ایڈز کا عالمی دن/چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

یکم دسمبر کو پوری دنیا میں ایڈز کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل لاہور کے ایک ہسپتال میں جانا ہوا جہاں ایک ایڈز کے مریض سے ملاقات ہوئی جو دس سال سے اس مرض میں مبتلا ہے مگر باقاعدہ علاج سے ہشاش بشاش زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے بقول وہ بیرون ملک تین سال مقیم رہا غالب امکان ہے کہ وہیں سے اس مرض کا شکار ہوا۔ ایچ آئی وی ایک ضدی قسم کا وائرس ہے جس کے زریعے پیدا ہونے والے مرض کو ایڈز کہتے ہیں۔ ایڈز کا مرض جہاں پوری دنیا کیلئے چیلنج بنا ہوا ہے وہیں پاکستان میں بھی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دس سال کے دوران ایچ آئی پازیٹو لوگوں کی شرح تشویشناک حد تک بڑھی ہے۔ اس وقت ملک بھر میں ایچ آئی وی پازیٹو رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایچ آئی وی کا باقاعدہ ٹیسٹ کروایا اور انکا ٹیسٹ پازیٹو آیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی پازیٹو مریضوں کی تعداد اس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایچ آئی وی ٹیسٹ ہی نہیں کرواتے۔
ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ بذریعہ انجیکشن نشہ آور دواؤں کا استعمال ہے۔ اس میں ایک ہی سرنج سے کئی لوگ نشہ لیتے ہیں جس سے ایچ آئی وی کی بیماری ایک شخص سے دوسرے پھر دوسرے سے تیسرے اور دیگر کئی لوگوں کو منتقل کرتے ہیں۔ اس بارے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ ایک سرنج ایک شخص کیلئے اور ایک بار ہی استعمال کی جائے۔ بذریعہ انجیکشن نشہ لینے والوں سے نفرت کے بجائے ان سے پیار کیجئے انکا علاج کروائیں تاکہ وہ اس مہلک مرض سے محفوظ رہ سکیں۔
اس کے علاوہ ایڈز کا مرض مرد سے عورت کو، عورت سے مرد کو اور مرد سے مرد کو بذریعہ غیرمحفوظ جنسی تعلقات پھیلتا ہے۔ کنڈوم کا استعمال اگرچہ ایڈز سے محفوظ رکھ سکتا ہے مگر وہ بھی سو فیصد محفوظ نہیں ہے۔ لہٰذا خود کو شریک حیات تک محدود رکھیں۔ پاکستان میں ہر ضلع، ہر شہر، ہر قصبے میں جگہ جگہ قحبہ خانے کھلے ہوئے ہیں جن کو بند کروانے کی اشد ضرورت ہے اس کیلئے حکومت کو ٹھوس اور سخت اقدامات لینے ہوں گے۔
اگرچہ ان قحبہ خانوں کو مکمل طور پر بند کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے کیونکہ اندر کھاتے یہ چلتے ہی رہیں گے۔ اس کا ایک اور حل ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ حل غیر شرعی ہونے کی بناء پر برا لگے لیکن علماء کرام کے مشورے سے سخت پالیسیز کے ذریعے ایڈز سے بچاو کیلئے یہ ایک بہترین حل ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوں ناں حکومت اس کیلئے بذریعہ سخت قانون سازی ان سارے قحبہ خانوں کو رجسٹرڈ کر دے اور ان میں کام کرنے والے سیکس ورکرز کے ہر ماہ ایڈز اور ہیپاٹائٹس وغیرہ کے تمام ٹیسٹس باقاعدگی سے کروائے جائیں۔ نظام کو ڈیجیٹلائزیشن کرکے ہر سیکس ورکر کیلئے سرٹیفیکیٹ لینا لازمی ہو۔ میں خود اس حق میں نہیں ہوں کیونکہ مجھے یہ طریقہ بہت عجیب لگ رہا ہے لیکن بہرحال بہت مؤثر ہو سکتا ہے۔ بذریعہ سخت ترین قانون سازی یہ قحبہ خانے ازخود بند ہو جائیں گے۔ مجھے بھی اس حل پر بہت سے خدشات ہیں لیکن ایڈز آگاہی مہم کی ایک میٹنگ کے دوران جب میں نے دوستوں کی رائے لینے کیلئے یہ حل پیش کیا تو میٹنگ میں بیٹھے لوگوں نے اس حل کو بھی ایک قابلِ عمل حل قرار دیا تھا۔ بہرحال اسلام ایسے کسی حل کی اجازت نہیں دیتا۔
ایڈز کے مریض کیساتھ نفرت کے بجائے پیار کیجئے۔ ایڈز کوئی اچھوت بیماری نہیں ہے اس لئے اسکے مریض کیساتھ بیٹھ کر کھانے، پینے، گلے ملنے، آنسو، تھوک، چھینک، چومنے، سویمنگ پول میں نہانے، ٹوائلٹ شئیر کرنے سے یہ مرض ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہو سکتا۔
ایچ آئی وی پازیٹو مریض بھی باقاعدہ علاج کے زریعے بالکل نارمل لوگوں کی طرح صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں، شادی کر سکتے ہیں اور صحتمند بچے پیدا کر سکتے ہیں۔ باقاعدہ ایسے مریض کی زندگی بھی ایک عام صحتمند شخص کی زندگی کےبرابر طویل ہوتی ہے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply