کسی کانفرنس یا کلچرل ایونٹ کے متعلق مجموعی طور پر بات تبھی کی جا سکتی ہے جب آپ نے ساری کانفرنس اٹینڈ کی ہو۔ میں نے نہیں کی، صرف آخری روز چند گھنٹے کے لیے ہی گیا۔
مجھے یہ بات شدت سے محسوس ہوئی ہے کہ اب تین پنجاب ہیں۔ پاکستانی پنجاب، بچا کھچا ہندوستانی پنجاب، اور diaspora یا دنیا میں اِدھر اُدھر بکھرا ہوا پنجاب، بالخصوص کینیڈا اور یو کے میں۔ جب کوئی بیٹا زمینیں بیچ کر باہر چلا جائے تو وہ دوبارہ خرید کر بھی دیتا ہے۔ لیکن پیچھے رہ جانے والے رشتے داروں سے اکثر یہی کہتا ہے کہ یار تم لوگ پاکستان میں زیادہ مزے کی زندگی گزار رہے ہو، ہم تو پھنس گئے آ کر۔ وہ رشتے دار اُن کے ناسٹلجیا کے سانپ کو پالتے ہیں۔ پھر وہ پیپرز یا پاسپورٹ ملنے کے بعد واپس آنے کا عندیہ دیتا ہے تو برادری کے لیے اپنی شادیاں بھی اُس کے شیڈول کے مطابق رکھتے ہیں، وہ اہم فیصلے بھی کرتا ہے، سیانا کہلاتا ہے، کبھی کبھی جاتے ہوئے اے سی بھی لگوا دیتا ہے۔
بقیہ دونوں اصلی پنجابوں پر یہ باہرلا پنجاب حاوی ہو گیا ہے۔ فلمیں اور گانے اُنھی کو مدنظر رکھ کر بنتے ہیں، ادب باہرلے پنجاب سے ملنے والے امکانات کو سامنے رکھ کر تخلیق کیا جانے لگا ہے، اور ناسٹلجیا کے سانپوں کے غول پالے جاتے ہیں۔ لہٰذا پنجابیوں کا ہر ادبی اکٹھ کلچرل ایونٹ بھی بن جاتا ہے۔ اچھی بات ہے۔ احمد رضا وٹو نے یہ انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کروائی۔ مجھے وہاں پروفیسر ڈاکٹرشبم اسحاق ملیں، جن کا سیشن بھی سننے گیا۔ ایک بچی دھواں دھار پنجابی بول رہی تھی۔ دوسری شال والی لڑکی نسبتاً متحمل تھی۔ ایک آدمی نے بار بار پوچھا کہ ان ساری کاوشوں کا نتیجہ کیا ہے؟ پنجابی زبان بولنے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا کیا اثر پڑا؟ اُن کے جواب نے سوال کرنے والے کی تشفی نہ کی۔
کانفرنسوں سے کیا فائدے ہونے ہیں؟ یہ علامت ہوتی ہیں، انقلابی تحریک نہیں۔ یہ پولیو کے قطرے بھی نہیں کہ دو سال بعد سروے کر کے کیسز کی تعداد گنی جائے۔ یہ سنت ابراہیمی جیسی ہیں، بکرا ذبح کرو، تکے بناؤ، بکرے کی روح کی پرواز کا نہ سوچو۔ میرا دل چاہ رہا تھا پوچھنے کو کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ گھر جا کر کیا نتیجہ بتاؤ گے؟ کیا اتنا کافی نہیں کہ تم یہاں بچوں بچیوں کو پنجابی بولتے اور اُس پر شرمندہ ہوئے بغیر دیکھ رہے ہو؟ کوششوں کے نتیجوں کو اپنی ڈیٹ آف برتھ سے منسوب نہیں کرنا چاہیے۔ جس سیشن میں حمید رازی صاحب نے گفتگو کی، سب سیشن ویسے ہی ہونے چاہیے تھے۔ شبنم نے بھی اچھا کیا کہ طلبہ کو انگیج کیا۔
پنجابی کے لیے کام کرنے والی اقرا پریت جیسی لڑکیاں جتنی سمجھ دار اور سنجیدہ ہیں، نوجوان اُتنے ہی چول ہیں۔ یہ فرق میں نے ہمیشہ دیکھا ہے۔ دوستوں کی بیٹیاں گہری اور سمجھ داری کی باتیں کرتی ہیں، اور بیٹے 90 فیصد کیسز میں بونگے اور اوجبک ہیں۔ اچھی بھلی ’’انٹرنیشنل‘‘ کانفرنس کے باہر اِنھی جٹ نوجوانوں کا ڈیرہ تھا۔ جس کی ایک جھلک دکھاتا جاؤں۔ یعنی اوسط قد کاٹھ کے نوزائیدہ اور نوشعور یافتہ جٹ نوجوان مٹک رہے تھے۔ کھسے، تہمد، پگڑیاں، جیل لگا کر مروڑی ہوئی مونچھیں، ساگ اور مکئی کی روٹیاں، شعور کی ہر پرت کو کھرچ کر پھینکا ہوا۔
ایک نوجوان کالی تہمد باندھ تو بیٹھا، لیکن خوف زدہ بھی تھا۔ آگے پیچھے سے قمیض اُٹھا کر اپنے ہمنوا جٹ سے تہمد سیٹ کروا رہا تھا۔ سب کے ہاتھ میں موبائل تھے، تو پھر نئے دور کے حساب سے سلی ہوئی چنٹوں والے تہمد نہیں بن سکتے، جنھیں بکل لگا کر بند کر دیا جائے؟ کیا پنجابی کلچر میں اتنے سے اجتہاد کی گنجائش بھی نہیں۔
یہ سوال بار بار ذہن میں آتا رہا کہ اب پنجاب کا مطلب صرف دیہی سیٹ اپ رہ گیا ہے؟ باتیں اتنی زیادہ ہیں کہ لمبی پوسٹ نہیں لکھنا چاہتا۔ باقی کسی اور موقع پر!
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں