ہوچانک -3: مقصد حیات – تمباکو نوشی اور ملکی وے/احمر نعمان

ہم انسان کو اشرف المخلوقات مانتے ہیں مگر ہوچانک کا ماننا ہے کہ دنیا کی تخلیق کے بعد، خالق نے اس میں بسنے والی تمام جاندار چیزوں کو تشکیل دیا: پرندے، جانور اور حشرات الارض۔ ان میں سے ہر ایک کو اس نے کوئی نہ کوئی مقصد تفویض کیا، یہ سب ان مقاصد کے حصول میں لگے رہتے ہیں جو سائیکل آف لائف ہے، مگر تخلیق کی آخری علامت دو ٹانگوں والا یہ جاندار ہے جسے ماونا نے سب سے اخیر میں بنایا۔ (یاد رہے یہ وہ پانچ انسان نہیں جو ماونا نے خود بنائے بلکہ وہ جو جانوروں کی ترقی کر کے انسان بنے)۔ ایک اور دلچسپ تصور یہ ہے کہ انسان کو پہلا تحفہ تمباکو ملا اور اصل میں یہی مقصد حیات ہے۔ انسان تمباکو کا پائپ بنا کر کش لگاتا ہے تو ایک اور دنیا میں کھو جاتا ہے۔ انسان جیتا ہی تمباکو پینے کے لیے ہے۔ ہمارے دیسی پاؤلو کوہیلو پروفیسر راشد حمزہ اس عمر میں چرس چھوڑکر مقصد حیات سے رو گردانی کر رہے ہیں۔ امریکی کہانیوں میں تمباکو کے ایسے ایسے فوائد ملتے ہیں کہ سمجھ آ جاتی ہے کہ کیسے یہاں میروانا سے بیماریوں کا علاج ہوتا ہے۔ نفسیاتی مریض تو میڈیکل میروانا کے بغیر فارغ ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ماننا ہے کہ کائنات کی ہر شئی مستقبل کا علم رکھتی ہے یہاں تک کہ ایک چھوٹا کیڑا بھی چار دن آگے دیکھ سکتا ہے مگر انسان نہیں۔ یہ سب سے کمزور اور غریب ہے۔
ہوچانک میں جب کائنات کی تشکیل مکمل ہو جاتی ہے تو بری ارواح جو یہاں دیو Giant ہیں، وہ اس کے خاتمہ کی کوشش شروع کر دیتے ہیں، سب سے آخری اور سب سے کمزور جو انسان ہے، اسے ٹارگٹ کرکے پہنچ جاتے ہیں۔ ماونا مگر انسانوں کی مدد کے لیے اچھی ارواح کو بھیج دیتا ہے، یونانی و ہندی لحاظ سے انہیں اوتار/دیوتا سمجھ سکتے ہیں، ان میں بہترین پہلوان/ریسلر، صبح کا تارہ Morning Star، جنگجو تھنڈربرڈ، تیز رفتار سورج، اسی کے قریب تیزدوڑنے والا بھیڑیا، ماہر غوطہ خور کچھوا، اور اوٹر Otter شامل ہیں۔ یہ مختلف اقسام کے مقابلے کرتے ہیں، آخری مقابلہ غوطہ خوری/ڈائیونگ کا ہوتاہے، ایک دیو جب سمندر میں کودتا ہے تو وہ دوسرے کنارہ سے نکلتا ہے، اس طرح ملکی وے /کہکشاں کا چھوٹا حصہ تشکیل پا گیا۔ اوٹر اس کے مقابلے میں کودا وہ اس سے بھی آگے گیا اور جہاں نکلا وہ ملکی وے کا بڑا حصہ بن گیا۔ ریاست مین میں ایک جگہ ہے اوٹر کلف otter cliff ، جس کی تصویر ہے
یہاں غور طلب یہ ہے کہ امریکی قبائل کی اکثر کہانیوں میں جیسے تمباکوکا آغاز کائنات کے ساتھ مانا جاتا ہے، اسی طرح ملکی وے کو پانی مانا جاتا ہے، سب سے معروف مایا تہذیب میں پانی اور کہکشاں کا لفظ ایک ہے۔ جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں امیزون کے جنگلات کا سب سے بڑا دریا، ولکمیومقدس مانا جاتا ہے، اسے وہ مانتے ہیں کہ یہ ملکی وے سے نکلتا ہے۔ یونانی اساطیر میں دیوی ہیرا جب اپنے بچے ہیراکلیس سے اپنی چھاتی چھڑاتی ہے تو اس کے دودھ کے قطروں سے ملکی وے بنا، روسی اساطیر میں بھی ملکی وے دودھ کا دریا کہلاتا ہے۔
ایک دن تھنڈر قبیلہ کا سب سے بڑا بھائی لیٹ گیا اور چار دن تک لیٹا رہا، اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، اس وقت تک انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ موت ہے، اس لیے وہ نہیں جانتے تھے کیا کرنا ہے۔ بہرحال جب معلوم ہوا تو انہوں نے اس کے انتقال پر سوگ منایا۔ اس دن انہوں نے برت رکھےاپنے چہرے راکھ اور کوئلے سے سیاہ کر لیے، یہ پہلا ماتم یا سوگ تھا۔ انہوں نے ایک چبوترہ بنایا اور میت اس پر رکھ دی، برف باری شروع ہو گئی۔ باقی تین بھائی مشرق کی جانب چلے گئے تاکہ مشرقی ہوا سے معلوم کریں کہ اب کیا کرنا چاہیے۔
کسی کمینٹ میں شاید ذکر بھی کیا تھا کہ امریکی قبائل میں animalism باقاعدہ فلسفہ ہے۔ ہر جاندار و بےجان کی روح /سپرٹ بھی ہوا کرتی ہے جو سب فطرت سے ہم آہنگ ہیں، اسی طرح مشرقی ہوا کی بھی ایک روح ہے، مگر مشرقی ہوا کے پاس ان کے سوال کا جواب نہیں، وہ شمالی ہوا کی جانب بھیج دیتی ہے، شمالی ہوا آگے مغرب کی جانب بھیج دیتی ہے۔
مغربی ہوا کے ہاں اب یہ بھائی اور ساتھ باقی تمام ہوائیں اکٹھا ہوئیں، آگ کے گرد بیٹھیں۔ مغرب کی ہوا نے بتایا کہ یہ موت ہے اور اب تمہارے بھائی کی روح مغرب کے ایک گاؤں میں رہا کرے گی اور تھنڈر قبیلہ کا یہ بڑا بھائی اس گاؤں کا سردار ہو گا کیونکہ وہ پہلا ہے۔ تینوں بھائیوں نے ہواؤں کا شکریہ ادا کیا کہ اب انہیں علم ہو گیا تھا کہ بڑا بھائی کہاں گیا ہے۔ واپس جا کر انہوں نے اپنے بھائی کی میت کو بہترین کپڑےپہنائے اور اسے مغرب کے رخ پر دفن کر دیا تاکہ اس کا سفر جو کہ مغرب کی سمت ہو گا، جلد اختتام پذیر ہو، انہوں نے ساتھ کھانا اور تمباکو بھی دفن کر دیا۔ یہاں ہوچانک کی کہانی ختم کرتے ہیں۔
ویسے یہ دلچسپ تصور کافی مشرقی قبائل کا ہے کہ مرنے کے بعد ان کی ارواح مغرب کی جانب سفر کرتی ہیں مردہ شاید پھر سے جنم لے کر کسی مغرب کے گاوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔ جبکہ مغربی قبائل کے تصورات ان سے الگ ہیں، سن ۲۰۱۹ میں کولوراڈو اور نیو میکسیکو کے پہاڑوں اور ایری زونا کی خطرناک گھاٹیوں سے گزر ہوا۔ نیومیکسیکو کا قبیلہ نووائیو Navajo امریکا کےقدیم ترین اور بڑے قبائل میں سے ایک ہے۔ تاریخی طور پر یہ آئس ایج میں سائبیریا / ایشیا سے ہجرت کر کے آبنائے بیرنگ Bering Strait کے رستہ امریکا و کینیڈا پہنچے تھے۔ یہ ہجرت بیس ہزار سال قدیم ہے ، جس زمانے میں لوگ اس قدیم رستے ایشیا اور امریکا کے درمیاں سفر کیا کرتے تھے۔ یہ راستہ تاحال موجود ہے۔ واشنگٹن کے میوزیم میں ایک ڈھانچہ شاید کسی جاپانی النسل کا دیکھا تھا جو پندرہ ہزار سال قبل اسی رستے سے امریکا پہنچا تھا۔
خیر قصہ یہ تھا کہ امریکی قبائل میں پروں اور ہڈیوں سے بنی دلچسپ چیزیں ملتی ہیں، میں نے اس قبیلہ سے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے لیے پروں کا بنا “ڈریم کیچر” Dream Catcher لیا۔ اسے سرہانے لٹکا لیں تو ڈراونے خواب اس میں پھنس جاتے ہیں۔ بیٹی کو میں نے ایسی کہانی سنائی کہ اس کی ننھی آںکھیں حیرت سے پھٹ گئیں، صبح وہ بہت خوش تھی کہ سارے ڈراونے خواب کیچر میں پھنس گئے۔ اسی بات پر دو ماہ بعد دکاندار کا شکریہ ادا کرنے گیا تو محترم اس اثنا شاید وفات پا چکے تھے، مگر دلچسپ امر تھا کہ لوگ اس کا نام لے نہیں سکتے تھے، میں نام لے کر پوچھتا تو وہ بری بری شکلیں بناتے،بعد ازاں معلوم ہوا کہ کہ ایک سال تک پابندی ہوتی ہے کہ مرنے والا کا نام ہی نہ لیا جائے، ورنہ آفات آ جاتی ہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply