں آسکتی ، وہ لانگ ہے۔ اسی محفی صورت(صورتوں) جس کو سوسیئر نے لانگ کا نام دیا، ہی کی وجہ سے زبان کا ظاہری حصہ صورت پذیر ہوتا جسے پارول کہتے ہیں۔ لانگ میں وہ تمام شعریات، رسمیات اور ثقافتی تصورات موجود ہیں جس کے مرہونِ منت زبان تشکیل پاتی ہے۔ ساختیاتی تنقید انہی شعریات کو مدنظر رکھ کر ہمہ جہت تناظر میں متن کی ساخت کو ٹٹولنا چاہتی ہے۔ ساختیات کی روشنی میں ساخت کی وضاحت پروفیسر اختر علی اپنی کتاب ’’کشور ناہید کی شاعری کا مابعد جدید مطالعہ‘‘ میں ان لفاظ میں کرتے ہیں:
’’ساخت دراصل فن پارے کے وجود میں آنے کا بنیادی محرک ہے جو زبان کے اندرونی نظام میں کارفرما رہتا ہے۔ ساخت، شعریات سے وجود پذیر ہوتی ہے۔شعریات دراصل اس دور کے غالب رجحانات ہوتے ہیں جن سے زبان کی ساخت بنتی ہے۔ یوں فن پارہ میں معنی کا سبب نہ تو زبان بنتی ہے، نہ الفاظ اور نہ ہی مصنف بلکہ زبان کا داخلی نظام جس سے ساخت بنتی ہے، وہی معنی خیزی کا حامل ہوتا ہے۔‘‘(۲)
ساختیات اس لیے مصنف کے وجود سے انکار کرتی ہے کیوں کہ اس کے مطابق مصنف کچھ بھی نیا نہیں لکھتا بل کہ وہ پہلے سے لکھے ہوئے متون کو دہراتا رہتا ہے۔ یہ متون شعریات کی صورت میں ہمارے لانگ میں موجود ہوتے ہیں اور یہ ہماری کلی ثقافت کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قاری متن کو پڑھتے ہوئے کئی دنیاؤں کی سیر کرتا ہے۔ پارول کے راستے سے لانگ تک پہنچتا ہے اور لانگ میں موجود شعریات اور ثقافتی رجحانات کو ٹٹولتا ہوا ساخت کو پالیتا ہے اور یوں معنی خیزی(حقیقت کا ادراک) کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔
اس وضاحت کے تناظر میں یہاں پریم چند کے افسانے ’’کفن‘‘ کا ساختیاتی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ ساختیاتی تنقید کے عملی اطلاق کے وقت ایک اہم ساختیاتی نقاد رولاں بارتھ کے پیش کردہ پانچ کوڈز ہماری مدد کرتے ہیں۔ بارتھ نے شعریاتی کوڈ (hermeneutic code)، بیانیاتی کوڈ (proairectic code)، ثقافتی کوڈ (cultural code)، تقلیبی کوڈ (cannotative code) اور علامتی کوڈ (symbolic code) کا ذکر کیا ہے۔کسی بھی مستند متن کے اندر یہ کوڈز کارفرما ہوتے ہیں جنھیں ساختیات کی روشنی پرکھا جاسکتا ہے۔
کفن افسانے کے متن پر جب قاری کی نظر پڑتی ہے تو اس کے ذہن میں کچھ سوالات یوں پیدا ہوتے ہیں کہ عنوان ’’کفن‘‘ اور متن کے بیچ تعلق کیا ہے؟ پریم چند نے ’’کفن‘‘ کے بجائے غربت، بے حسی، زمانے کا جبر اور استحصال جیسے عنوانات کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ آخر’’کفن‘‘ کا عنوان انھوں نے کیوں دیا؟ عنوان، متن اور کہانی میں ربط تلاشتے وقت اور ان سوالات کے جوابات ڈھونڈتے وقت مزید سوالات بھی جنم لیتے ہیں جو معانی کی ساخت تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔ کہ آیا یہ کفن محض کسی مردے کو ڈھانپنے کےلیے تھا؟ آیا یہ کفن معاشرتی بےحسی پر پردہ ڈالنے کےلیے تھا؟ یا یہ کفن اس اَن جنے بچے کےلیے تھا جو بدھیا کے پیٹ ہی میں مرگیا؟ کہیں یہ کفن کسی مشرقی عورت(بدھیا) کی قربانیوں کا صلہ تو نہیں تھا جو دوزخ سمان گھروں کو جنت بنا دیتی ہے؟ یا یہ کفن صرف گھیسو اور مادھو کے بھوک مٹانے کے کام تو نہیں آیا؟ یہ تمام سوالات جو عنوان، متن اور کہانی کے باہمی تعامل سے سامنےآتے ہیں، وہ شعریاتی کوڈز ہیں جنھیں قاری شعریاتی پس منظر کو مدنظر رکھ کر ڈی کوڈ کرتا ہے اور ساخت (حقیقت) تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔مذکورہ افسانے میں ’’کفن‘‘ کا کوڈ بڑا معنی خیز ہے۔ کفن کا تعلق یہاں پردہ داری ہی سے ہے۔ یہ پردہ پریم چند معاشرتی بے حسی پر ڈالتا ہے۔ ایک مشرقی عورت کی قربانیوں کے صلے میں بھی افسانہ نگار اسے باپردہ کرنے کا متمنی ہے اور جو بچہ پیٹ کے اندر مر گیا ہے اس کےلیے بھی وہ پردہ داری کے طور پر منفرد کفن(ماں کا پیٹ) کا اہتمام کرتا ہے۔ لیکن یہ کفن حالات کی اس ستم ظریفی کی نذر ہوجاتا ہے جس نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا۔ اس المیاتی منظرنامے کا اظہار افسانے کے متن میں کچھ یوں ہواہے:
’’ کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے اسے مرنے پر نیا کھپن چاہیے۔
’’کھپن لاس کے ساتھ جل تو جاتا ہے۔‘‘(۳)
’’بیانیاتی کوڈ‘‘ کے ذریعے مرکزی اور ضمنی کرداروں کا عمل اور اس کے پیچھے کارفرما شعریات کو ٹٹولا جاتا ہے۔ کرداروں کے عمل کے پرکھ اور اس کے متعلق واقعات کی تفہیم سے ثقافتی شعریات ڈی کوڈ ہوجاتی ہے۔ساختیاتی تناظر میں اس افسانے میں مرکزی کردار بدھیا کا ہے۔یہ مشرقی تہذیب کی پروردہ عورت ہے۔ بدھیا کا شوہر مادھو اور اس کا سسر گھیسو بھی افسانے کے اہم کردار ہیں۔ یہ دونوں مادر پدر کام چور ، بے حس اور سست ہیں۔ محنت اور کام کاج سے انھیں چھڑ ہے۔جب بھی بھوک لگتی ہے تو گھیسو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا ہے اور مادھو اسے بازار میں بیچ آتا ہے۔ لیکن بھوک لگنے کے بعد بھی یہ ان کی اولین ترجیح نہیں بل کہ ان کا اصل کام راتوں رات اونکھ توڑ کر چوسنا یا چوری کیے ہوئے آلو بھون بھون کر کھانا ہے۔ بدھیا کے آنے کے بعد یہ دونوں اور بھی کام چور بن جاتے ہیں کیوں کہ انھیں مزید راحت جو مل جاتی ہے۔ بدھیا کچھ نہ کچھ بچا کر ان دونوں کے پیٹ کا دوزخ بھرنے کےلیے خود جتن اٹھاتی ہے۔ یہاں پر جو سوال(کوڈ) پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بدھیا آخر کیوں ایسے کام چوروں کےلیے مشکلات کا سامنے کرتی ہے اور ان کےلیے فکرمند رہتی ہے۔ یہاں بھی وہ مشرقی شعریات کارفرما ہے جو بطور لانگ ہمارے ذہنوں کا حصہ ہے۔ مشرقی عورت قربانیوں کا ایسا پیکر ہے جو ہر حال میں خود کو جلا کر دوسروں کی زندگی روشن کرتی ہے۔مشرقی عورت خاندانوں اور گھروں کی اصل معمار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھیسو اور مادھو ان کی وفاداری کے معترف ہیں۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی۔ جب سے یہ عورت آئی تھی، اس نے اس خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھیں۔ پیسائی کرکے، گھاس چھیل کر وہ سیر بھر آٹے کا انتظام بھی کرلیتی اور ان دونوں بےغیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی۔ جب سے وہ آئی تھی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہوگئے تھے بلکہ کچھ آکڑنے بھی لگے تھے۔‘‘(۴)
بیانیاتی کوڈ کے تحت کرداروں کو مختلف قسم کے پیچیدگیوں اور واقعات سے گزارا جاتا ہے۔ اسی طرح کہانی عروج کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔ کہانی کے ابتدائی واقعات وہ ہیں کہ جن میں گھیسو اور مادھو الاؤ کے سامنے بیٹھے ہوئے حالات و واقعات پر من مانی تبصرہ کرتے ہیں۔اور بدھیا زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپ رہی ہوتی ہے۔ کہانی کا مرکزی نکتہ یا عروج بدھیا کی موت ہے۔ بدھیا ساری رات درد زہ سے کراہ کراہ کر موت کی آغوش میں اپنے اَن جنے بچے سمیت دنیا جہاں کی تلخیوں اور بے حسی سے پناہ لے لیتی ہے۔ اس کے بعد منظر نامہ بدل جاتا ہے۔ باپ بیٹا مگرمچھ کے آنسو بہانے لگتے ہیں اور اس کی مدد سے کفن خریدنے کے واسطے زمین دار صاحب سے پیسے بٹور دیتے ہیں۔ گاؤں کے باقی لوگ بھی ان کی مدد کردیتے ہیں۔معاشرے کو پتہ ہے کہ گھیسو اور مادھو کتنے بے حس اور کام چور ہیں۔ پھر کیوں یہ معاشرہ ان کی مدد کرتا ہے؟۔ یہاں دراصل انسانیت کی شعریات پوشیدہ ہے۔ ایک بندہ چاہے کتناہی بے حس کیوں نہ ہو جب ان پر مصیبت آتی ہے تو انسان ہونے کے ناطے اس کے ساتھ دوسرے انسان ہمدردی کرتے ہیں۔گھیسو اور مادھو کی مدد کرنے کے پیچھے انسانیت اور ہمدردی کی رسمیات کارفرما ہے۔ گھیسو اور مادھو کے کردار آخر اتنے بے حس کیوں ہیں؟ اس کے پیچھے ایک طرف تو معاشرتی جبر اور بے اعتنائی پڑی ہے تو دوسری طرف متن کے تناظر میں :
’’ جب سے وہ آئی تھی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہوگئے تھے بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے۔ کوئی کام کرنے بلاتا تو بےنیازی شان سے دوگنی مزدوری مانگتے۔‘‘(۵)
اس صورت حال کے پیچھے بھی ہماری مشرقی شعریات پڑی ہےجس کی وجہ سے آج مشرق رو بہ زوال ہے، یعنی لاعلمی اور سستی۔ جب بھی تھوڑی بہت سہولت ہمارے نصیب میں آجاتی ہے تو ہم اسے اپنے آرام کا موقع سمجھ کر بے عملی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گھیسو اور مادھو بھی اس کے لپیٹ میں ہیں۔ جسمانی تعیش کے ساتھ ساتھ وہ نفسیاتی تعیش کا شکار بھی ہیں۔ اس لیے تو وہ اکڑتے اور ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے پھرتے ہیں۔بدھیا کےآنے کے بعد ان دونوں کا مزید بے حسی کی طرف چلے جانا اس کی واضح دلیل ہے۔
ثقافتی کوڈ ان شعریات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس پر ہم سب متفق ہوتے ہیں۔ گویا یہ تصورات ہمارے لانگ کا مستقل حصہ ہوتے ہیں۔اگر اسی اجتماعی لاشعوری محرکات کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان میں زیادہ طور پر مذہبی شعریات شامل ہے۔دنیا میں موجود مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رازق اللہ ہی ہے اور جب بھی کوئی نیا وجود دنیا میں آتا ہے تو اس کا رزق اس کے ساتھ ہی اترتا ہے۔یہی حقیقت افسانے کے متن سے بھی اجاگر ہوتی ہے۔ افسانے میں اگرچہ گھیسو اور مادھو ہندو کردار ہیں لیکن ہندو اور مسلمان صدیوں سے ہندوستان میں اکھٹے رہ چکے ہیں۔ واضح بات ہے کہ اگر دو قومیں طویل مدت تک ایک ساتھ رہتی ہیں تو ان کا ایک دوسرے پر گہرا اثر پڑتا ہے اور وہ ایک دوسرے کی شعریات اور ثقافتوں کو متاثر بھی کرتی ہیں۔ مادھو اپنے باپ گھیسو کے سامنے یہ خطرہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر کوئی بچہ پیدا ہوگیا تو اس کی نگہداشت اور دیکھ بھال کا کیا بنے گا۔ اس پر گھیسو کا جواب دیکھیے :
’’ سب کچھ آئے گا۔ بھگوان بچہ دیں تو جو لوگ پیسہ نہیں دے رہے ہیں وہی تب بلا کر دیں گے۔ میرے نو لڑکے ہوئے۔ گھر میں کبھی کچھ نہ تھا مگر اسی طرح ہر کام چل گیا۔‘‘(۶)
ایک انسان کا دوسرے انسان سے اچھائی کی توقع کرنا ختم ہی نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ تصور ختم ہوجائے تو گویا دنیا درندوں کی آماج گاہ بن جائے۔ ایک انسان چاہے کتنا ہی بے حس کیوں نہ ہو اس کے اندر اسانیت کا مادہ موجود ہوتا ہے جو لمحہ بہ لمحہ سر اٹھاتا اورخود کو ظاہر کرتا ہے۔ گھیسو اور مادھو اگرچہ بےحس اور ظالم ہیں لیکن ان کے اندر کے انسان اب بھی زندہ ہیں۔ بدھیا کے چیخنے اور کراہنے سے ان کے دل پر جو اثر ہوتا اس کا بیان یوں ہوا ہے :
’’ جھونپڑی کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہو ئے تھے اوراندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا درد زہ سے پچھاڑے کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دل خراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔‘‘(۷)
گھیسو اور مادھو کا بدھیا کی دل خراش صداؤں پر کلیجہ تھام لینا انسانیت کی شعریات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن یہ انسانیت مردہ اور احساس سے عاری ہے۔ ایک طرف باپ بیٹے کا بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے ساکت بیٹھنا اور دوسری طرف بدھیا(جو ا ن کی راحتوں کا سنگم ہے) کا تڑپنا اس بات کی واضح دلیل ہے۔
ثقافتی کوڈ کے تحت انسانیت کی شعریات کا اس وقت بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ جب بدھیا کی موت پر زمین دار اوردوسرے گاؤں والے گھیسو اور مادھو کی کفن خریدنے کے معاملے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ لوگ گھیسو اور مادھو کے گویا دشمن ہوتے ہیں لیکن مصیبت کے وقت انسانیت ہی کی وجہ سے دشمن کا کام آنا ناممکن نہیں۔ یہ ہماری مشترکہ شعریات (اجتماعی لاشعور) کا حصہ ہے۔ مصیبت کے وقت ہم دشمن کو بھی امید کے توقع کے ساتھ اس لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں کہ وہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا:
’’جب زمیندار صاحب نے دو روپے دیے تو گاؤں کے بنیے مہاجنوں کو انکار کی ضرورت کیوں کر ہوتی۔ گھیسو زمیندار کے نام سے ڈھنڈورا پیٹتا جاتا تھا۔ کسی نے دو آنے دیے کسی نے چار آنے۔ ایک گھنٹے میں گھیسو کے پاس پانچ روپے کی معقول رقم جمع ہوگئی۔ کسی نے غلہ دیا اور کسی نے لکڑی۔ دوپہر کو گھیسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے۔‘‘(۸)
تقلیبی کوڈ کے تحت متن کے مرکزی خیال کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ مجموعی طور پر مرکزی خیال نہیں دیتا بل کہ متن کے مختلف ٹکڑوں کے مرکزی تاثر کو تقلیبی کوڈ کے ذریعے ابھارا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کرداروں اور کہانی کے زمان و مکان کا تعین کیا جاتا ہے۔ مذکورہ افسانے میں بدھیا، گھیسو اور مادھو کسی ہندوستانی دیہات کے پسماندہ کردار ہیں۔ زمین دار صاحب جاگیردارانہ نظام کا نمائندہ ہے۔ کہانی اور کرداروں کی صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ دور نوآبادیاتی استعمار کا ہے اور مقام ہندوستان ہی ہے۔ اگر ہندوستان میں نوآبادیاتی نظام لاگو نہ ہوتا تو اس کہانی(متن) کے وجود میں آنے کی نوبت ہی نہ آتی اور نہ بدھیا، گھیسو اور مادھو جیسے کردار پیدا ہوتے۔ افسانے کا مرکزی نکتہ وہ معاشرتی و معاشی ستم ظریفی ہے جو طبقاتی کشمکش اور اونچ نیچ کو جنم دیتی ہے۔
علامتی کوڈ، تقلیبی کوڈ کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ تقلیبی کوڈ متن کے مختلف ٹکڑوں سے نتیجہ اخذ کرتا ہے جب کہ علامتی کوڈ ان تمام اہم نتائج کو ایک ہی مرکز پر مجتمع کرکے مرکزی خیال قائم کرتا ہے۔ مذکورہ افسانے میں معاشرتی اونچ نیچ، بے حسی، خود غرضی، استحصال،بھوک، افلاس، مرد و زن کی تفریق، انسانیت و عدم انسانیت جیسے خیالات سامنے آتے ہیں۔ لیکن یہاں بنیادی اور مرکزی نکتہ وہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ جس کی وجہ سے انسان انسانیت کے درجے سے گِر کر انسان نہیں رہ پاتا۔
اس مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ متن اپنے اندرون میں بہت کچھ رکھتا ہے ۔ساختیات سامنے کے سطحی مفاہیم کے بجائے متن کے اسی اندرون میں جھانک کر ساخت تک رسائی حاصل کرکے حقیقت کو آشکارا کرتی ہے۔ مذکورہ ثقافتی اور شعریاتی نکات حتمی نہیں کیوں کہ ثقافت ایک وسیع مظہر ہے جس میں ڈھیروں امکانات پائے جاتے ہیں۔
حوالہ جات
۱ ) ناصر عباس نیئر(مرتبہ)، ساختیات: ایک تعارف، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۹ء، ص ۲۵
۲ ) اختر علی، کشور ناہید کی شاعری کا مابعدجدید مطالعہ، عکس پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۲۲ء، ص ۱۲۰
۳ ) پریم چند، کفن، مشمولہ ،پریم چند کے شاہکار افسانے، (مرتب)اعجاز خاور، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ص ۱۴۱، س،ن
۴ ) ایضاً، ص ۱۳۶
۵ ) ایضاً
۶ ) ایضاً، ص۱۳۷
۷ ) ایضاً، ص ۱۳۶
۸ ) ایضاً، ص ۱۴۰
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں